Moral Stories In Urdu

جھوٹا رشتہ – سوتیلی ماں‌کے انتقام کی دردناک داستان

سپر اسٹور تو پہلے ہی سہاب کے نام تھا، اب دوسری کوٹھی بھی سہاب کے نام ہو گئی تھی۔ حنا نے سب کے سامنے سہاب سے التجا کی کہ وہ اپنی نئی کوٹھی میں منتقل ہو جائے اور اپنی نئی زندگی کا آغاز کرے۔
“آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں، امی جان؟” سہاب حیرت اور صدمے کے ساتھ بولا۔ “میں آپ کو چھوڑ کر کہیں اور کس طرح جا سکتا ہوں اور اگر کہیں چلا بھی جاؤں تو آپ کے بغیر میں کس طرح جی سکتا ہوں؟” سوتیلے بیٹے کی سوتیلی ماں سے سچی محبت دیکھ کر لوگ آبدیدہ ہو گئے تھے۔ سہاب بھی رو پڑا تھا۔ وہ کسی طرح بھی ماں کو چھوڑ کر جانے کے لیے آمادہ نہ تھا، مگر وکیل اور دیگر لوگوں کے سمجھانے پر وہ دوسری کوٹھی میں منتقل ہونے پر بصد مشکل رضامند ہوا۔ اب یہاں سے سہاب کی زندگی کا نیا دور شروع ہوا۔
وہ شروع سے ہی فضول خرچ، غیر ذمہ دار، بے پروا اور عاقبت نا اندیش واقع ہوا تھا۔ اس کی تربیت بھی کچھ اس انداز سے ہوئی تھی کہ اس نے صرف لٹانے کے علاوہ کچھ سیکھا ہی نہیں تھا اور اب جبکہ سب کچھ اس کے ہاتھ میں تھا تو وہ دونوں ہاتھوں سے کیوں نہ لٹاتا؟ اس کے ابن الوقت قسم کے دوست اس کے گرد جمع ہو گئے تھے اور خوب شان و اہتمام سے زندگی گزرتی رہی۔ کاروبار تو مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا۔
سہاب کے پاس تعلیم نہ تھی، نہ تجربہ، نہ ہی کاروباری سوجھ بوجھ۔ یہی وجہ تھی کہ جلد ہی چلتا ہوا سپر اسٹور بند ہو گیا۔ ہاتھ تنگ ہونے لگا تو دھیرے دھیرے جائداد کی فروخت کا سلسلہ شروع ہوا۔ سہاب کے حصے میں اذان کی آدھی جائداد آئی تھی، جبکہ دیگر آدھی جائداد میں دانیال اور آذر کا حصہ تھا۔ اس حوالے سے ابھی اس کے پاس بہت کچھ تھا، مگر بکتے بکتے بھی برسوں میں حاصل شدہ دولت ختم ہو گئی۔ لاکھ کا گھر خاک ہو گیا تھا۔ سہاب سب کچھ لٹا کر تہی دست و تہی داماں ہو گیا، لیکن ابھی اس کے پاس ماں کی محبت کا یقین باقی تھا اور اسی یقین نے اسے ابھی مکمل کنگال نہیں ہونے دیا۔ سو سب کچھ لٹا کر وہ ایک بار پھر ماں کی ممتا بھری محبت سے دامن بھرنے کے لیے حنا ہائوس کی طرف چل دیا۔
نوکر نے حنا کو سہاب کی آمد کی اطلاع دی۔ حنا نے سہاب کو اندر بلانے کے بجائے خود ہی گیٹ پر آنا مناسب سمجھا۔ گیٹ پر پریشان حال سہاب کھڑا تھا۔ اس کے بال گرد آلود اور چہرے پر مضمحل کی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔ اس کی مالی حالت اتنی خستہ تھی کہ اس کے پاس کھانے کے لیے بھی پیسے نہ تھے۔ وہ کل رات سے کچھ نہیں کھا سکا تھا۔ حنا نے اسے سرتاپا دیکھا۔ اس کے گرد آلود جوتے اس بات کے غماز تھے کہ وہ کافی دور سے پیدل چل کر آیا تھا۔ اس کا اترا چہرہ اور شکستہ سراپا اس کی خستہ حالی کا واضح گواہ تھا۔
صاف ظاہر تھا کہ سہاب اپنا سب کچھ لٹا کر اور گنوا کر بالکل تہی دست ہو گیا تھا۔ بڑی بڑی پر تعیش کاروں میں سفر کرنے والے سہاب کی جیب میں اس وقت بس کے کرائے کے پیسے بھی نہیں تھے۔ سہاب کا خیال تھا کہ اس کی یہ حالت دیکھ کر چاہنے والی ماں تڑپ اٹھے گی اور ہمیشہ کی طرح اسے سینے سے لگا کر اس کا ہر مسئلہ بیک جنبش حل کر دے گی، مگر اسے حیرت ہوئی جب نوکر نے اسے روکتے ہوئے کہا، “آپ یہیں رکیے، میں بیگم صاحبہ کو اطلاع دیتا ہوں۔”
“یہاں کیوں؟” سہاب نے قدرے حیرانی اور کسی قدر غصے سے سوال کیا۔ “یہ میرا گھر ہے۔ یہاں میرے بھائی اور ماں رہتی ہیں۔ تم مجھے اس طرح دروازے پر کیسے روک سکتے ہو؟”
“جناب! ہمیں یہی حکم ہے۔” دربان نے خشک اور کھردرے لہجے میں جواب دیا۔ “آپ کی آمد کی بیگم صاحبہ کو خبر دیئے بغیر گھر کے اندر داخل نہ ہونے دیا جائے۔”
“خدا جانے تم کیا کہہ رہے ہو۔” سہاب نے عاجز کن لہجے میں کہا۔ “ٹھیک ہے، جاؤ، نہیں بتادو کہ ان کا لاڈلا بیٹا سہاب آیا ہے۔”
سہاب کا خیال تھا کہ اس کا نام سنتے ہی حنا تڑپ اٹھیں گی، دوڑی دوڑی گیٹ پر آئیں گی اور اسے سینے سے لگالیں گی، مگر حنا گیٹ پر آئی تو اس کا غیریت اور اجنبیت بھرا انداز دیکھ کر سہاب حیرت زدہ رہ گیا۔ “تم یہاں کس لیے آئے ہو؟” اس کے لہجے کا انجانا پن سہاب کے دل میں نشتر کی طرح چبھ گیا۔
“امی… میں… میں…” سہاب اس قدرا جنبیت اور اجنبیت سے اپنے سواگت کے بارے میں سوچ بھی نہ سکتا تھا، پھر تڑپتے لہجے میں اپنا حال بیان کرنے لگا۔
“امی! سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ میں برباد ہو گیا ہوں۔ اب میرے پاس کچھ نہیں ہے، حتیٰ کہ کل رات سے میرے پاس کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے، مگر امی! اب میری آنکھیں کھل گئی ہیں۔” سہاب نے التجا بھرے لہجے میں کہا۔ “میں خود کو سنبھالنے کے لیے ایک اور موقع چاہتا ہوں۔”
“تمہیں اس دروازے سے جو کچھ ملنا تھا، پورے انصاف کے ساتھ تمام عزیز و اقرباء کی موجودگی میں مل چکا ہے۔” حنا نے بدستور سرد لہجے میں کہا۔ “اب تم کیا توقع لے کر اس دروازے پر آئے ہو؟”
سہاب، حنا کے سرد اور کٹھور لہجے پر حیران تھا۔ اس نے تو حنا کے لہجے میں ہمیشہ محبت اور ممتا ہی دیکھی تھی۔ اس کی بڑی سے بڑی غلطی پر بھی اس کی پیشانی پر کبھی ہلکا سا بل نہ آیا تھا۔ اس کے لہجے سے ہمیشہ شہد ہی پڑکا تھا۔ یہ کڑواہٹ اور تلخی سہاب نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔
“امی!” سہاب نے اپنی حیرانی و پریشانی جھٹک کر لرزتے لہجے میں ماں کو پکارا۔
“میں بہت مشکل اور مصیبت میں ہوں۔ مجھ پر لاکھوں کا قرض ہے۔ قرض دار مجھے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں اور مجھے جان سے مار دینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔” سہاب نے تیز تیز بولنا شروع کیا تو اس کا دم پھولنے لگا اور وہ ایک دم خاموش ہو گیا۔ اس دوران حنا اسے سرد اور تحقیر بھری نظروں سے تکتی رہی تھی۔ پھر کئی لمحوں تک گہرے گہرے سانس لے کر خود کو قدرے اعتدال پر لاتے ہوئے اس نے دوبارہ بولنا شروع کیا۔ “مجھے آپ کی محبت اور مدد کی ضرورت ہے۔ میں بہت اکیلا ہوں، امی… میں آپ سے، اپنے بھائیوں سے…”
“تم غلط دروازے پر آئے ہو۔” حنا نے تلخ اور اجنبی لہجے میں اس کی بات کاٹ کر کہا۔ “اس گھر اور گھر کے مکینوں سے اب تمہارا کوئی تعلق اور کوئی رشتہ نہیں ہے۔”
“یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟” سہاب کو جھٹکا لگا تھا۔ “آپ میری ماں ہیں…”
“ماں نہیں۔” حنا کے لبوں پر زہریلی مسکراہٹ بکھر گئی۔ “سوتیلی ماں کہو، میں تمہاری سوتیلی ماں ہوں۔”
“ایسا نہ کہیے، امی…” سہاب نے بلکتے ہوئے ملتجی لہجے میں کہا۔ “آپ میری ماں ہیں، مجھ سے بے حد و حساب محبت کرنے والی ماں… آپ کی ممتا بھری محبت ہی میری سب سے بڑی دولت ہے۔ مجھ سے میری یہ دولت نہ چھینیں، میں آپ کا بیٹا ہوں۔”
“نہیں۔” حنا نے چٹانوں کے سے سخت لہجے میں جواب دیا۔ “تم میرے نہیں بلکہ اس عورت کے بیٹے ہو جس نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین کر مجھے جیتے جی مار دیا تھا، جس نے میری آنکھوں سے میرے خواب، میری دھڑکنوں سے میری امنگیں لوٹ لی تھیں… تم اس فرما کے بیٹے ہو جس نے مجھ سے میرا منگیتر، میرا محبوب، اذان ہتھیا لیا تھا۔ اپنی دنیا بساتے وقت اس بے رحم عورت نے ایک پل کے لیے بھی میری برباد زندگی کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ جس گھر پر میرے نام کی تختی لگی تھی، وہ کسی استحقاق سے اس کی مالکن بن بیٹھی تھی۔ میں نے یہ سب کچھ دیکھا، برداشت کے سوا میرے پاس دوسرا راستہ نہ تھا۔ کتنے ہی برس میں تڑپتی رہی، پل پل جان سے گزری تھی، تب کہیں جاکر قدرت مجھ پر مہربان ہوئی تھی اور مجھے میرا حق مل گیا تھا۔ تمہاری اصل ماں، وہ غاصب عورت مر چکی تھی، مگر اس کی نشانی تم موجود تھے۔ تمہیں دیکھ کر مجھے وہ ظالم عورت یاد آتی تھی، بیتے ہوئے سلگتے بلکتے ماہ و سال یاد آتے تھے۔”
“میرا دل چاہتا تھا کہ تمہارا اگلا گھونٹ دوں، تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں… تم سے سب کچھ چھین کر خالی ہاتھ، خالی دامن بھیک مانگنے کے لیے گھر سے نکال باہر کروں، مگر میں یہ سب نہیں کر سکتی تھی۔ اذان کو پانے کے لیے مجھے تم پر ممتا تھی… بن ماں کے بچے کو ماں کی محبت دینی تھی۔ سو میں نے یہ سب کچھ کیا، مگر ایک لمحے کے لیے بھی میں نے تمہاری ماں کو معاف نہیں کیا۔ اس کا انتظام مجھے تم سے لینا تھا، اور اس انتقام کے لیے میں نے بے حد صبر و تحمل کے ساتھ ایک لائحہ عمل تیار کیا تھا اور اس پر عمل کر کے آج میں نے تمہیں اس حال پر پہنچادیا ہے۔ نہ تعلیم، نہ کوئی ہنر، نہ گھر، نہ کاروبار، نہ پیسہ، نہ جائداد، نہ کوئی پناہ، نہ پرایا . تم بالکل تنہا ہو، اور آج میں نے تمہیں اس حال کو پہنچادیا جس حال کو کبھی تمہاری ماں نے مجھے پہنچایا تھا۔ آج میں خوش ہوں، بے حد خوش ہوں… اس ظالم عورت سے میں نے اپنا انتقام لے لیا ہے اور مجھ پر کوئی الزام بھی نہیں ہے۔”
لوگ آج بھی میری ممتا، میری محبت اور میرے انصاف کے گن گاتے ہیں۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ اپنے سوتیلے بیٹے اذان کو اپنے سگے بیٹوں سہاب، دانیال اور آذر سے زیادہ چاہنے والی ماں دراصل اس سے محبت نہیں، شدید نفرت کرتی تھی اور لمحہ لمحہ انتقام کی آگ میں سلگتی رہی تھی اور آج اسی آگ میں تم جل کر خاک ہو گئے ہو۔ اس پل اذان کو صحیح معنوں میں لٹ جانے کا احساس ہوا تھا۔ اس نے تو ہمیشہ اسے اپنی ماں سمجھا تھا، مگر آج اسے غیر بنتے دیکھ کر اسے اپنے دل کی رگیں ٹوٹتی محسوس ہو رہی تھیں… جسم و جاں پر ایک لرزہ سا طاری تھا۔
“امی! کہہ دیجئے یہ جھوٹ ہے!” اس نے ہاتھ جوڑ کر التجا کی۔ “میں اس سچائی کو سہہ نہ سکوں گا۔ میں مر جائوں گا!”
“خبر دار! مجھے اب امی نہ کہنا۔” فاریہ نے غصے سے کہا۔ “تم مرو یا جیو، مجھے کوئی سروکار نہیں!” اس نے دربان کی طرف دیکھ کر حکم دیا، “گیٹ بند کر دو۔” اور خود فاتحانہ انداز میں اندر چلی گئی۔ اذان پر محبت، ممتا اور رشتے کا یہ جھوٹا دروازہ اب ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا تھا۔ وہ شکستہ قدموں سے واپسی کے لیے مڑ گیا۔