ڈھلتے سورج کی مدھم، سنہری کرنیں جب آہستہ آہستہ در و دیوار کو الوداعی بوسہ دیتی رخصت ہو رہی تھیں تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دن اپنی تھکی ہوئی سانسوں کو سمیٹ کر رات کی آغوش میں جا سمٹنے کو بے تاب ہو۔ آنگن کے بیچوں بیچ کھڑا قد آور مولسری کا درخت شام کی ہلکی سی اداسی اوڑھے خاموشی سے کھڑا تھا، مگر اس کی شاخوں پر بسیرا کرنے والی چڑیوں نے جیسے اس خاموشی کے خلاف بغاوت کر رکھی ہو۔ ان کی بے ترتیب چہچہاہٹ پورے آنگن میں ایک شور سا برپا کیے ہوئے تھی، جیسے ہر چڑیا اپنے دن بھر کے قصے سنا کر دل ہلکا کرنا چاہتی ہو۔ دیوار کے ساتھ بنی کیاری میں کھلے رنگ برنگے پھول اپنی مہک ہوا کے نرم جھونکوں کے سپرد کر رہے تھے، اور وہ خوشبو فضا میں گھل کر ایک عجیب سی دلکشی پیدا کر رہی تھی۔
برآمدے کی دہلیز پر بیٹھی حنا ساکت و جامد بیٹھی، خالی خالی نظروں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں جیسے سامنے کے منظر کو دیکھنے کے باوجود کچھ بھی محسوس کرنے سے قاصر تھیں۔ چڑیوں کی نقرئی چہچہاہٹ اور پھولوں کے دل آویز رنگ اس کے دل کی ویرانی کو کم کرنے کے بجائے اور گہرا کر رہے تھے۔ باہر کی دنیا رنگوں اور آوازوں سے بھرپور تھی، مگر اس کے اندر ایک سنسان ویرانہ آباد ہو چکا تھا جہاں نہ کوئی صدا تھی نہ کوئی روشنی۔
کل تک اس کے دامن میں خوشیوں کے جگنو جھلملاتے تھے، دل امیدوں کے چراغوں سے روشن تھا اور آنکھوں میں سنہرے خوابوں کی ایک پوری دنیا آباد تھی۔ مگر آج… آج اس کا دامن آنسوؤں سے تر تھا، جیسے کسی نے اس کی ساری خوشیاں چھین کر اسے غم کی سیاہ چادر اوڑھا دی ہو۔ دل مایوسی کے اندھیروں میں بھٹک رہا تھا اور آنکھیں شکستہ خوابوں کی کرچیوں سے زخمی ہو کر ہر پل ٹیس اٹھا رہی تھیں۔
کل تک وہ شمیم خالہ کی آنکھوں کا تارا تھی، ان کی ہونے والی لاڈلی بہو، اور شہر کے معروف چیف انجینئر کامران وحید کے اکلوتے بیٹے اذان کی بچپن کی منگیتر۔ اس کے پیدا ہوتے ہی شمیم خالہ نے اسے اپنے بیٹے کے لیے مانگ لیا تھا۔ اس ننھی سی کلی کی انگلی میں ایک باریک سی سنہری انگوٹھی پہنا دی گئی تھی، جس پر اذان کا نام کندہ تھا.جیسے تقدیر نے اسی لمحے اس کا رشتہ کسی اور کے نام لکھ دیا ہو۔ وہ انگوٹھی صرف زیور نہیں تھی، بلکہ ایک عہد، ایک خواب، اور ایک ایسا بندھن تھی جسے سب نے اٹل سمجھ لیا تھا۔
یہ رشتہ شمیم خالہ کے لیے نہایت بابرکت ثابت ہوا تھا۔ برسوں کی تنگدستی اور بے یقینی کے بعد، ان کے شوہر کامران وحید کو اچانک سعودی عرب کے ایک بڑے تعمیراتی ادارے میں اعلیٰ ملازمت مل گئی۔ گویا قسمت نے یکدم کروٹ لی اور خوشحالی ان کے در پر آ کھڑی ہوئی۔ وہ بیوی اور بیٹے سمیت دمام منتقل ہو گئے، مگر جاتے ہوئے اپنے پیچھے وعدوں، امیدوں اور ایک ننھی سی بچی کے دل میں سجے خوابوں کا ایک جہاں چھوڑ گئے.ایسا جہاں جس کی بنیاد محبت پر تھی، مگر جس کی قسمت کا فیصلہ ابھی ہونا باقی تھا.
پھر وہ پورے چار برس بعد وطن لوٹے تو جیسے وقت نے بھی ان کے استقبال میں اپنی رفتار دھیمی کر دی ہو۔ اس واپسی میں ایک ٹھہراؤ تھا، ایک وقار، اور ساتھ ہی کئی ان دیکھے خوابوں کی چاپ بھی سنائی دیتی تھی۔ اسی قیام کے دوران انہوں نے شہر کے ایک پوش علاقے میں ہزار گز کا وسیع پلاٹ خریدا. یہ محض زمین کا ٹکڑا نہیں تھا بلکہ آنے والے وقتوں کی ایک خوبصورت تعبیر کا پہلا قدم تھا۔ ارادہ یہ تھا کہ یہاں ایک عالی شان گھر تعمیر ہوگا، جسے “حنا ہاؤس” کا نام دیا جائے گا۔ یہ نام سنتے ہی جیسے ننھی حنا کے وجود میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی، حالانکہ وہ اس وقت ان باتوں کی گہرائی کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر تھی۔
مہینہ بھر قیام کے بعد وہ دوبارہ پردیس لوٹ گئے، مگر اپنے پیچھے ایک ایسا خواب چھوڑ گئے جو آہستہ آہستہ حقیقت کا روپ دھارنے لگا۔ کئی برس بیت گئے۔ جب شمیم بیگم ایک بار پھر وطن واپس آئیں تو اب حنا آٹھ برس کی ہو چکی تھی۔ اس کی آنکھوں میں معصومیت کے ساتھ ساتھ شعور کی پہلی کرنیں بھی جھلکنے لگی تھیں۔ وہ عمر کے اس نازک موڑ پر تھی جہاں بچپن کی بے فکری اور آنے والی جوانی کے دھندلے خواب ایک دوسرے میں مدغم ہونے لگتے ہیں۔
اسی دوران اسے پہلی بار یہ احساس ہوا کہ بہت پیار کرنے والی اپنی “سویٹ سی” خالہ کا شوخ و شریر، قدرے خود سر مگر دلکش بیٹا اذان اس کے لیے محض خالہ زاد نہیں، بلکہ اس سے جڑا ایک اور انوکھا رشتہ بھی رکھتا ہے۔ اس انکشاف نے اس کے معصوم دل میں ایک نئی کھڑکی کھول دی.سوچ کے افق پر ایک انجانی روشنی بکھر گئی۔ تخیل کو جیسے پر لگ گئے ہوں، اور وہ ان دیکھے خوابوں کی دنیا میں اڑان بھرنے لگی۔
اس بار شمیم بیگم پورے تین ماہ قیام پذیر رہیں۔ انہی دنوں اس پلاٹ پر ایک شاندار، عالی شان کوٹھی تعمیر کروائی گئی۔ جب وہ گھر مکمل ہوا تو اس کی پیشانی پر سنہری حروف میں “حنا ہاؤس” کندہ کیا گیا۔ وہ لمحہ حنا کے لیے کسی جادو سے کم نہ تھا۔ اپنے نام کو اس خوبصورت عمارت کے ماتھے پر جگمگاتے دیکھ کر اس کے دل میں ایک عجیب سا یقین جنم لینے لگا. جیسے یہ گھر واقعی اسی کے لیے بنایا گیا ہو، جیسے اس کی تقدیر کی ڈور اسی دہلیز سے بندھی ہو۔وہ اکثر اس کوٹھی کے کشادہ کمروں میں گھومتی، دیواروں کو چھوتی، کھڑکیوں سے باہر جھانکتی اور دل ہی دل میں خود کو اس گھر کی ملکہ تصور کرتی۔ اس کے ننھے سے دل میں ایک معصوم خواہش جڑ پکڑنے لگی کہ ایک دن وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی گھر میں رہے گی.اذان کے ساتھ، اس کے نام کی ہو کر۔
وقت گزرتا گیا، اور یہ احساس بھی آہستہ آہستہ گہرا ہوتا چلا گیا۔ بچپن کی وہ ادھوری، بکھری ہوئی سوچیں جوانی کی دہلیز تک پہنچتے پہنچتے ایک مکمل پیکر اختیار کر چکی تھیں۔ اب وہ محض ایک خیال نہیں رہا تھا بلکہ اس کے دل و دماغ پر حاوی ایک حقیقت بن چکا تھا۔ اذان اپنی بے نیاز، قدرے لا تعلق مگر پُرکشش شخصیت کے ساتھ اس کی روح میں اتر چکا تھا. بغیر کچھ کہے، بغیر کسی وعدے کے۔ مگر اس بار جب شمیم بیگم وطن لوٹیں تو ایک کمی صاف محسوس ہوتی تھی۔ اذان ان کے ساتھ نہیں تھا۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ جا چکا تھااور یوں پہلی بار فاصلے نے اس کہانی میں خاموشی سے قدم رکھا، جیسے آنے والے وقتوں کی کسی ان کہی جدائی کا پیش خیمہ ہو.
اور اسی ٹھٹھرا دینے والے دیس کی ایک دھند آلود شام میں.جہاں ہوا میں نمی کے ساتھ ایک انجانی اداسی بھی گھلی ہوئی تھی.اذان کی ملاقات ایک ایسی لڑکی سے ہوئی، جس نے لمحوں میں اس کے گرد پھیلے سناٹے کو توڑ دیا۔ پارک کے سنسان گوشے میں، دھند کی ہلکی چادر اوڑھے درختوں کے درمیان بیٹھی وہ شام جیسے خود بھی کسی کہانی کا حصہ بن چکی تھی.اسی دھند میں لپٹی فضا میں نرملا نمودار ہوئی.بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، جن میں ایک عجیب سا سحر تھا، جیسے وہ خاموشی سے کسی کو اپنی طرف کھینچ لینے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ اس کی لمبی، گھنی، سیاہ زلفیں ہوا کے نرم جھونکوں سے الجھ کر شام کی سرمئی رنگت کو اور گہرا کر رہی تھیں۔ اس کے تراشیدہ لبوں پر پھیلی دلربا مسکراہٹ نے ماحول کی اداسی کو جیسے اپنے اندر جذب کر لیا تھا، اور اس کے سانولے سلونے چہرے کی فطری کشش نے اذان کو بے اختیار اپنی جانب متوجہ کر لیا۔
پارک کی ایک پرانی لکڑی کی بینچ پر بیٹھا، بیزاری میں ڈوبا ہوا اذان، جو ابھی چند لمحے پہلے تک اپنے خیالوں میں گم تھا، یکدم چونک سا گیا۔ فضا جیسے بدل گئی ہو. ایک لمحے میں سب کچھ پہلے سے زیادہ خوبصورت، زیادہ زندہ محسوس ہونے لگا۔ نرملا کے وجود نے اس بے جان منظر میں جیسے زندگی کی رمق بھر دی تھی۔
وہ چند قدم دور رکی، پھر پارک کے وسط میں بنی مصنوعی جھیل میں تیرتی سفید بطخوں کو دیر تک دیکھتی رہی۔ پانی کی سطح پر بنتی بگڑتی لہریں اور بطخوں کی بے فکری شاید اسے کسی گہرے خیال میں لے گئی تھیں۔ پھر اس نے ایک طائرانہ نظر پورے پارک پر دوڑائی، جیسے کسی شناسا چہرے کی تلاش ہو… اور آخرکار اس کی نگاہ آ کر اذان پر ٹھہر گئی.اکیلا، خاموش، اور کچھ کھویا ہوا سا۔ وہ ہلکے قدموں سے اس کی طرف بڑھی۔ اس کی آنکھوں میں دوستانہ چمک تھی اور لبوں پر ایک اپنائیت بھری مسکراہٹ۔
“آر یو انڈین?” اس نے قریب آ کر نہایت نرم اور شیریں لہجے میں پوچھا۔ اس کی آواز میں ایسی مٹھاس تھی کہ جیسے فضا میں کوئی مدھر ساز بج اٹھا ہو۔
اذان نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے، جیسے کسی سحر میں گرفتار ہو کر جواب دیا،
“نو آئی ایم پاکستانی”
“لیکن میں ہندوستانی ہوں۔”
وہ مسکرائی اور مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
“نرملا… نرملا مکھرجی۔ میرے پتا اجیت مکھرجی مغربی بنگال میں چائے کے باغات کے ٹھیکیدار ہیں۔”
اذان نے اس کا نازک، گداز ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں لیتے ہوئے ہلکے سے کہا،
“میں اذان ہوں… اگرچہ پاکستانی ہوں، مگر بچپن سے اب تک دمام میں پلا بڑھا ہوں۔ میرے والد وہاں ایک تعمیراتی کمپنی میں چیف انجینئر ہیں۔”
یہ ان دونوں کی پہلی ملاقات تھی. مگر اس ایک لمحے میں جیسے کئی ان کہی باتیں ایک دوسرے تک منتقل ہو گئی تھیں۔ نرملا انگلینڈ آرٹ کی تعلیم حاصل کرنے آئی تھی، اور اس کی شخصیت میں واقعی ایک فنکارانہ لطافت تھی۔ وہ نرم گو تھی، دھیمے لہجے میں بات کرنے والی، اور اس کی موجودگی میں ایک عجیب سی سکون بخش حرارت تھی۔ اذان کو اسے دیکھ کر اکثر اوائلِ جاڑوں کی نرم، گلابی دھوپ یاد آتی.وہی ہلکی سی گرمی، وہی لطیف سا لمس، جو دل کو بے اختیار اچھا لگنے لگے۔ اس کی سیاہ آنکھوں میں جیسے ہزاروں رنگ چھپے تھے، اور ہر رنگ میں ایک الگ کشش، ایک الگ کہانی۔
دوسری طرف نرملا کے دل میں بھی اذان کے لیے ایک نرم سا گوشہ پیدا ہو چکا تھا۔ وہ اس کی سنجیدگی، اس کی خاموشی، اور اس کے لہجے کی سچائی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ ان کی ملاقاتیں بڑھنے لگیں، اور ہر ملاقات کے بعد ایک انجانی سی خوشی، ایک عجیب سی تسکین دونوں کے دلوں میں اترتی چلی جاتی۔
ان کے درمیان ایک خاموش سی کشش تھی.بغیر کسی دعوے کے، بغیر کسی اظہار کے۔ مگر اس کے باوجود وہ دونوں حد درجہ محتاط تھے۔ کیونکہ دل کے کسی کونے میں وہ اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ تھے کہ ان کے درمیان صرف فاصلے ہی نہیں، بلکہ سرحدیں بھی حائل ہیں. وہ سرحدیں جو کبھی کبھی دلوں کے بیچ بھی دیوار بن جاتی ہیں۔
نرملا جانتی تھی کہ اذان ایک سچا اور اپنے اصولوں پر قائم مسلمان ہے، جبکہ اذان خود بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھا کہ اس کے قدموں میں بچپن کے اس رشتے کی ایک اَن دیکھی مگر مضبوط زنجیر پڑی ہوئی ہے۔ نرملا اپنے دھرم سے ناتا نہیں توڑ سکتی تھی اور اذان میں بھی اتنا حوصلہ نہ تھا کہ وہ برسوں پہلے بندھے اس رشتے سے یکسر انحراف کر سکے، اسی لیے دونوں نے شعوری طور پر خود کو اس حد سے دور رکھنے کی کوشش کی جسے محبت کہا جاتا ہے۔ مگر محبت کب کسی حد کی پابند رہی ہے؟ وہ تو خاموشی سے دلوں میں راستہ بناتی ہے اور پھر ایک دن انسان خود کو اس کے حصار میں قید پاتا ہے۔ یوں ہی غیر محسوس انداز میں محبت نے ان دونوں کو اپنی گرفت میں لینا شروع کر دیا۔ اذان، چاہے جتنا بھی خود کو سنبھالتا، نرملا کی آنکھوں کے سحر میں ڈوبتا چلا جاتا اور نرملا نے بھی اسے اپنی انہی فسوں خیز نگاہوں کے راستے اپنے دل میں اتار لیا۔ ایک شام اس نے نہایت سادگی مگر پوری سچائی کے ساتھ کہا، “اذان! میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔” اذان بھی دل کی گہرائیوں سے بول اٹھا، “میں بھی… مگر تم جانتی ہو، ایسا ہو نہیں سکتا۔” اس کے لہجے کی اداسی نے نرملا کو چونکا دیا۔ “کیوں؟” اس نے حیرانی سے پوچھا۔ اذان نے سنجیدگی سے جواب دیا، “کیونکہ ہمارے درمیان بہت کچھ مختلف ہے… مثلاً مذہب۔” “مذہب؟ شادی کا مذہب سے کیا تعلق؟” نرملا نے بے یقینی سے کہا۔ اذان نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں سمجھایا، “ہمارے لیے شادی ایک مذہبی فریضہ ہے، اگر مذہب کو اس سے الگ کر دیا جائے تو یہ رشتہ پاکیزہ نہیں رہتا، صرف ایک گناہ آلود تعلق بن جاتا ہے۔” یہ سن کر نرملا گہری سوچ میں ڈوب گئی۔ وہ محبت کے اس مقام پر پہنچ چکی تھی جہاں انسان ہر حد پار کرنے کو تیار ہو جاتا ہے، چنانچہ اس نے اسلام کے بارے میں مطالعہ شروع کر دیا اور جلد ہی اس کے دل نے اس سچائی کو قبول کر لیا۔ اب وہ اذان کے لیے اپنا وطن، اپنے ماں باپ اور اپنا دھرم چھوڑنے پر آمادہ تھی۔ دوسری طرف اذان کے دل میں حنا کے لیے کوئی خاص جذبات نہ تھے، وہ اسے بچپن کے بعد کبھی جان نہ سکا تھا، مگر اس کے باوجود وہ اس کا دل نہیں دکھانا چاہتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مشرقی لڑکیاں ایسے رشتوں کے معاملے میں کس قدر حساس ہوتی ہیں۔ مگر نرملا کی شخصیت اور محبت کے سامنے وہ بے بس ہو گیا، اور یوں ایک خاموش سی شام، سادگی سے، نرملا نے اسلام قبول کیا اور وہ اذان کے عقد میں آ گئی۔ وقت گزرتا گیا، اذان نے اپنی ایف آر سی ایس مکمل کی اور پھر ایک دن وہ وطن لوٹ آیا، مگر اس بار وہ اکیلا نہیں تھا.اس کے ساتھ اس کی بیوی نرملا بھی تھی، اور وہ امید سے تھی۔ جب یہ خبر حنا تک پہنچی تو جیسے اس کی دنیا ایک لمحے میں اجڑ گئی۔ یہ صرف ایک خبر نہیں تھی بلکہ اس کے تمام خوابوں کا انہدام تھا؛ وہ خواب جو اس نے برسوں سے سنبھال رکھے تھے، وہ گھر جس کی پیشانی پر اس کا نام لکھا تھا، وہ رشتہ جسے وہ اپنی تقدیر سمجھتی تھی.سب کچھ ایک ہی لمحے میں راکھ ہو گیا، اور اس کے دل کا گلستان جل کر ویران ہو گیا۔
جھوٹا رشتہ – سیکنڈ لاسٹ حصہ