آنکھ کھولی تو قسمت کی سیاہ گھڑی نے اپنا منحوس سایہ مجھ پر ڈال دیا۔ صبح کی پہلی کرن بھی میرے چھوٹے سے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ہی بوجھل لگتی تھی۔ میرا معصوم بچپن محرومیوں کی سرد اور نم گود میں پلتا رہا۔ چھوٹی چھوٹی خواہشیں . ایک رنگین فیتا، ایک گلاب کی پنکھڑی، یا بس ماں کی ایک مسکراہٹ . افلاس کی بے رحم چھڑی تلے کچلتی رہیں۔ جوانی کے قدم جب دروازے پر آئے تو بدبختی بھی ان کے ساتھ ہی چلتی آئی، جیسے کوئی سایہ جو کبھی پیچھا نہ چھوڑے۔ وہ دن اب بھی یاد آتے ہیں جب دوسری بچیوں کے ہاتھوں میں پلاسٹک کی گڑیاں ہوتی تھیں اور ان کے ہونٹوں پر ہنسی۔ میرے ہاتھوں سے تو ماں باپ کا سایہ اٹھ چکا تھا۔ ابھی میں گڑیوں سے کھیلنے کی عمر میں تھی کہ ایک رات اچانک ماں کی آخری سانس ٹھنڈی ہو گئی اور باپ، جو کبھی میرا آسمان تھے، چند دن بعد ہی دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے۔
گھر میں بس ایک پرانا تخت، ایک ٹوٹی ہوئی الماری اور ماں کی وہ ساڑھی تھی جو اب بھی کبھی کبھی ان کی خوشبو لیے ہوئے لگتی تھی۔ ترس کھا کر چچا رشید نے ہمیں اپنے گھر لے لیا۔ وہ گھر چھوٹا سا تھا، لیکن اس کے صحن میں ہمیشہ دھواں اور چولہے کی بو رہتی تھی۔ تب سے میرے ننھے ہاتھوں نے کھیلنے کی بجائے برتن مانجنا، جھاڑو پھیرنا، کپڑے دھونا اور چچی کے بچوں کو نہلانا سیکھ لیا۔ ہاتھوں کی جلد پھٹنے لگی تھی، لیکن آنسوؤں کو پونچھنے کا بھی وقت نہیں ملتا تھا۔ وہ دن اکیلے مسافر کی راہ میں تپتی دھوپ اور ببول کے نوکیلے کانٹوں جیسے تھے۔ آج بھی ان لمحوں کی یاد میرے جسم کے رگ و پے میں چبھتی رہتی ہے۔ جب کبھی ماں باپ کا خیال آتا ہے تو سینے سے لہو ٹپکنے لگتا ہے۔ ماں کی آواز کانوں میں گونجتی ہے .”آمنہ بیٹی، تھوڑا سا دودھ پی لے” اور باپ کی وہ بڑی بڑی آنکھیں جو مجھے دیکھ کر ہمیشہ مسکرا دیتی تھیں۔ اب وہ سب صرف یادوں کا ایک ٹوٹا ہوا شیشہ بن چکے ہیں۔
جب میں سولہ برس کی ہوئی تو سب کچھ بدل گیا۔ چچا رشید اور دادا کی آنکھوں میں مجھ یتیم کے لیے رحم کی جگہ اب بوجھ نظر آنے لگا۔ چچی نذیرہ، جو پہلے مجھے “بیٹی” کہہ کر بلاتی تھیں، اب میری طرف دیکھ کر جھرجھری لینے لگیں۔ گلی محلے کے لڑکے جب کبھی میری جھلک دیکھ لیتے . خاص طور پر جب میں چھت پر کپڑے خشک کرنے جاتی . تو آپس میں مسکراتے ہوئے کہتے، “ارے یار، چچا جی کے گھر کے اندر پردوں کے پیچھے کوئی قیامت تو نہیں چھپی ہوئی؟ یا کوئی بلا ہے جو دن بھر نظر نہیں آتی؟” ان کی ہنسی میرے کانوں تک پہنچ جاتی اور مجھے شرم سے چہرہ جلنے لگتا۔ اب اس “بلا” کو کسی کے سر منڈھنے کی فکر گھر والوں کو چپکے چپکے کھائے جا رہی تھی۔ رات کو جب سب سو جاتے تو چچا اور چچی کے کمرے سے آوازیں آنے لگتیں۔ “لڑکی تو خوبصورت ہے، کوئی اچھا رشتہ مل جائے تو گھر کا بوجھ بھی اتر جائے۔” ان الفاظ نے میرے دل کو ہر بار چبھا دیا۔ میں جانتی تھی کہ اب میری زندگی کا فیصلہ صرف ان کی سہولت کے لیے ہو رہا ہے۔
ہماری محلے دار عورتوں کا گھر میں آنا اب عام بات بن چکی تھی۔ جب بھی کوئی عورت چادر اوڑھے، چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ لیے ہمارے صحن میں داخل ہوتی، تو اس کی نگاہیں فوراً مجھ پر جم جاتیں۔ وہ مجھے سر سے پاؤں تک گھورتیں، جیسے کوئی مال خریدنے والی ہو۔ پھر چچی نذیرہ کے کان میں سرگوشی کرتیں،
“بہن، جوان لڑکی ہے تمہاری گھر میں۔ جلدی سے اس کے ہاتھ پیلے کرو۔ زمانہ بڑا برا ہے۔ ہم اچھے ہیں تو کیا ہوا، خود کو نہ جانچو، زمانے کی فکر کرو۔”
چچی ان باتوں کو سن کر دانتوں تلے زبان دباتیں اور بس مسکرا کر رہ جاتیں۔ جب پڑوسن چلی جاتی تو وہ دادا کے پاس جا کر پوچھتیں،
“ابا جی، پوتی کو کب بیاہنے کا ارادہ ہے؟ لڑکی تو اب بالغ ہو چکی ہے۔”
دادا اپنی پرانی لکڑی کی کرسی پر بیٹھے، آنکھیں نیم بند کیے، آہستہ آہستہ جواب دیتے،
“کوئی اچھا رشتہ آئے تو ہم بھی جلدی اس فرض سے نمٹنا چاہتے ہیں۔”
چچی فوراً بے صبری سے کہتیں، “ہاں ابا جی، جو بھی رشتہ آئے، زیادہ سوچ بچار میں نہ پڑیں۔ آپ کو تو بڑھاپے کی جھپکیاں آنے لگی ہیں اور آپ کے سپوت ٹھہرے سدا کے لاپرواہ۔ ان کی بھتیجی کے بیاہنے کی کوئی فکر ہی نہیں۔ گھر میں بیٹھی ہوئی ہے تو بس ہمارا سر کھا رہی ہے۔” دادا کی گہری جھپکیاں آہستہ آہستہ بڑھاپے کی آخری ہچکیوں میں بدل گئیں۔ ان کی سانس کی آواز کمرے میں گونجنے لگی، مگر میرے ہاتھ پیلے کرنے والا کوئی نہ آیا۔ دن گزرتے گئے۔ میری عمر سترہ، اٹھارہ، انیس برس کی طرف بڑھ رہی تھی۔
جب چچا رشید کو میری گزرتی ہوئی جوانی کا احساس ہوا تو وہ بھی فکرمند ہو گئے۔ ہمارے علاقے میں شادی کا ایک خاص رواج تھا . لڑکی کو نکاح میں دینے کے بدلے دولہے یا اس کے گھر والوں سے خوبصورت رقم لینا۔ اسے “داج” یا “سودا” کہا جاتا تھا۔ لہٰذا جو بھی رشتہ آتا، وہ میرے چہرے کو نہیں، میری “قیمت” کو دیکھ کر آتا۔ ایک دن چچا نے گہری سوچ میں ڈوب کر فیصلہ کر لیا۔ جب بیچنا ہی نکاح کا حصہ بن چکا ہے تو پھر کسی ایسے شخص کو داماد کیوں نہ بنایا جائے جو امیر ہو، جس کے گھر میں لڑکی بھی آسائش سے رہے اور ہماری غربت کا بھی کچھ مداوا ہو جائے۔
تب انہوں نے مجھے کوہاٹ کے ایک مشہور امیر خاندان کے سربراہ حاجی سردار خان کے ہاتھ “بیچ” دیا۔ حاجی صاحب کی عمر پچاس کے قریب تھی۔ ان کے تین بیویاں گزر چکی تھیں اور اب چوتھی بیوی کی تلاش تھی۔ بدلے میں انہوں نے چچا رشید کی جھولی روپوں سے بھر دی . اتنی رقم کہ چچا کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ یوں میرے جسم و جان کا سودا ہو گیا۔اس رات میں نے اپنے پرانے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا۔ آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ دل میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا —. کیا میری زندگی اب صرف ایک سودے کا نام بن کر رہ جائے گی؟
ہمارے علاقے میں تو یہ رسم نہ تھی کہ لڑکی کو پیسوں کے بدلے بیچا جائے، مگر چچا رشید میرے لیے ایسا بیاہ ہرگز نہ چاہتے تھے۔ وہ بار بار کہتے، “یہ تو ظلم ہے بیٹی پر…” لیکن غربت نے ان کی گردن پر ایسا پاؤں رکھ دیا تھا کہ مزاحمت کی ساری راہیں بند ہو چکی تھیں۔ گھر میں چھوٹے چھوٹے بچوں کی تعداد زیادہ تھی، ان کے پیٹ بھرنے کے لیے ایک وقت کی روٹی بھی مشکل سے میسر ہوتی تھی۔ آخر کار مجبوری نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔
ایک دن صبح سویرے ہی میرا سامان . جو بس دو پرانے سوٹ کیسوں میں سما گیا تھا . گاڑی میں رکھا گیا۔ چچی نذیرہ نے آنسوؤں بھری آنکھوں سے میرا سر چوما، چچا نے سر جھکائے ہوئے صرف اتنا کہا، “معاف کرنا بیٹی…” اور پھر گاڑی چل پڑی۔ میں چچا کے افلاس بھرے، تنگ اور اندھیرے گھر سے ایک کھاتے پیتے، خوشحال اور وسیع گھر میں منتقل ہو گئی۔ کوہاٹ کا وہ بڑا سا حویلی نما مکان، جس کے صحن میں پھولوں کے باغ تھے، قیمتی پتھر کی سیڑھیاں تھیں اور ہوا میں خوشبوؤں کا ایک الگ ہی عالم تھا۔ نیا شہر، نیا گھر، نئے چہرے کئی دنوں تک دل پر وحشت طاری رہی۔ رات کو اکیلی پڑ کر روتی تو لگتا تھا جیسے کوئی میرے سینے پر بھاری پتھر رکھے ہوئے ہے۔ ہر آواز اجنبی لگتی تھی.
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ذہن نے نئے حالات سے سمجھوتہ کر لیا۔ گھبراہٹ آہستہ آہستہ دور ہوتی گئی۔ سسرال والوں کا اچھا سلوک اور مزیدار، کھانے پینے کی فراوانی نے میرے جسم و روح کو سکون بخشا۔ میرا رنگ نکھرنے لگا، گالوں پر سرخی آ گئی، اور آنکھوں میں ایک نئی چمک پیدا ہو گئی۔ میں ان پڑھ، گنوار لڑکی تھی، لیکن میرے حسن کا یہاں کوئی ثانی نہ تھا۔ لمبے خوبصورت بال، گوری چمکدار رنگت، بڑی بڑی آنکھیں اور معصوم چہرہ . سب کچھ ایسا تھا کہ لوگ ایک نظر میں رک جاتے تھے۔ میری عادتیں بھی اچھی تھیں۔ بڑوں کا ادب، سلیقہ مندی اور شرافت میری شخصیت کا حصہ بن چکے تھے۔ کبھی کسی غلط ہاتھ نے مجھے نہیں چھوا، نہ کسی کی میلی نظر مجھ پر پڑی تھی۔ اگر کوئی نظر بھر کر دیکھتا تو میں شرم سے سمٹ کر گلنار ہو جاتی۔ میری بے ساختہ، سادہ سی باتیں اور معصوم مسکراہٹ نے میرے شوہر کا دل فوراً جیت لیا۔
حاجی صاحب کی بیوی یعنی میری ساس ، مجھے اب بہو کی بجائے بیٹی سمجھنے لگی تھیں۔ وہ اکثر کہتیں، “آمنہ، تم تو اللہ کی نعمت ہو بیٹی۔”
میں بچپن سے محنت مشقت کی عادی تھی، اس لیے بن کہے گھر کے سارے کام کر دیتی تھی۔ برتن، جھاڑو، کپڑے، کھانا پکانا . سب کچھ میری فطرت بن چکا تھا۔ میرے سلیقے اور سگھڑاپے نے ان کے بڑے حویلی نما گھر کو محل کی شان عطا کر دی تھی۔ ساس سسر اکثر کہتے، “ایسی بہو تو چراغ لے کر بھی نہیں ملتی۔ یہ ہیرا تو خوش قسمتی سے ہمارے گھر کی زینت بن گیا۔”
مجھے خرید لانے کے صرف چند دن بعد ہی حاجی صاحب نے دو چار قریبی رشتہ داروں کو اکٹھا کیا اور گھر پر ہی میرا نکاح اپنے بیٹے محبوب خان کے ساتھ پڑھوا دیا۔ محبوب خان کی عمر میری نسبت کچھ زیادہ تھی، لیکن وہ خوش مزاج اور میٹھے سلوک والے شخص تھے۔ نکاح کے بعد ساس سسر نے مجھے گھر پر ہی تعلیم دلوانا شروع کر دیا۔ ایک استاد صاحب آتے تھے جو مجھے اردو، حساب کتاب اور بنیادی اسلامی تعلیم دیتے۔ وہ کہتے، “جو کمی رہ گئی تھی، اسے اب ہم پورا کریں گے۔”
یوں میری زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا.
اب میں ہر غم اور فکر سے آزاد تھی۔ محبوب خان جیسا میٹھا، خیال رکھنے والا شوہر پا کر مجھے لگتا تھا کہ میری زندگی کی معراج یہی ہے۔ وہ میرے بغیر ایک لقمہ بھی نہ کھاتے۔ مجھے دیکھ کر ان کی آنکھیں مسکرا اٹھتیں اور وہ اکثر کہتے، “آمنہ، تم نے میرے گھر کو جنت بنا دیا ہے۔” اس خوشی کے چند مہینوں بعد میری گود ہری ہو گئی۔ جب ڈاکٹر نے تصدیق کی کہ میں ماں بننے والی ہوں تو خوشی سے میرا دل پھولا نہ سماتا تھا۔ میں دن بھر اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتی اور سوچتی کہ اب میری زندگی مکمل ہو جائے گی۔ مگر افسوس کہ یہ خوشی صرف ایک جھوٹی چمک تھی۔
بچہ پیدا ہوا تو گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مگر قسمت نے پھر وار کیا۔ وہ ننھا سا بچہ صرف چند دن ہی زندہ رہ سکا۔ ایک صبح جب میں اسے اٹھانے گئی تو اس کا چھوٹا سا جسم ٹھنڈا پڑا تھا۔ میں بیٹے کو کھو کر بلک بلک کر روئی۔ سینے سے لگا کر چیخیں مارتی رہی۔ یوں لگا جیسے میرے روشن گھر میں ایک دم اندھیرا بھر گیا ہو۔ ہر طرف گھٹا گھٹا سا ماحول ہو گیا۔ دن رات آنسوؤں کا سیلاب بہتا رہا۔ وہ آنسو میرے گھروندے کا تنکا تنکا بہا لے جاتے تھے۔ محبوب خان بھی بہت ٹوٹ گئے تھے، مگر مجھے دیکھ کر خود کو سنبھالتے اور کہتے، “اللہ دوبارہ دے گا آمنہ… صبر کرو۔”
لیکن اس غم نے میرے اندر کا سکون ہمیشہ کے لیے بہا دیا۔
پھر ذرا سی بات کے بہانے میری پوری زندگی بدل گئی۔ محبوب خان کو اچانک نئے کاروبار کی سوجھ گئی۔ وہ لاہور جانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ ان کے جانے کا دن آیا تو مجھے گلے لگا کر کہا، “میں جلد واپس آ جاؤں گا۔ تم اپنا خیال رکھنا۔” میں نے مسکرا کر سر ہلا دیا، مگر دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ ان کے جانے کے بعد میرا پورشن سسرال کے ایک دور دراز گوشے میں بالکل تنہا رہ گیا۔ جو بھی مہمان آتے، وہ سسر حاجی صاحب کے حصے میں ٹھہرتے تھے۔
اس دن ساس اپنی بڑی بیٹی کے گھر دوسرے گاؤں گئی ہوئی تھیں۔ حاجی صاحب بھی محبوب خان کے ساتھ لاہور کے نئے کاروباری لوگوں سے ملنے چلے گئے تھے۔ گھر میں خاموشی تھی۔ میں اکیلے ہی دن گزار رہی تھی کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ سسر کے ایک قریبی رشتہ دار آ گئے تھے۔ وہ پہلے بھی کئی بار گھر آ چکے تھے۔ ساتھ ان کی بیوی بھی تھیں۔ میں نے عزت سے انہیں بیٹھنے کو کہا اور پانی پکا کر پیش کیا۔ پھر پوچھا، “حاجی صاحب اور ساس جی کب تک آ جائیں گی؟” انہوں نے جواب دیا، “شاید شام تک آ جائیں۔”
وہ شخص جس کا نام شیراز خان تھا، تھوڑی دیر بعد بولا، “بہو، میں نے اپنی بیوی کو شہر کے بڑے اسپتال میں دکھانا ہے۔ ہم ابھی اسپتال جا رہے ہیں۔ جب تک حاجی صاحب یا ان کی بیوی آ جائیں، ہم واپس آ جائیں گے۔” یہ کہہ کر دونوں میاں بیوی اٹھے اور چلے گئے۔ میں نے دروازہ بند کیا اور معمول کے مطابق گھر کے کاموں میں لگ گئی۔ دل میں کوئی خاص فکر نہ تھی۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
دوپہر کا سورج ابھی ڈھلنے بھی نہ پایا تھا کہ شیراز خان نے دوبارہ دروازے پر دستک دی۔ اس بار وہ اکیلا تھا۔ میں نے دروازہ کھولا تو اس کا چہرہ کچھ عجیب لگ رہا تھا۔ میں نے بے چینی سے پوچھا، “چاچا! آپ کی بیوی کہاں ہیں؟”
وہ افسردہ لہجے میں بولا، “بیٹی، ڈاکٹر نے اسے فوراً اسپتال میں داخل کر لیا ہے۔ آپریشن کرنا پڑے گا۔ ہم کسی تیاری کے بغیر آئے تھے۔ اب ایک شال، تکیہ، تھرماس، چائے کے گلاس اور کپ ایک ٹوکری میں رکھ دو۔ مجھے یہ سامان لے کر فوراً اسپتال جانا ہے۔ جب تمہارے ساس سسر آ جائیں تو بتا دینا کہ جان بی بی اسپتال میں داخل ہیں۔” میں نے فوراً گھر کا سامان اکٹھا کیا اور باسکٹ میں رکھ دیا۔ پھر سوچا کہ وہ بچارے اسپتال میں بھوکے کیسے رہیں گے۔ میں نے کہا،
“چاچا، کھانا تو بنا ہوا ہے۔ میں ٹفن میں ڈال کر دے دیتی ہوں۔ آپ اسپتال میں کہاں کھانا ڈھونڈتے پھریں گے؟”
وہ راضی ہو گیا اور میرے سسر حاجی صاحب کے کمرے میں جا کر بیٹھ گیا۔ میں نے جلدی سے کھانا ٹفن میں ڈالا، روٹی گرم کی اور باسکٹ کے ساتھ لے کر ان کے پاس گئی۔ جیسے ہی میں کمرے میں داخل ہوئی، شیراز خان نے تیزی سے اندر سے کنڈی چڑھا دی۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ میں نے گھبرا کر کہا،
“چاچا! یہ کیا کر رہے ہیں؟ سسر کی عزت کا واسطہ… دروازہ کھولیں!”
مگر وہ شیطان اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہو چکا تھا۔ میری چیخیں، میری التجائیں، میرا روتا ہوا چہرہ — سب کچھ بے اثر رہا۔ جب وہ اپنا کام کر چکا تو بغیر کسی شرم کے کمرے سے نکل گیا اور گھر سے باہر چلا گیا۔ میں صدمے سے خود کو جیتے جی مردہ سمجھنے لگی۔ جسم کانپ رہا تھا، روح پھٹی جا رہی تھی۔ روتے ہوئے میں کچن میں جا بیٹھی۔ آنسوؤں کا سیلاب تھمنے کا نام نہ لے رہا تھا۔ میں نے چولہے کی راکھ اٹھا کر اپنے سر پر مل لی۔ بال خاک آلود ہو گئے۔ کپڑے پھٹے، جسم لرز رہا تھا۔ میں گھنٹوں اسی حالت میں روتی رہی۔ وقت گزرتا گیا مگر میرے آنسو نہیں تھمے۔
شام ڈھلنے کے قریب جب ساس واپس آئیں تو مجھے اس حالت میں دیکھ کر ان کے پاؤں اکھڑ گئے۔ وہ گھبرا کر میرے پاس دوڑیں۔ میں ان کے گلے لگ کر بلک بلک کر رو پڑی۔ الفاظ تو آنسوؤں میں بہہ گئے تھے۔ کچھ دیر بعد ہچکیوں اور لرزتے ہونٹوں سے میں نے اپنی بیتی قیامت کا احوال سنا دیا۔ ساس میری بات سن کر سکتے میں چلی گئیں۔ ان کا چہرہ پیلا پڑ گیا، ہاتھ کانپنے لگے۔ وہ کچھ بول نہ سکیں۔ میرے غم نے ان کا دل توڑ دیا تھا۔
اس واقعے کے مہینہ بھر بعد ہی ساس خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ وہ دن بھر میرے غم میں ڈوبی رہتی تھیں۔ ان کا جسم کمزور ہوتا جا رہا تھا۔ ایک دن وہ اچانک لڑکھڑا گئیں۔ میں نے اپنا غم بھلا کر انہیں سنبھالنے کی کوشش کی۔ بڑی مشکل سے انہیں کچن کی دیوار کے پاس پڑے تخت پر لٹا دیا۔ مگر جب ان کا سر چھوا تو جسم بالکل ٹھنڈا اور بے جان تھا۔ ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔میرا دل پھٹ گیا۔ پہلے بیٹا، پھر اپنی عزت، اب ساس… لگتا تھا قسمت مجھ پر ایک کے بعد ایک پتھر گرا رہی ہے۔
میری ساس جسے میں اپنا واحد سہارا سمجھتی تھی.یوں اس نیک بخت ساس کا سہارا بھی میرے ہاتھ سے نکل گیا اور میں دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے بالکل اکیلی رہ گئی۔ ساس نے تو اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک میرے لٹنے کی داستان نہ اپنے شوہر حاجی صاحب کو بتائی تھی اور نہ ہی بیٹے محبوب خان کو۔ مگر میں خاموش نہ رہ سکی۔ جب محبوب خان لاہور سے واپس آئے تو میں نے روتے ہوئے انہیں ساری حقیقت بتا دی — شیراز خان کے ناپاک عزائم، میری بے عزتی، اور اس کے بعد ساس کی موت تک کا ہر لمحہ۔
ان کا ردعمل بالکل عجیب اور دل دہلا دینے والا تھا۔ وہ مجھ سے متنفر ہو گئے۔ میری طرف دیکھنے سے بھی گریز کرنے لگے۔ بات کرنے کی بجائے صرف بے رخی برتنے لگے۔ میرے وجود سے انہیں نفرت ہوتی تھی، جیسے میں کوئی داغ دار چیز بن گئی ہوں۔ یہ صورتحال نہ ان کے بس میں تھی اور نہ میرے۔ گھر میں خاموشی کا ایک بھاری بادل چھا گیا تھا۔ایک روز وہ تجارت کا بہانہ بنا کر اچانک آذربائیجان چلے گئے۔ کہتے گئے کہ چند ہفتوں میں واپس آ جاؤں گا۔ مگر وہ دن آج تک نہیں آیا۔ محبوب خان واپس نہ لوٹے۔ ان کی جدائی نے گھر کو اور بھی سنسان کر دیا۔
اب میں اور حاجی صاحب دونوں گھر میں تنہا رہ گئے تھے۔ وہ بےچارے بیٹے کی جدائی میں دن رات سلگتے رہتے۔ بیوی کی وفات نے تو ان کا دل ہی توڑ دیا تھا۔ کاروبار میں دل نہ لگتا تھا، مگر بزنس دیکھنا ان کی مجبوری تھی۔ جب کبھی انہیں دوسرے شہر جانا پڑتا تو مجھے فکر لگی رہتی۔ اب ان کی ذمہ داری میرے سر تھی۔ ان کا گھر پر رہنا ضروری تھا، اور ان کی خدمت کرنا میری مجبوری بن چکی تھی۔ وہ کھانے کے معاملے میں بہت نازک تھے۔ باہر کا کھانا کھاتے تو فوراً بیمار پڑ جاتے، اس لیے لازماً گھر کا کھانا مانگتے تھے۔ میں صبح سے شام تک ان کے لیے تازہ کھانا پکاتی، ان کی دوائیں وقت پر دیتی اور گھر سنبھالتی رہتی۔
ایک دن میں نے بہت ہمت جمع کر کے ان سے کہہ دیا، “چاچا جی، آپ دوسری شادی کر لیں۔”
وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگے اور بولے، “بیٹی! اس عمر میں مجھے کون رشتہ دے گا؟”
میں نے آہستہ آہستہ جواب دیا، “مگر آپ بھی تو اس طرح تنہا نہیں رہ سکتے۔ دیکھ بھال اور دکھ بیماری میں آپ کو شریکِ حیات کی ضرورت ہے۔ میں تو صرف کھانا پینا اور گھر کا کام کر سکتی ہوں۔ لیکن رات کو بخار ہو یا دل کی تنگی ہو تو بیوی ہی ساتھ دیتی ہے۔ آپ کے پاس روپے پیسے کی کوئی کمی نہیں۔ اگر کوئی اچھا رشتہ نہیں ملتا تو آپ کوئی عورت خرید کر اس سے نکاح کر لیں۔ آخر آپ نے مجھے بھی تو خریدا تھا اور بہو بنا لیا تھا۔ ایسے ہی اپنا بھی گھر بسا لیں۔ یوں مجھے بھی اکیلے گھر میں رہنے سے جو تنہائی اور گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے، وہ بھی ختم ہو جائے گی۔” حاجی صاحب میری بات سن کر کچھ دیر خاموش رہے۔ ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی کیفیت آ گئی۔ وہ کچھ بولے نہیں، صرف گہری سانس بھر کر باہر کی طرف دیکھنے لگے۔
میری بات حاجی صاحب کی سمجھ میں تو آ رہی تھی، مگر بڑھاپے کا لحاظ اور معاشرتی شرم انہیں خاموش رکھے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا کہ وہ اندر سے متذبذب ہیں، اس لیے میں نے خود ہمت کر کے کام شروع کر دیا۔ میں نے اپنے پرانے گاؤں میں ایک غریب مگر بہت شریف گھرانے کا سراغ لگایا۔ ان کی بیٹی کی عمر پینتیس برس کے قریب ہو چکی تھی اور وہ اب تک بن بیاہی بیٹھی تھی، کیونکہ ان کے خاندان میں رشتے کے بدلے رقم لینے کی کوئی روایت نہ تھی۔ میں نے ایک پرانی ملازمہ کے ذریعے بات چلائی اور آہستہ آہستہ حاجی صاحب کے لیے رشتہ طے کرا دیا۔
حاجی صاحب اس وقت پینسٹھ برس کے تھے، مگر اب بھی صحت مند اور متحرک تھے۔ جب دوسری بیوی گھر آ گئیں تو ہم دو عورتیں ہو گئیں۔ گھر میں اب تنہائی کا وہ بھوت نہیں رہا تھا۔ حاجی صاحب کا غم کچھ ہلکا ہوا، ان کے چہرے پر تھوڑی سی رونق لوٹ آئی۔ مگر میرا غم؟ وہ تو اب بھی میرے سینے پر پہاڑ کی طرح بوجھ بنا بیٹھا تھا۔ میں آج بھی اپنے محبوب خان کا انتظار کرتی ہوں۔ جب بھی گھر کا دروازہ کھٹکتا ہے تو دل دھڑک اٹھتا ہے۔ کبھی کبھی رات کو جاگ کر کھڑکی سے باہر دیکھتی رہتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ شاید آج وہ واپس آ جائیں۔ محلے دار اور گاؤں والے مجھے ایک باوفا بیوی اور عزت دار عورت سمجھتے ہیں۔ جب بھی میں بازار یا مسجد کے پاس سے گزرتی ہوں تو لوگ جھک کر سلام کرتے ہیں۔ کوئی مجھے “حاجی صاحب کی بیٹی” کہتا ہے تو کوئی “بہو”۔ مگر میں جانتی ہوں کہ میں ایک خریدی ہوئی عورت ہوں۔
میں دوسری شادی نہیں کرنا چاہتی۔ کیونکہ میرا دل اب بھی محبوب خان کے نام سے بندھا ہوا ہے۔ چاہے وہ زندہ ہوں یا نہ ہوں، میں انہیں زندہ ہی تصور کرتی ہوں۔ اپنی زندگی کی آخری سانس تک ان کا انتظار کرتی رہوں گی۔ برسوں پہلے جو زہر میرے جسم میں اترا تھا، اس نے میری روح اور ضمیر کو نیلا کر دیا تھا۔ وہ رات، وہ کنڈی، وہ شیطانی چہرہ . سب کچھ آج بھی میری یادوں میں تازہ ہے۔ خدا جانے اس بوڑھے شیطان شیراز خان کو قدرت کی طرف سے کوئی سزا ملی یا نہیں، مگر مجھے تو بغیر کسی قصور کے ایک طویل اور گہری سزا بھگتنی پڑی۔اب تو صرف موت ہی مجھے اس سزا سے رہائی دلا سکتی ہے۔ کیونکہ میں ایک خریدی ہوئی عورت ہوں۔