یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ساتویں جماعت کی طالبہ تھی اور یہ عمر نادانی کی ہوتی ہے.جب چچا جان کی شادی کی تقریب نے ہمارے گھر کو خوشیوں سے بھر دیا۔ رنگ برنگے پھولوں، مہندی کی خوشبو اور رقص و سرور کی محفلوں کے درمیان سب کچھ خوشگوار لگ رہا تھا، مگر تقریب ختم ہوتے ہی دادا جان کے دل میں ایک پرانا فیصلہ جاگ اٹھا۔ انہوں نے جائیداد کا بٹوارہ کرنے کا ارادہ کیا، لیکن اس کے لیے بڑے بیٹے، یعنی تایا ابو کی موجودگی لازمی تھی۔ ان دنوں ہم سب ملتان کے پرانے گھر میں رہتے تھے جہاں گلیاں اب بھی بچپن کی یادوں سے بھری ہوئی تھیں، جبکہ تایا ابو حیدر آباد میں اپنے کام کی وجہ سے مصروف زندگی گزار رہے تھے۔ انہیں فوری طور پر بلایا گیا، مگر وہ کسی ناگزیر ذمہ داری کی بنا پر نہ آ سکے۔ دادا جان نے کچھ سوچا، پھر پختہ فیصلہ کر لیا کہ اب ہم سب ہی حیدر آباد چلے جائیں اور وہاں کی زمینوں کا بٹوارہ کر دیں۔ یوں ایک بڑا قافلہ بنتا، ہم سب دادا جان، ابو، امی، چچا جان کی نئی دلہن اور میں تایا ابو کے پاس حیدر آباد پہنچ گئے۔
وہاں پہنچ کر جب سب بٹوارے کے لیے اکٹھے ہوئے تو فضا میں ایک عجیب سی تناؤ بھری خاموشی پھیل گئی۔ تایا ابو، جو بیس سال سے ان زمینوں کو اپنے خون پسینے سے سینچ رہے تھے، نے گہری سانس بھرتے ہوئے کہا کہ ملتان والی جائیداد تم سب آپس میں تقسیم کر لو، لیکن حیدر آباد والی زمین کا اصل حق دار تو میں ہی ہوں، کیونکہ گزشتہ بیس برس سے میں نے انہیں تنہا سنبھالا ہے۔ ان کی آواز میں وہ تکلیف صاف جھلک رہی تھی جو لمبی جدوجہد نے ان کے دل میں پیدا کر دی تھی۔ دادا جان نے اس پر مسکراتے ہوئے مگر پختہ لہجے میں جواب دیا کہ حیدر آباد والی زمین مالیت کے لحاظ سے زیادہ قیمتی ضرور ہے، مگر تم تینوں بھائی میرے لیے برابر ہو۔ میں کوئی فرق نہیں کروں گا، برابر بٹوارہ ہی ہو گا۔
آخر کا وہی ہوا جس کا ڈر تھا، تمام جائیداد کا برابر بٹوارہ تو ہو گیا، مگر اس کے ساتھ ہی کچھ تلخیاں بھی دلوں میں گھر کر گئیں جو برسوں تک مٹنے والی نہ تھیں۔ تایا ابو بہت ناخوش تھے۔ ان کے چہرے پر وہ مایوسی اور غصہ صاف نظر آ رہا تھا جو ان کے بیس سالہ محنت کو ایک لمحے میں ناکارہ سمجھنے پر پیدا ہوا تھا۔ انہوں نے تیز لہجے میں کہا، “تم لوگوں نے میرا حق نہیں دیا۔ آج کے بعد تم سب سے میرا تعلق ختم ہے۔”
اگرچہ دادا جان سے ان کی کوئی ذاتی ناراضی نہ تھی، کیونکہ دادا جان نے انصاف کے تقاضے پوری طرح پورے کرنے کی کوشش کی تھی، مگر پھر بھی تایا ابو کا دل ٹوٹ چکا تھا۔ آخر کار فیصلہ یہ ہوا کہ وہ ہر سال ہماری ملتان والی زمینوں کا نفع ہمیں دیں گے۔ مگر دو سال گزر گئے اور انہوں نے ایک پیسہ بھی نہ بھیجا۔
ابو نے صبر کا آخری حد تک انتظار کیا، پھر ایک دن پختہ فیصلہ کر لیا۔ “اب میں خود حیدر آباد والی زمین سنبھالوں گا اور وہیں رہوں گا۔” یوں ہم سب نے اپنے پرانے شہر ملتان کو، اس کی گلیوں کو، اس کی یادوں کو خیر باد کہہ دیا اور حیدر آباد میں تایا ابو کے گھر کے قریب ہی ایک چھوٹا سا گھر کر لیا۔ نئی جگہ، نئی زندگی، مگر پرانے زخم اب بھی تازہ تھے۔
زمین کی کاشتکاری کے ساتھ ساتھ ابو نے ایک چھوٹا سا کاروبار بھی شروع کر دیا۔ ان دنوں میں آٹھویں جماعت میں تھی اور تایا ابو کا بیٹا انصر نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ ابو اور تایا جان کے درمیان ناراضی اب بھی برقرار تھی، البتہ ہم بہن بھائی کبھی کبھار ان کے گھر جا لیتے تھے۔ مگر ان کے گھر سے صرف انصر ہی ہمارے گھر آیا کرتا تھا۔
انصر کا دل ہم سب سے بہت جلد لگ گیا۔ وہ ایک خوبصورت، شائستہ اور پاکیزہ سیرت کا لڑکا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسی معصومیت تھی جو دیکھنے والے کو فوراً متاثر کر لیتی۔ جب وہ ہمارے گھر آتا تو سب اس کے ساتھ پیار و محبت سے پیش آتے۔ امی اسے گلے لگاتیں، ابو اس سے حال احوال پوچھتے، اور ہم بہن بھائی اس کے گرد بیٹھ کر گھنٹوں باتیں کرتے رہتے۔ رفتہ رفتہ وہ مجھ سے زیادہ مخاطب ہونے لگا۔ اس کی باتیں، اس کی مسکراہٹ، اس کا مجھے خاص طور پر دیکھنا—سب کچھ مجھے ایک عجیب سی خوشی دینے لگا۔
میرے بھائیوں کو یہ بات کچھ اچھی نہ لگی۔ وہ چڑنے لگے اور انصر سے دور دور رہنے لگے۔ شاید وہ سمجھتے تھے کہ انصر اب صرف میرے لیے آتا ہے۔ مگر انصر ایک سال مجھ سے بڑا تھا اور اس کی معصومانہ محبت میں کوئی غلط بات نہ تھی۔ اس کا روزانہ آنا، مجھ سے محبت سے ملنا، مجھ سے باتیں کرنا اور مجھے خاص محسوس کرنا.مجھے بہت اچھا لگنے لگا۔ امی بھی اس کی خاطر مدارات پر خاص توجہ دیتیں۔ وہ کہتیں، “بیٹا، انصر ہمارا مہمان ہے، اس کا دل رکھو۔” ہم سب حتی المقدور اس کی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔ چائے، پکوڑے، میٹھی چٹنی سب کچھ اس کے لیے تیار رہتا۔ انصر بھی ہر بار کچھ نہ کچھ تحفہ لے کر آتا.کبھی پھل، کبھی کتاب، کبھی چاکلیٹ.اور مجھے دیتا ہوا شرماتا ہوا مسکرا دیتا۔اس طرح، خاندانی تناؤ کے باوجود، انصر اور میرے درمیان ایک نئی، پاکیزہ اور بے لوث دوستی کا آغاز ہو رہا تھا جو آہستہ آہستہ دل کی گہرائیوں تک اتر رہی تھی۔
یہاں پہلے تو حیدر آباد کا ماحول مجھے بالکل اجنبی لگتا تھا۔ نئی گلیاں، نئی آوازیں، نئی زبان کا لہجہ سب کچھ عجیب تھا۔ دل ملتان کی ان پرانی گلیوں اور یادوں کی طرف کھنچا چلا جاتا تھا۔ مگر پھر انصر کی وجہ سے یہ شہر آہستہ آہستہ مجھے اپنا سا لگنے لگا۔ اس کی مسکراہٹ، اس کی معصومانہ باتیں اور روزانہ کا آنا جانا، سب نے مل کر اس نئے شہر کو میرے لیے قابلِ برداشت اور پھر پیارا بنا دیا۔ دل ہی دل میں میں اسے چاہنے لگی تھی، مگر میں اپنے دلی جذبات ظاہر کرنے میں بالکل ماہر نہ تھی۔ شرم، حیا اور لڑکیوں والی خاموشی نے مجھے ہمیشہ اپنے احساسات چھپانے پر مجبور کیا۔
ایک دن وہ ہمارے گھر بیٹھا ہوا تھا۔ میں کپڑے دھونے کے لیے واشنگ مشین لگا رہی تھی کہ اچانک بجلی کا شدید کرنٹ آ گیا۔ میرا ہاتھ مشین سے چھو گیا اور زور سے کرنٹ لگ گیا۔ ایک تیز چیخ میرے منہ سے نکل گئی۔ جسم میں ایک دھڑکہ سا لگا اور میں زمین پر گرنے ہی والی تھی کہ انصر نے اپنی جان پر کھیل کر فوراً میرا ہاتھ مشین سے الگ کیا اور مجھے بچا لیا۔ اس کی ہمت، اس کی فوری سوچ اور میری جان بچانے کے لیے اس کا خطرہ مول لینا.اس واقعے نے میرے دل میں اس کا مقام اور بھی اونچا کر دیا۔ اس دن کے بعد وہ میرے لیے صرف کزن نہیں، بلکہ ایک محافظ اور ہمدرد بھی بن چکا تھا۔
کچھ دن بعد ایک تنہائی کے لمحے میں انصر نے ہمت کر کے اپنے دلی جذبات کا اظہار کر دیا۔ وہ مجھ سے محبت کا اعتراف کر رہا تھا۔ میں نے کچھ بھی نہ کہا، صرف سر جھکائے چپ چاپ سنتی رہی۔ پھر شرم سے منہ موڑ کر وہاں سے چلی گئی۔ دل میں طوفان اٹھ رہا تھا، مگر زبان پر تالا پڑا ہوا تھا۔اب وہ پہلے سے بھی زیادہ باقاعدگی سے آنے لگا تھا۔ ایک دن جب وہ گھر میں بیٹھا تھا تو اچانک کہنے لگا، “ہمارے والدین کے درمیان زمین کی وجہ سے جو ناراضی ہے، اگر ہمارا آپس میں رشتہ ہو جائے تو شاید یہ سارا جھگڑا ختم ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف ہم دونوں کے لیے اچھا ہو گا بلکہ خاندان کو بھی جوڑ سکتا ہے۔”
میں نے اس کی اس تجویز پر کوئی جواب نہ دیا۔ سر نیچے کیے بیٹھی رہی۔ ظاہر ہے، میرے بس میں تو کچھ بھی نہ تھا۔ لڑکی کی مرضی کہاں ہوتی ہے؟
ایک اور دن وہ آیا، میری ایک کتاب اٹھا لی۔ کچھ دیر تک اس کی ورق گردانی کرتا رہا، پھر کتاب واپس رکھ کر چلا گیا۔ جب میں نے کتاب کھولی تو اس کے اندر ایک چھوٹا سا خط رکھا ہوا تھا۔ خط میں لکھا تھا: “تمہیں میں نے ایک تجویز دی تھی، تم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کیا میری تجویز تمہیں پسند نہیں آئی؟ یا تم اس سے اتفاق نہیں کرتیں؟ خدا کے لیے کچھ تو جواب دو۔ تمہارا کزن، انصر”
میں نے خط پڑھ کر دل ہی دل میں بہت کچھ سوچا۔ پھر ایک پرچہ لیا اور اس پر اپنے جذبات لکھے:
“قابلِ احترام کزن انصر،
لڑکی کی عزت نازک شے ہے۔ اس کے دامن پر ذرا سا بھی داغ نہیں لگنا چاہیے، ورنہ لوگ اسے پاک دامن نہیں کہتے۔ لڑکیاں والدین کے حکم کی محتاج ہوتی ہیں۔ جس طرح ماں باپ کہیں، ان کا ہر حکم ماننا پڑتا ہے۔ ویسے تم مجھے اپنے گھر والوں میں سب سے زیادہ اچھے لگتے ہو۔” میں نے یہ پرچہ کتاب کے اندر رکھ دیا، تاکہ جب وہ اگلے دن آئے تو خود ہی پڑھ لے۔ دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی خوشی بھی تھی، ڈر بھی تھا، اور شرم بھی۔
اپنے دل کی بات لکنے کے بعد یہ خط میں نے انصر کے حوالے کر دیا۔ جب اس نے وہ پرچہ کھول کر پڑھا تو اس کے چہرے پر ایک عجیب سی پریشانی اور مایوسی کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ اس کی آنکھیں کچھ دیر کے لیے جم سی گئیں۔ میں نے شرماتے ہوئے آہستہ سے کہا: “ڈیئر کزن… ویسے تو ہمارا ملن بہت مشکل ہے، کیونکہ ہمارے والدین کے درمیان اب بھی وہ پرانی ناراضی برقرار ہے۔ مگر پھر بھی… میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر قسمت نے ساتھ دیا تو اس رشتے کو ضرور نبھاؤں گی۔”
میرے ان سادہ مگر مخلصانہ الفاظ نے انصر کے دل میں ایک نئی امنگ اور امید کی کرن جگا دی۔ اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ اس لمحے اسے لگا جیسے وہ مجھے حاصل کر چکا ہے۔ اس کی مسکراہٹ واپس لوٹ آئی اور وہ خوشی سے سرشار ہو گیا۔ مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ قسمت کے کھیل ابھی مکمل نہیں ہوئے تھے۔اس بات کو صرف چند دن ہی گزرے تھے کہ ہماری معصومانہ چاہت کو کسی کی نظر لگ گئی۔ انصر نے ایک دن پھر کچھ لکھ کر میری کتاب میں رکھا ہی تھا کہ میرے بڑے بھائی نے اتفاق سے وہ کتاب اٹھا لی۔ جب اس نے کتاب کھولی تو اندر سے خط نکل آیا۔ بھائی نے پورا خط غور سے پڑھا۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ بغیر کچھ کہے وہ خط لے کر سیدھا ابو کے پاس چلا گیا۔
ابو نے خط پڑھا تو ان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ انہوں نے فوراً مجھے بلایا اور سخت لہجے میں پوچھا: “کیا یہ تحریر انصر نے لکھی ہے؟”
میں نے سر جھکائے ہوئے ہلکے سے سر ہلا دیا۔ انکار کی کوئی گنجائش ہی نہ تھی۔ ابو کا غصہ دیکھ کر میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ پہلے تو انہوں نے مجھے خوب برا بھلا کہا۔ “مجھے تم سے ایسی امید بالکل نہ تھی۔ تم نے خاندان کی عزت پر دھبہ لگانے کی کوشش کی ہے۔” پھر انہوں نے وہ خط فوراً تایا ابو کے پاس بھیج دیا۔
جب تایا ابو نے خط پڑھا تو ان کا غصہ دیدنی تھا۔ انہوں نے انصر کو سامنے بٹھا کر سخت ترین الفاظ میں ڈانٹا: “تم چچا کی بیٹی سے عشق لڑا رہے ہو؟ جانتے ہو کہ انہوں نے میرے خون پسینے سے آباد زمین چھین لی ہے اور اب میرے گھر کے بالکل سامنے ہی گھر لے کر میرے سینے پر مونگ دلی آ بیٹھے ہیں؟ تم ان کی بیٹی سے شادی کرو گے؟ اس سے بہتر ہے کہ تم مجھے گولی مار دو۔ وہ میرا بھائی نہیں، غاصب ہے، دشمن ہے۔ اور اب تم بھی ویسے ہی ہو۔ لہٰذا یہاں سے دفع ہو جاؤ!” تایا ابو کی آواز میں اتنا درد، اتنا غصہ اور اتنی بے بسی تھی کہ انصر کچھ بھی نہ بول سکا۔ اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ تایا نے غصے میں آ کر انصر کو گھر سے نکال دیا۔ انصر باہر نکلا تو اس کا چہرہ مرجھا گیا تھا۔ وہ سر جھکائے، بغیر کسی سے کچھ کہے، چلا گیا۔
اس دن کے بعد انصر کا آنا یکدم بند ہو گیا۔ ہمارے گھر کی فضا بھی بھاری ہو گئی۔ ابو کا غصہ اب بھی ٹھنڈا نہ ہوا تھا اور تایا ابو کی طرف سے کوئی خبر نہ آئی۔ بس ایک خاموشی سی چھا گئی تھی جو ہماری معصومانہ محبت کو کچل کر رکھ گئی تھی۔ دل ٹوٹنے کی آواز بہت خاموش ہوتی ہے، مگر اس کی گونج برسوں تک سنائی دیتی رہتی ہے۔
انصر گھر سے نکل کر سیدھا ملتان آ گیا، مگر ڈر اور شرم کی وجہ سے نہ دادا جان کے گھر گیا اور نہ ہی چچا جان کے پاس۔ وہ اکیلے ہوٹلوں میں رہنے لگا۔ راتوں کو اجنبی بستروں پر لیٹ کر وہ سوچتا رہتا کہ کاش یہ سب کچھ نہ ہوتا۔ میرے بھائیوں کو معلوم تھا کہ تایا ابو نے اسے گھر سے نکال دیا ہے، مگر انہوں نے گھر میں کسی کو ایک لفظ بھی نہ بتایا۔ دوسرے شہر میں اکیلے لڑکے کے لیے مصیبتیں ایک سے ایک بڑھ کر آتی ہیں۔
ایک رات پولیس والوں نے اسے آوارہ گردی کے الزام میں پکڑ لیا۔ انہوں نے اس کے پاس جو تھوڑی بہت رقم تھی، وہ بھی چھین لی اور خوب ڈانٹ پلانے کے بعد چھوڑ دیا۔ اب رقم کے بغیر ہوٹل کا بل ادا کرنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ انصر بہت پریشان ہوا۔ آخر کار اس نے سوچا کہ کسی دوست سے مدد مانگنی پڑے گی۔ اس نے فون اٹھایا اور اپنے ایک قریبی دوست اقبال کو کال کی۔
“بھائی، میں تمہارے پاس لاہور آرہا تھا کہ راستے میں میری جیب کٹ گئی۔ اب میں ملتان کے فلاں ہوٹل میں پھنسا ہوا ہوں۔ میرے پاس ہوٹل کا بل ادا کرنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ مہربانی کر کے تم ملتان آ جاؤ اور مجھے لے جاؤ۔”
دوست نے پہلے تو ہاں کر دی، مگر پھر اس کے ذہن میں ایک سوال اٹھا کہ انصر اپنے دادا یا چچا کے پاس کیوں نہیں گیا جبکہ وہ دونوں ملتان ہی میں رہتے ہیں؟ اقبال کے پاس دادا جان کا نمبر تھا۔ اس نے فوراً دادا جان کو فون کر کے بتایا کہ انصر فلاں ہوٹل میں شدید مصیبت میں ہے، وہ اکیلے ہے اور اس کے پاس پیسے بھی نہیں۔ “میں لاہور سے نہیں آ سکتا کیونکہ میرے امتحانات چل رہے ہیں، آپ ہی اسے لے آئیں۔”
انصر اپنے دوست کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک چچا جان ہوٹل میں پہنچ گئے۔ انہوں نے نرم مگر پختہ لہجے میں کہا، “چلو بیٹا، میرے ساتھ گھر چلو۔”
انصر نے پہلے انکار کر دیا، مگر چچا جان کے اصرار کے آگے اسے ہار ماننی پڑی۔ چچا جان نے راستے میں بتایا، “تمہارے دوست نے ہمیں اطلاع دی تھی کہ تم یہاں ہو اور تمہاری جیب کٹ گئی ہے۔ تمہارے والد صاحب نے بھی تمہارے دادا کو فون کر کے بتایا ہے کہ تم گھر سے بغیر کسی کو بتائے چلے آئے ہو۔ بیٹا! ایسے حالات میں کم از کم ہمیں آزما لیتے۔ ہم تمہارے ہیں۔”
دادا جان اور چچا جان کو ابھی تک اصل معاملے کا کوئی علم نہ تھا۔ انہوں نے فوراً تایا ابو کو فون کر کے بتایا کہ فکر نہ کریں، انصر ہمارے پاس آ گیا ہے اور خیریت ہے۔
چار دن بعد تائی کا فون آیا۔ ان کی آواز میں بے چینی تھی۔ “انصر کو جلد از جلد واپس بھیج دیں، اس کے ابو کی طبیعت بہت خراب ہے۔”
دادا جان نے پوتے کو فوراً روانہ کر دیا۔
ملتان سے واپس پہنچ کر جب انصر اپنے ابو کے پاس پہنچا تو تایا ابو نے اسے الگ بٹھا کر سمجھایا۔ ان کی طبیعت واقعی کچھ خراب تھی، آواز میں کمزوری تھی مگر لہجہ سخت تھا:
“بیٹا، تمہاری شادی نازیہ سے نہیں ہو سکتی۔ میں نے تمہارے چچا سے کہا تھا کہ میرا تم لوگوں سے زندگی بھر کا تعلق ختم ہے۔ اب ہم آپس میں رشتے کیسے کر سکتے ہیں؟ لہٰذا تم ہمیشہ کے لیے نازیہ کو بھول جاؤ اور آگے پڑھنے کی تیاری کرو۔”
انصر نے آگے پڑھنے سے صاف انکار کر دیا۔ تایا ابو نے گہری سانس بھرتے ہوئے کہا، “بیٹا! میرا کام تو سمجھانا تھا، آگے تمہاری مرضی ہے۔” پھر ان کی آواز میں درد بھر گیا، “مجھے اس بات کا بہت دکھ ہے کہ بڑے بھائی نے صرف جائیداد کی خاطر زندگی بھر کے لیے رشتہ توڑ دیا۔”
یوں دن گزرتے گئے۔ انصر ہمارے گھر نہیں آیا۔ وہ خاموشی سے سب کچھ برداشت کر رہا تھا۔ مگر اس کے دل میں ایک ہی خیال تھا کہ نازیہ سے ملنے کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکالنا ہے۔ آخر کار اس نے ایک بہادر فیصلہ کر لیا۔ اگر میں اس کے کالج میں داخلہ لے لوں تو روز اس سے مل سکوں گا۔ یوں اس نے میرے کالج میں داخلہ لے لیا۔
جب پہلے دن میں کالج گئی اور انصر کو وہاں دیکھا تو میری ساری دنیا بدل گئی۔ تمام دکھ، تمام جدائی کے لمحات، تمام راتیں جو آنسوؤں میں گزری تھیں.سب ایک لمحے میں بھول گئیں۔ اس کی موجودگی نے میرے دل کو ایک نئی زندگی دے دی۔ آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ واقعی میرے کالج میں آ گیا ہے۔ اب میں اسے روز دیکھ سکوں گی، اس سے بات کر سکوں گی۔ دل میں ایک چھپی ہوئی خوشی نے پھر سے سر اٹھایا۔ مگر کیا یہ خوشی زیادہ دن تک قائم رہنے والی تھی؟ خاندانی تناؤ، معاشرتی دباؤ اور والدین کی مرضی.سب کچھ اس معصومانہ محبت کے راستے میں رکاوٹیں بنے ہوئے تھے۔
میں کھڑی کھڑی اسے دیکھتی رہی۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں۔ کچھ دیر انتظار کے بعد وہ خود ہی میرے پاس آیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک سوال تھا۔ آہستہ سے پوچھا، “کیا تم مجھ سے ناراض ہو؟”
میں نے شرماتے ہوئے سر ہلاتے ہوئے کہا، “نہیں تو… تم نے بھلا ایسا کیوں سوچا؟”
میرا یہ ایک جملہ تھا کہ اس کا مرجھایا ہوا چہرہ اچانک کھل اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں خوشی کی ایسی چمک آئی کہ مجھے یوں لگا جیسے یہ اس کی زندگی کا حسین ترین لمحہ ہو۔ وہ ایک لمحے کے لیے خاموش رہا، پھر بے ساختہ بول اٹھا، “تم کہاں چلے گئے تھے؟ میں تمہارے لیے بہت پریشان تھی۔”
وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ اس کی آواز میں درد اور محبت دونوں تھے۔ “میں کہیں بھی چلا جاؤں، تمہیں اس سے کیا؟”
میں نے گہری سانس بھرتے ہوئے کہا، “تمہاری غلطی کی وجہ سے ہمارے درمیان یہ دوری آئی، کیا تمہیں اس کا احساس ہے؟”
یہ سنتے ہی اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر الفاظ حلق میں ہی اٹک گئے۔ میں نے مزید کچھ کہے بغیر وہاں سے چلی آئی۔ دل بھاری تھا، مگر اس لمحے میں اپنے جذبات کو زیادہ کھولنے کی ہمت نہ تھی۔
دوسرے دن جب اس نے مجھے اکیلے بیٹھے دیکھا تو پھر میرے پاس آ گیا۔ اس کی آواز میں بے چینی تھی، “کیا ابھی تک خفا ہو؟ آخر بات کیوں نہیں کرتیں؟”
میں نے آنکھیں جھکائے ہوئے وضاحت کی، “انصر، میں بہت مجبور ہوں۔ تمہارا خط پڑھنے کے بعد بھائی نے مجھے بہت مارا تھا۔ ابو بھی خفا ہیں۔ بتاؤ میں کیا کروں؟ چلو، ہمارا پھر بھی نقصان کم ہوا کہ خدا نے ہمیں کالج میں اکٹھا کر دیا۔”
سال بھر ہم کالج میں ملتے رہے۔ وہ ایک حسین خواب کی طرح پلک جھپکتے گزر گیا۔ کلاسوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی ملاقاتیں، نظر ملنے کی ادا، چھپ کر مسکراہٹیں، اور کبھی کبھی ایک دو لفظ کی بات.یہ سب مل کر زندگی کو رنگین بنا دیتے تھے۔ مگر جانے کیوں، چاہنے والوں کے سروں پر ہمیشہ جدائی کے سائے منڈلاتے ہی رہتے ہیں۔
ایف ایس سی کے امتحانات ختم ہوتے ہی ابو اور بھائیوں کو پتا چل گیا کہ انصر بھی میرے ہی کالج میں پڑھتا ہے۔ یہ خبر ان کے لیے بجلی کا کڑکا ثابت ہوئی۔ انہوں نے فوراً فیصلہ کر لیا اور مجھے کالج سے اٹھا لیا۔ گھر میں سخت پابندیاں لگا دی گئیں۔ اس کے بعد انصر نے مجھ سے ملنے کی بہت کوششیں کیں۔ اس نے کئی خط لکھے، مگر میں والد اور بھائیوں کے ڈر سے کوئی جواب نہ دے سکی۔ البتہ ایک بار زبانی طور پر ایک کلاس فیلو کے ذریعے پیغام بھیجوایا کہ “خدارا مجھے خط مت لکھا کرو۔ اگر کسی کو پتا چل گیا تو قیامت آ جائے گی۔”
یوں ہمارا رابطہ بحال ہونے کے باوجود پھر سے ختم ہو گیا۔ یہ جدائی میرے لیے کسی عذاب سے کم نہ تھی۔ راتوں کو نیند نہیں آتی تھی۔ دل اسے دیکھنے کو ترستا رہتا۔ ہر لمحہ اس کی یاد ستاتی۔ مگر قسمت میں شاید اس سے دوری ہی لکھی تھی۔
ایک دن ابو نے اچانک فیصلہ سنا دیا کہ اب ہم واپس ملتان میں رہیں گے۔ انہوں نے حیدر آباد والی زمین کسی کے حوالے کر دی تھی۔ انصر کو بھی اس فیصلے کا علم ہو گیا تھا۔ آخری دنوں میں میں نے کئی بار اسے اپنے گھر کے سامنے کھڑے دیکھا۔ وہ دور سے ہی مجھے دیکھتا رہتا۔ رخصت کرنے بھی آیا تھا، مگر بس دور کھڑا رہ کر ہمیں جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ الوداع کہنے کی توفیق نہ ہو سکی۔ اس کی آنکھوں میں جو درد تھا، وہ آج بھی میرے دل میں تازہ ہے۔ گاڑی جب حیدر آباد سے نکل رہی تھی تو میں نے آخری بار پیچھے مڑ کر دیکھا۔ انصر وہیں کھڑا تھا۔ اس کی شکل دھندلی ہوتی گئی، مگر دل میں اس کی یاد اور بھی گہری ہوتی چلی گئی۔
میں نے انصر کو بھلانے کی بہت کوشش کی، دل سے دل تک بھلانے کی کوشش کی، مگر نہ بھلا سکی۔ اس کی یاد ہر لمحے، ہر سانس کے ساتھ میرے ساتھ چلتی رہتی۔ یوں ہی وقت گزرتا رہا، دن بیتتے گئے، مگر دل کا زخم ہرا ہی رہا۔
جب چچا کے بیٹے کا عقیقہ ہوا تو دادا جان نے تایا ابو کو بھی خصوصی طور پر بلایا۔ مگر کوئی نہیں آیا۔ صرف انصر اکیلا آیا۔ ابو نے سختی سے منع کر دیا کہ وہ ہمارے گھر نہ رکے۔ انصر نے آدھا دن چچا کے گھر گزارا، پھر اپنے ایک دوست کے گھر چلا گیا۔ اس دوران میں نہ تو اس سے مل سکی اور نہ ہی بات کر سکی۔ البتہ دور سے ایک بار ضرور دیکھا تھا۔ وہ وہیں کھڑا تھا، میری طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی پرانا درد اور بے بسی تھی۔ یہی ہماری آخری ملاقات تھی۔ اس کے بعد وہ واپس چلا گیا اور ہماری راہیں پھر سے جدا ہو گئیں۔
کچھ عرصے بعد ابو نے اپنے ایک پرانے دوست کے بیٹے سے میرا رشتہ طے کر دیا۔ میرے سسر صاحب کافی امیر اور بڑے زمیندار تھے۔ ان کا بیٹا صرف ایف اے پاس تھا اور کوئی کام نہیں کرتا تھا، کیونکہ اللہ نے انہیں دولت کی ایسی مالا دے رکھی تھی کہ کام کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی۔ گھر میں نوکر چاکر، کھیتوں میں مزدور، سب کچھ موجود تھا۔
جب میری شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں تو مجھے لگ رہا تھا جیسے کوئی مجھے کنویں میں دھکا دے رہا ہو۔ دل بھاری تھا، سانس اکھڑی ہوئی تھی۔ انصر بہت یاد آ رہا تھا۔ میک اپ کرتے ہوئے میں اتنا روئی کہ سارا میک اپ بہہ گیا۔ آنسوؤں نے آنکھوں کا سرمہ، گالوں کا بلش، سب بے رنگ کر دیا۔ دادی جان اور امی بار بار پوچھ رہی تھیں کہ کیا ہوا ہے، مگر میں کچھ نہ بتا سکی۔ بس دل ہی دل میں انصر کی باتیں، اس کی مسکراہٹ، اس کے خط، اس کی جدائی والا آخری منظر.سب یاد آ رہا تھا۔
میں سوچ رہی تھی کہ کیا وہ اب کبھی نہیں آئے گا؟ جو لڑکا مجھ سے ملنے کی آرزو میں ملتان تک چلا آیا کرتا تھا، وہ آج ملے بغیر ہی واپس چلا گیا۔ شادی کے دن جب دولہے کی سواری آئی تو میرا دل رو رہا تھا، مگر چہرے پر مسکراہٹ سجانی پڑی۔
شادی کے دو سال بعد میری پھپھو کی بیٹی کی شادی ہوئی۔ دادا جان نے تایا ابو کو بھی بلایا۔ مگر اس بار بھی صرف انصر اکیلا آیا۔ وہ دادا جان کے گھر ٹھہرا ہوا تھا۔ جب مجھے خبر ملی کہ انصر آ گیا ہے تو دل چاہا کہ اڑ کر اس کے پاس چلی جاؤں۔ مگر میں نہ جا سکی۔ اب میرے پاؤں میں بیڑیاں پڑ چکی تھیں۔ میں کسی کی بیوی تھی۔ اخلاقی طور پر، سماجی طور پر، میں اپنے شوہر اور سسرال کی پابند تھی۔
شادی کی تقریب میں کہیں نہ کہیں اس کی جھلک ضرور نظر آ جاتی تھی۔ وہ دور کھڑا مجھے دیکھ رہا ہوتا، میں بھی چوری چھپے اس کی طرف دیکھ لیتی۔ مگر بات کرنے کا حوصلہ کسی میں نہ تھا۔ اگر میں نے ایک لفظ بھی کہا ہوتا تو لوگ مجھے مجرم قرار دے دیتے۔ عورت کی ایک نظر، ایک بات بھی معاشرے کے لیے کافی ہوتی ہے کہ وہ اسے بدنام کر دیں۔
اس رات جب سب سو گئے تو میں تنہائی میں بیٹھ کر روئی۔ دل کہہ رہا تھا کہ بس ایک بار، صرف ایک بار اس سے بات کر لوں۔ مگر ہونٹ خاموش رہے۔ آنکھیں بول رہی تھیں، مگر کوئی سننے والا نہ تھا۔ اب میں شادی شدہ تھی۔ انصر اب صرف یادوں کا حصہ رہ گیا تھا۔ مگر یادوں کا یہ درد کبھی کم نہ ہوتا۔
اس کے زندگی میں ایسے حالات آگئے کہ بیان نہیں کر سکتی . کچھ دن بعد وہ سب سے بڑا مسئلہ شروع ہوا جس نے میری پوری زندگی کو تباہ کر کے رکھ دیا۔میرے شوہر فاران کے دل میں اچانک یہ بات آ گئی کہ مجھے اپنے باپ کی جائیداد سے حصہ ملنا چاہیے۔ وہ روز مجھ پر دباؤ ڈالنے لگے، “جاؤ، اپنے ابو سے کہو کہ تمہیں جائیداد میں تمہارا حق دو۔” میں بار بار سمجھاتی کہ ہمارے خاندان میں بیٹیوں کو جائیداد کا حصہ نہیں دیا جاتا۔ بہنیں اپنے حصے خوشی سے بھائیوں کے حق میں چھوڑ دیتی ہیں۔ البتہ جہیز میں سب کچھ ملتا ہے اور دکھ سکھ کے وقت والد اور بھائی لڑکی کا ساتھ ہمیشہ دیتے ہیں چاہے ان کی ساری جائیداد ہی کیوں نہ بک جائے۔ مگر فاران سننے کو تیار نہ تھے۔ ان کی ضد روز بڑھتی گئی اور وہ مجھے مجبور کرنے لگے کہ میں والد صاحب کے پاس جا کر حصہ مانگوں۔
آخر کار جب ان کا دباؤ ناقابلِ برداشت ہو گیا تو میں والد صاحب کے پاس آئی۔ دل میں خوف اور شرم کا ایک عجیب سا امتزاج تھا۔ والد صاحب نے میری ساری بات بڑے تحمل سے سنی۔ پھر آہستہ سے بولے،
“بیٹی، یہ ہمارے خاندان کا پرانا اصول ہے کہ بیٹیاں اپنی مرضی سے اپنے حصے بھائیوں کو دے دیتی ہیں۔ ہم نے تمہیں جہیز میں وہ سب کچھ دیا جو ایک باپ بیٹی کو دے سکتا ہے۔ تمہارے دکھ سکھ میں ہم ہمیشہ تمہارے ساتھ کھڑے رہے اور رہیں گے۔ اگر تمہارے شوہر کو لگتا ہے کہ تمہیں جائیداد کا حصہ چاہیے تو میں تمہیں یہ حق دے سکتا ہوں، مگر اس کا فیصلہ تمہیں خود کرنا ہوگا۔”
والد صاحب کی یہ بات میرے لیے بہت مشکل تھی۔ ایک طرف والدین کی محبت اور خاندانی روایت تھی، دوسری طرف گھر کی تلخیاں۔ میں نے فاران کو بہت سمجھانے کی کوشش کی۔ کہا کہ “میرے والد اور بھائی ہمیشہ میرے ساتھ ہیں، مجھے جائیداد کے حصے کی کوئی ضرورت نہیں۔” مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہے۔ ان کے مسلسل الزامات اور دباؤ نے ہمارے رشتے میں گہری دراڑ ڈال دی۔ ان کے دل میں شک پیدا ہو گیا کہ شاید میں اپنے خاندان کے لیے ان کی اہمیت کم کر رہی ہوں۔
کچھ عرصے بعد فاران کا رویہ بد سے بدتر ہوتا چلا گیا۔ وہ میرے والدین اور بھائیوں کے بارے میں نازیبا باتیں کرنے لگے۔ گھر کی فضا میں تلخی بڑھتی گئی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے ہونے لگے۔ میں نے اپنے بچوں کی خاطر اس رشتے کو بچانے کی بہت کوشش کی۔ راتوں کو رو رو کر اللہ سے دعائیں مانگتی، مگر فاران کی ضد اور تلخ رویے نے ہر راستہ بند کر دیا۔ آخر کار ایک دن انہوں نے مجھے چھوڑ کر الگ ہو جانے کا فیصلہ کر لیا۔
میں نے اس وقت اپنے والدین کے گھر واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ جب میں بچوں کے ساتھ والد صاحب کے گھر پہنچی تو والد اور بھائیوں نے نہ صرف مجھے کھلے دل سے گلے لگایا بلکہ میری زندگی کو دوبارہ سنوارنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے مجھے کبھی احساس نہ ہونے دیا کہ میں بوکھار ہوں۔ امی نے میری اور بچوں کی دیکھ بھال کی، بھائیوں نے ہماری ذمہ داریاں سنبھالیں۔ میں نے اپنی باقی زندگی اپنے بچوں کی پرورش اور ان کی تعلیم و تربیت میں لگا دی۔ دن رات صرف ان کے لیے جیا۔ انصر کی یاد اب بھی کبھی کبھی دل کو چھو جاتی تھی، مگر اب وہ صرف ایک پرانی، ادھوری کہانی بن چکی تھی۔ زندگی نے مجھے سکھا دیا تھا کہ کچھ رشتے قسمت میں نہیں ہوتے، چاہے دل کتنا ہی چاہے۔
اب میں اپنے بچوں کی مسکراہٹ میں اپنی خوشی ڈھونڈ لیتی ہوں اور ماضی کو ماضی کی طرح چھوڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں نے والد صاحب اور بھائیوں کی محبت اور دیکھ بھال میں اپنی زندگی گزارنی شروع کر دی تھی۔ وہ ہمیشہ میری چھوٹی سے چھوٹی خواہش کا خیال رکھتے، میری تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے اور میری زندگی کو آسان بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ مگر دل کے کسی کونے میں ایک ادھورا خواب اب بھی زندہ تھا.انصر سے ایک بار پھر ملنے کا خواب۔ وہ خواب جو برسوں سے میری یادوں میں قید تھا، کبھی کبھی راتوں کو جاگ اٹھتا اور آنکھیں نم کر دیتا۔
ایک دن میں اپنے چار سالہ بیٹے کو قریبی اسکول میں داخلہ کرانے کے لیے لے کر گئی۔ راستے میں وہ اچانک ضد کرنے لگا کہ اسے آئس کریم چاہیے۔ سڑک پر رش تھا، گاڑیاں تیز رفتاری سے گزر رہی تھیں۔ میں نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی، مگر بچوں کی ضد کب قابو میں آتی ہے؟ وہ اچانک میرا ہاتھ چھڑا کر سڑک کی طرف بھاگ پڑا۔ میرے دل کی دھڑکن جیسے رک گئی۔ میں نے بے اختیار چیخ ماری، “بیٹا! رک جاؤ!” مگر میری آواز شور میں گم ہو گئی۔
اچانک سب کچھ تیزی سے بدل گیا۔ میرا بیٹا ایک تیز رفتار موٹر سائیکل سے ٹکرا کر سڑک پر گر پڑا۔ خون بہنے لگا۔ اس کا چھوٹا سا جسم سڑک پر پڑا تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ سانس اکھڑ گئی۔ چیخیں گلوں میں ہی اٹک گئیں۔ میں کچھ بھی سوچنے کے قابل نہ رہی۔اسی لمحے ایک شخص تیزی سے آگے بڑھا۔ اس نے فوراً میرے بیٹے کو اٹھایا، اپنے ہاتھوں سے زخم کو دباتے ہوئے ایک رکشہ روکا اور ہمیں فوراً قریبی اسپتال کی طرف لے چلا۔ راستے میں اس کی آواز میرے کانوں میں گونجی: “فکر نہ کریں بہن، بچے کو کچھ نہیں ہوگا۔ اللہ خیر کرے گا۔”
اسپتال پہنچتے ہی ڈاکٹروں نے میرے بیٹے کو ایمرجنسی میں لے لیا۔ میں باہر بے بسی سے بیٹھی تھی۔ جب تھوڑا ہوش سنبھلا تو میں نے پہلی بار اس شخص کی طرف پوری طرح دیکھا۔ بڑھی ہوئی شیو، تھکی ہوئی آنکھیں، وقت کے نشانات والا چہرہ، مگر وہ آنکھیں… وہ آنکھیں اب بھی وہی تھیں۔
یہ انصر تھا۔ میرا انصر۔
وقت جیسے ایک لمحے کے لیے رک گیا۔ میں نہ بول پائی، نہ رو پائی۔ بس آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔ وہ بھی مجھے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس کی آنکھیں پھیل گئیں، منہ سے کوئی لفظ نہ نکلا۔ مگر اس لمحے سب سے اہم میرا بیٹا تھا، جس کی جان انصر کی فوری سوچ اور ہمت کی بدولت بچ گئی تھی۔ اگلے چند دن اسپتال میں گزارنے پڑے۔ ان دنوں انصر بار بار آتا رہا۔ وہ بدل چکا تھا.زندگی کی سختیوں نے اسے سنجیدہ، بالغ اور زیادہ مضبوط بنا دیا تھا۔ اس کے چہرے پر اب وہ پرانی معصومیت کم تھی، مگر وہی خلوص اب بھی موجود تھا۔
ایک دن جب میرا بیٹا سو رہا تھا تو میں نے ہلکے سے پوچھا، “انصر… تم کہاں تھے یہ سب سال؟ کیوں چلے گئے تھے؟” وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر گہری سانس بھرتے ہوئے بولا، “زندگی نے بہت کچھ سکھایا نازیہ۔ مشکلات نے مجھے توڑا بھی اور جوڑا بھی۔ میں تمہیں بھول نہیں سکا، کبھی کبھی راتوں کو تمہاری یاد آتی تو دل بھاری ہو جاتا۔ مگر میں جانتا تھا کہ تم اب کسی اور کی ہو۔ میں نے سوچا کہ تمہاری زندگی میں مداخلت نہ کروں۔ بس دعا کرتا رہا کہ تم خوش رہو۔”
اس کی بات سن کر میرے دل میں ایک عجیب سی کیفیت تھی.خوشی بھی، درد بھی، اور ایک لمبی جدائی کا احساس بھی۔ میں نے آنکھیں جھکا کر کہا، “تم نے آج میرا بیٹا بچا لیا… شاید اللہ نے ہی تمہیں بھیجا ہو۔” وہ مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں بہت کچھ چھپا تھا۔اس ملاقات نے برسوں پرانی یادوں کو تازہ کر دیا تھا، مگر اب ہم دونوں بدل چکے تھے۔ زندگی نے ہمیں الگ الگ راستوں پر ڈال دیا تھا۔ پھر بھی، اس ایک لمحے میں، دل کے اس ادھورے خواب کو تھوڑی سی تسلی ضرور ملی۔ یہاں ایک گہرا، پرامن سکون میرے دل میں اتر آیا، جیسے برسوں کی اداسی، جدائی کا درد اور ادھورے خواب کی بھاری چادر ایک ہی لمحے میں اٹھ گئی ہو۔ وہ لمحہ جب انصر نے میرے بیٹے کو موت کے منہ سے بچایا، وہ لمحہ جب ہماری آنکھیں برسوں بعد ایک دوسرے سے ملیں.سب کچھ ایک خواب کی طرح لگ رہا تھا۔
کچھ دن بعد، جب میں نے اپنے والد صاحب اور بھائیوں سے یہ بات کی تو انہوں نے بھی خاموشی سے سر ہلا دیا۔ شاید وہ سمجھ گئے تھے کہ زندگی نے مجھے کافی سزا دے دی ہے۔ ان کی رضامندی سے، بغیر کسی شور شرابے کے، میری اور انصر کی شادی ہو گئی۔ کوئی بڑی تقریب نہ تھی، کوئی رنگ برنگے مہندی اور ڈانس نہ تھا.بس دو دل جو برسوں سے ایک دوسرے کے منتظر تھے، آخر کار ایک ہو گئے۔ زندگی نے مجھ سے بہت کچھ چھینا تھا، مگر اس نے مجھے اس سے بھی زیادہ واپس لوٹا دیا۔ انصر نہ صرف میرا سہارا بنا بلکہ میرے بیٹے کا بھی ایک پیارا باپ بن گیا۔ وہ اس چھوٹے سے بچے سے ایسا پیار کرتا جیسے اس کا اپنا ہو۔ میں دیکھتی تو دل بھر آتا۔ وہ جو کبھی میری زندگی سے دور ہو گیا تھا، آج میرے گھر کی بنیاد بن چکا تھا۔
اب ہم تینوں ایک خوشحال اور پر سکون زندگی گزار رہے ہیں۔ میرے بیٹے کی معصومانہ ہنسی گھر میں گونجتی ہے، انصر کی نرم اور مخلصانہ محبت ہر لمحے مجھے احساس دلاتی ہے کہ میں اکیلی نہیں ہوں، اور میرے والدین اور بھائیوں کی دعائیں ہمارے سر پر سایہ کیے ہوئے ہیں۔ یہ گھر اب جنت بن چکا ہے۔ زندگی سکھاتی ہے کہ کبھی کبھار گہری آزمائشوں، جدائیوں اور ٹوٹنے کے بعد ہی خوشیوں کی حقیقی بہار آتی ہے۔ جو کچھ اللہ نے لکھا ہوتا ہے، وہ دیر سے ضرور آتا ہے، مگر جب آتا ہے تو سب کچھ مکمل کر کے آتا ہے۔میرا ادھورا خواب نہ صرف پورا ہوا، بلکہ اس نے میری پوری زندگی کو ایک نیا رنگ، نیا معنی اور نیا سکون دے دیا۔