لاش ہیجڑا اور حسینہ

بہت عرصہ گزرا اندرونی امرتسر کے ایک علاقے میں چار منزلہ خستہ حال عمارت گر گئی اور ملبے میں دب کر قریباً اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے۔ زخمی ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی ۔ عمارت گرنے کا سانحہ اتوار کی صبح دس بج کر بیس منٹ پر پیش آیا۔ عمارت کے نچلے حصے میں بہت سی دکانیں تھیں اور وہاں لوگ خرید وفروخت میں مصروف تھے ۔ بالائی منزلوں میں رہائشی کمرے تھے اور کم و بیش دس خاندان یہاں آباد تھے۔ ایک رات پہلے شدید بارش ہوئی تھی اور حادثے کے وقت بھی بوندا باندی جاری تھی۔ شاید برسات کا موسم اور بارشوں کی بھر مار ہی اس حادثے کا سبب بنی تھی۔ دس بج کر بیس منٹ پر ایک خوفناک دھما کہ ہوا اور ہر طرف گردو غبار کے بادل پھیل گئے ۔ ان بادلوں میں چیخ و پکار کے سوا اور کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ شہر کا گنجان اور دشوار گزا علاقہ تھا اسے بھگتان والا دروازہ کہا جاتا تھا۔
بلڈوزر اور کرین وغیرہ کا یہاں تک پہنچنا بے حد دشوار تھا۔ لوگ خالی ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے میں لگ گئے لیکن ملبے کا یہ پہاڑ دو تین گھنٹے میں بھی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ میں امرتسر کے ایک مضافاتی تھانے میں تھا۔ ہمیں بھی ہنگامی طور پر جائے حادثہ پر پہنچا دیا گیا ۔ کئی تھانوں کی پولیس، رضا کاروں کی پارٹیاں اور علاقے کے بہت سے لوگ امدادی کارروائیوں میں مصروف تھے ۔ لاشوں اور زخمیوں کو مسلسل نکالا جار ہا تھا۔ ساتھ ساتھ بارش بھی ہو رہی تھی۔ رات گئے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ یقینی بات تھی کہ ملبے کے نیچے ابھی اور لاشیں موجود ہوں گی اور عین ممکن ہے کہ کوئی زخمی بھی ہو مگر اندھیرے اور خراب موسم کے سبب امدادی کام جاری رکھنا دشوار تھا۔ پھر ایک اہم مسئلہ یہ بھی تھا کہ عمارت کا ایک حصہ ابھی گر انہیں تھا۔ اُسے دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ کسی بھی وقت گر جائے گا۔ فیصلہ کیا گیا کہ اس حصے کو گرانے تک تلاش کا کام ملتوی کر دیا جائے ۔ اتوار کی رات جیسے تیسے کاٹی گئی۔ علی اصبح عمارت کا باقی ماندہ حصہ گرا کر امدادی کام دوبارہ شروع کیا گیا۔ ملبے کے بڑے بڑے ٹکڑوں کو رسیوں کے ذریعے کھینچ کر ادھر اُدھر ہٹایا جا رہا تھا۔ کچھ لوگ کدال اور بیلچوں سے مٹی کھودنے میں مصروف تھے ۔ اُس روز ملے سے دو لاشیں مزید ملیں۔ اس کے علاوہ ایک ادھیڑ عمر عورت ملی جو شدید زخمی ہونے کے با وجود زندہ تھی ۔ اُسے فوراً ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ لاشوں میں سے ایک لاش چالیس پینتالیس سالہ شخص کی تھی۔ اُس کے ہاتھ میں ٹوکری تھی۔ بد قسمت شخص کوئی چیز خرید نے یہاں پہنچا تھا اور جان ہار گیا تھا۔ متوفی کے لباس سے چند روپے کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔ دوسری لاش ایک جواں سال شخص کی تھی۔ معمر قریباً اٹھائیس برس رہی ہو گی۔ وہ سفید استری شدہ شلوار میض پہنے ہوئے تھا۔ متوفی کے سر پر شدید ضربات آئی تھیں۔ اُس کی قمیض خون سے سرخ ہو رہی تھی۔ چہرہ اس بری طرح مٹی میں لتھڑا گیا تھا کہ خدو خال چھپ کر رہ گئے تھے۔ اُس کے اس کے لباس سے ایک رومال ۔ تھوڑی سی نقدی اور چند کاغذات ملے ۔
اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے میں نے نوجوان کے لباس سے ملنے والی اشیاء کی فہرست تیار کر لی۔ ایک خا کی لفافے پر نوجوان کی شناخت لکھی اور تمام اشیاء لفافے میں ڈال دیں۔ ایسا کرتے ہوئے میری نگاہ ایک ٹکٹ پر پڑی اور میں چونک گیا۔ گلابی رنگ کا یہ ٹکٹ سینما کا تھا۔ ٹکٹ پر سینما کے نام کے علاوہ شو کا ٹائم اور مختلف چارجز لکھے تھے۔ میں نے غور سے دیکھا، شو کا ٹائم بارہ سے تین تھا۔ دو پہر بارہ سے تین والا شوصرف اتوار کو چلتا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ یہ اتوار کا ٹکٹ ہے۔ پہلا خیال ذہن میں یہی آیا کہ پچھلے اتوار کا ٹکٹ ہو گا لیکن ٹکٹ کی حالت ایسی تھی کہ وہ پچھلے اتوار کا نہیں لگتا تھا۔ جو کاغذ ایک ڈیڑھ ہفتے تک جیب میں پڑا رہے اُس کی حالت کچھ اور ہو جاتی ہے۔ یہ بالکل نیا ٹکٹ تھا۔ ویسے بھی ٹکٹ ایسی چیز نہیں ہوتا جسے یوں سنبھال کر رکھا جائے۔ مجھے کچھ عجیب سا شک ہونے لگا، لیکن ٹکٹ پر تاریخ وغیرہ درج نہیں ہوتی۔ لہذا میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔ میں نے وہ ٹکٹ
لفافے میں ڈالنے کی بجائے اپنی جیب میں رکھ لیا اور دوسرے کاموں میں لگ گیا۔ دونوں لاشیں لوگوں کے ملاحظے کے لیے گلی میں رکھ دی گئی تھیں ۔ ادھیڑ عمر شخص کی لاش کو تو کچھ دیر بعد پہچان لیا گیا۔ وہ ایک قریبی گلی کا رہائشی تھا اور ایک عیسائی ٹیچر کا گھر یلو ملازم تھا لیکن نوجوان کی لاش شناخت نہیں کی جاسکی۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ ملبے سے لاشیں ایسی نکلی تھیں جنہیں ابھی تک شناخت نہیں کیا جا سکا تھا پوسٹ مارٹم کے بعد وہ تمام لاشیں مردہ خانے میں پڑی تھیں۔ نوجوان کی لاش بھی ہسپتال بھیج دی گئی۔ دور دور تک خاصی مصروفیت رہی ۔ بھاگ دوڑ میں اُس ٹکٹ کو بالکل بھولا رہا جو میری جیب میں پڑا تھا اور جس نے مجھے ایک عجیب سے شک میں مبتلا کیا تھا۔ دوسرے روز شام کو تھوڑی سی فرصت ملی تو میں پولیس ہیڈ کوارٹر کی بالائی منزل پر ایک کمرے میں کمر سیدھی کرنے کے لیے لیٹ گیا۔ اچانک مجھے ٹکٹ کا خیال آیا۔ پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈال کر میں نے ٹکٹ نکالا اور اُسے غور سے دیکھنے لگا۔ ہر سینما ٹکٹ پر ایک سیریل نمبر ہوتا ہے۔ اُس سیریل نمبر کی مدد سے جانا جا سکتا ہے کہ یہ ٹکٹ کب خریدا گیا ہے میرے قریب ہی ٹیلیفون سیٹ پڑا تھا۔ میں نے ڈائریکٹری سے سینما کا فون نمبر ڈھونڈا اور فون کر دیا۔ دوسری طرف سینما کا منیجر تھا۔ میں نے تعارف کرانے کے بعد اُسے اپنا مسئلہ بتایا اور ٹکٹ نمبر نوٹ کرا دیا۔
صرف پانچ منٹ بعد سینما میجر نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ یہ ٹکٹ پچھلے اتوار کو نہیں اسی اتوار کو سینما سے جاری ہوا ہے۔ میں سکتے میں رہ گیا۔ میرا ایک بھیانک اندیشہ بالکل درست ثابت ہوا تھا۔ میں نے منیجر سے پوچھا تمہیں غلطی تو نہیں لگ رہی ۔“ نہیں انسپکٹر صاحب !‘ اُس نے پورے یقین سے کہا۔ یہ ٹکٹ اسی اتوار کا ہے اور
سینما کی بکنگ سے خریدا گیا ہے۔“ میں نے کہا۔ ” کہیں ایسا تو نہیں کہ بلنگ کلرک نے اپنے کسی دوست کو یہ ٹکٹ شو سے پہلے جاری کر دیا ہو۔“ ہو ہی نہیں سکتا جی ! منیجر نے کہا۔ ” تمام ٹکٹ میرے کمرے میں لاکر کے اندر
ہوتے ہیں۔ میں عین شو ٹائم پر خود کلرکوں کے سپر د کر تا ہوں ۔“ میں نے فون بند کیا اور سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ بے حد سنسنی خیز بات تھی ۔ جو شخص دس بج کر میں منٹ پر ملبے کے نیچے دب کر ہلاک ہو گیا اس کی جیب میں ایک ایسا ٹکٹ تھا جو ساڑھے گیارہ بجے کے بعد ایک سینما سے جاری کیا گیا۔ اب دو ہی صورتیں تھیں یا تو متوفی ملے تلے دب کر ہلاک نہیں ہوا تھا، یا پھر ہلاک ہونے کے بعد وہ شودیکھنے چلا گیا تھا اور دوبارہ آکر جائے حادثہ پر لیٹ گیا تھا۔ قارئین کے ذہن میں ایک بات اور بھی آسکتی ہے کہ شاید متوفی عمارت کے اس حصے میں دب کر ہلاک ہوا جو اگلے روز سوموار کو گرایا گیا تھا لیکن یہ ناممکن بات تھی ۔ سوموار کے رات کا جو مختصر حصہ گرایا گیا وہ شمالی گوشے کی طرف تھا۔ جبکہ لاش سامنے والے حصے
میں پائی گئی۔ دونوں مقامات ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر تھے ۔یہ ذمے داری اور فرض شناسی کا امتحان تھا۔ میں جانتا ہوں کہ میرے اکثر ہم پیشہ اس امتحان میں فیل ہوتے ہیں ۔ ” واردات خود چیختی ہے کہ اُس کی تفتیش کی جائے لیکن کان بند کر لیے جاتے ہیں۔ کہاں یہ کہ واردات حادثے کے غبار میں چھپ گئی ہو، نہ کوئی سائل ہو نہ مدعی پھر بھی کوئی ذمے دار شخص یہ سوچے کہ نہیں، انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں میں نے اپنے تھکے ماندے جسم کو سنبھالا منتشر ذہن کو سمیٹا اور ایک پختہ ارادے
کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔ میں نے ہسپتال کے مردہ خانے سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے لاش وارثوں کے حوالے کی جاچکی ہے۔ مردہ خانے کے انچارج نے بتایا کہ کل تین چار اخباروں میں لاش کی تصویر میں شائع ہوئی تھیں ۔ شام کے وقت کرشن نگر کے چند افراد مردہ خانے پہنچے ان کے ساتھ متعلقہ تھانیدار بھی تھا۔ اُن لوگوں نے لاش کو شناخت کر لیا اور ضروری کارروائی کے بعد اپنے ساتھ لے گئے تھانے سے وارثوں کا پتہ معلوم کرنے میں مجھے کوئی دشواری نہیں ہوئی اور میں بیس منٹ کے اندر کرشن نگر پہنچ گیا۔ میں عین وقت پر پہنچا تھا۔ تھوڑی سی دیر ہوتی تو میت منوں مٹی کے نیچے چلی جاتی ۔ میت کو غسل دے کر کفن پہنایا جا چکا تھا اور جنازہ اٹھانے کی تیاری ہورہی تھی۔ میں نے موقع پر موجود لوگوں سے کہا کہ ابھی یہ جنازہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ سب حیرانی سے میری طرف دیکھنے لگے۔ میں وردی میں تھا لہذا کسی کو بولنے کی جرات نہیں ہوئی۔ میں نے انہیں بتایا کہ مرنے والا حادثے میں نہیں مرا۔ یہ کوئی بہت گہرا چکر ہے اور اوپر سے حکم آیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیق کی جائے۔ اس دوران متعلقہ تھانیدار بھی موقعے پر پہنچ گیا۔ اُس کا نام بیدی سنگھ تھا۔ میں بیدی سنگھ کو ایک طرف لے گیا اور اُسے مختصر لفظوں میں ساری صورتِ حال بتائی۔ میری باتیں سن کر اور سینما کا ٹکٹ دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں گہری تشویش لہرانے لگی۔ اُس نے منہ سے تو کچھ نہیں کہا لیکن اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ دل ہی دل میں مجھ پر لعنتیں بھیج رہا ہے کہ میں یہ کیا نئی مصیبت کھڑی کرنے لگا ہوں ۔ میں نے بیدی سنگھ سے پوچھا۔ ” متوفی کے وارث کون سے ہیں؟
وہ بیزاری سے بولا ۔ ” سارا محلہ ہی وارث ہے بادشا ہو لیکن اصل وارث کوئی نہیں
وہ بولا ۔ مرنے والے کا نام سعید احمد ہے۔ اس کا آگے پیچھے کوئی نہیں تھا۔ ڈیڑھ دو سال پہلے سورت نگر سے یہاں آیا تھا۔ یہاں بتی والے چوک میں اس نے جنرل سٹور کھول رکھا تھا۔ رات کو جنرل سٹور کے اندر ہی سو رہتا تھا۔ ایک ہلکی سی موٹر سائیکل بھی رکھی ہوئی تھی۔ خوش اخلاق شخص تھا۔ محلے کے چھوٹے بڑے اسے ہرنائی“ کہتے تھے ۔ پتہ نہیں یہ نام کیسے اور کیوں پڑا۔ بہر حال منگل کی دو پہر تک تو کسی نے خیال ہی نہیں کیا کہ ہرنائی نے دکان کیوں نہیں کھولی ۔ اتوار کو تو ویسے ہی چھٹی تھی ۔ سوموار کو سارا دن بارش ہوتی رہی لیکن منگل کو بھی دکان نہیں کھلی تو محلے داروں میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں۔ اس سے پہلے کبھی ہرنائی یوں غائب نہیں ہوا تھا۔ اُس کا کوئی تھا ہی نہیں تو اُس نے جانا کہاں تھا۔ ایک ہی اس کا دوست تھا ” شوکت کلاتھ مرچنٹ والا ۔ فرصت کا ٹائم اُس کے ساتھ گزارتا تھا۔ اُسے بھی کچھ پتہ نہیں تھا کہ ہرنائی کہاں ہے… منگل کا سارا دن بھی گزر گیا اور کل اخباروں میں اُس کی تصویر آ گئی۔ پتہ چلا کہ وہ تو بھوانی بلڈنگ والے حادثے میں مارا گیا ہے۔ ایک اخبار میں تصویر بالکل صاف پہچانی جارہی تھی۔ پھر بھی محلے داروں کو شبہ تھا کہ شاید یہ ہرنائی نہ ہو۔ محلے کے چار پانچ معزز بندے میرے پاس تھانے پہنچے ۔ میں انہیں
اپنے ساتھ مردہ خانے لے گیا۔ وہاں انہوں نے ہرنائی کو پہچان لیا۔“
محلے کے معزز افراد کو اندر بلا کر میں نے انہیں صورتِ حال سے آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ لاش کو دفنانے سے پہلے قانونی کارروائی ضروری ہو گئی ہے۔ لہذا وہ کچھ دیر انتظار کر لیں۔ میرے کہنے پر انسپکٹر بیدی سنگھ نے اپنے تھانے سے فوٹوگرافر سمیت ضروری عملہ بلوا لیا اور ہم نے بند کمرے میں لاش کا کفن وغیرہ کھول کر اُس کی چوٹوں کا معائنہ شروع کیا۔ متوفی کے جسم پر جان لیوا ضربیں تھیں ۔ ایک اُس کے سر پر اور دوسری پیشانی پر ۔ یہ کند آنے کی ضربیں تھیں۔ مثلا ڈنڈا، رائفل کا بٹ یا لاٹھی وغیرہ ۔ تاہم ان ضربوں کو دیکھ کر یہ خیال بھی کیا جا سکتا تھا کہ یہ ملبہ گرنے سے آئی ہیں۔ ایک اور ضرب متوفی کے دائیں کندھے پر بھی تھی ۔ یہ اتنی شدید ضرب تھی کہ مرنے والے کا پورا پہلو نیلا ہو رہا تھا۔ کندھے سے گوشت پھٹ گیا تھا۔ پسلی کی ہڈی اور بالائی بازو ٹوٹ چکا تھا۔ اس ضرب کے بارے میں دو ہی باتیں کہی جاسکتی تھیں ۔ یا تو یہ ملبہ گرنے سے آئی تھی یا پھر متوفی کو کسی بلند جگہ سے نیچے پھینکا گیا تھا۔ لاش کے معائنے کے بعد میں نے سب سے پہلے شوکت نامی اُس شخص سے سوال جو شوکت کلاتھ مرچنٹ کا مالک تھا اور جس کے بارے میں پتہ چلا تھا کہ وہ ہرنائی کا گہرا دوست ہے۔ شوکت کی عمر بھی اٹھائیسں تیس کے لگ بھگ تھی ۔ وہ ایک گورا چٹا جواں سال شخص تھا۔ تاہم بال پیشانی سے اڑے ہوئے تھے اور جسم موٹاپے کی طرف مائل تھا۔ اس کی آنکھیں رونے سے سرخ نظر آرہی تھیں ۔
اُس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے یہ پتہ چلا کہ وہ بھی ” بھگتان والا کا رہنے والا ہے، میں نے تھوڑی سی تفصیل پوچھی تو انکشاف ہوا کہ جس جگہ بلڈ نگ گری وہاں سے شوکت کا گھر صرف ایک فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔ میں نے شوکت کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔ اس کے باوجود تم اس بات سے بے خبر رہے کہ حادثے کے شکار ہونے والوں میں تمہارا جگری دوست بھی شامل ہے۔“ وہ بوجھل آواز میں بولا ۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ ہرنائی کی لاش اگلے روز ملی تھی ۔ میں اُس وقت دکان پر تھا۔ محلے کے جن لوگوں نے اُس کا چہرہ دیکھا وہ بھی اُسے میرے دوست کے طور پر نہ پہچان سکے ۔ دراصل جب سے ہماری دوستی ہوئی تھی ہرنائی میرے گھر چار پانچ بار سے زیادہ نہیں آیا تھا۔“ میں نے کہا۔ ” اس کا مطلب ہے کہ وہ تمہارے گھر آتا رہتا تھا۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ
اپنی موت سے پہلے بھی تم ہی سے ملنے ” بھگتان والا گیا ہو۔“ وہ ہچکچا کر بولا ۔ ”بالکل ہو سکتا ہے جی ۔ اس کے علاوہ اُسے ”بھگتان والا میں اور کیا کام ہو سکتا تھا۔ وہ جب بھی گھر میں آتا تھا میرے بچے کے لیے گولیاں ٹافیاں وغیرہ لے کر آتا تھا۔ ممکن ہے اُس روز بھی وہ کوئی چیز لینے کے لیے بھوانی بلڈنگ میں رک گیا ہو۔“ میں نے پوچھا۔ ” اتوار کی صبح دس ساڑھے دس کے درمیان تم کہاں تھے؟ وہ بولا ۔ ” میں اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ کپورتھلہ گیا ہوا تھا۔ بس ہفتے کی شام اچانک ہی جانا پڑ گیا تھا۔ میری بیمار ساس کی طبیعت ایک دم خراب ہو گئی تھی ، اس کی طرف سے اطلاع آئی تھی کہ وہ نوشابہ سے ملنا چاہتی ہے۔ نوشابہ میری بیوی کا نام ہے۔“ کپورتھلہ سے تم کب واپس آئے ؟“ سوموار کی صبح ساڑھے دس بجے … اس وقت تک بھوانی بلڈ نگ گرے چوبیس گھنٹے ہو چکے تھے لیکن ابھی ملبہ ہٹایا جارہا تھا۔ پورے علاقے میں سوگواری پھیلی ہوئی تھی ۔” میں نے ٹوپی اتار کر میز پر رکھ اور سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا ۔ شوکت علی! کیا تمہیں پتا کہ ہرنائی قتل ہوا ہے ؟ کیا مطلب؟ شوکت کے ہونٹوں سے بے ساختہ نکلا۔ اُس کی آنکھیں حیرت سے کھلی ہوئی تھیں۔
میں نے کہا۔ ” مطلب یہ ہے کہ ہرنائی کی موت اتوار کی صبح حادثے کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ کیونکہ اتوار کی سہ پہر تین بجے تک وہ ایک سینما ہال میں موجود تھا۔ اُس کی موت اتوار کی سہ پہر اور سوموار کی صبح کے درمیان واقع ہوئی ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ وہ اس دوران تم سے ملنے ” بھگتان والا پہنچا۔ کسی نے اس کے سر پر وزنی آلے سے ضربیں لگا کر اُسے ہلاک کیا اور اپنا جرم چھپانے کے لیے لاش کو رات کی تاریکی میں ملبے کے ڈھیر میں پھینک
شوکت علی کا گورا رنگ لٹھے کی طرح سفید ہو رہا تھا۔ وہ خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر
بولا۔ یہ یہ کیسے ہو سکتا ہے جی؟“ میں نے کہا۔ ” میں تمہیں سمجھاؤں گا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے، فی الحال مجھے یہ بتاؤ کہ اتوار اور سوموار کی درمیانی شب تمہارے گھر تالا لگا ہوا تھا یا کوئی موجود تھا۔“ تالا لگا ہوا تھا لیکن وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گیا۔
،،
ہمارا ایک ملازم نرگس” ہے۔ اس کے پاس چابی تھی ۔ ہم نے کہیں باہر جانا ہو تو اُسے گھر میں چھوڑ جاتے ہیں۔ اتوار کی رات بھی اُسی نے گھر میں رہنا تھا لیکن پھر اسے اپنا
کوئی کام پڑ گیا اور وہ نہ آسکا۔” میں نے کہا۔ ” تم ملازم کو مرد بتا ہے ہو لیکن نرگس تو عورتوں کا نام ہوتا ہے۔“ وہ بولا ۔ وہ عورت اور مرد کچھ بھی نہیں ۔ ہیجڑا ہے لیکن محنتی بہت ہے اور ایماندار بھی ہے۔ میں نے اُسے گھر کے کام کاج کے لیے رکھ چھوڑا ہے۔“
میں نے سگریٹ کا ایک طویل کش لیتے ہوئے دھواں فضا میں چھوڑا ” کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ ہیجڑا نرگس تمہیں غلط بتا رہا ہو۔ وہ تمہاری غیر موجودگی میں تمہارے گھر سویا ہو۔ ہرنائی کو علم نہیں تھا کہ تم اچانک کپورتھلہ چلے گئے ہو وہ تم سے ملنے تمہارے گھر پہنچا ہو ۔ وہاں ہرنائی اور نرگس میں کوئی ان بن ہوگئی ہوا اور نرگس نے ہرنائی کو قتل کر ڈالا ہو ۔ “
شوکت نے پر تشویش انداز میں ہونٹ کائے۔ نرگس اتنا بڑا جرم کیسے کر سکتا ہے اور پھر اسے ہرنائی کے ساتھ کیا دشمنی ہو سکتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے۔ آپس میں ہنستے بولتے تھے۔ کوئی جھگڑا نہیں تھا اُن میں ۔“ میں نے کہا۔ ”ضروری نہیں ہوتا کہ جھگڑا بہت پرانا ہو ۔ جھگڑا اچا نک بھی کھڑا ہوسکتا یہ باتیں تو بعد میں ہوتی رہیں گی۔ فی الوقت میں تمہارا گھر دیکھنا چاہتا ہوں

اور نرگس کا دیدار کرنا چاہتا ہوں ۔“ شوکت کے چہرے پر شدید الجھن نظر آرہی تھی۔ جیسے وہ ابھی تک یہی یقین نہ کر پایا ہو کہ اُس کے دوست کو قتل کیا گیا ہے۔ بہر حال اُس کے یقین نہ کرنے سے قتل حادثے میں نہیں بدل جاتا تھا۔ میں نے اُسے اپنے ساتھ لیا اور بھگتان والا دروازہ روانہ ہو گیا۔ انسپکٹر بیدی سنگھ اور عملے کے چند ارکان بھی میرے ساتھ تھے۔
شوکت علی کا گھر تین منزلہ تھا۔ نانک چندی اینٹوں کا ایک تنگ زینہ بل کھاتا ہوا اوپر جا تا تھا۔ نچلی منزل پر کوئی کارخانہ تھا۔ بالائی منزل اور تیسری منزل شوکت کے استعمال میں تھی۔ اس مکان میں شوکت کے علاوہ اس کی جواں سال بیوی نوشابہ اور ایک سالہ بچہ کامران رہتے تھے ۔ میں نے گھوم پھر کر مکان کا اچھی طرح جائزہ لیا۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ اس مکان کی چھت سے بھوانی بلڈنگ کا ملبہ صاف نظر آرہا تھا۔ یوں تو شوکت کے گھر اور بھوانی بلڈنگ کے درمیان قریباً ایک فرلانگ کا فاصلہ تھا مگر چھت سے بھوانی بلڈنگ بالکل قریب نظر آتی تھی۔ مکانوں کی چھتیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی تھیں ۔ شوکت کی چھت سے تین چار چھتیں پھلانگ کر بھوانی بلڈنگ تک پہنچا جا سکتا تھا۔ میر اشک آنا فانا یقین کی حدوں کو چھو گیا۔ مجھے متوفی ہرنائی کے کندھے کی وہ چوٹ یاد آئی جس نے اُس کا ایک پہلو نیلا کر رکھا تھا اور کئی ہڈیاں توڑ دی تھیں۔ اُس چوٹ کو دیکھ کر فورا یہ خیال آتا تھا کہ مرنے والے کو کسی بلند جگہ سے پھینکا گیا ہے۔ چھت سے نیچے اتر کر میں نے باریک بینی سے کمروں اور دیواروں اور فرشوں کا معائنہ کیا۔ اس کام میں انسپکٹر بیدی اور اس کا عملہ بھی میرے ساتھ شریک ہو گیا۔ دس پندرہ منٹ کی مغز کھپائی کا صلہ ہمیں ایک اور اہم کھوج کی صورت میں ملا۔ ایک اندرونی کمرے کی چوکھٹ پر کسی وزنی شے کی ضرب موجود تھی۔ یہ ایک تازہ نشان تھا۔ ضرب کے مقام پر لکڑی دب کر ٹوٹ گئی تھی۔ اس کمرے میں فرش پر نا معلوم سے دھبے بھی پائے گئے ۔ ہماری جانچ پڑتال کے دوران ہی ہیجڑے نرگس کو بھی حاضر کیا جا چکا تھا۔ ہیجڑے کے لیے نرگس کا نام ایسے ہی تھا جیسے بھینس کو بلبل کہا جائے یا طوفان با دو باراں کو رم جھم کے نام سے پکارا جائے۔ وہ کم و بیش چھ فٹ قد کا ہٹا کٹا شخص تھا۔ داڑھی مونچھیں صفا چٹ ۔ آنکھوں میں سرمہ اور ہونٹ پان سے رنگے ہوئے ۔وہ جب نزاکت سے عورتوں کے انداز بولتا تھا تو ہنسی آنے لگتی تھی ۔ وہ جان چکا تھا کہ اس پر شک کیا جارہا ہے۔ اُس کا رنگ فق تھا مجھے پہلی نگاہ میں ہی وہ کوئی اچھا شخص نہیں لگا۔ حیرت تھی کہ شوکت علی اُسے اپنا گھر
سونپ کر بیوی بچے کے ساتھ کپورتھلہ چلا جاتا تھا۔
میں نے نرگس سے سوال جواب کیے۔ میں نے پوچھا ”اتوار اور سوموار کی درمیانی شب تم کہاں تھے۔“
وہ بولا۔ میں اپنے گھر تھی جناب بھائی جان شوکت مجھ سے کہہ گئے تھے کہ میں کے اور رات اُن کے گھر میں گزاروں لیکن عین موقعے پر میرے گھر کچھ مہمان آگئے اور میں یہاں نہ آسکی ۔
تم نے یہ نہ سوچا کہ مالک تم سے اپنے گھر کی رکھوالی کا کہہ کر گیا ہے اور تم نے گھر کی خبر تک نہیں لی ۔“ وہ بولا ” رات نو دس بجے میرے دل میں خیال آیا تھا کہ ایک چکر یہاں کا لگا جاؤں لیکن بڑی تیز بارش ہو رہی تھی۔ اس لیے نہ آسکی لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ آپ مجھے نگوڑی سے پوچھنا کیا چاہ رہے ہیں۔ کیا یہاں سے کوئی چیز غائب ہوگئی ہے۔ میرا مطلب
ہے گہنا کپڑا وغیرہ۔ میں نے اطمینان سے کہا۔ ” یہاں ایک قتل ہو گیا ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ قتل تم نے
کیا ہے۔“
“ہائے میں مرگئی ۔ وہ اپنی جگہ سے اچھل پڑا۔ ” صدقے جاؤں یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ میں غریبنی قتل کروں گی ۔ آپ … آپ مجھ سے مخول تو نہیں کر رہے
ہیں؟
میں نے کہا۔ ”ہاں تجھ سے مخول کرنے کے لیے ہی تو ہم سارے اکٹھے ہو کر یہاں آئے ہیں ۔“
انسپکٹر بیدی نے کہا۔ لیکن بچو اصل مخول تو تجھ سے تھانے میں چل کر ہو گا ۔ چل اٹھ آگے لگ ہمارے ”
ہیجڑا ہراساں تو پہلے تھا اب باقاعدہ رونے لگا۔ ہائے اللہ جی! میں آپ کو کیسے یقین دلاؤں۔ بھگوان کی سوگند میں نے کچھ نہیں کیا۔ آپ کی جوانی کی سوگند بالکل نردوش ہوں میں ۔ آپ مجھے تھانے لے گئے تو میں بدنام ہو جاؤں گی۔ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گی ۔ بیدی سنگھ کڑک کر بولا ۔ بد نام ہو جائے گی تو کیا بگڑ جائے گا تیرا ! کون سی منگنی ٹوٹ جاۓ گی
ہجرے نرگس نے بہت واویلا کیا لیکن وہ مشکوک تھا، لہذا اسے تھانے لے جانا ضروری تھا۔ نرگس کے ساتھ ساتھ میں نے مقتول کے جگری یار شوکت علی کو بھی شامل تفتیش
کر لیا اور دونوں کو لے کر تھانے آگیا۔

ضروری کارروائی کے بعد سعید عرف ہرنائی کی لاش دفن کر دی گئی ۔ تھانے میں ہیجڑے نرگس اور اُس کے مالک شوکت علی سے تفصیل پوچھ کچھ ہوئی ۔ نرگس مشکوک کردار کا شخص تھا۔ تفتیش کے دوران اُس نے کئی اُلٹی سیدھی باتیں کیں۔ اس کے خلاف مجھے تین طرح کا شک تھا۔ شک نمبر ایک یہ تھا کہ شاید اس ہیجڑے کے ساتھ مقتول کا کوئی پیار محبت“ چل رہا تھا جس کی وجہ سے قتل کا واقعہ ہوا لیکن ہیجڑے کی شکل وصورت او عمر د یکھنے کے بعد میرا یہ شک رفع ہو گیا تھا۔ دوسرا شک یہ تھا کہ ممکن ہے مقتول ہرنائی نے ہیجڑے نرگس کو کوئی غلط کام کرتے پکڑ لیا ہو ۔ مالک مکان گھر میں نہیں تھا۔ چابی ہیجڑے کے پاس تھی ۔ اُس کی نیت خراب ہو سکتی تھی اور وہ قیمتی اشیاء پر ہاتھ صاف کرنے کا پروگرام بنا سکتا تھا۔ ممکن تھا کہ مقتول اپنے دوست سے ملنے اُس کے گھر پہنچا ہو اور اُس نے ہیجڑے نرگس کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہو۔ ہیجڑے نے اپنا جرم چھپانے کے لیے اُسے قتل کر دیا ہو۔ تیسرا شک یہ تھا کہ شوکت علی کے گھر میں آکر خود مقتول نے کوئی غلط کام کرنے کی کوشش کی ہو ۔ ہیجڑے نے اُسے روکا ہو جس کے نتیجے میں دونوں لڑ پڑے ہوں اور ہیجڑے کے ہاتھوں ہرنائی کا خون ہو گیا ہو۔ یہ بات ظاہر تھی کہ ہرنائی کے خون کے بعد نرگس حواس باختہ ہو گیا ہوگا۔ اُس نے سوچا ہوگا کہ لاش کو ٹھکانے لگایا جائے۔ عین ممکن تھا کہ دروازے وغیر ہ بند کر کے اُس نے نہایت تسلی سے اس معاملے پر سوچ بچار کی ہو ۔ جب اُس نے غور و فکر کیا تو اُس کے ذہن میں ایک زبر دست ترکیب آئی۔ دس بارہ یا پندرہ سولہ گھنٹے پہلے بھوانی بلڈنگ ایک خوفناک دھماکے سے زمین بوس ہو چکی تھی ۔ بہت سے افراد مارے گئے تھے اور ابھی ملبہ وغیرہ ہٹانے کا کام جاری تھا۔ ہیجڑے نرگس نے مقتول کے سر پر کسی وزنی شے سے ضربیں لگائی تھیں لہذا اگر اُسے بھوانی بلڈنگ کے دور تک پھیلے ہوئے ملبے میں پھینک دیا جاتا تو اُس کی موت کو حادثے کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا تھا۔ ہٹے کٹے ہیجڑے نے مقتول کو کندھے پر لادا اور رات کی تاریکی میں تین چار چھتیں طے کر کے اُس چھت پر پہنچ گیا جو گر نے والی بلڈنگ کے بالکل ساتھ واقع تھی۔ وہ دن کی روشنی میں ملبے کے خدو خال دیکھ چکا تھا اور جانتا تھا کہ مقتول کو کس سمت پھینکنا زیادہ مناسب رہے گا۔ مقتول کو پھینکنے کے بعد وہ گھر واپس آ گیا اور وہاں سے واردات کا ہر کھوج کھر امٹا دیا۔ لیکن وہ یہ نہ جان سکا کہ مقتول کی جیب میں نقدی اور کاغذات کے علاوہ سینما کا وہ ٹکٹ بھی ہے جو اُس نے بھوانی بلڈ نگ گرنے سے ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد خریدا ہے۔ یہاں صرف ایک چھوٹی سی اُلجھن پیدا ہورہی تھی۔ اگر لاش او پر چھت سے گرائی گئی تھی تو پھر وہ صبح ہوتے ہی ملبے کے اوپر پڑی نظر کیوں نہ آئی۔ کیا اُسے نیچے آکر ملبے میں چھپایا گیا تھایا پھر وہ اتفاقا کسی ایسے سوراخ یا درز میں گری تھی جہاں سے نیچے لڑھک گئی تھی
اور ملبہ ہٹانے والوں کو محسوس ہوا تھا کہ وہ ملبے کے نیچے سے نکلی ہے۔ اگلے دو روز میں انسپکٹر بیدی اور میں نے جو تفتیش کی اُس کے نتیجے میں ہجرا نرگس مزید پھنس گیا۔ وہ کسی بھی طرح یہ بات ثابت نہیں کر سکا کہ اتوار اور سوموار کی درمیانی شب وہ اپنے گھر میں تھا اور شوکت علی کے گھر میں جو کچھ ہوا وہ اس کے بارے میں بے خبر ہے۔ پھر اس کے گھر سے کچھ ایسی چیزیں بھی برآمد ہو گئیں جنہیں مسروقہ کہا جا سکتا تھا۔ ان میں شوکت کی بیوی نوشابہ کی ایک گمشدہ قمیض اور ایک طلائی انگوٹھی تھی ۔ گو یہ چیز میں قتل والے واقعے سے کئی ہفتے پہلے گم ہوئی تھیں لیکن ان اشیاء کی برآمدگی سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ نرگس قابل اعتبار شخص نہیں تھا اور موقع ملنے پر وہ کوئی بڑا ہاتھ بھی مار سکتا تھا۔ میرے علاوہ بیدی سنگھ کا خیال بھی یہی تھا کہ ہیجڑے نرگس جیسے شخص کو گھر کا رکھوالا بنا کر چلے جانا شوکت علی کی بہت بڑی غلطی تھی ۔
شوکت علی کے گھر کی تلاشی کے دوران ہمیں ایک چیز بھی مل گئی جس پر آلہ قتل کا شبہ کیا جا سکتا تھا۔ یہ لوہے کی ایک موٹی زنگ آلود نال کا چارفٹ لمبا ٹکڑا تھا۔ ایسی نال ( پائپ) دستی نلکوں میں استعمال کی جاتی ہے۔ یہ عین ممکن تھا کہ مقتول کے سر پر آنے والی چوٹیں اور لکڑی کے دروازے پر ضرب کا نشان اسی نال کا مرہونِ منت ہو ۔ اس نال پر فنگر پرنٹس بھی تلاش کیے جاسکتے تھے لیکن یہ نال چونکہ کھلے من میں پڑی رہی تھی اور موسلا دھار بارشوں میں بھیگتی رہی تھی اس لیے یہ کوشش فضول تھی۔ حوالات میں کسی ضدی اور ڈھیٹ ملزمہ سے کچھ اُگلوانا ہو تو لیڈی پولیس کی مدد لینا لیکن نرگس ملزمہ تھی اور نہ ملزم ۔ وہ دونوں کے درمیان کی شے تھی لہذا مجبور عملہ

اُس سے پوچھ کچھ کر رہا تھا مرکزی تھانے کے ایک سخت گیر حوالدار چندرسنگھ نے جب اُس سے مار پیٹ کی تو اُس نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ “ہائے اللہ اوئی اللہ میں مرگئی ۔ ہائے رام میری کلائی مڑ گئی۔ ظالمو ! تمہیں آئے کسی کی آئی ۔ تمہارے شریر میں کیڑے
پڑیں ۔ دیکھولو گو! مجھے غریبنی کو مارڈالا… دیکھو میرا کیا حال کر دیا۔“
وہ چیخ و پکار کرتا رہا اور چندر سنگھ اپنے کام میں لگا رہا۔ اپنی گرفتاری کے دوسرے روز تک نرگس کو امید تھی کہ شوکت علی اُس کی مدد کو آئے گا اور اُسے چھڑا کر لے جائے گا لیکن وہ تو خود تفتیش میں بیٹھا ہوا تھا۔ لہذا اگلے روز شام کو ہیجڑے نرگس نے مایوس ہو کر شوکت علی کے خلاف بولنا شروع کر دیا۔ اُس نے یہ بیان داغا کہ شوکت علی کے دوست ” مقتول ہرنائی اور اُس کی بیوی نوشابہ کے درمیان کوئی گڑ بڑ تھی۔ وہ دونوں آپس میں ہنس ہنس کر باتیں کرتے تھے اور کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ہرنائی ، شوکت کی غیر موجودگی میں اُس کے گھر آیا اور دیر تک گھر میں موجود رہا۔ ہیجڑے نے بتایا شوکت کی بیوی نے پچھلی سردیوں میں ہرنائی کو اپنے ہاتھ سے سویٹر بن کر دیا تھا اور گھر میں اُس کی دعوتیں کرتی رہتی تھی۔ تفتیش کا یہ رُخ بھی میرے ذہن میں موجود تھا۔ میں شوکت علی سے اس بارے میں پوچھ کچھ بھی کر چکا تھا لیکن اُس نے سختی سے انکار کر دیا تھا۔ اُس کا کہنا تھا کہ اُسے اپنے دوست اور اپنی بیوی پر پورا اعتماد ہے۔ اُس کی بیوی نیک اور باوفا ہے اور اُس کا دوست بھی ایک سچا اور کھر ا شخص تھا۔ وہ کسی ایسی بات کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا جس کی وجہ سے دوستی کے نام پر حرف آتا۔ ہیجڑے نرگس کے بیان کے بعد مجھے ایک بار پھر اس معاملے میں کرید پیدا ہوئی۔ میں نے اپنے ساتھی انسپکٹر بیدی سنگھ سے کہا کہ وہ اس بارے میں چھان بین کرے۔ انسپکٹر بیدی نے بڑی تیزی سے کام کیا اور چوبیس گھنٹے میں ٹھیک ٹھاک کامیابی حاصل کر لی ۔ وہ ایک ایسے گواہ کو سامنے لے کر آیا جس نے بتایا کہ ہرنائی کی موت سے صرف چار پانچ روز پہلے شوکت اور ہرنائی میں زبر دست جھڑپ ہوئی تھی۔ یہ ایک حیران کن انکشاف تھا۔ شوکت اور ہرنائی جگری دوست مشہور تھے اور ابھی تک کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی تھی جس سے پتہ چلا کہ شوکت اور ہرنائی کے تعلقات خراب ہو چکے تھے ۔ اس جھڑپ کی تفصیلات بتاتے ہوئے صدیق نامی اُس شخص نے کہا ۔ کرشن نگر کے قریب والے چوک میں میرا ہوٹل ہے۔ یہ نو یا دس تاریخ کی بات ہے شام کے بعد شوکت اور ہرنائی ہوٹل میں ۔ وہ اکثر چائے وغیرہ پینے میرے ہوٹل میں آتے رہتے تھے ۔ کبھی کبھار اُن کے
ساتھ کوئی مشترکہ دوست بھی ہوتا تھا۔ وہ دیر تک خوش گپیوں میں مصروف رہتے تھے لیکن اُس روز وہ خوش گپیوں کے موڈ میں نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے ہال کمرے میں بیٹھنا پسند کیا۔ وہ اوپر چھوٹی سی گیلری میں چلے گئے ۔ یہاں صرف دو میز ہیں اور آٹھ دس کرسیاں رکھی ۔ رہتی ہیں۔ کوئی فیملی کھانا وغیرہ کھانے آجائے تو ہم اُسے اوپر بھیج دیتے ہیں ۔ شوکت اور ہرنائی صاحب گیلری میں بیٹھ کر گرما گرم بحث میں مصروف ہوئے۔ میں نے سمجھا کہ شاید کسی سیاسی معاملے پر تلخ کلامی ہو گئی ہے۔ میری ہرگز خواہش نہیں تھی کہ میں ان کی باتیں سنوں لیکن اتفاق ایسا ہو گیا کہ میں نے اُن کی باتیں سن لیں ۔ میں عشاء کی نماز کے لیے وضو کرنے او پر غسل خانے میں پہنچا۔ یہ غسل خانہ گیلری کے بالکل ساتھ واقع ہے۔ درمیان میں لکڑی کی ایک دیوار ہے۔ گیلری میں کی جانے والی باتیں اکثر غسل خانے میں صاف سنی جاتی ہیں۔ اُس روز بھی یہی ہوا۔ شوکت صاحب غصے میں بھرے ہوئے تھے اور ہرنائی سے کہہ رہے تھے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے ہرنائی ! کوئی اور ہوتا تو پتہ نہیں کیا کر گزرتا۔ یہ میرا صبر ہے کہ میں خاموش ہوں اور سب کچھ بھول جانا چاہتا ہوں ۔ بس اب بہتر یہ ہے کہ یہاں سے چلے جاؤ۔”
ہرنائی بولا ۔ ” میں نے کہا ہے ناں کہ اب تمہیں اپنی صورت نہیں دکھاؤں گا ۔“ میں صورت کی بات نہیں کر رہا۔ شوکت غرا کر بولا ۔ ”میں بات کر رہا ہوں تمہارے اس شہر سے دفع ہونے کی اور کبھی اپنا نحس قدم یہاں نہ رکھنے کی ۔ میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پھر وہ ہو جائے گا جو دُنیا دیکھے گی ۔ آخری الفاظ کہتے کہتے شوکت کی آواز نہایت خطرناک ہو گئی تھی اور لرز رہی تھی ۔ ہرنائی نے دبے لہجے میں کہا۔ کسی اور نے یہ دھمکی دی ہوتی تو میں اس کا جواب دیتا لیکن تمہارے سامنے میرے ہاتھ پہلے بھی بندھے تھے آج بھی بندھے ہیں لیکن پھر وہی لیکن ۔ شوکت گر جا۔ میں تم سے بات کرنا نہیں چاہتا۔ میرا سینہ پھٹنے لگتا ہے۔ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ جو کچھ تمہارے بارے میں سن چکا ہوں اُس سے زیادہ اور کچھ نہ سنوں۔ بس اب تم میری آنکھوں کے سامنے سے ہٹ جاؤ ۔ اس کے ساتھ ہی کرسیاں گھسیٹنے کی آوازیں آئی تھیں ۔ میں وضو کر کے باہر نکلا تو گیلری خالی تھی ۔ وہ دونوں جا چکے تھے۔ میں حیران تھا کہ ہمیشہ خوش و خرم نظر آنے والی اس جوڑی کو کیا ہوا ہے۔” محمد صدیق نامی اس ہوٹل والے” کا بیان بے حد اہم اور معنی خیز تھا۔ ہم نے اس پر تھوڑی سی مزید تفتیش کی تو چند اور باتیں سامنے آئیں ۔ معلوم ہوا کہ چند ماہ پہلے
شوکت، ہرنائی اور نوشابہ ڈلہوزی کی سیر کو گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے وہاں پندرہ روز گزارے۔ اس دوران ہیجڑا نرگس ہی گھر کا نگہبان رہا تھا۔ ڈلہوزی میں قیام کے دوران شوکت کو ایک ضروری کام سے ایک دن کے لیے امرتسر آنا پڑا تھا۔ اس دوران ہرنائی اور نوشابہ اکیلے ڈلہوزی میں رہے تھے ۔ بعد میں شوکت کی والدہ نے اس بات پر اعتراض بھی
کیا تھا کہ وہ جوان بیوی کو دوست کے ساتھ ہوٹل میں کیوں چھوڑ آیا ہے۔ اس کے علاوہ ہرنائی اور شوکت کے ایک جاننے والے نے بھی بیان دیا کہ ہرنائی اور شوکت کی بیوی نوشابہ میں بہت بے تکلفی تھی۔ بظاہر یہ دیور بھابی والی بے تکلفی تھی مگر کبھی کبھی یہ بے تکلفی اس رشتے سے آگے بڑھ جاتی تھی۔ فلموں کہانیوں اور شعر و شاعری کے بارے میں وہ لوگ بڑی کھلی ڈلی باتیں کرتے تھے ۔ ہرنائی ، شوکت کے بیچے سے بہت پیار کرتا تھا لیکن کبھی کبھی محسوس ہوتا تھا کہ بچے کی آڑ میں بچے کی ماں سے پیار جتایا جارہا ہے۔ شوکت پہلے سے زیر تفتیش تھا ، اب میں نے اُسے پو چھ کچھ کے لیے حراست میں لے لیا اور عدالت میں پیش کر کے سات روزہ ریمانڈ حاصل کر لیا۔ ریمانڈ کے وقت عدالت میں اکثر نوک جھونک ہوتی ہے۔ اگر ملزم نے وکیل کھڑا کر لیا ہو تو وہ سرکاری وکیل کے آڑے آتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ ریمانڈ کی درخواست منظور نہ ہو اور ملزم کی ضمانت ہو جائے یا اُسے جوڈیشنل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے ۔ دوسری طرف سرکاری وکیل زور دیتا ہے کہ ملزم چونکہ حقائق چھپا رہا ہے اس لیے تفتیش مکمل کرنے کے لیے ریمانڈ ضروری ہے۔ ریمانڈ ہو جانے کے بعد جب ملزم کو پولیس کے حوالے کیا جاتا ہے تو وہ بہت پریشان ہوتا ہے۔ خاص طور پر اگر وہ نواں نواں پھنسا ہو تو اس کی حالت دیدنی ہوتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب وہ تھانیدار کے رحم و کرم پر ہے اور زندہ سلامت حوالات سے باہر نہیں آسکے گا۔ شوکت علی کی حالت بھی بہت پتلی تھی ۔ کچہری سے حوالات تک وہ مسلسل صفائیاں پیش کرتا رہا بلکہ راستے
میں اُس نے میرے ایک حوالدار کو رشوت کی پیش کش بھی کر دی۔ حوالات میں شوکت علی سے پوچھ کچھ شروع ہوئی ۔ اُس نے بیان دیا تھا کہ اتوار اور سوموار کی درمیانی شب وہ کپور تھلہ میں اپنے سسرال کے ہاں مقیم تھا۔ ہم نے شوکت کے اس بیان کی صحت جانچی ۔ ایک سب انسپکٹر نے کپورتھلہ جا کر شوکت کے ساس سسر اور سالوں وغیرہ کے بیانات لیے ۔ ان بیانات سے تصدیق ہوتی تھی کہ رات نو بجے تک شوکت اپنے سسرال ہی میں تھا۔ اس کے بعد سب سونے کے لیے لیٹ گئے تھے ۔ اگر رات میں شوکت کپورتھلہ سے امرتسر پہنچا ہو اور ہرنائی کو قتل کر کے واپس چلا گیا ہو تو اور بات تھی

ایک دلیل یہ بھی تھی کہ شاید شوکت نے ہرنائی کو خود قتل کرنے کی بجائے یہ کام کسی کرائے کے قاتل یا بد معاش سے کروایا ہو ۔ جو لوگ اس طرح پیسے دے کر جرم کراتے ہیں اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ خود موقعے سے دُور ر ہیں اور ایسی جگہ رہیں جہاں کچھ لوگ گواہی دے سکیں کہ وہ موقعے سے دور تھے تفتیش کا عمل جاری رہا۔ ایک دو موقعوں پر شوکت سے تھوڑی سی سختی بھی کی گئی لیکن وہ اپنے بیان پر ڈٹا رہا۔ اُس کا بیان یہ تھا کہ ہرنائی کے قتل میں اُس کا کوئی ہاتھ نہیں اور نہ ہی اُس کا ہرنائی سے کوئی ایسا اختلاف تھا جس کے سبب وہ اُسے جان سے مار دیتا۔ جب اُس سے پوچھا گیا کہ محمد صدیق کے ہوٹل میں ہرنائی سے اُس کا کس بات پر جھگڑا ہوا تھا تو اُس نے صاف انکار کر دیا کہ ایسا کوئی جھگڑا ہوا تھا۔ اُس نے کہا کہ محمد صدیق کے بڑے بھائی سے اُس کی کاروباری رقابت ہے جس کی بناء پر وہ اُسے پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اس کیس کے دوران بلال شاہ بھی سرگرم کردار ادا کر رہا تھا۔ وہ پچھلے تین چار ماہ کافی بیمار رہا تھا۔ کسی حکیم کے کہنے پر اُس نے جگر کی کمزوری رفع کرنے اور بھوک کھولنے والی الٹی سیدھی دوائی کھائی تھی۔ اس دوائی سے اُس کا جگر تو شاید مضبوط ہو گیا ہو لیکن بھوک تو پہلے ہی اتنا کھلی ہوئی تھی کہ اور کی گنجائش نہیں تھی۔ لہذا بھوک تو نہیں کھلی ہاں کئی ایک بیماریاں کھل گئیں۔ تین چار مہینے وہ ٹھیک ٹھاک بیمار رہا اور بستر پر پڑا نیم حکیم کے اگلے پچھلوں کو بددعائیں دیتا رہا۔ اب کچھ دنوں سے وہ صحت مند تھا اور میرے ساتھ سرگرمی سے تفتیش میں حصہ لے رہا تھا۔ جیسا کہ میں نے کئی بار بتایا ہے اجنبی لوگوں سے رشتے جوڑ نا بلال شاہ کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ ایک دن اُس نے پتہ نہیں کیا چکر چلایا کہ بھگتان والا گیا اور شوکت علی کی بیوی نوشابہ کو بھتیجی بنا کر آ گیا ۔ کہنے لگا ۔ ” میرا کمال دیکھیں خان صاحب ! راہ چلتے اُس سے ملاقات کی۔ اُس وقت نو بجے تھے ۔ گیارہ بجے وہ مجھے اپنے گھر لے گئی ۔ ساڑھے گیارہ بجے میں نے اُسے بھتیجی بنالیا۔ بارہ بجے اس نے بھی مجھے چچا جان کہنا شروع کر دیا۔ ایک بجے اُس نے مجھے اپنے ہاتھ کی کچی روٹی کھلائی اور اب ڈھائی بجے میں آپ کے سامنے ہوں ۔ ذرا غور فرمائیں جی صرف ساڑھے پانچ گھنٹوں میں کتنا لمبا پینڈا کیا میں نے کہا۔ ” صرف پینڈا ہی مکایا ہے یا کوئی کام کی بات بھی معلوم کی ہے۔“ وہ بولا ۔ سو باتوں کی ایک ہی بات ہے جی لڑکی بہت سوہنی اور ٹھیک ٹھاک ہے ۔ ایسی ہی لڑکیوں کے پیچھے قتل ہوتے ہیں اور دشمنیاں شروع ہوتی ہیں ۔ اُس سے مل کر مجھے تو یقین ہو گیا ہے کہ قتل کی وجہ وہ خود ہی ہے۔ ہرنائی جوان اور غیر شادی شدہ تھا۔ لڑکی کے لشکارے نے اُسے اندھا کر دیا۔ وہ بھول گیا کہ وہ اُس کے جگری یار کی بیوی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ کسی طرح لڑکی بھی اُس کے چکر میں آگئی ہو ۔ یا چکر میں نہ آئی ہو تو ڈانواں ڈول ہوگئی ہو ۔ ایسی باتیں کب تک چھپی رہ سکتی ہیں۔ آخر شوکت کو معلوم ہو گیا ۔ اُس نے طیش میں آکر ہرنائی کا قصہ تمام کر ڈالا ۔
میں نے کہا۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ ایسے موقعوں پر قاتل اپنی بیوی کو بھی نہیں بخشتے ۔ بلال بولا ۔ ” ہو سکتا ہے کہ بیوی کا اتنا قصور نہ ہو ۔ “
میں نے کہا یہ بات میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہی۔ اگر بیوی کا قصور نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ معاملہ ابھی اتنا نہیں بڑھا تھا کہ شو ہر طیش میں اندھا ہو جاتا اور دوست کو قتل کر ڈالتا۔ بہر حال ابھی ہم کوئی بھی نتیجہ نکالنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور نہ ہی ہمیں نکالنا چاہیے۔
اگلے روز بلال شاہ نے دو پہر کے وقت ایک اور دھما کہ کر دیا ۔ مرکزی تھانے کا ایک حوالدار جو بیدی سنگھ کے ساتھ کام کرتا تھا میرے پاس آیا اور رازداری سے کہنے لگا ۔ انسپکٹر صاحب ! مجھے لگتا ہے کہ آپ کا مخبر بلال شاہ رشوت لینے کے چکر میں ہے ۔“ کیا مطلب؟” میں نے چونک کر کہا۔ وہ بولا ۔ بلال شاہ آج صبح سویرے حوالاتی شوکت علی کے گھر گیا تھا۔ وہ اُس کی بیوی نوشابہ سے ملا ہے اور اسے خوب ڈراتا دھمکاتا رہا ہے۔“
ڈرانے دھمکانے سے تمہارا کیا مطلب ہے؟ میں نے پوچھا۔ حوالدار نے کہا۔ ” بلال نے ملزم کی بیوی کو بتایا ہے کہ انسپکٹر نواز خان تمہارے شوہر پر بے تحاشہ تشدد کر رہے ہیں۔ وہ بار بار بے ہوش ہوتا ہے، پانی کے چھینٹے دے کر اُسے ہوش میں لایا جاتا ہے اور پھر مار پیٹ شروع کر دی جاتی ہے۔ یہی سلسلہ رہا تو وہ ایک آدھ دن میں دم تو ڑ جائے گا۔“ مجھے یقین نہیں آیا کہ بلال شاہ میرے بارے میں اس طرح کی فضول بکواس کر سکتا حقیقت ہے کہ شوکت علی سے پوچھ گوچھ کی جارہی تھی اور ایک دو بار اُس کی پٹائی بھی
ہوئی تھی لیکن یہ معمولی مار پیٹ تھی اور اس مار پیٹ سے میرا براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔ حوالدار نے کہا۔ ” مجھے پورا یقین ہے جی کہ بلال ملزم کی بیوی کو ڈرا دھمکا کر اُس سے کوئی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس سے پیسے وغیرہ بٹور سکتا ہے یا پھر وہ کچھ کہتے کہتے
خاموش ہو گیا۔
میں اُس کی ادھوری بات کا مطلب سمجھ گیا۔ اُس کا اشارہ ملزم کی بیوی کی جوانی اور خوبصورتی کی طرف تھا۔ بلال شاہ سے مجھے اس قسم کی امید تو ہر گز نہیں تھی، ہاں یہ ہو سکتا تھا کہ وہ کسی مجبوری کے تحت اسکے چکر میں پڑ گیا ہو۔ اگر ایسی بات نہیں تھی تو پھر اسے کیا ضرورت پڑی تھی ملزم کی بیوی کو ڈرانے دھمکانے کی ۔ ابھی میں اس بارے میں سوچ رہا تھا کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بج اٹھی۔ ایک بھاری آواز والے شخص نے میرا نام پوچھا اور بولا ” لیجیے بات کیجئے اس کے ساتھ ہی ایک جوان زنانہ آواز میرے کانوں میں پڑی۔ بولنے والی کچھ گھبرائی ہوئی تھی۔ اُس نے اٹکتی ہوئی آواز میں کہا۔ انسپکٹر صاحب! میں شوکت علی کی بیوی ہوں ۔“
کون شوکت علی؟ میں نے تصدیق چاہی۔ وہی جسے آپ نے ہرنائی کے قتل کے شبے میں پکڑ رکھا ہے۔ میں آپ سے اس کیس کے سلسلے میں ایک بڑی ضروری بات کرنا چاہتی ہوں … ہاں ہاں کہے۔ میں سن رہا ہوں ۔ میں نے کہا۔
وہ بولی ۔ ”میں فون پر سب کچھ تو نہیں بتا سکتی ۔ ہاں آپ کو اس بات کا یقین دلاتی
ہوں کہ میرا شوہر بے قصور ہے۔“
تو پھر قصور وار کون ہے؟ میں نے ذرا سختی سے پوچھا۔
میں کل صبح خود آپ کے پاس آؤں گی اور اس سلسلے میں تفصیل سے آپ کو سب کچھ بتا دوں گی ۔ اب صرف آپ سے یہ کہنا ہے کہ کل تک میرے شوہر کو کسی طرح کی تکلیف نہ پہنچائی جائے ۔ میں نے کہا۔ نہیں پہنچائی جائے گی لیکن کچھ پتہ تو چلے کہ تم کیا بتانا چاہ رہی ہو۔ کچھ خبر بھی ہے یا صرف ٹائم پاس کرنا چاہ رہی ہو ۔” وہ فون پر لمبی بات کرنا نہیں چاہتی تھی لیکن میری کوشش تھی کہ وہ کچھ نہ کچھ بول دے۔ ہمارے درمیان دو تین منٹ مزید گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو میں مجھے صرف اتنا پتہ چل سکا کہ قاتل کا تعلق نوشابہ کے سسرال سے نہیں میکے سے ہے۔ اُس نے کل ہر صورت دس بجے تک مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا اور یہ وعدہ بھی کیا کہ کیس کے سلسلے میں مجھ سے پورا تعاون کرے گی۔ ادھ پون گھنٹے بعد بلال شاہ بھی تھانے آگیا ۔ کچھ کھا پی کر آیا تھا کیونکہ مونچھیں میں گھی چمک رہی تھیں ۔ میں اُس وقت کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا۔ بلال شاہ کرسی گھسیٹ کر میرے پاس آن بیٹھا ۔ ” خان صاحب ! آج بڑا چکر چلایا ہے میں نے ۔ وہ پر جوش لہجے میں بولا ۔ مثلاً کیا ؟ میں نے پوچھا۔ وہ بولا۔ ” آج میں اپنی بھتیجی کے گھر ” بھگتان والا‘ گیا تھا۔ کافی لمبی چوڑی باتیں ہوتی رہیں اُس سے۔ دراصل کل میں نے اُس سے وعدہ کیا تھا کہ تھانے جا کر اُس کے شوہر کا پتہ کروں گا۔ آج میں اُسے یہی بتانے گیا تھا کہ تھانے میں اُس کے مجازی خدا پر کیا بیت رہی ۔
پھر کیا بتا یا تم نے ؟“
وہی جو بتانا چاہیے تھا۔ میں نے کل ہی اندازہ لگا لیا تھا کہ لڑکی کمزور دل کی ہے اور شوہر کی وجہ سے بے حد پریشان بھی۔ میں نے آج اُس کا خوب تراہ نکالا ۔ میں نے کہا کہ حوالات میں اُس کے شوہر کی ایسی تیسی ہو رہی ہے اور اگر اُسے انسپکٹر نواز کے ہاتھوں سے بچایا نہ گیاتو کچھ بھی ہوسکا ہے مجھے پکا یقین ہے ہی کہ وہ اس قل کے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتی ہے اور آج یا کل آپ سے ضرور ملنے آئے گی ۔ بلال شاہ کی چھاتی پھولی ہوئی تھی اور آنکھوں میں یقین کی چمک تھی۔ میں نے کہا بلال شاہ ! تمہارا اندازہ سو فیصد درست ہے ۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے لڑکی کا فون آیا ہے۔ وہ کیس کے سلسلے میں کوئی خاص بات کرنا چاہتی ہے ۔ بلال شاہ کا چہرہ کھل اٹھا۔ دیکھا میں نے کہا تھا نا آخر ہمارا بھی کوئی تجربہ ہے جناب ! یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کیے۔ مجھے پتہ تھا کہ لڑکی ڈر کر ضرور کچھ بتائے گی ۔ اب آپ اس کیس کو حل سمجھیں بلکہ حل سمجھیں۔ میں نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا کہ بلال شاہ ٹیلیفون سے پہلے نہیں آگیا اور اُسے دیکھ کر میرے منہ سے کوئی غلط سلط بات نہیں نکل گئی ، ورنہ اُس نے میری جان کو آ جانا تھا۔ کام اُس نے واقعی عقلمندی کا کیا تھا اور اُس کی عقلمندی کا ثبوت بھی سامنے آ گیا تھا۔ بڑی بے چینی سے کل صبح کا انتظار تھا۔

نوشابہ نے صبح دس بجے آنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ساڑھے آٹھ بجے ہی یہ اطلاع آگئی کہ وہ ہسپتال میں ہے۔ رات پچھلے پہر اُس نے بھاری مقدار میں خواب آور گولیاں کھا کر خودکشی کی کوشش کی تھی۔ خوش قسمتی ہے اُس کا دیور گھر میں تھا۔ وہ اُسے ایک رکشہ میں ڈال کر ہسپتال لے گیا تھا۔ اب ڈاکٹر اُس کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے تھے ۔ یہ ایک سنسنی خیز اطلاع تھی ۔ صرف دس پندرہ گھنٹے پہلے جس لڑکی نے ہرنائی قتل کیس میں بھر پور تعاون کا ارادہ ظاہر کیا تھا، وہ اب ہسپتال کے بستر پر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھی ۔ ابتدائی اطلاع یہی تھی کہ اس نے خود کشی کی کوشش کی ہے۔ عین ممکن تھا کہ یہ بھی قتل کی سازش ہو۔ اصل صورت حال کا علم لڑکی کی بے ہوشی ختم ہونے پر ہی ہو سکتا تھا۔ دوپہر کو ہسپتال سے اطلاع آئی کہ نوشابہ شوکت کی حالت اب بہتر ہے۔ مجھے امید تھی کہ چار پانچ بجے تک وہ ہوش میں آکر بیان دینے کے قابل ہو جائے گی لیکن رات گئے تک یہ امید بر نہیں آئی۔ میں اور انسپکٹر بیدی سنگھ ہسپتال پہنچے۔ نوشابہ انتہائی نگہداشت کے شعبے میں تھی۔ انچارج ڈاکٹر نے بتایا کہ مریضہ کی زندگی کو فوری خطرہ تو لاحق نہیں مگر اُس کے دماغ پر اثر ہوا ہے جس کے سبب وہ ہوش میں نہیں آرہی ۔ اُس نے امید ظاہر کی کہ کل تک وہ نارمل ہو جائے گی۔ کل گزر گیا اور پھر دو دن مزید گزر گئے ۔ نوشابہ شوکت ہوش میں نہیں آئی۔ اُسے نلکیوں کے ذریعے خوراک دی جا رہی تھی ۔ بڑے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ مریضہ کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ آکسیجن کی کمی سے اُس کے دماغ کا مرکزی حصہ متاثر ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ ابھی ہوش میں آجائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دو تین ماہ بعد بھی یہی حالت رہے…. اس نئے واقعے کی تفتیش سے یہی پتہ چلا کہ مایوسی اور پریشانی کی شدید کیفیت سے گھبرا کر نوشابہ نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ اُس کے دیور نے بتایا کہ وہ رات گئے تک شدید پریشان تھی اور کش مکش میں دکھائی دیتی تھی ۔ اُس کی پریشانی اور کش مکش کی وجہ میرے اور بلال شاہ کے لیے پوشیدہ نہیں تھی۔ نوشابہ کے پاس ایک اہم اطلاع تھی ۔ یہ اطلاع جہاں اُس کے شوہر کو بچا سکتی تھی وہاں کسی دوسرے عزیز کو پھانسی کے تختے تک پہنچا سکتی تھی۔ شاید وہ خود کشی کرنے تک یہی سوچ رہی تھی کہ اپنے کسی پیارے کو بچائے اور کس کو موت کے دہانے پر کھڑا کر دے؟ بلال شاہ اور میں نے سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ ہمیں نوشابہ کے میکے کپورتھلہ چلنا چاہیے
نوشابہ کی آخری گفتگو سے یہی ظاہر ہوا تھا کہ ہرنائی کے قاتل کا تعلق اُس کے میکے سے ہے ہم اگلے روز علی صبح امرتسر سے روانہ ہوئے اور دو پہر کے وقت کپورتھلہ کے ایک مضافاتی گاؤں میں پہنچ گئے ۔ نوشابہ کے باپ کا گھر ویسا ہی تھا جیسا ایک عام کا شہکار کا ہونا چاہیے۔ نوشابہ کی والدہ پچھلے دو سال سے چار پائی سے لگی ہوئی تھی اور ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی ۔ اُس کا والد پچاس برس عمر کا ایک عام سا شخص تھا۔ معلوم ہوا کہ نوشابہ کے صرف دو بھائی ہیں۔ ایک پچھلے پانچ سال سے سنگا پور میں ہے اور بندرگاہ پر کام کرتا ہے، دوسرا سرکاری ملازم ہے اور کوئی ایک مہینہ پہلے کوئٹہ کے دور دراز علاقے سے امرتسر ٹرانسفر ہوا ہے۔ اس دوسرے بھائی کا نام عقیل تھا۔ نوشابہ کے والد سے کچھ دوسرے عزیزوں کے پتے ٹھکانے بھی معلوم ہوئے۔ تاہم میں نے بہتر جانا کہ پہلے عقیل نامی اس نوجوان سے پوچھ کچھ کی جائے ۔ عورت کے سلسلے میں سب سے پہلے شوہر اور بھائی کی غیرت ہی جاگتی ہے۔ نوشابہ اپنے شوہر کو تو بے گناہ گردانتی رہی تھی۔ اب ہو سکتا تھا کہ ہرنائی کو موت کے گھاٹ اتارنے والا اس کا بھائی ہو۔
امر تسر پہنچ کر میرے اے ایس آئی نے برق رفتاری سے تفتیش کی اور پتہ چلایا کہ عقیل احمد فائر بریگیڈ یعنی آگ بجھانے والے محلے میں ملازم ہے۔ وہ انچارج فائر میں تھا اور مناسب تنخواہ لیتا تھا سنسنی خیز انکشاف یہ تھا کہ اتوار کی صبح دس بج کر میں منٹ پر جب ” بھوانی بلڈنگ گرمی تو امدادی عملے کے ساتھ سب سے پہلے عقیل احمد ہی موقعے پر پہنچا تھا۔ اے ایس آئی نے تفصیل بتائی تو مجھے بھوری مونچھوں اور بادامی آنکھوں والا وہ نوجوان یادآ گیا جو سوموار کی شام تک موقعے پر موجود رہا تھا اور دوسرے کارکنوں کے ساتھ مل کر جوش و خروش سے امدادی کارروائیاں کرتا رہا تھا۔ اتوار کو دو پہر کے وقت جب ملبے کے نیچے پھنسے لوگ چیخ و پکار کر رہے تھے اور حشر کا سماں تھا اُس نوجوان نے ایک آٹھ سالہ بچی کو ملبے سے نکالنے کے لیے جان کی بازی لگا دی تھی۔ وہ ایک تنگ سوراخ میں رینگ کر ملبے میں گھسا تھا اور سیڑھیوں کے جنگلے میں پھنسی ہوئی اس بچی کو کھینچ کر باہر لے آیا تھا۔ بعد میں دو بجے کے قریب جب ملبے کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی تھی تو اس نے آگ پر قابو پانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ اب وہی نوجوان ایک ملزم کی حیثیت سے میرے سامنے پیش ہونے والا تھا ۔
اتفاقی طور پر حالات کی کڑیاں آپس میں مل گئی تھیں اور یوں لگ رہا تھا کہ عقیل اس قتل کے الزام سے بچ نہیں سکے گا۔ متلول کی لاش بھوانی بلڈنگ کے ملبے میں

پھینکی گئی تھی اور بھوانی بلڈنگ کے ملبے سے عقیل کا گہرا تعلق ثابت ہو گیا تھا۔ میرے عملے نے عقیل کو شام سات بجے ایک بس سٹاپ پر حراست میں لیا، اُس نے بتایا کہ وہ ہسپتال میں اپنی بیمار بہن کی عیادت کر کے واپس اپنے کوارٹر میں جا رہا تھا۔ وہ اپنی گرفتاری پر سخت حیران تھا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ حیران نظر آنے کی کوشش کر رہا تھا ۔وہ چوڑے شانوں اور کسرتی جسم کا مالک تھا۔ بہن کی طرح گورا چٹا تھا لیکن زیادہ خوبصورت نہیں تھا۔ اُس کے خدو خال میں ایک طرح کی کرختگی پائی جاتی تھی۔ ابھی اُس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ میں نے اُس سے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے پوچھا کہ
اتوار اور سوموار کی درمیانی شب وہ کہاں تھا؟ اُس نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا۔ “آپ بھی جانتے ہیں میں بھگتان والا میں تھا۔ وہاں بھوانی بلڈنگ پر میری ڈیوٹی تھی ۔“ میں نے کہا۔ ‘ بھوانی بلڈنگ سے تمہاری ہمشیرہ کا گھر کتنے فاصلے پر ہے؟ وہ بولا ۔ مجھے ٹھیک سے پتہ نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ قریب ہی ہے۔ میں نے پوچھا۔ ” تمہارے ذہن میں یہ نہیں آیا کہ ڈیوٹی ٹائم کے بعد اپنی بہن کے گھر کا چکر لگا آؤ
وہ بولا ۔ “ہم دو روز اتنے مصروف رہے ہیں کہ کسی اور طرف دھیان ہی نہیں گیا۔ ویسے بھی کوئیٹہ سے یہاں آنے کے بعد میں ایک مرتبہ نوشابہ کے گھر ہو آیا تھا، اس لیے جانے کی ضرورت نہیں سمجھی ۔
اتوار اور سوموار کی درمیانی رات تم نے کہاں گزاری؟
رات آٹھ نو بجے کام بند ہو گیا تھا۔ اس لیے ہم دفتر واپس آگئے ۔ رات دفتر ہی میں سوئے۔ صبح سویرے پھر موقع پر پہنچ گئے ۔ کیونکہ عمارت کا وہ حصہ گرانا تھا جو کسی بھی وقت گر کر مزید نقصان کا سبب بن سکتا تھا۔“ میں نے کہا۔ “میرا خیال تم سے مختلف ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ رات نو بجے کام سے فارغ ہونے کے بعد تم اپنی بہن سے ملنے اُس کے گھر گئے ۔ وہاں تمہاری ملاقات اپنی بہن سے تو نہیں ہوئی لیکن ہرنائی سے ہو گئی تم نے اُسے قتل کر ڈالا اور پھر کندھے پر لاد کر چھت پر لے آئے ۔ تین چار چھتیں طے کرنے کے بعد تم نے اُسے بھوانی بلڈنگ کے ملبے میں پھینک دیا۔ صبح منہ اندھیرے جب کام دوبارہ شروع ہوا تو تم نے ساتھیوں کی نگاہ بچا کر ملبے میں کچھ اور نیچے گھسیڑ دیا تا کہ کسی کو شبہ نہ ہو کہ لاش او پر سے گرائی گئی
عقیل کا رنگ زرد ہو رہا تھا۔ تاہم اُس نے کوشش کر کے اپنے اعصاب پر قابو پائے رکھا تھا۔ تنک کر بولا ۔ لیکن میں کیوں قتل کرتا اس شخص کو ۔ میری کیا دشمنی تھی اس سے؟ میں صرف ایک ماہ پہلے کوئٹہ سے آیا ہوں ۔ میں نے نام تک نہیں سنا اس شخص کا ۔“ تم غلط بیانی کر رہے ہو ۔ میں نے کہا۔ ” تم جان چکے تھے کہ ہرنائی کے تمہاری بہن سے ناجائز تعلقات ہیں۔ اُسے اپنی بہن کے گھر میں دیکھ کر تم مشتعل ہو گئے اور میں تمہاری زبان کھینچ لوں گا انسپکٹر عقیل ایک دم آگ بگولا ہو کر چیخا۔ اس کے ساتھ ہی اُس نے مجھ پر جھپٹنے کی کوشش کی ۔ وہ بالکل دیوانہ ہورہا تھا۔ اُس نے میرا گریبان پکڑ کر مجھے نیچے گرانا چاہا۔ میں نے اُس کی ٹانگوں میں اڑنگا لگایا۔ وہ اوندھے منہ میز پر گرا۔ مگر گرتے ساتھ ہی اُس نے شیشے کا ایک وزنی جگ تھام لیا اور اس کی زوردار ضرب میرے چہرے پر لگانا چاہی۔ میں نے جھک کر یہ وار بھی بچایا۔ جگ دیوار سے ٹکرا کر چور ہو گیا۔ عقیل پھر مجھ پر جھپٹا۔ ساتھ ساتھ وہ چلا رہا تھا۔ ” تم نے میری بہن کا نام لیا۔ میں تمہارا سر توڑ دوں گا ۔ تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔
میں نے تین چار زناٹے کے تھپڑ اس کے چہرے پر لگائے اور باز ومروڑ کر بے بس کر دیا ۔ جوان شاہ سمیت عملے کے کئی افراد کمرے میں اکٹھے ہو چکے تھے ۔ وہ سب خونخوار نظروں سے عقیل کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ میں جانتا تھا کہ میرے ایک اشارے پر وہ اس کی چمڑی ادھیڑ کر رکھ دیں گے لیکن میں نے ایسی کسی کا رروائی کی حوصلہ افزائی نہیں کی ۔ عقیل نوجوان تھا۔ خون میں گرمی تھی۔ بہن کے ذکر نے اُسے آگ بگولاک دیا تھا۔ اگر میں بھی اُس کی طرح آگ بگولا ہو جاتا تو یہ سمجھداری نہیں تھی۔ میں نے صرف وہی کیا جو قانون کے مطابق ضروری تھا۔ پوچھ گچھ کے لیے میں نے اُسے حوالات میں بند کر دیا۔ اب تک اس واقعے کی خبر کافی پھیل چکی تھی ۔ بات تھی بھی حیرانی اور دلچسپی کی ۔ بھوانی بلڈنگ سے ملنے والی لاشوں میں ایک لاش ایسی بھی تھی جو کہیں اور سے لا کر وہاں پھینکی گئی تھی ۔ اخباروں میں بھی یہ خبر آ چکی تھی۔ لاش کی تصویر کے ساتھ واقعات کی تفصیل آئی تھی اور اس حوالے سے میرا ذکر بھی آیا تھا۔ ایک روز دو اخباری نمائندے میرا انٹرویو لینے آن پہنچے۔
اُن میں سے ایک بولا’انسپکٹر صاحب ! یہ معاملہ ہے ہی دلچسپی لینے والا قتل کی ایک واردات کو جس طرح ایک حادثے کی دھول میں چھپانے کی کوشش کی گئی ہے، بے حد حیرت

انگیز ہے۔ اب یہ عشق محبت کا چکر نکل آیا ہے ۔ ہمارے پڑھنے والے ان خبروں میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔ پھر ایک اور بات بھی ہے جس کی وجہ سے ہمیں اس معاملے کی بہت کرید ہے۔
”وہ کیا ؟“ میں نے پوچھا۔ گھنگھریالے بالوں والا نوجوان شخص بولا ۔ ” در اصل مقتول ہرنائی کو ہم لوگ بہت پہلے سے جانتے ہیں۔ شاید آپ کے لیے یہ اطلاع حیرت کا باعث ہو کہ ہرنائی پنجابی اور اردو میں شعر بھی کہتا رہا ہے۔ خاص طور پر وہ گیت بہت خوبصورت لکھتا رہا ہے۔ اُس کی اکثر چیزیں ہمارے اخبار میں چھپتی رہی ہیں اور یہ سلسلہ قریباً تین چار سال سے چل رہا ہے۔ شاید آپ کے لیے یہ اطلاع بھی حیران کن ہو کہ ہرنائی امرتسر کا نہیں کپورتھلہ کے ایک نواحی گاؤں لڑھکی” کا رہنے والا ہے۔ پہلے پہل اُس کی جو چیزیں اخبار میں چھپنے کے لیے آتی تھیں ان پر لڑھکی ” گاؤں کا نام لکھا ہوتا تھا۔” نوجوان رپورٹر نے ایک پرانا کاغذ نکال کر دکھایا۔ یہ کوئی پنجابی گیت تھا۔ گیت کے اوپر سعید نا شادلڑھکی کپور تھلہ ” کے الفاظ لکھے تھے ۔ یہ اطلاع میرے لیے واقعی بہت اہم تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ مقتول سعید عرف ہرنائی کا تعلق بھی اُسی علاقے سے ہے جس علاقے سے نوشابہ کا تعلق ہے۔ ایک دم میرے ذہن میں جھما کا سا ہوا اور اُس کے ساتھ ہی مجھے یہ بات بھی سمجھ میں آگئی کہ نوشابہ اور ہرنائی کے درمیان کیا رشتہ تھا اور نوشابہ کے بھائی عقیل نے ہرنائی کو کیونکر قتل کیا۔ یکے بعد دیگرے اس کیس کی بہت سی کڑیاں آپس میں ملتی چلی گئیں اور ہر مشکل و آسان سوال کا تفصیلی جواب نگاہوں کے سامنے آگیا۔ اب صرف اور صرف ایک سوال کا جواب درکار تھا اور وہ یہ کہ
مقتول ہرنائی اور قاتل عقیل میں اتوار اور سوموار کی درمیانی شب کہاں ملاقات ہوئی ۔ اخباری رپورٹرز کی اطلاع پر میں نے فورا کپور تھلہ کا رُخ کیا اور ایک دور افتادہ الگ تھلگ گاؤں میں مقتول ہرنائی کے وارثوں کا سراغ لگا لیا۔ سعید عرف ہرنائی کے والدین فوت ہو چکے تھے ایک بہن کہیں لاہور کے آس پاس بیا ہی ہوئی تھی ۔ دوشادی شدہ بھائی تھے اور اپنی اپنی زمین میں کھیتی باڑی کرتے تھے۔ دونوں بھائیوں کی طرح ہرنائی کے حصے میں بھی دس بارہ ایکڑ زمین آئی تھی۔ وہ چاہتا تو اس گاؤں میں رہ کر روزی پیدا کر سکتا تھا پڑھ لکھ کر وہ خود کو با بو سمجھنے لگا تھا۔ کھیتی باڑی میں اُس کا کبھی بھی دل نہیں لگا اور جب اُس کی والدہ بھی فوت ہو گئی تو وہ بالکل دلبر داشتہ ہو گیا اور زمین فروخت
کر کے گاؤں سے چلا گیا۔ اُس وقت سے اُس کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ کہاں ہے؟ کس حال میں ہے؟ اور ہے بھی یا نہیں ۔ بھائی اپنی اپنی دُنیا میں مگن تھے۔ کبھی کبھار بہن گاؤں آتی تھی تو بھائی کی یاد میں چار آنسو بہا لیتی تھی۔ میں نے گاؤں میں مختلف افراد سے ٹوہ لی تو میرا یہ اندازہ سو فیصد صحیح ثابت ہوا کہ مقتول ہرنائی اور نوشابہ کے عشق کا آغاز کپورتھلہ سے ہی ہو گیا تھا، اور یہ آغاز اُس وقت ہوا تھا جب نوشابہ ابھی نوشابہ شوکت نہیں بنی تھی ۔ ہرنائی اور نوشابہ کے گاؤں ساتھ ساتھ تھے دونوں گاؤں کے لوگ ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے تھے ۔ اس آنے جانے میں کہیں نوشابہ اور ہرنائی کی آنکھ لڑ گئی تھی۔ نوشابہ گھر یلو لڑ کی تھی اور سعید عرف ہرنائی بھی ایسا تیز طرار نہیں تھا لہذا سال دو سال اس عشق کی آگ اتنی دھیمی رہی کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی ۔ جو نہی یہ آگ ذرا سا بھڑ کی اور گاؤں کے باخبر لوگوں نے کان کھڑے کیے نوشابہ کے والدین نے ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لڑکی کو آنا فانا ڈولی میں بٹھا دیا۔ اس کے بعد کیا ہوا کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ گاؤں کے جن لوگوں کو اس معاملے کی خبر تھی اُن کا یہی خیال تھا کہ لڑکی کی شادی کے ایک دو ماہ بعد ہی ہرنائی اُسے بھول گیا تھا اور روزمرہ کے کاموں میں لگ گیا تھا۔ ہرنائی کے بڑے بھائی مختار نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ کہنے لگا ۔ ” تھانیدار جی! ہم تو نہیں سمجھتے کہ یہ کوئی ایسی خاص بات ہے جس کی ٹوہ لگائی جائے ۔ گستاخی معاف، یہ تو باسی کڑی کو اُبالا دینے والی بات ہے ۔ میں مانتا ہوں کہ سعید ایک موقع پر لڑکی کے چکر میں پڑا تھا لیکن بات بڑھنے سے پہلے ہی لڑکی کی شادی ہو گئی ۔ جوانی کا اُبال تھا ، جتنی جلدی آیا تھا اتنی ہی جلدی بیٹھ گیا۔ دو تین ہفتے گم صم رہنے کے بعد
سعید ٹھیک ہو گیا تھا۔“ میں نے ہرنائی کے بڑے بھائی مختار سے پوچھا۔ “کبھی تم نے یہ نہیں سوچا کہ سعید
کہاں گیا ہے اور یہ کہ کہیں اُس کی گمشدگی کی وجہ یہی لڑکی تو نہیں ۔ مختار نے نفی میں سر ہلایا۔ ”نہیں جی! میرے دماغ میں تو کبھی یہ بات نہیں آئی ۔ نہ ہی ہماری آپا نے بھی اس طرح سوچا حالانکہ حالانکہ وہ تو سعید کے بارے میں بہت فکر مند رہتی ہیں ۔“ میں نے کہا ۔ ” مجھے تمہاری لا پرواہی اور بے حسی پر افسوس ہو رہا ہے۔“
وہ دیہاتی لہجے میں بولا ۔ بات تو افسوس کی ہے جی لیکن سعید اب کہاں ہے؟ ” جہاں جا کر کوئی واپس نہیں آتا ۔ وہ قتل ہو چکا ہے
اور یہ سب اسکی وجہ سے ہوا ہے جس کو تم معمولی سمجھتے رہے ہو اور بھول چکے ہو۔ میں اسی لڑکی نوشابہ کی بات کر رہا ہوں ۔ مختار کا منہ شدید حیرت سے کھلا رہ گیا۔
اب بات بے حد واضح ہو چکی تھی۔ سعید عرف ہرنائی اور نوشابہ آپس میں محبت کرتے تھے ۔ یہ محبت خاموش ہونے کے باوجود بے حد شدید اور گہری تھی ۔ نوشابہ کی شادی ہو گئی تو ہرنائی کے دل پر ایک ایسا تیر لگا جس کے زخم سے ہر وقت خون رستا رہتا تھا۔ وہ مسلسل ایک نیلی آگ میں جل رہا تھا ۔ یہی آگ تھی جو اُس سے شاعری کرواتی اور گیت لکھواتی تھی۔ وہ نوشابہ کے گاؤں کی گلیوں میں آوارہ پھرتا۔ کھیتوں میں گھومتا اور کنوؤں پر جاتا ، ہر جگہ اُسے نوشابہ کی آواز گونجتی محسوس ہوتی اور اُس کی بے کلی عروج پر پہنچ جاتی۔ آخر ایک دن سب کچھ اس کی برداشت سے باہر ہو گیا۔ اُس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ تقدیر کو ” تدبیر سے بدلنے کی کوشش کرے گا۔ اُس نے گاؤں میں اپنے حصے کی زمین اونے پونے بیچی اور نقد رقم کے ساتھ خاموشی سے امرتسر کا رخ کیا۔
نوشابہ کے سسرال کا اتہ پتہ معلوم کرنے میں اُسے زیادہ دشواری نہیں ہوئی ۔ وہ جان گیا کہ اُس کے دل کو عمروں کا روگ لگانے والی، اپنے شوہر اور بچے کے ساتھ اندرونِ شہر کے ایک مکان میں رہتی ہے۔ اُسے نوشابہ کے شوہر کا کاروبار بھی معلوم ہو گیا۔ اُس نے نوشابہ تک پہنچنے کے لیے اُس کے شوہر شوکت سے تعلقات استوار کیے۔ نقد رقم اس کے پاس تھی۔ اُس نے شوکت کلاتھ مرچنٹ کے عین سامنے ایک دکان پگڑی پر حاصل کی اور وہاں جنرل سٹور کھول لیا ۔ یہی جنرل سٹور اُس کا کاروبار اور گھر ٹھہرا۔ اُس نے اپنے ماضی اور گھر والوں سے رشتہ بالکل تو ڑلیا اور نئے ماحول میں ایک نئی زندگی شروع کر دی ۔ جلد ہی شوکت علی کے ساتھ اُس کا دوستانہ ہو گیا اور شوکت بھی کبھار اسے اپنے گھر بھی لے جانے لگا۔ ہرنائی کو اپنے شوہر کے ساتھ دیکھ کر نوشابہ کے طوطے اُڑ گئے ۔ ماضی میں اُس نے یقیناً ہرنائی سے محبت کی تھی اور اس کی دُلہن بننے کے خواب دیکھے تھے لیکن اب وہ شوکت کی بیوی اور اس کے بچے کی ماں تھی۔ اپنے گھر میں وہ خوش تھی اور خوش رہنا چاہتی تھی ۔ اُسے ہرنائی کی یہ خطر ناک مداخلت بالکل پسند نہیں آئی۔ اُس نے ڈھکے چھپکے لفظوں میں اپنے شوہر سے

کہنا شروع کیا کہ اُسے ہرنائی (یعنی سعید ) کا اپنے گھر میں آنا جانا پسند نہیں ۔ شوکت نے ان باتوں کا کوئی اثر نہیں لیا اور ہرنائی سے دوستانہ برقرار رکھا۔
ایک روز موقعہ دیکھ کر نوشابہ نے ہرنائی سے بھی بات کی اور اُسے پرانی محبت کا واسطہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کی زندگی سے نکل جائے اور جو کچھ ہوا اسے ایک کہانی سمجھ کر بھول جائے ۔ ہرنائی نے جواب میں کہا کہ یہ اُس کے بس میں نہیں ہے۔ ہاں وہ یہ وعدہ اُس سے کرتا ہے کہ کبھی اس سے پرانے تعلق کی بات نہیں کر گا، اور نہ ہی بھی پرانے تعلق کا واسطہ دے کر اُس سے کوئی مطالبہ کرے گا۔
وقت اپنی مخصوص رفتار سے چلتا رہا۔ رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے رینگتے رہے۔ دن، ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں بدلتے رہے اور اس کے ساتھ ساتھ شوکت اور ہرنائی کی دوستی بھی پروان چڑھتی رہی۔ شوکت کا بیٹا ہرنائی کو چاچا کہتا تھا۔ ہرنائی بھی اس سے بہت پیار کرتا تھا۔ کھلونے، مٹھائیاں ، کپڑے وہ جب بھی شوکت کے گھر آتا اس کے پاس بچے کے لیے تحائف ہوتے۔ وہ نوشابہ کے لیے بھی بھی بھی کوئی چیز لے آتا جسے نوشابہ شوہر کی خوشی کے لیے نیم رضامندی سے رکھ لیتی۔ شوکت کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ اس دوستانے کے پیچھے کون سا جذبہ ہے۔ شاید ہرنائی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ اُس کے دل کی گہرائیوں میں کیا چھپا ہوا ہے۔ بظاہر وہ صرف اتنا چاہتا تھا کہ اپنی محبوبہ کے قریب رہے اور وقتاً فوقتاً اس کا دیدار کرتا رہے، لیکن خیالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے ۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنی پسندیدہ چیز کی طرف بڑھنا چاہتا ہے۔ قریب سے قریب تر ہونا چاہتا ہے۔ جس محبت کو نوجوان ” پاک محبت کہتے ہیں وہ دھیرے دھیرے جسمانی محبت میں بدل جاتی ہے۔ ہرنائی اور نوشابہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اُن دونوں کا خیال تھا کہ وہ اپنا درمیانی فاصلہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں گے اور یونہی ایک دوسرے کو ڈور ڈور سے دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کرتے رہیں گے لیکن پھر دھیرے دھیرے اُن کے اندر پرانی محبت کی چنگاریاں سلگنے لگیں ۔ روز کے میل ملاقات نے جذبات کا بہاؤ اتنا تیز کر دیا کہ نوشابہ جیسی شریف اور عاقل و بالغ لڑکی کے پاؤں بھی اکھڑنے لگے۔ شاید وہ جذبات کے اس تند و تیز ریلے میں بھی سنبھل جاتی لیکن انہی دنوں کچھ ایسے حالات پیش آئے کہ نوشابہ کی مزاحمت یکسر دم توڑ گئی۔ شوکت نے ڈلہوزی کی سیر کا پروگرام بنایا اور ہرنائی کو بھی اپنے ساتھ لے لیا۔ ڈلہوزی کی رومان پرور فضاؤں میں وہ آزادانہ گھومتے پھرتے رہے۔ وہ تینوں آپس میں تکلف ہو چکے تھے ۔ شعر و شاعری، فلموں اور عشق و محبت کے بارے میں بے جھجک باتیں کرتے تھے۔ ایک موقعے پر شوکت نے نوشابہ سے کہا کہ وہ ہرنائی کے لیے کوئی اچھی سی دلہن تلاش کرے۔ نوشابہ نے ہرنائی سے پوچھا۔ فرمایے جناب! کس طرح کی دلہن
چاہیے آپ کو ؟ ہرنائی کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ بالکل تمہارے جیسی ۔“ نوشابہ کے چہرے پر سرخی لہرا گئی اور شوکت قہقہہ لگا کر بولا ۔ ” اس جیسی تو کمپنی نے ایک ہی بنائی ہے ۔ ہاں اس سے ملتی جلتی کے لیے کوشش کر سکتے ہیں ۔“ ڈلہوزی میں قیام کے دوران ہی شوکت کو ایک نہایت ضروری کام پڑ گیا اور اُسے ایک روز کے لیے امرتسر آنا پڑ گیا۔ قریبا گھنٹے تک نوشابہ اور ہرنائی ڈلہوزی میں تنہا رہے۔ یہ تنہائی رنگ لائی۔ برسوں سے دل میں دبی ہوئی خواہشات اچانک اُبھر کر سامنے آ گئیں اور اس طرح سامنے آئیں کہ ہوش و حواس جواب دے گئے ۔ رات کی سیاہ تاریکی میں ہرنائی اور نوشابہ نے بے اختیار ہو کر ایک ایسے راستے پر قدم رکھ دیا جو سیدھا ذلت و رسوائی کے گڑھے کی طرف جاتا تھا۔
کہتے ہیں کہ پہلا گناہ ہی مشکل ہوتا ہے، اس کے بعد راستے آسان ہو جاتے ہیں۔ ہرنائی اور نوشابہ پر بھی گناہ کے راستے آسان ہو گئے۔ ڈلہوزی میں پیش آنے والے واقعے کے بعد وہ کئی بار اندھے جذبات کی دلدل میں گرے۔ شوکت کا کپڑے کا کاروبار ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔ اُسے کپڑا خریدنے کے لیے اکثر لا ہور اور لائل پور جانا پڑتا تھا۔ ایسے میں وہ ہیجڑے نرگس کو گھر چھوڑ جاتا تھا لیکن گھر والی کو ہیجڑے کی نہیں مرد کی ضرورت تھی۔ اور مرد بھی وہ جو اُس کی پہلی محبت تھا اور جس کے ساتھ وہ گناہ کی خوبصورت دلدل میں گر چکی تھی۔ اُس نے بہانے بہانے ہجرے نرگس سے پیچھا چھڑالیا اور وہ اکثر رات کو اپنے گھر جا کر سونے لگا۔ اب میدان صاف تھا۔ ہرنائی کو شوکت کی مصروفیات کی پوری خبر رہتی تھی ۔ جب مہینے ڈیڑھ مہینے بعد اُسے پتہ چلتا کہ شوکت امرتسر سے باہر جا رہا ہے تو وہ چوکس ہو جاتا۔ شوکت کی غیر موجودگی میں وہ اُس کے گھر پہنچتا اور صبح ہونے سے پہلے پہلے وہاں سے نکل آتا۔
ایسی باتیں وقتی طور پر تو چھپ سکتی ہیں لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں ۔ جیسے پانی اپنا راستہ خود بناتا ہے، بد نامی بھی کسی نہ کسی طور گناہ گار تک جا پہنچتی ہے۔ نوشابہ اور ہرنائی کا معاملہ یوں تو پوشید ہ تھا مگر قریبی لوگوں کو اُس کی بھنک پڑنے لگی تھی۔ ان میں ہیجڑا نرگس اور شوکت دوست بھی شامل تھا۔ آخر یہ بات شوکت کے کانوں تک بھی جا پہنچی۔ اُسے
زبر دست شاک” لگا۔ کئی روز تک وہ یقین نہیں کر سکا کہ اُس کا بھائیوں جیسا دوست ایسی پستی میں گر سکتا ہے۔ مگر جب اُس نے تحقیق کی تو حقیقت بھیانک صورت میں سامنے آ گیا۔ اُسے معلوم ہو گیا کہ ہرنائی اُس کی غیر موجودگی میں اُس کے گھر آتا ہے اور دیر تک ہاں رہتا ہے لیکن حیرانی کی بات ہے کہ اُسے اس بات پر پھر بھی یقین نہیں آیا کہ وہ اور اُس کی بیوی تمام حدیں پار کر چکے ہیں اور اب اُن میں کوئی فاصلہ باقی نہیں رہ گیا۔ وہ یہی سمجھتا رہا کہ نوشابہ کی ہنسی مذاق کی عادت نے ہرنائی کو غلط فہمی میں ڈالا ہے اور اُس کے سر پر نوشابہ کے عشق کا بھوت سوار ہو گیا ہے (اُس کا خیال تھا کہ نوشابہ اور ہرنائی میں کسی قسم کا جسمانی تعلق قائم نہیں ہوا اور نوشابہ اس قابل ہے کہ اُسے معاف کیا جاسکے اور اُسے ازدواجی زندگی بچانے کا ایک اور موقعہ دیا جائے ) اُس نے سوچا کہ بات کو جتنا اچھالا جائے گا اپنی ہی بدنامی ہو گی۔ دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُس نے بڑے حوصلے اور تحمل کے ساتھ ہرنائی سے بات کی اور لعنت ملامت کرنے کے بعد اُسے کہا کہ اب اُس کے لیے بہتر یہی ہے کہ یہ شہر چھوڑ کر چلا جائے اور آئندہ کبھی انہیں اپنی صورت نہ دکھائے ۔ اس سلسلے میں محمد صدیق کے ہوٹل میں بھی اُن کے درمیان گفتگو ہوئی تھی جس کا کچھ حصہ محمد صدیق نے سنا تھا۔
یہاں تک تو حالات معلوم ہو گئے تھے ۔ اس کے بعد کیا ہوا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ سب سے اہم سوال یہ تھا کہ اگر ہرنائی کو نوشابہ کے بھائی عقیل نے قتل کیا ہے تو اُن دونوں کی ملاقات کہاں ہوئی اور قتل کے بعد ہرنائی کی لاش بھوانی بلڈنگ کے ملبے میں کیسے پہنچی ؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شہادتوں سے یہ بات واضح ہوتی تھی کہ لاش قریبی مکان کی چھت سے بلڈنگ کے ملبے پر گرائی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ قتل شوکت کے گھر ہی میں ہوا ہے۔ شوکت اُس رات اپنے گھر میں نہیں تھا۔ وہ بیوی بچے کے ساتھ سرال گیا ہوا تھا اور گھر میں تالا لگا تھا۔ ہیجڑہ نرگس بھی اپنے گھر جا کر سو گیا تھا۔ پھر گھر کا تالا کس نے کھولا اور کیوں کھولا ۔ تالا کھلنے کے بعد مکان میں کیا واقعہ پیش آیا ہے۔ میرے تجزیے کے مطابق اس راز سے صرف دو افراد پردہ اٹھا سکتے تھے۔ ایک ہرنائی اور دوسرا عقیل ۔ ہرنائی قتل ہو چکا تھا اور عقیل اپنی زبان کھولنے پر تیار نہیں تھا۔ بہت سخت جان اور ارادے کا پکا شخص تھا وہ۔ ابھی تک اس نے اپنا جرم ہی قبول نہیں کیا تھا، طریقہ جرم وہ کیسے بتاتا ۔
نوشابہ اب ہوش میں آچکی تھی تاہم ابھی تک ہسپتال میں تھی۔ نوشابہ کے بارے میں شوکت کی تمام خوش فہمیاں دور ہو چکی تھیں۔ یہ خوش فہمیاں اُس خط کی وجہ سے دور ہوئی تھیں جو نوشابہ نے خواب آور گولیاں کھانے سے قبل شوکت کے نام لکھا تھا۔ اس خط میں اُس نے اپنے کبھی گناہوں کا اعتراف کیا تھا اور اپنے بچے کو بد نصیب ماں کا بد نصیب بچہ قرار دیتے ہوئے شوکت سے درخواست کی تھی کہ وہ اسے اچھی تعلیم و تربیت دے۔ یہ خط ملنے کے بعد شوکت نے نوشابہ سے ہر تعلق تو ڑ لیا تھا اور ایک بار بھی اُسے ہسپتال میں دیکھنے نہیں گیا تھا۔ ایک روز بیٹھے بٹھائے میرا دھیان اُن اشیاء کی طرف چلا گیا جو مقتول ہرنائی کی جیب سے برآمد ہوئی تھیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان اشیاء میں نقدی اور کاغذات کے علاوہ سینما کا وہ ٹکٹ بھی تھا جو اس کیس کے آغاز کا سبب بنا۔ اس کے علاوہ چابیوں کا ایک چھوٹا گچھا بھی تھا۔ ان میں سے ایک چابی دُکان کی تھی ایک کاؤنٹر کے دراز کی ، ایک موٹر سائیکل کی ۔ ایک چابی ایسی بھی تھی جس کا ابھی تک پتہ نہیں چلا تھا۔ میرے ذہن میں آیا، کہیں یہ چابی شوکت کے گھر کی نہ ہو ۔ شوکت کے گھر کا بیرونی دروازہ لو ہے کا تھا اور اُس میں ہاضمی تالا لگا ہوا تھا۔ یہ چابی بھی ہاضمی تالے کی تھی۔ میں نے یہ چابی نکال کر اپنے اے ایس آئی کو دی اور اُسے کہا کہ وہ دیکھ کر آئے ، یہ چابی شوکت کے گھر کی تو نہیں۔
اے ایس آئی کی واپسی آدھ گھنٹے بعد ہوئی۔ اُس نے بتایا کہ یہ چابی شوکت کے مکان کے بیرونی دروازے کو لگتی ہے۔ میرا ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہو گیا تھا۔ میری ہمت افزائی“ ہوئی تو میں نے ملزم عقیل پر مزید دباؤ ڈالا۔ ویسے بھی اُس کا دوسرارما نڈ ختم ہونے میں اب صرف دو دن باقی رہ گئے تھے ۔ ہم اُسے مرغن کھانا کھلا رہے تھے اور تین راتوں سے مسلسل جگا رہے تھے ۔ آخر چوتھی شب اُس کی ہمت جواب دے گئی اور مسلسل پوچھ گچھ سے جان چھڑانے کے لیے اُس نے اپنی زبان کھول دی۔ اُس رات عقیل نے جو کچھ بتایا اُس سے کیس کی آخری گرہ بھی کھل گئی اور سب کچھ واضح ہو گیا۔ معلومات مختصر الفاظ میں کچھ اس طرح ہیں کہ ہرنائی کا قتل عقیل کے ہاتھوں ہی ہوا تھا اور اُسی آہنی پائپ سے ہوا تھا جو مکان کے صحن میں پڑا ملا تھا۔
… در اصل شوکت کے ساتھ ہونے والی تلخ کلامی کے بعد ہرنائی بہت پریشان تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اُس کا پول کھل گیا ہے اور اب اُسے نہ صرف یہ شہر چھوڑنا پڑے گا بلکہ اپنی محبوبہ سے بھی ہمیشہ کے لیے جدا ہونا ہوگا۔ اُس نے امرتسر چھوڑنے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں اور جنرل سٹور کو فروخت کرنے کے لیے اخبار میں اشتہار بھی دے دیا تھا۔ محبوبہ سے جدائی نے اُسے شراب پینے پر مجبور کیا اور ایک رات وہ نشے میں دھت ہو کر محبوبہ اور اس
کے شوہر کو آخری سلام کرنے کے لیے اُن کے گھر جا پہنچا۔ یہ اتوار اور سوموار کی درمیانی را ت کا واقعہ ہے۔ شوکت اور نوشابہ گھر میں نہیں تھے ۔ بیرونی دروازے میں تالا لگا ہوا تھا۔ یہ باضمی تالا تھا ( یعنی دروازے کے اندر تھا) اسے اندر اور باہر دونوں طرف سے کھولا جا سکتا تھا۔ ہرنائی نے وقت بے وقت آنے کے لیے اس کی چابی بنوارکھی تھی۔ جب شوکت شہر سے باہر ہوتا تھا، ہرنائی ہیں چابی لگا کر دروازہ کھولتا تھا اور اپنی محبوبہ کے بستر کو آباد کرتا تھا۔ اُس رات بھی اس نے چابی لگائی اور مکان میں چلا گیا ۔ مکان خالی تھا۔ وہ نشے میں دھت خوابگاہ میں پہنچا اور نوشابہ کی ایک فریم شدہ تصویر سینے پر رکھ کر لیٹ گیا۔
دوسری طرف اُس کی موت بھی عقیل کے رُوپ میں وہاں آپہنچی ۔ عقیل نے اتوار کا سارا دن بھوانی بلڈنگ کا ملبہ صاف کرتے اور زخمیوں کو نکالتے گزارا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اُس کی بہن کا گھر قریب ہی ہے۔ کام سے فارغ ہونے کے بعد اُس نے سوچا کہ بہن بہنوئی سے مل لے۔ جس وقت وہ بہن کے گھر پہنچا اُس نے فائر بریگیڈ کی وردی ہی پہن رکھی تھی ۔ بہن و بہنوئی تو اُسے گھر میں نہیں ملے لیکن بہن کا چاہنے والا ضرور مل گیا۔ سعید کو دیکھ کر اور پہچان کر عقیل ششدر رہ گیا۔ اُس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ دو برس پہلے گاؤں سے غائب ہو جانے والا سعید اُسے اس حال میں ملے گا۔ وہ اُس کی بہن کے گھر میں اُس کی تصویر سینے پر رکھے لیٹا تھا اور اول فول بک رہا تھا۔ یہی شخص تھا جس کی وجہ سے تین سال پہلے وہ لوگ بدنامی کا شکار ہوئے تھے اور انہیں افراتفری میں نوشابہ کے ہاتھ پیلے کرنے پڑے تھے ۔ سعید عرف ہرنائی کو دیکھ کر عقیل کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ عقیل نے اُسے گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور پوچھا کہ وہ یہاں کیسے پہنچا ہے اور کیا کر رہا ہے۔ جواب میں ہرنائی نے نشے کی حالت میں الٹی سیدھی بکواس کی۔ اپنی بہن کے بارے میں بے ہودہ باتیں سن کر عقیل کا دماغ گھوم گیا۔ وہ وحشیوں کی طرح ہرنائی پر پل پڑا۔ جواب میں اُس نے بھی ہاتھ پاؤں چلائے۔ عقیل نے برآمدے میں پڑا ہوا آہنی پائپ کا وہ وزنی ٹکڑا اٹھایا اور اُس سے چند شدید ضر میں ہرنائی کے سر پر لگائیں۔ ان میں سے دوضر ہیں جان لیوا ثابت ہوئیں اور ہرنائی چکرا کر کمرے کے وسط میں گر گیا۔
بظاہر لگا بے ہوش ہوا تھا لیکن تھوڑی دیر بعد جب عقیل کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور اُس نے ہرنائی کی نبض ٹولی تو یہ جان کر اُسے شدید دھچکا لگا کہ وہ دم تو ڑ چکا ہے۔ عقیل نے فورا مکان دروازے کو اندر سے کنڈی چڑھائی اور سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ ۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس صورت حال سے کیسے نمٹے ۔
اُسے خیال آیا کہ بھوانی بلڈنگ یہاں سے زیادہ دور نہیں ۔ وہ مکان کی چھت پر چلا گیا۔ چھت سے اُسے بھوانی بلڈنگ کا ملبہ بالکل سامنے نظر آیا۔ اُس کے ذہن میں ایک انوکھی بات آئی اور وہ فوراً چھت سے اُتر آیا پندرہ بیس منٹ بعد وہ سعید عرف ہرنائی کی لاش کندھے پر اٹھائے ایک چھت سے دوسری چھت پر جا رہا تھا۔ گہری تاریکی اور بارش کا
فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے ہرنائی کی لاش چھت سے ملبے پر گرائی اور واپس آگیا۔ گھر میں آکر اُس نے دو گھنٹے تک سخت محنت کی اور واردات کا ہر ثبوت مٹا ڈالا ۔ تاہم دو ثبوت کسی نہ کسی صورت میں برقرار ر ہے۔ ایک تو فرش پر خون کے مدھم دھبے اور دوسرے لکڑی کی چوکھٹ پر آہنی پائپ کی ضرب ۔ رات قریبا بارہ بجے عقیل واپس اپنے دفتر جا پہنچا اور آرام کے کمرے میں سو گیا ۔ صبح منہ اندھیرے وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دوبارہ بھوائی بلڈ نگ پہنچ گیا۔ ملبے میں پہنچتے ہی اُس نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ہرنائی کی لاش کو مناسب طریقے سے چھپایا۔ اس کام سے فارغ ہو کر وہ امدادی کا رروائیوں میں لگ گیا۔ اُس نے ایک زبر دست چال چلی تھی ۔ شاید اُس کا جرم کبھی ظاہر نہ ہوتا۔ اگر سینما کا ٹکٹ مقتول کی جیب میں نہ رہ جاتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شوکت علی کی طرح عقیل نے بھی شروع میں نوشابہ کو بے قصور جانا۔ ہرنائی کو قتل کرنے کے بعد اُس نے یہی سمجھا کہ وہ اپنی نیک اور پاک دامن بہن کو ایک شیطان کے چنگل سے چھڑانے میں کامیاب رہا ہے۔ اُس کے ذہن میں نہیں آیا کہ بہن بھی اس گناہ میں برابر کی شریک ہے۔ قتل کے آٹھ دس روز بعد تک تو اُس نے قتل کا راز سینے میں دبائے رکھا لیکن پھر بہن کو بتادیا کہ اُس نے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ بعد میں جب نوشابہ کا شوہر قتل کیس میں بری طرح پھنس گیا تو نوشابہ کے ذہن میں زبر دست کش مکش شروع ہو گئی ۔ وہ جیسی بھی تھی لیکن اپنے بچے اور شوہر سے بہت پیار کرتی تھی۔ اُس کا عاشق تو راہی عدم ہو ہی چکا تھا۔ اب شوہر اور بھائی بھی موت کے دہانے پر تھے ۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ خاموش رہ کر بھائی کو بچائے یا سچ بول کر شوہر کو ۔ وہ کئی روز اسی عذاب میں مبتلا رہی۔ آخر اپنی زندگی ختم کرنے کے لیے اُس نے بھاری مقدار میں خواب آور گولیاں کھائیں۔میں نے اس کیس پر شروع سے آخر تک بے حد غور کیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ اس واقعے میں گناہ گار کوئی بھی نہیں۔ تمام کردار اپنے اپنے حالات سے مجبور تھے اور تقدیر کے فیصلے پر ناچ رہے تھے۔ سعید عرف ہرنائی نے نوشابہ سے پیار کیا تھا۔ وہ اُس کی پہلی
محبت تھی اور شاید آخری بھی۔ وقت نے نوشابہ کو اُس سے چھین لیا۔ اُس نے خود پر بہت ضبط کیا لیکن پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر نوشابہ کے پیچھے امرتسر جا پہنچا۔ نوشابہ کے ساتھ بھی اسی طرح کے حالات پیش آئے ۔ پھر جب اُس نے دیکھا کہ اُس کا عاشق اُس کے پیچھے پیچھے امرتسر آدھمکا ہے تو اُس نے خود کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن پھر عاشق اُس کے خاوند کا دوست بن گیا اور حالات ایسے ہوئے کہ وہ بھی اندھے جذبات کے دھارے میں بہہ گئی۔ جس جسم پر صرف اُس کے شوہر کا حق تھا وہ ہرنائی کی بے قراریوں کے حوالے ہو گیا۔ عقیل بھی حالات اور واقعات کا شکار تھا۔ وہ ایک جوشیلا نو جوان اور غیرت مند بھائی تھا۔ بہن کے پرانے عاشق کو بہن کی خواب گاہ میں دیکھ کر وہ حواس کھو بیٹھا اور اُس کے ہاتھوں ایک قتل ہو گیا۔ اور شوکت علی ، وہ تو ویسے ہی شروع سے آخر تک مظلوم نظر آتا ہے۔ اُس نے ایک شخص کو دوست بنایا اور اُس پر اندھا اعتماد کیا۔ وہ اُسے بھائیوں کا درجہ دیتا تھا اور گھر کا فرد سمجھتا تھا، لیکن وہ دوست، نہ چاہتے ہوئے بھی اُسے دغا دینے پر مجبور ہو گیا۔ نوشابہ دو تین ہفتے بعد ہسپتال سے فارغ ہو گئی لیکن وہ پوری طرح صحت یاب نہیں ہوئی تھی۔ اُس کے دماغ پر اثر ہوا تھا اور بینائی بھی آدھی رہ گئی تھی۔ ہسپتال سے فارغ ہو کر وہ سیدھی کپورتھلہ اپنے باپ کے گھر پہنچی۔ اس کے علاوہ اور کون سا ٹھکانہ تھا اُس کے پاس؟ تین روز پہلے اُسے شوکت کی طرف سے طلاق نامہ مل چکا تھا۔ بچہ بھی شوکت نے اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ عقیل کے ہاتھوں ہرنائی کا قتل دفعہ 302 کے زمرے میں نہیں آتا تھا۔ یہ قتل عمد نہیں تھا کیونکہ اس میں فوری غصے کا عمل دخل تھا۔ میں نے عقیل کے خلاف بلا ارادہ قتل کی دفعات کے تحت چالان مکمل کیا اور کوشش کی کہ وہ سخت سزا سے بچ جائے۔ طویل عدالتی کارروائی کے بعد عقیل کو دس برس قید کی سزا سنائی گئی اور یوں وہ کہانی انجام کو پہنچی جس میں میرے خیال کے مطابق کوئی ولن نہیں تھا۔ جتنے کردار تھے مجبور تھے یا مظلوم ۔