میں ہمیشہ سے خوبصورت مانی جاتی تھی۔ میرے چہرے کی معصومیت اور آنکھوں کی گہرائی لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ میرے لیے اچھے اچھے رشتے آتے رہے، مگر میں ہر بار خاموشی سے انکار کر دیتی۔ میری زندگی میں ایک ایسی ذمہ داری تھی جس نے میرے ہر خواب کو روک رکھا تھا.میری بیوہ ماں اور میری چھوٹی بہن۔ بہن ابھی زیرِ تعلیم تھی، اور ماں کی کمزور صحت مجھے ہر وقت فکر میں مبتلا رکھتی تھی۔ میں جانتی تھی کہ اگر میں بھی اپنی زندگی کی راہ الگ کر لوں، تو ان دونوں کا سہارا ٹوٹ جائے گا۔ اسی احساس نے مجھے اپنے دل کے تمام خواب قربان کرنے پر مجبور کر دیا، اور میں نے شادی کے بجائے ملازمت کو اپنی منزل بنا لیا۔
میں نے کئی جگہوں پر درخواستیں دیں، انٹرویو پر انٹرویو دیے، ہر بار امید لے کر گئی اور مایوسی لے کر لوٹی۔ ہر دروازہ سفارش کے بغیر بند نظر آتا تھا۔ انہی دنوں میری قریبی سہیلی حنا نے مجھے ایک نیا راستہ دکھایا۔ اس کی بڑی بہن ایئرلائن میں کام کرتی تھی۔ ایک دن اس نے مجھے غور سے دیکھا اور مسکرا کر بولی، “تمہاری شخصیت میں ایک خاص کشش ہے، تم کیوں نہ فضائی میزبان بننے کی کوشش کرو؟”
یہ خیال میرے لیے نیا ضرور تھا، مگر ناممکن نہیں۔ میں نے گریجویشن اچھے نمبروں سے مکمل کی تھی، حالانکہ یہ سفر بھی آسان نہ تھا۔ جب میں کالج میں تھی، تب ایک حادثے میں میرے والد کا انتقال ہو گیا تھا، اور اس کے بعد زندگی کا ہر دن ایک جنگ بن گیا تھا۔ مگر میں نے ہمت نہ ہاری۔ حنا کے مشورے پر میں نے درخواست دے دی، اور شاید قسمت کو یہی منظور تھا کہ مجھے پہلی بار کامیابی ملی۔ مجھے ایئر ہوسٹس کی ملازمت مل گئی، اور یوں لگا جیسے زندگی نے پہلی بار مسکرا کر میرا استقبال کیا ہو۔
میری زندگی کا انداز باقی لڑکیوں سے مختلف تھا۔ میں نہ زیادہ گھلتی ملتی تھی، نہ فضول مصروفیات میں وقت ضائع کرتی۔ میری دنیا صرف دو جگہوں تک محدود تھی—گھر اور ڈیوٹی۔ فلائٹ سے واپسی پر میں سیدھی گھر آتی، ماں کے ساتھ بیٹھتی، بہن کی پڑھائی کا خیال رکھتی اور پھر اگلی ڈیوٹی کے لیے تیار ہو جاتی۔ زندگی میں کوئی رنگینی، کوئی تفریح شامل نہ تھی، مگر دل کو سکون تھا کہ میں اپنے فرض نبھا رہی ہوں۔
تین سال اسی طرح گزر گئے۔ حالات بہتر ہونے لگے۔ بہن نے میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کیا اور ایک اچھے کالج میں داخلہ لے لیا۔ ماں کا علاج بھی باقاعدگی سے ہونے لگا۔ مجھے لگنے لگا کہ شاید میری قربانیاں رنگ لا رہی ہیں۔
ایک دن، حسبِ معمول، میں اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے ایئرپورٹ کے گیٹ سے باہر نکل رہی تھی کہ اچانک ایک تیز قدموں سے آتا ہوا شخص مجھ سے ٹکرا گیا۔ میں سنبھل نہ سکی اور ایک لمحے کو لڑکھڑا گئی۔ وہ نوجوان فوراً رکا، اس کے چہرے پر شرمندگی صاف جھلک رہی تھی۔
“مجھے معاف کیجیے، میں نے آپ کو دیکھا نہیں،” اس کی آواز میں خلوص تھا۔
میں نے سر اٹھا کر اسے دیکھا، اور جیسے وقت ایک لمحے کے لیے تھم گیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی کشش تھی، گہری اور پراثر۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سے خوبصورت چہرے دیکھے تھے، مگر اس جیسا کوئی نہیں۔ میرے لبوں سے بمشکل نکلا، “کوئی بات نہیں”، اور میں تیزی سے وہاں سے آگے بڑھ گئی، جیسے اپنے ہی جذبات سے بھاگ رہی ہوں۔
اس واقعے کے بعد کئی دن تک میں خود کو بدلا بدلا محسوس کرتی رہی۔ کام کے دوران بھی اس کا چہرہ بار بار ذہن میں آ جاتا۔ میں حیران تھی کہ ایک اجنبی کی ایک جھلک میرے دل میں اتنی جگہ کیسے بنا گئی۔ شاید میرے اندر کہیں کوئی خاموش خواہش جاگ اٹھی تھی—اسے دوبارہ دیکھنے کی خواہش۔
چند دن بعد میری چھٹی تھی۔ ایک طویل فلائٹ کے بعد مجھے دو دن آرام کا موقع ملا۔ پہلے دن میں نے خوب نیند پوری کی، اور دوسرے دن بازار کا رخ کیا۔ کچھ کپڑے سلوانے تھے۔ جب میں واپسی پر سڑک کے کنارے کھڑی ٹیکسی کا انتظار کر رہی تھی، تیز دھوپ اور گرمی نے مجھے بے حال کر دیا تھا۔ پسینہ میرے چہرے سے بہہ رہا تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ کب تک یوں ہی سفر کرتی رہوں گی، کاش میرے پاس اپنی گاڑی ہوتی۔
اسی سوچ میں گم تھی کہ اچانک ایک کار میرے سامنے آ کر رکی۔ میں نے چونک کر دیکھا—وہی نوجوان، وہی پرکشش آنکھیں۔ اس نے شیشے سے جھانک کر مسکراتے ہوئے کہا، “اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں۔” ایک لمحے کو میں ہچکچائی۔ یہ میرے لیے بالکل نیا تجربہ تھا۔ میں نے کبھی کسی غیر مرد کے ساتھ اس طرح سفر نہیں کیا تھا۔ مگر نہ جانے کیوں، اس لمحے میں نے خود کو روک نہ سکی۔ شاید تقدیر نے میرے لیے کوئی نیا راستہ چن لیا تھا۔
میں آہستہ سے کار میں بیٹھ گئی… اور یوں میری زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا، جس میں جذبات بھی تھے، آزمائش بھی، اور شاید محبت کی وہ داستان بھی، جس کا میں نے کبھی تصور تک نہ کیا تھا۔
“آپ نے کہاں جانا ہے؟” اس نے دھیمی آواز میں پوچھا تو میں اپنے خیالوں سے چونک کر باہر آئی اور مختصر سا راستہ بتا کر خاموش ہو گئی۔ گاڑی میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی تھی، جیسے دونوں کچھ کہنا چاہتے ہوں مگر الفاظ ساتھ نہ دے رہے ہوں۔ کچھ دیر بعد اس نے خود ہی بات کا آغاز کیا اور معذرت کرتے ہوئے بولا کہ اُس دن وہ بہت جلدی میں تھا، فلائٹ کا وقت قریب تھا، اسی لیے ٹھیک سے بات نہ کر سکا۔ میں نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ اس بات کو بھول جائیں، وہ سب اچانک ہوا تھا۔ مگر جیسے ہی میری نظر سامنے لگے آئینے پر پڑی، میں نے دیکھا کہ اس کی نگاہیں مجھے دیکھ رہی تھیں۔ ان نظروں میں ایک عجیب سی کشش تھی جس سے گھبرا کر میں نے فوراً نظریں چرا لیں اور باہر دیکھنے لگی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی اور ماحول میں ایک انجانی بے چینی پھیل گئی تھی۔ جلد ہی میری منزل آ گئی، میں جلدی سے اترنے لگی تو اس نے میرا نام پوچھ لیا۔
نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے ہچکچاتے ہوئے اپنا نام “شبانہ” بتایا اور تیزی سے آگے بڑھ گئی، مگر اس کے بعد کئی دن تک اس کی وہ نشیلی آنکھیں میرا پیچھا کرتی رہیں۔ راتوں کو نیند آنکھوں سے روٹھ گئی، اور میں خود سے سوال کرتی رہتی کہ آخر مجھے کیا ہو گیا ہے، میں جو ہمیشہ مضبوط اور خود پر قابو رکھنے والی تھی، آج کیوں بے چین رہنے لگی ہوں۔ اب جب بھی آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی تو لگتا جیسے خود کو نہیں بلکہ کسی اور کی نظر سے دیکھ رہی ہوں۔ اسی کیفیت میں ایک دن میں ٹیلر سے کپڑے لینے گئی اور واپسی پر اسی جگہ رک گئی جہاں پہلی بار اس سے ملاقات ہوئی تھی۔ دل میں ایک انجانی سی خواہش جاگی کہ شاید وہ پھر آ جائے، اور جیسے ہی میں انہی خیالوں میں گم تھی، اچانک وہی مانوس آواز سنائی دی، “آئیے، آپ کو ڈراپ کر دوں…” میں نے سر اٹھایا تو وہ سامنے کھڑا تھا۔ اس لمحے مجھے یوں لگا جیسے وقت رک گیا ہو، اور میں بغیر کچھ سوچے سمجھے اس کی گاڑی میں جا بیٹھی، جیسے کوئی ان دیکھی طاقت مجھے اس کی طرف کھینچ رہی ہو، اور یوں ہماری کہانی نے ایک نیا موڑ لے لیا۔
وہ دن بھی عجیب تھا جب میں نے خود کو ایک ایسے راستے پر چلتے پایا جس کی نہ ابتدا کا ہوش تھا اور نہ انجام کا اندازہ۔ شہزادہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، “آج نہیں پوچھوں گا کہ آپ کہاں جانا چاہتی ہیں،” اور میں اس کی بات سن کر اندر ہی اندر لرز سی گئی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں اپنی زندگی کی باگیں کسی اور کے ہاتھ میں دے چکی ہوں۔ دل اور عقل کے درمیان ایک خاموش جنگ جاری تھی، مگر دل اپنی ضد پر قائم تھا۔ میں خود سے سوال کرتی کہ آخر میں کس منزل کی طرف بڑھ رہی ہوں، مگر جواب کہیں گم ہو چکا تھا۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس شخص کی حقیقت کیا ہے، اس کی دنیا کیسی ہے، مگر پھر بھی اس کے ساتھ ہونے میں ایک عجیب سا سکون تھا۔
جیسے ہی میں نے دل ہی دل میں اس کا نام جاننے کی خواہش کی، وہ گویا میرے خیالوں کو پڑھ کر بولا، “میرا نام شہزادہ ہے۔” اس کا نام سن کر بے اختیار میرے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ واقعی وہ کسی کہانی کے شہزادے جیسا ہی تو تھا—پرکشش، باوقار اور پراسرار۔ وہ مسلسل کچھ کہہ رہا تھا، مگر میری سماعت جیسے مفلوج ہو چکی تھی۔ میں اپنی ہی سوچوں کے جال میں الجھی ہوئی تھی، جہاں صرف اس کا عکس تھا اور کچھ بھی نہیں۔
چند ہی لمحوں بعد گاڑی ایک خوبصورت اور پرشکوہ ہوٹل کے سامنے جا رکی۔ اس نے نرمی سے کہا، “اگر آپ کو برا نہ لگے تو ایک کپ چائے ہو جائے؟” میں چاہ کر بھی انکار نہ کر سکی۔ اس کی قربت نے جیسے میری ہمت چھین لی تھی۔ میں اس کے ساتھ ہوٹل کے اندر داخل ہوئی تو دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ زندگی میں پہلی بار کسی اجنبی مرد کے ساتھ یوں بیٹھنا میرے لیے ایک نیا اور انوکھا تجربہ تھا۔ وہ میری کیفیت بھانپ کر بولا، “گھبرائیے نہیں، زیادہ دیر نہیں رکیں گے۔” اس کی آواز میں ایسی نرمی تھی کہ میرے دل کو کچھ تسلی سی ہوئی۔
چائے کا دورانیہ مختصر تھا، مگر اس کے اثرات بہت گہرے تھے۔ میں خاموشی سے بیٹھی رہی اور وہ ہلکی پھلکی باتیں کرتا رہا۔ جب اس نے بل ادا کیا تو میں نے بمشکل “شکریہ” کہا، جس پر وہ مسکرا کر بولا، “آخرکار آپ کی زبان نے ایک لفظ تو ادا کیا۔” اس کی بات پر میرے چہرے پر ہلکی سی شرمندہ مسکراہٹ آ گئی۔ باہر آ کر اس نے مجھے میرے گھر کے قریب اتار دیا، مگر اس ملاقات نے میرے اندر ایک نئی بے چینی کو جنم دے دیا تھا۔
اب میری دنیا بدل چکی تھی۔ دن ہو یا رات، ہر وقت اس کی یاد میرے ساتھ رہتی۔ اس کی باتیں، اس کی مسکراہٹ، اس کی آنکھوں کی کشش—سب کچھ میرے دل و دماغ پر چھا گیا تھا۔ میں خود کو اس کے خیالوں سے آزاد کرنا چاہتی تھی، مگر یہ ممکن نہ تھا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی اہمیت میرے دل میں بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ میری زندگی کا ایک ایسا حصہ بن چکا تھا جسے نظر انداز کرنا میرے بس میں نہیں رہا تھا۔
ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ یونہی چلتا رہا۔ وہ کبھی فون کر کے پوچھتا، “آج آپ فارغ ہیں؟” اور میں بلا جھجھک ہاں کہہ دیتی۔ پھر جہاں وہ بلاتا، میں چلی جاتی۔ یہ سب کچھ میرے لیے نیا تھا، مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس نے کبھی میری حدوں کو پار کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کی موجودگی میں ایک عجیب سی پاکیزگی تھی، جیسے وہ میرے ساتھ صرف وقت گزارنا چاہتا ہو، بغیر کسی لالچ یا خواہش کے۔
وقت گزرتا گیا اور میری خواہش بڑھتی گئی کہ وہ ایک دن اپنی محبت کا اظہار کرے، وہ الفاظ کہے جنہیں سننے کے لیے میرا دل بیتاب تھا۔ میں چاہتی تھی کہ وہ مجھے اپنی زندگی کا حصہ بنائے، مجھے اپنے گھر لے جائے، اور میں فخر سے اپنی ماں کو بتاؤں کہ یہی وہ شخص ہے جس کا میں نے خواب دیکھا تھا۔ مگر وہ خاموش تھا، ہمیشہ کی طرح پراسرار… اور میں اس خاموشی میں بھی اس کی محبت تلاش کرنے کی کوشش کرتی رہی۔
اپنے گھر جانے کا حسین خواب آنکھوں میں سجائے میں مسلسل اس سے ملتی رہی۔ میرے لیے یہ خواب صرف ایک خواہش نہیں بلکہ میری پوری زندگی کا مرکز بن چکا تھا۔ ہر لڑکی کی طرح میں بھی ایک ایسے ہمسفر کا خواب دیکھتی تھی جو مجھے اپنے نام سے پہچان دے، اپنی دنیا میں جگہ دے اور میری تنہائیوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔ جب سے شہزادہ میری زندگی میں آیا تھا، یہ خواب اور بھی روشن ہو گیا تھا۔ میں ڈیوٹی پر جاتی تو بھی اس کی یاد ساتھ ہوتی، اور واپسی پر بھی اسی کے خیالوں میں کھوئی رہتی۔ اکثر دعا کرتی کہ کسی دن وہ اچانک میری فلائٹ پر مسافر بن کر آ جائے، اور میں آسمانوں کی وسعت میں بھی اس کے ساتھ کچھ لمحے گزار سکوں۔
آخرکار ایک دن میری یہ دعا جیسے قبول ہو گئی۔ میں حسبِ معمول فلائٹ میں مسافروں کو خوش آمدید کہہ رہی تھی کہ اچانک میری نظر اس پر پڑی۔ شہزادہ میرے سامنے کھڑا تھا۔ ایک لمحے کے لیے تو میرا دل جیسے رک سا گیا، پھر خوشی کی ایک لہر میرے وجود میں دوڑ گئی۔ میری مسکراہٹ بے اختیار گہری ہو گئی، آنکھوں میں چمک آ گئی، اور دل چاہا کہ وقت یہیں تھم جائے۔ میں اسے خوش آمدید کہنے کے لیے لب کھولنے ہی والی تھی کہ اچانک میری نظر اس کے پیچھے کھڑی ایک عورت پر پڑی۔
وہ عورت نہایت باوقار اور پُرسکون انداز میں کھڑی تھی۔ شہزادہ اس کے ہاتھ سے بیگ لے رہا تھا، جیسے وہ اس کا خاص خیال رکھتا ہو۔ اسی لمحے میں نے دیکھا کہ اس عورت کے ساتھ ایک چھوٹا سا بچہ بھی تھا، شاید دو یا ڈھائی سال کا۔ وہ معصوم سا بچہ اس عورت کی انگلی تھامے کھڑا تھا۔ اگلے ہی لمحے شہزادہ جھکا اور محبت سے اس بچے کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا۔ اس کے چہرے پر ایک اپنائیت بھری مسکراہٹ تھی… وہ مسکراہٹ جو میں نے ہمیشہ اپنے لیے سمجھی تھی۔
میرے قدم جیسے زمین میں جم گئے۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی۔ وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ٹھہر سا گیا—جیسے کسی نے میرے خوابوں کی پوری عمارت ایک ہی لمحے میں گرا دی ہو۔ میری مسکراہٹ لبوں پر ہی منجمد رہ گئی، مگر اب اس میں خوشی نہیں، ایک ٹوٹا ہوا عکس تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے کسی نے میرے اندر سے سانس کھینچ لی ہو۔ میں سمجھ چکی تھی… وہ عورت کوئی اجنبی نہیں تھی… وہ اس کی بیوی تھی، اور وہ بچہ… اس کی زندگی کا حصہ۔ وہ زندگی جس میں میرے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔
اس لمحے مجھے اپنی ساری نادانیوں کا احساس ہو گیا۔ میں جس محبت کو اپنی قسمت سمجھ بیٹھی تھی، وہ دراصل کسی اور کی حقیقت تھی۔ میں خاموشی سے ایک طرف ہٹ گئی، جیسے ایک مسافر دوسرے مسافروں کو راستہ دیتا ہے۔ شہزادہ شاید مجھے دیکھ چکا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں وہ اپنائیت نہ تھی جو کبھی ہوا کرتی تھی… یا شاید میں ہی غلط سمجھتی رہی تھی۔ اس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ کچھ خواب جتنے خوبصورت ہوتے ہیں، ان کا ٹوٹنا اتنا ہی دردناک ہوتا ہے… اور کچھ محبتیں صرف احساس تک محدود رہتی ہیں، حقیقت کبھی نہیں بنتیں۔
“خوش آمدید” کے الفاظ میرے لبوں تک تو آئے، مگر وہیں ٹوٹ کر بکھر گئے۔ مسکراہٹ جو ابھی چند لمحے پہلے سچی خوشی سے لبریز تھی، اچانک مرجھا گئی۔ یوں لگا جیسے دل کے باغ میں کھلے گلاب یکایک جھڑ گئے ہوں اور ان کی پتیاں خاموشی سے زمین پر بکھر گئی ہوں۔ اسی ایک لمحے میں سب کچھ واضح ہو گیا—وہ دو لفظ، “محبت” اور “شادی”، جو میں مدت سے اس کی زبان سے سننے کی منتظر تھی، آخر کیوں کبھی ادا نہ ہو سکے۔ وہ کسی اور کے لیے مخصوص تھے، کسی اور کی زندگی کا حصہ تھے، اور میں… محض ایک خاموش تماشائی تھی۔
اب حقیقت میرے سامنے پوری شدت سے کھڑی تھی۔ وہ شخص، جسے میں اپنے خوابوں کا شہزادہ سمجھ بیٹھی تھی، دراصل کسی اور کی حقیقت تھا۔ وہ ایک مکمل زندگی گزار رہا تھا—اپنی بیوی کے ساتھ، اپنے بچے کے ساتھ—اور میں اپنی تنہائی میں اس کے ساتھ ایک خیالی دنیا بسا رہی تھی۔ مجھے اپنی سادگی پر افسوس ہونے لگا کہ میں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہ کی کہ وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے، اور اس کی زندگی میں پہلے سے کون شامل ہے۔ میں اپنے ہی خوابوں میں اس قدر گم تھی کہ حقیقت کی زمین میرے قدموں تلے سے کب کھسک گئی، مجھے خبر ہی نہ ہوئی۔
میں محبت کی اس راہ پر اتنا آگے نکل چکی تھی کہ واپسی کے سارے راستے بند ہو چکے تھے۔ دل جانتا تھا کہ اب کچھ بھی پہلے جیسا نہیں ہو سکتا، مگر جذبات تھے کہ قابو میں نہیں آتے تھے۔ آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے، مگر میں نے انہیں ضبط سے روکے رکھا۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ آگے بڑھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، اور جا کر اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔ وہ منظر میری نگاہوں کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ میں فضاؤں میں پرواز کر رہی تھی، مگر دل زمین پر بکھر چکا تھا۔ یہ سفر میرے لیے ایک ہولناک پرواز بن چکا تھا، جس میں میرے خواب، میری امیدیں، اور میری دنیا کی ہر خوبصورت شے کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔
گھر پہنچی تو اپنے آپ کو مزید سنبھال نہ سکی۔ آنسو بے اختیار بہنے لگے، جیسے برسوں کا درد ایک ساتھ نکل آیا ہو۔ امی نے میرے چہرے کی ویرانی دیکھ کر پوچھا بھی، مگر میں خاموش رہی۔ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی کوئی دوسرا انہیں سمجھ سکتا ہے۔ یہ دکھ اب میرا مقدر بن چکا تھا، جسے مجھے تنہا ہی جھیلنا تھا۔
چند دن گزرے ہی تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ اسکرین پر اس کا نام جگمگا رہا تھا۔ دل ایک بار پھر بے قابو ہونے لگا، جیسے وہی پرانی دنیا مجھے واپس بلا رہی ہو۔ شاید وہ پھر ملنا چاہتا تھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مگر اس بار میں بدل چکی تھی۔ میں نے فون کی طرف دیکھا، آنکھوں میں نمی تھی، دل میں طوفان… مگر انگلیاں ساکت رہیں۔ گھنٹی بجتی رہی، بجتی رہی، اور آخرکار میں نے فون کا کنکشن ہی نکال دیا۔ یہ میرا پہلا قدم تھا… خود کو اس خواب سے آزاد کرنے کی طرف، جو کبھی حقیقت بن ہی نہیں سکتا تھا۔
میں نے اس تعلق کو اپنی زندگی کی سب سے مضبوط حقیقت سمجھ لیا تھا۔ مجھے یوں لگتا تھا جیسے یہ رشتہ لوہے کی زنجیر کی طرح اٹوٹ ہے، جسے کوئی طاقت توڑ نہیں سکتی۔ مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ وہ زنجیر نہیں، بلکہ کانچ کا ایک نازک گلدان تھا—ایسا گلدان جس میں اس کی چند ملاقاتوں کی خوشبو اور میری خوش فہمیوں نے مل کر محبت کے پھول سجا دیے تھے۔ جب وہ گلدان ٹوٹا تو صرف آواز ہی نہیں آئی، میرے دل کے اندر بھی ایک قیامت برپا ہو گئی۔ اب میرا دل چور چور ہو چکا تھا، اور ان بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹ کر دوبارہ جوڑنا میرے بس میں نہ رہا تھا۔
کبھی کبھی میں خود سے سوال کرتی ہوں کہ کاش میں اس سے ایک بار پوچھ ہی لیتی، “کیا تم شادی شدہ ہو؟” شاید ایک سادہ سا سوال میری پوری زندگی کو اس درد سے بچا لیتا۔ یا پھر وہ خود سچ بتا دیتا تو میں اپنے خوابوں کی وہ دنیا کبھی نہ بساتی جس کی بنیاد ہی جھوٹ پر کھڑی تھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ شاید وہ سچ بتانے سے گھبراتا تھا… اور میں سچ سننے سے۔ ہم دونوں کے درمیان ایک خاموشی تھی، ایک ایسا پردہ جسے ہم میں سے کوئی بھی ہٹانے کی ہمت نہ کر سکا۔ اور اسی خاموشی نے میرے خوابوں کو جنم بھی دیا اور پھر انہیں توڑ بھی دیا۔
اب جب ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھتی ہوں تو سمجھ نہیں آتا کہ قصور کس کا تھا۔ کیا وہ مجرم تھا کہ اس نے حقیقت چھپائی؟ یا میں کہ میں نے اندھی محبت میں سوال کرنا ضروری نہ سمجھا؟ شاید دونوں ہی اپنی اپنی جگہ خطاوار تھے… مگر سزا صرف مجھے ملی۔ میں نے اپنی زندگی کے سب سے خوبصورت جذبات ایک ایسے خواب پر قربان کر دیے جو کبھی حقیقت بننے کے لیے تھا ہی نہیں۔
اس کے بعد میری دنیا جیسے رک سی گئی۔ میں نے کبھی دوبارہ اپنے دل کے گلدان میں کسی کی محبت کا پھول سجانے کی ہمت نہ کی۔ وقت گزرتا گیا، زندگی آگے بڑھتی رہی، مگر میرے اندر کا ایک حصہ وہیں ٹھہر گیا.اسی موڑ پر، جہاں میرا خواب ٹوٹا تھا۔ آج بھی وہ گلدان خالی ہے، اور دل ویران… حالانکہ اس واقعے کو گزرے چالیس برس ہونے کو آئے ہیں، مگر کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے اور گہرے ہوتے جاتے ہیں۔