یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم راولپنڈی میں رہتے تھے اور چچا جان آزاد کشمیر میں ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ جب بھی وہ دکان کا سامان لینے شہر آتے تو ہمارے گھر ٹھہرتے تھے۔ اس بار وہ اپنی اکلوتی بیٹی عائشہ کے ساتھ آئے، جو میری ہم عمر تھی۔ عائشہ کے آنے کی مجھے بہت خوشی ہوئی۔صبح کا وقت تھا۔ میرا بھائی عمران ابھی سو رہا تھا۔ میں دوڑتی ہوئی اس کے کمرے میں گئی اور اسے جھنجھوڑ کر بیدار کیا کہ مہمان آ گئے ہیں، چچا جان اور عائشہ۔ عمران نے ایک لمبی ہائی لی، پلٹ کر دوسری طرف ہو گیا اور پھر سو گیا۔
سب لوگ چچا جان سے ملے۔ تب انہوں نے پوچھا کہ عمران کہاں ہے، کیا اسکول چلا گیا ہے؟ میں دوبارہ بھائی کے کمرے کی طرف دوڑی اور اسے زور زور سے جھنجھوڑا کہ اٹھو جلدی، چچا جان ادھر ہی آ رہے ہیں۔ تب وہ اٹھا، جلدی سے غسل خانے میں گھس گیا۔ ہاتھ منہ دھو کر باہر آیا اور چچا جان اور عائشہ کو سلام کیا۔ امی نے فوراً کہا کہ عمران، جلدی تیار ہو کر اسکول جاؤ، تم لیٹ ہو رہے ہو۔ میں نے دیوار پر لگی گھڑی کی طرف اشارہ کیا اور مسکراتے ہوئے کہا کہ دیر نہیں ہو رہی، دیر ہو چکی ہے۔ اسے چھٹی کا بہانہ مل گیا۔
ابا جان علی الصبح ڈیوٹی پر چلے جاتے تھے۔ ان کی غیر موجودگی میں عمران بالکل لاپرواہ ہو گیا تھا اور دیر سے اٹھنے کا عادی ہو چکا تھا۔ امی کی ڈانٹ ڈپٹ کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔میں اور امی کچھ دیر چچا جان اور عائشہ کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتے رہے، پھر ناشتہ کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔ ناشتے کے بعد چچا جان بازار چلے گئے اور عائشہ میرے کمرے میں آرام کرنے چلی گئی۔ تبھی عمران بھی میرے کمرے میں آ گیا اور دونوں باتیں کرنے لگے۔
جب میں وہاں سے گزری تو ان کی آوازیں کانوں میں پڑیں۔ عائشہ نے پوچھا کہ عمران، تم سب سے زیادہ کس سے پیار کرتے ہو؟ عمران نے جواب دیا کہ امی سے، اس کے بعد سب گھر والوں سے۔ عائشہ نے اصرار کیا کہ اس کے علاوہ بھی تو بتاؤ۔ دونوں میٹرک کے طالب علم تھے، ابھی کم سن تھے۔ ان کی باتیں بھی اسی عمر کی سی معصوم تھیں۔ عائشہ نے شرماتے ہوئے کہا کہ کیا میں تمہیں اچھی نہیں لگتی؟ عمران نے کہا کہ ہاں، اچھی لگتی ہو مگر میں تم سے پیار تو نہیں کرتا۔ عائشہ کا چہرہ بجھ سا گیا۔ پھر آہستہ سے بولی کہ تمہیں یاد ہے جب تم میرے بھائی کی شادی میں آئے تھے؟ تب سے ہر وقت تمہاری یاد میرے دل میں رہتی ہے۔ صبا سے ملنے کا بہانہ تھا، اصل میں تو میں تم سے ملنے آئی تھی۔
عائشہ کی باتیں سن کر میں حیران رہ گئی کہ وہ کتنی جرات سے یہ سب میرے بھائی سے کہہ رہی تھی۔ لڑکیاں عام طور پر ایسی باتیں برملا لڑکوں سے نہیں کہہ پاتیں۔ عائشہ نے مزید کہا کہ کئی بار میں نے خاموشی سے تمہیں اشارے کیے مگر تم نے میری بات سمجھی ہی نہیں۔ عمران نے ہلکے سے ہنس کر کہا کہ چلو اچھا ہوا تم نے آج بتا دیا کہ تم میری خاطر آئی ہو، ورنہ امی میری بات کسی اور سے طے کر لیتیں تو مشکل ہو جاتی۔ تب تم کیا کرتیں؟ عائشہ نے اداس لہجے میں کہا کہ میں ساری عمر روتی رہ جاتی۔
ان دونوں کی باتیں سن کر مجھے ہنسی آ گئی۔ میں نے جان بوجھ کر کھڑکا کیا تو دونوں فوراً خاموش ہو گئے۔ چچا جان نے اسی دن واپس جانے کا عندیہ دیا تھا۔ یہ سن کر عائشہ کا چہرہ اتر گیا۔ وہ کچھ دن ہمارے یہاں رکنا چاہتی تھی مگر اسکول بھی جانا تھا۔ اس کی ماں نے تاکید کی تھی کہ وہاں جا کر رک نہ جانا، امتحان قریب ہیں۔شام کو ابا جان آ گئے۔ ان سے مل کر چچا جان واپس جانے لگے۔ میں نے دیکھا کہ عائشہ کی آنکھوں میں نمی تھی اور عمران بھی اداس ہو گیا تھا۔ عائشہ نے اس کے دل میں اپنی محبت جگا دی تھی۔ اب جب بھی میں عائشہ کی باتیں اپنی چھوٹی بہن سے کرتی، عمران دلچسپی سے سنتا۔ میں اس کی دلی کیفیت سمجھ چکی تھی۔ ایک دن اسے سمجھایا کہ دیکھو عمران، تم وقت پر اسکول جایا کرو۔ میٹرک پاس کیے بغیر کوئی اچھی نوکری نہیں ملے گی۔ چچا جان تمہیں اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں دیں گے۔ تعلیم تمہارے لیے بہت ضروری ہے۔
میری باتوں کا اثر ہوا۔ عمران وقت پر اسکول جانے لگا اور دل لگا کر پڑھنے لگا۔ پڑھتے ہوئے کبھی کبھی وہ کھو سا جاتا، جیسے عائشہ کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہو۔ موقع ملتا تو مجھ سے اس کے بارے میں پوچھتا۔ میں بار بار یاد دلاتی کہ امتحان قریب ہیں، توجہ سے پڑھو، ورنہ فیل ہو جاؤ گے۔سالانہ امتحان آ گئے۔ سبق یاد کرتا اور بھول جاتا۔ پرچے ختم ہوئے اور نتیجہ آیا۔ ہم سب پاس ہو گئے مگر عمران فیل ہو گیا۔ ابا جان نے اسے خوب ڈانٹا۔ وہ خفا تھے کہ یہ نالائق میٹرک میں دوبارہ فیل ہو گیا ہے۔ایک دن گاؤں سے پیغام آیا کہ چچا جان کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ ہم سب ان کی عیادت کو گئے۔ وہ کافی کمزور لگ رہے تھے۔ دل کا دورہ پڑا تھا اور ڈاکٹر نے مکمل آرام کا مشورہ دیا تھا۔
تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھ کر میں بچی کے پاس کچن میں چلی گئی۔ تب عمران اور عائشہ باتیں کرنے لگے۔ میرے کان ادھر ہی تھے۔ عائشہ نے پوچھا کہ عمران، کیسے ہو؟ عمران نے اداس لہجے میں کہا کہ میں ٹھیک نہیں ہوں۔ عائشہ نے پوچھا کہ کیوں، کیا ہوا ہے؟ عمران نے کہا کہ پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔ آنکھیں بند کرتا ہوں تو تمہیں دیکھتا ہوں، آنکھیں کھولتا ہوں تو بھی تم ہی نظر آتی ہو۔ تمہیں اپنے چاروں طرف محسوس کرتا ہوں۔ اسی وجہ سے پڑھائی بھی ٹھیک سے نہیں کر سکا۔ کتاب آگے کھلی رکھی ہوتی اور میری نگاہیں تمہیں تلاش کرتی رہتیں۔
عائشہ نے بے چینی سے کہا کہ عمران، جلدی کرو۔ پھوپھی ہمارے گھر آ کر بیٹھ گئی ہیں۔ اپنے بیٹے کے لیے میرا رشتہ مانگ رہی ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے۔
شام کو ہم واپس آ گئے۔ اگلے روز میں نے امی سے کہا کہ بھائی عمران کے لیے عائشہ کا رشتہ مانگ لیں، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ادھر پھوپھی اپنے بیٹے کے لیے عائشہ کا رشتہ لا رہی تھیں۔ امی نے عمران سے پوچھا کہ کیا تم عائشہ سے شادی کرنا چاہتے ہو؟ عمران نے فوراً کہا کہ ہاں امی، آپ جلدی سے وہاں بات کر لیں۔ ایسا نہ ہو کہ کسی اور سے اس کی بات پکی ہو جائے۔
ایک ہفتے بعد ابا جان دوبارہ چچا جان کی طبیعت پوچھنے گئے تو امی بھی ان کے ساتھ ہو لیں اور رشتے کی بات بھی کر لی۔ ایک روز بعد والدین واپس آئے مگر خوش نظر نہیں آ رہے تھے۔ امی نے بتایا کہ تمہیں پتا ہے، اس کی منگنی ہو چکی ہے، تمہاری پھوپھی کے بیٹے سے۔عمران نے حیرت سے کہا کہ لیکن ماں، وہ سعید سے پیار نہیں کرتی تو اس کے ساتھ زندگی کیسے گزارے گی؟ وہ خود ہم سے کہہ کر گئی تھی کہ آپ اور ابا اس کا رشتہ مانگیں۔ امی نے افسوس سے کہا کہ بیٹا، اب اس کا خیال دل سے نکال دو۔ تمہارے ابا بھی نہیں چاہیں گے کہ بہن کو انکار کرنے کو کہیں۔ تمہارے ابا اور چچا تمہاری پھوپھی سے بہت پیار کرتے ہیں۔ پہلے رشتہ انہوں نے مانگ لیا اور منگنی بھی کر لی ہے۔
یہ سن کر عمران بجھ کر رہ گیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب عائشہ سے مل بھی سکے گا یا نہیں۔ایک دن عائشہ کا فون آیا کہ کسی طرح تم اور عمران آ جاؤ۔ مجھے تم لوگوں سے کچھ بات کرنا ہے۔ میں نے بھائی کو بتایا اور چچا جان سے ملنے کے بہانے ہم دونوں کشمیر چلے گئے۔اگلے روز ہم وہاں پہنچ گئے۔ عائشہ پر چونکہ ہماری طرف سے صورتحال واضح نہ ہو سکی تھی، اس لیے وہ بے تاب ہو کر فون کرتی رہتی تھی۔ اس کی جان لبوں پر تھی۔ہم پہنچے تو اس نے باغ میں جا کر عمران سے بات کی اور بتایا کہ اس کی ماں پھوپھی کو رشتہ دینا نہیں چاہتی تھی۔ چچا جان بھی راضی نہ تھے، مگر اپنی بیماری اور بہن کے اصرار پر ہاں کر دیا، حالانکہ ان کا ارادہ عمران کو داماد بنانے کا تھا۔ جب عائشہ نے رو رو کر ماں سے کہا کہ وہ اپنے تایا کی بہو بننا چاہتی ہے تو ماں نے کہا کہ اب میں کچھ نہیں کر سکتی۔ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ تمہارے ابا کو کوئی صدمہ نہ پہنچے، ورنہ دوبارہ اٹیک ہو سکتا ہے۔ ہاں، یہ ہو سکتا ہے کہ تم تایا کے گھر چلی جاؤ۔ میں کہہ دوں گی کہ لڑکی شادی پر راضی نہیں ہے، اس لیے روٹھ کر تایا کے گھر چلی گئی ہے۔ تب تمہاری پھوپھی خود ہی منگنی توڑ دے گی۔ پھر تمہارے تایا کو اختیار ہے کہ تمہارا نکاح عمران سے کر دیں۔
ہم نے واپس آ کر امی کو بتایا اور انہوں نے ابا کو آگاہ کیا۔ ابا کشمکش میں تھے۔ ایک طرف بیٹے کی خوشی اور دوسری جانب بہن تھی۔ وہ سوچ رہے تھے کہ کیا اس طرح منگنی توڑوانی چاہیے۔ تین دن بعد ہماری خالہ کا بیٹا اکرم آیا۔ اس نے بتایا کہ عائشہ کا نکاح ہو رہا ہے کیونکہ پھوپھی نے اپنے گھر کی چھت سے عمران اور عائشہ کو باتیں کرتے دیکھ لیا تھا۔ انہیں شک ہو گیا کہ دونوں کا کوئی تعلق ہے۔ اس لیے پھوپھی نے چچا سے کہا کہ بات بڑھنے سے پہلے بیٹی کو عزت سے رخصت کر دو۔ عائشہ اپنے باپ کی بیماری اور پریشانی دیکھ کر مجبور ہو گئی۔ پھوپھی نے ہمیں نکاح میں نہ بلایا۔ چچا جان نے پیغام بھیجا کہ آپ لوگ شریک ہوں، مگر صرف امی اور ابا ہی گئے۔ ادھر شادی ہو رہی تھی اور ادھر عمران اور میں اداس تھے۔ میں بار بار اسے کہتی تھی کہ اسے بھول جاؤ اور پڑھائی پر توجہ دو۔
ماں باپ بوڑھے ہو رہے ہیں، تم ہی ان کا واحد سہارا ہو۔ عمران نے میرے اصرار پر پڑھائی کی طرف دھیان دیا اور اس بار اچھے نمبروں سے میٹرک پاس کر کے کالج میں داخلہ لے لیا۔ پھر ایف ایس سی کے بعد فوج میں بھرتی ہو گیا۔ جب اسے کمیشن ملا تو امی نے ایک اچھے گھرانے میں اس کی شادی کر دی۔ لڑکی تعلیم یافتہ، سلیقہ مند اور خوبصورت تھی۔ عائشہ بھی شادی میں آئی تھی۔ اسے دیکھ کر عمران پھر اداس ہو گیا، جیسے اپنی نہیں بلکہ ماں باپ کی خوشی کے لیے شادی کر رہا ہو۔ تب عائشہ نے بتایا کہ میری شادی میرے لیے بس ایک سمجھوتہ ہے۔ اگر ابا کی حالت نازک نہ ہوتی تو میں اس شادی سے انکار کر دیتی۔
بھائی کی شادی کے ایک سال بعد میری شادی ہوئی، تب بھی وہ آئی تھی۔ اس کے چہرے پر خوشی نہیں تھی؛ وہ مجبور اور بے بس لگ رہی تھی۔میری بہن نے کیمرہ لے کر کہا کہ عائشہ باجی! آپ بہت اچھی لگ رہی ہیں، کیا میں آپ کی تصویر بنا لوں؟ وہ بولی کہ سامنے پھوپھی بیٹھی ہیں، میں ان کے سامنے تصویر نہیں بنوا سکتی۔ مہندی کی رات وہ چھت پر گئی تو عمران بھی کسی بہانے اوپر چلا گیا۔ بھابھی مہمانوں میں مصروف تھیں۔ عائشہ نے کہا کہ عمران، تم نے شادی کیوں کی؟ اگر تم کسی اور کے نہ ہوتے تو میں تم سے شادی کرتی۔ کاش تم نے شادی نہ کی ہوتی، تو میں کبھی نہ کبھی تمہیں مل جاتی۔
شادی کی تقریب ختم ہو گئی اور وہ اپنے گھر چلی گئی۔ زندگی جوں توں رینگ رہی تھی۔ بھابھی نے میری چھوٹی بہن کا رشتہ ایک خاندان میں کروا دیا جو ان کے پڑوس میں رہتے تھے۔ بہن کی شادی پر گاؤں کے تمام رشتہ داروں کو بلاوا گیا۔ چچا جان فوت ہو چکے تھے، پھوپھی نہ آ سکیں البتہ عائشہ میرے اصرار پر پھوپھی کے ساتھ آ گئی۔ ولیمے والے دن وہ بہت اچھی لگ رہی تھی۔ ولیمہ رات کا تھا اس لیے رات دو بجے کے بعد سب تھک کر سو گئے۔
صبح آٹھ بج کر کچھ منٹ پر خبر آئی کہ زلزلہ آیا ہے۔ زلزلہ تو پنڈی میں بھی آیا تھا، لیکن جب خبریں آنے لگیں تو سب کے اوسان خطا ہو گئے۔ ہمارے مہمانوں کو اپنے گھر والوں کی فکر ستانے لگی۔ وہ تو اسی وقت روانہ ہو گئے، مگر ابا نے پھوپھی اور عائشہ کو جانے نہ دیا۔ وہ کہنے لگے کہ میں خود آپ لوگوں کو پہنچا کر آؤں گا۔ جانے وہاں کیا حالات ہیں۔
دوسرے دن عمران نے گاڑی کا انتظام کر دیا اور ابا انہیں لے کر مظفرآباد روانہ ہو گئے۔ اس کے بعد جو خبریں آئیں، دل دہل کر رہ گیا۔ وہاں ہمارے تمام رشتہ دار—ننھیال، ددھیال—سب ہی زلزلے کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئے تھے۔ ہم پنڈی میں ہونے کی وجہ سے بچ گئے تھے یا وہ لوگ جو ہمارے ہاں بطور مہمان شادی میں شرکت کرنے آئے تھے۔ باقی سب کے گھروں کا نام و نشان بھی صفحہِ ہستی سے مٹ چکا تھا۔ جب عائشہ ہمارے گھر شادی میں آئی تو اس کا شوہر بھی گھر کے ملبے تلے دب کر ہلاک ہو چکا تھا۔
جب عمران بھائی کو یہ خبر ملی تو وہ سکتے میں رہ گئے۔ اس کی بیوگی کا دکھ بھی انہیں بھاری لگ رہا تھا۔ میں سوچ رہی تھی کہ کاش امی نے عمران بھائی کی شادی اتنی جلدی نہ کی ہوتی، تو آج وہ ضرور اس کا سہارا بن جاتے۔ مگر اب وہ شادی شدہ تھے اور مجبور تھے۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ جو تقدیر کو منظور ہوتا ہے، وہی ہوتا ہے۔