ہماری ملازمہ کی بیٹی نیہا بہت ہوشیار اور چالاک لڑکی تھی۔ اس کی ذہانت اور تیز فطرت نے نہ صرف دو دلوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا بلکہ ہنستے بستے گھر کی فضا بھی بگڑ گئی۔ ایک دن ندا، جو ہمارے محلے کی نیک اور ذہین لڑکی تھی، اپنی والدہ کے گھر جا رہی تھی کہ نیہا سامان پکڑنے کے بہانے ان کے ساتھ ہو گئی۔ ندا نے اسے خوش اخلاقی سے خوش آمدید کہا اور گھر میں بھی محبت اور احترام سے پیش آئی۔ اگرچہ وہ جانتی تھی کہ نیہا ایک غریب بیوہ کی بیٹی ہے، لیکن نیہا کی نیک فطرت اور خدا ترسی نے ندا کو اس سے قریب کر دیا۔ نیہا کو ہر کسی سے میل جول کا شوق تھا اور وہ چاہتی تھی کہ محلے کے سب لوگ اسے پہچانیں، مگر اس کا معاشرتی مقام اسے محدود کرتا تھا، اسی لیے وہ ندا کے دامن سے جڑ کر رہتی تھی۔
نیہا نے جلد ہی ندا کی والدہ سے اچھی واقفیت بنا لی اور روزانہ ان کے گھر آ کر کام کرنے لگی۔ صاف دل اور مددگار طبیعت رکھنے کی وجہ سے اس نے ندا کے دل میں اپنی جگہ بنا لی۔ ثریا خالہ بھی نیہا کی فطرت اور محبت سے متاثر ہو گئیں اور وہ اسے پسند کرنے لگیں۔ لیکن نیہا کی شرارتیں بھی شروع ہو گئیں؛ اس نے خالہ کو ندا کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں سنانے شروع کر دیں، جن سے خالہ پریشان ہو جاتیں، مگر وہ خاموش رہ کر صورتحال کو برداشت کرتیں۔
ایک دن نیہا ندا کے گھر پہنچی۔ ندا کی والدہ کہیں گئی ہوئی تھیں اور گھر میں صرف ندا کے والد موجود تھے۔ نیہا نے بڑے اعتماد سے ان سے کہا: “انکل، ایک بات کہوں؟ برا تو نہیں مانیں گے؟” ندا کے والد حیران ہو گئے اور بولے: “بولو، کیا کہنا چاہتی ہو؟” نیہا نے کہا: “آپ ہی کے بھلے کی بات ہے۔ یہ چھوٹے منہ کی بڑی بات ہے، مگر آپ کی عزت پر حرف نہ آئے، اس لیے پہلے سے سنبھل جائیں۔ ندا کو چھت پر بالکل نہ جانے دیں، کیونکہ وہ عمران سے رابطہ کرتی ہے اور اسے خط لکھ کر پھینکتی ہے۔”
یہ سن کر ندا کے والد پریشان ہو گئے، مگر نیہا نے زور دے کر کہا: “انکل، پلیز، ندا کو مت بتائیے گا کہ میں نے آپ سے یہ سب کہا ہے، ورنہ وہ مجھ سے جھگڑا کرے گی۔” یہ کہہ کر نیہا گھر سے روانہ ہو گئی، اور ندا کے والد نے سختی سے کہا: “ندا! آئندہ تم چھت پر نہیں جاؤ گی اور گھر سے نکلنا بھی بند ہے۔” ندا گھبرا گئی اور بولی: “ابو! کیا ہوا ہے؟ آپ کیوں مجھ پر پابندیاں لگا رہے ہیں؟” وہ نہیں بتا سکے کہ نیہا نے یہ سب کیا کہہ دیا تھا۔
ادھر ندا بہت پریشان تھی۔ وہ اب میرے گھر بھی نہیں آتی تھی کیونکہ گھر پر پابندیاں لگ گئی تھیں۔ وہ مجبور اور دل شکستہ ہو گئی تھی۔ جب میں اس سے ملاقات کرتی تو وہ کہتی: “سمیرا، خدا جانے کیا بات ہے کہ امی ابو مجھ سے ایسا سلوک کر رہے ہیں، اور مجھے اپنے قصور کا بھی نہیں بتا رہے۔” میں اسے تسلی دیتی اور کہتی کہ والدین بہرحال بچی کے بھلے کے لیے یہ فیصلہ کر رہے ہوں گے، شاید وہ اس کے مستقبل کے لیے کچھ بہتر سوچ رہے ہیں۔
ادھر ہمارا رزلٹ بھی آ گیا۔ ندا نے کالج میں دوسری پوزیشن حاصل کی، مگر بدقسمتی سے نیہا کی چالاکیوں کی وجہ سے ان کے والد نے اسے کالج میں داخلہ لینے بھی نہیں دیا۔ عمران بھی اس سب پر پریشان تھا۔ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: “سمیرا باجی! اللہ جانے ندا کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ میں اس سے شادی کروں گا اور میں نے اپنی امی کو بھی بتا دیا ہے۔” میں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنی امی کو ندا کے گھر بھیجیں تاکہ بات طے ہو جائے، ورنہ رشتہ کہیں اور پکا کر دیا جائے۔
چنانچہ عمران کی امی اور میری والدہ ندا کے گھر گئی اور رشتہ مانگا، مگر ندا کے والدین نے صاف انکار کر دیا کہ ہم اپنی برادری سے باہر شادی نہیں کرتے۔ اس کے بعد وہ گھر بدل گئے تاکہ عمران اور ندا ایک دوسرے سے رابطہ نہ کر سکیں۔
یہ سن کر عمران کے دل پر اک قیامت ٹوٹ پڑی کیونکہ وہ ندا کو پسند کرتا تھا اور ہر صورت اسی سے شادی کرنا چاہتا تھا. میرا کزن عمران اس وقت بالکل پریشان ہو گیا تھا۔ اس کی حالت واقعی دیوانوں جیسی ہو گئی تھی۔ وہ ایک پل چین سے محروم رہتا، دل دھڑکتا اور ہر وقت ندا کے خیال میں کھویا رہتا۔ ہمارے والدین نے عمران کے والدین سے مشورہ کیا کہ بہتر یہی ہے کہ اسے بیرونِ ملک بھیج دیا جائے، ورنہ اس کی ذہنی حالت بگڑ جائے گی۔ یوں عمران کو اپنی بڑی بہن کے گھر بھیج دیا گیا تاکہ نئے ماحول میں جا کر وہ ندا کو بھول سکے اور اپنے غم و جنون پر قابو پا لے۔
جب ندا کو یہ خبر ملی کہ عمران اب یہاں نہیں رہا، تو وہ گہری اداسی میں ڈوب گئی۔ دل میں خواہش تھی کہ عمران یہی رہتا، حالانکہ وہ جانتی تھی کہ وہ اس کا حقیقی جیون ساتھی نہیں بن سکتا۔ اسی دوران رضیہ خالہ نے اپنی بیٹی کی منگنی اپنے بھائی کے بیٹے سے کر دی۔ندا کا ردِعمل دبے دبے جذبات کے ساتھ تھا، دل میں بے چینی اور تلخی چھپی ہوئی تھی۔ میں اس کی کیفیت کو اچھی طرح سمجھ سکتی تھی، لیکن روبرو تو میں کچھ کہہ نہیں سکتی تھی، بس دل میں اسے اچھی طرح نہیں لگا۔
کچھ عرصے بعد، ندا کے منگیتر کے اصرار پر ندا کی شادی ہو گئی۔ شادی کے موقع پر وہ خوش نہیں تھی، اس کا دل کٹا جا رہا تھا. جیسے دھڑکنا بھول گیا تھا. بچاری پتھر کی مورت بنی بیٹھی رہی اور دل ہی دل میں اپنی بربادی پر ماتم کر رہی تھی، جیسے اسے کسی اجنبی دنیا میں چھوڑ دیا گیا ہو۔ رخصتی کے بعد جب ندا اپنے شوہر کے سنگ چلی گئی تو میں نے دل سے سکھ کا سانس لیا، کیونکہ اس کے دکھ اور پریشانی نے میرے سکون کو بھی چھین لیا تھا۔ نیہانے اب گھر آنا بھی بند کر دیا تھا، یقیناً والدین اسے آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔
کچھ عرصہ ندا اپنی ساس کے پاس رہی، مگر پھر اس نے ضد شروع کر دی کہ وہ ماں کے گھر کے قریب رہنا چاہتی ہے۔ اس نے شوہر کے کان بھرے اور کہا: “میں یہاں دل سے نہیں رہ سکتی۔” اس کا شوہر رضیہ خالہ کے پاس آیا اوراس کی بیٹی کی فرمائش اس کے سامنے رکھ دی. وہ بولی: “میں خود کسی اور کے گھر رہ رہی ہوں، ہر وقت مکان خالی کرنے کو کہتے رہتے ہیں۔ جہاں کام کرتی ہو، وہیں جا کر رہو۔ تمہیں کرائے کا مکان لینا پڑے گا۔”
وہ اپنی بیوی کو دل سے چاہنے لگا تھا اس لیے کہیں سے رقم کا بندوبست کر کے بیوی کی خوشی کے لیے رضیہ خالہ کے گھر کے قریب ایک چھوٹا سا کرائے کا مکان لے لیا اور بیوی اور اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ وہاں منتقل ہو گیا۔اخراجات بڑ ھ رہے تھے اس لیے وہ بیرونِ ملک جانے کی تیاریوں میں لگا رہا تاکہ زیادہ کمائے، حالات بہتر ہوں، اور مستقبل میں اپنا ذاتی مکان بنا سکے۔ بالآخر، دوست کی مدد سے وہ اصغر کو بیرونِ ملک جانے کا موقع مل گیا۔
اب گھر میں صرف ندااور اس کی ساس رہ گئی تھیں۔ شوہر کے جانے کے بعد نداکو گھومنے پھرنے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی جینے کی آزادی مل گئی۔ اس نے محلے کے ایک آوارہ نوجوان ظفیل سے تعلقاتاستوار کر لیے۔ ظفیل سینما ہال میں ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹ کا کام کرتا تھا، علاقے کے بدمعاشوں سے تعلقات رکھتا اور منشیات فروشوں سے بھی واقف تھا۔وہ کوئی اچھا انسان نہ تھا، اک حسین لڑکی کیساتھ دوستی ہو جانے پر بہت خوش تھا.
ظفیل کا قد کاٹھ اور مضبوط جسم ندا کو متاثر کر گیا۔وہ اس کے طرف مکمل طور پر مائل ہو چکی تھی. اسے مفت فلمیں دیکھنے کا شوق بھی پیدا ہو گیا، اور وہ اکثر ظفیل کے ساتھ سینما جانے لگی۔ظفیل بھی ایسی لڑکی کی تلاش میں تھا جو اکیلی ہو اور آزاد خیال ہو، جس کا شوہر بیرونِ ملک اچھا مال کما رہا ہو، جو دل کھول کر بیوی کو خرچ بھیجتا ہو اور جس پر گھر والوں کی سخت نگرانی نہ ہو۔ ندا اس کے لیے آسان ہدف بن گئی، اور جو رقم اصغر بھیجتا تھا، وہ بینک میں جمع کرانے کی بجائے طفیل کے ساتھ خرچ کر دی جاتی، کیونکہ وہ اس پر مکمل اعتماد کرتی تھی۔
آخر بات کب تک چھپی رہ سکتی تھی رفتہ رفتہ ندااور ظفیل کےنا جائز تعلقات محلے میں مشہور ہونے لگے۔ لوگ سرگوشیوں میں ان کی باتیں کرتے اور حیران رہ جاتے کہ یہ دونوں ایک ساتھ اتنی بے باکی سے گھومتے ہیں۔ مگر ایسی باتیں کب تک چھپتی ہیں؟ بالآخر، ندا کی ساس، رضیہ خالہ، کو ندا کی حرکات کا علم ہوا تو آپے سے باہر ہو گئی اسےاعتراض ہوا کہ ایک غیر مرد کیوں گھر آتا ہے اور بیٹی کی عزت پر حرف آتا ہے۔
لیکن بے چاری ساس کی صحت اس کا ساتھ نہ دے رہی تھی. کچھ عرصے بعد رضیہ خالہ کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ وہ اکثر بستر پر سو جاتی اور روزانہ کی زندگی کے کاموں سے قاصر ہو گئیں۔ رفتہ رفتہ ان کی صحت مزید بگڑتی گئی، اور ایک دن اچانک اس کی طبعیت زیادہ بگڑ گئی اور وہ اس جہاں فانی سے کوچ کر گئی۔ اصغر کو یہ خبر دی گئی، مگر وہ روزگار کی فکر اور بیرونِ ملک کی مصروفیات کی وجہ سے واپس نہیں آ سکا۔ وہ ماں کے آخری دیدار سے محروم رہ گیا، اور دل میں ایک خالی پن لیے رہا۔
اصغر کے جانے کو تین سال ہو گئے تھے۔ اس دوران، ندانے ظفیل کے ساتھ اپنی مرضی کی زندگی گزاری کیونکہ اب روک ٹوک کرنے والا ببھی کوئی نہ تھا۔ وہ محلے کے ہر گوشے میں آزادانہ گھومتی، سینما جاتی اور طفیل کے ساتھ لطف اندوز ہوتی۔ندا نے طفیل کیساتھ ہر حد پار کر دی اور اب مکمل طور پر اس کے رحم و کرم پر تھی. محلے والے اس سے نفرت کرنے لگے، مگر کسی کے پاس اتنے مضبوط ثبوت نہیں تھے کہ وہ اصغر کو اطلاع دے سکیں۔ ہر سرگوشی اور خبر محض افواہ بن کر رہ جاتی۔
ایک دن ندانے ایک حکیم کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ طفیل بھی اس کے ساتھ تھا۔ وہ حکیم کے سامنے اپنے آپ کو میاں بیوی ظاہر کرنے لگے، اور یہ کہہ کر دوا مانگی کہ ان کے بچے نہیں ہو رہے۔ مگر حکیم کو کچھ شبہ ہوا۔ اس نے اپنے تجربے اور علم کے ذریعے ان کے بارے میں تحقیق شروع کی۔ تھوڑی دیر بعد اسے حقیقت کا علم ہو گیا کہ ندااصل میں شادی شدہ ہے اور اس کا شوہر بیرونِ ملک موجود ہے۔
حکیم نے محتاط انداز میں اصغر کا پتہ حاصل کیا اور اسے خط لکھ دیا۔ اس خط میں حقیقت کی اطلاع دی گئی اور بتایا گیا کہ ندا کی موجودہ حالت کی وجہ سے تعلقات میں پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ اصغر کے لیے یہ خبر ایک دھچکے کے مانند تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اب صرف اس کے قدم اور فیصلہ ہی مستقبل بدل سکتے ہیں، لیکن اسے بھی اپنے ملک سے دور رہنے کی مجبوری کا احساس تھا۔
ندا کی زندگی اب ایک نازک موڑ پر تھی: ایک طرف طفیل کی محبت اور آزادی، اور دوسری طرف اس کے شوہر اصغر کی موجودگی اور اخلاقی ذمہ داری۔ محلے کے لوگوں کی نظر، طفیل کی دنیا، اور بیرونِ ملک کے شوہر کی حقیقت کے درمیان اس کا دل الجھا ہوا تھا۔ ہر لمحہ ایسا لگتا کہ جیسے کوئی طوفان اس کے گرد جمع ہو رہا ہے، اور اسے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی زندگی کس سمت لے جائے۔
خط ملتے ہی اصغر شدید صدمے میں آ گیا اور فوراً وطن واپس آ گیا۔ اس نے آ کر حقیقت جاننے کی کوشش کی۔ وہ سیدھا حکیم کے پاس پہنچا، انہوں نے اسے اپنے پاس روک لیا اور کہا: “آج شام آٹھ بجے وہ عورت اپنے ساتھی کے ہمراہ مجھ سے دوا لینے آئے گی۔ تم اس سے یہاں ملاقات کر لینا۔” اس شام ندا طفیل کے ہمراہ حکیم کے مطب میں دوا لینے آگئی۔ پردے کے پیچھے اصغر موجود تھا۔ حکیم نے نداسے کچھ ذاتی سوالات کیے۔ انہوں نے اصغر سے وعدہ لیا تھا کہ تم اپنے جذبات پر قابو رکھو گے اور میرے مطب میں کوئی ایسی حرکت نہیں کرو گے جس سے مجھ کو تکلیف پہنچے یا نقصان ہو۔ لہٰذا اصغر نے ضبط و تحمل سے تمام باتیں پردے کے پیچھے سنیں اور جب ندا دوا لے کر طفیل کے ساتھ مطب سے نکلی تو اصغر بھی تعاقب میں تھا۔
جونہی وہ دونوں گھر پہنچے تو طفیل نے نورین سے کہا: “آج مجھے کچھ کام ہے، میں کل آؤں گا۔” یہ کہہ کر وہ دروازے سے ہی رخصت ہوا اور ندا گھر کے اندر چلی گئی۔ اس کے پیچھے ہی اصغر بھی گھر میں داخل ہو گیا۔وہ غصے سے بپھرا ہوا تھا آنکھیں انگارے برسا رہی تھیں. ابھی وہ برقعہ اتارنے بھی نہیں پائی تھی کہ اصغر نے دوپٹے سے کس کر اس کا منہ باندھ دیا، پھر صحن میں پڑی رسی سے اس کے ہاتھ پاؤں باندھے اور اسٹور میں دھکیل کر بند کر دیا۔ پھر اس نے باورچی خانے سے چھری اٹھائی، اس کی دھار تیز کی اور اسٹور میں پڑی بے بس ندا کے گلے پر پھیر کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یوں غصہ ٹھنڈا کرنے کے بعد اسٹور کا دروازہ بند کر کے وہ غسل خانے چلا گیا، جہاں نہا دھو کر کپڑے تبدیل کیے اور رات کے اندھیرے میں نکل گیا۔
صبح جب دودھ والا آیا تو گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اس نے بیل بجائی، مگر کوئی دودھ لینے نہیں آیا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن ندا زندہ ہوتی تو جواب دیتی۔ وہ حیران و پریشان کھڑا تھا کہ اچانک ندا کی ماں آ گئی۔ وہ کبھی کبھی صبح کے وقت بیٹی کے پاس آیا کرتی تھی کیونکہ اس کے بعد اسے گھروں میں کام کے لیے جانا ہوتا تھا۔ جونہی اس نے صحن میں قدم رکھا، اسے بیٹی کہیں نظر نہ آئی۔ گھر میں موت کا سکوت طاری تھا۔ نجانے کیوں اس کا دل دھڑکنے لگا۔ وہ سوچنے لگی: “سو بار اس لڑکی سے کہا ہے کہ اکیلی نہ رہ، میرے پاس چلی آ، لیکن یہ نہیں مانتی۔” ایسا سوچتے ہوئے وہ برآمدے سے کمروں میں گئی، وہاں بھی کوئی نہ تھا، تب وہ اسے پکارنے لگی۔ اسے خیال ہوا کہ شاید چائے بنا رہی ہو۔ باورچی خانے کا دروازہ بند تھا اور باہر سے کنڈی لگی ہوئی تھی۔ غسل خانے وغیرہ کے دروازے بھی کھلے ہوئے تھے، اب اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ پھر وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئی وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔ ہانپتی کانپتی وہ واپس اتری اور دوبارہ کمرے میں گئی۔ دفعتاً اس کی نظر فرش پر پھیلی ہوئی خون کی لکیروں پر پڑی۔ ان لکیروں کا تعاقب کرتے ہوئے وہ اسٹور کے دروازے تک پہنچی اور پھر چیختی ہوئی باہر نکل گئی اور گلی میں دھاڑیں مارنے لگی۔
لوگ اکٹھے ہو گئے، اور گھر میں ایک عجیب سا سکوت طاری تھا۔ نورین خوفزدہ اور پریشان تھی، ہاتھ کانپ رہے تھے، اور اس کی آنکھوں میں ان دیکھے جذبات چھپے ہوئے تھے۔ ہر کوئی اس کی طرف دیکھ رہا تھا، لیکن کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ حقیقت کیا ہے۔ کچھ لمحے گزرے، اور حالات مزید پیچیدہ ہو گئے۔
اخبارات اور محلے میں افواہیں چلنے لگیں۔ لوگ بولنے لگے کہ طفیل نے ندا کے ساتھ کچھ غلط کیا، اور اسی وجہ سے حادثات یا مسائل پیدا ہوئے۔ طفیل کو بھی پولیس نے طلب کر لیا اور ان پر شک ظاہر کیا گیا، لیکن حقیقت کسی نے نہیں جانی۔ اصل کہانی تو صرف حکیم صاحب جانتے تھے: کہ ندا کے گرد ہونے والے واقعات کی پیچھے ایک پیچیدہ سلسلہ تھا، جہاں محبت، برداشت اور حالات کی کشمکش نے سب کچھ بدل دیا۔
لوگوں کی رائے، افواہیں اور مبالغے، ندا کی شخصیت اور اس کے فیصلوں کو مختلف زاویوں سے پرکھنے لگے۔ شاید حقیقت یہ تھی کہ ندا میں کچھ کمی یا جذباتی خلل موجود تھا، جس نے اسے ندا اور عمران کے درمیان الجھن پیدا کرنے پر مجبور کیا۔ لیکن اس کے رویے کے پیچھے محبت اور اپنی دنیا میں خوش رہنے کی کوشش بھی چھپی ہوئی تھی۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ باہر کی دولت، کامیابی اور مکانوں کے پیچھے بھاگنے کے دوران، بعض اوقات گھر اور رشتوں کی حفاظت کرنا بھول جاتے ہیں۔ مردانگی، قربانی اور محبت کی جدوجہد کا اثر عورتوں کی زندگی پر پڑتا ہے، اور بعض اوقات چھوٹے فیصلے بڑی تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ تبھی تو کہا جاتا ہے: “باہر کی ساری چیزیں، گھر کی آدھی روٹی کے برابر بھی نہیں ہوتی۔”