urdu short stories

بھیانک فیصلہ اور انجام

دروازہ زور سے دھڑ دھڑایا گیا۔ مدھو نے حیرانی سے پوچھا کہ کون ہے۔ آواز میں خوف بھرے لہجے میں کوئی شخص نے کہا کہ پلیز دروازہ کھولو۔ اس آواز میں شامل خوف نے مدھو کو مجبور کر دیا کہ وہ فوراً دروازہ کھول دے۔ یوں بھی اس کے پاس گنوانے کو کچھ نہیں تھا۔ کنڈی کھولتے ہی ایک جواں سال آدمی دروازہ دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہو گیا۔ اس نے سینے سے کمبل لگا رکھا تھا جس میں یقیناً ایک چھوٹا بچہ چھپا ہوا تھا۔ اندر گھستے ہی اس نے فلیٹ کا دروازہ بند کر دیا۔
اسی دوران فلیٹ ننھے بچے کی چیخ سے گونج اٹھا۔ اجنبی نے ایک ہاتھ بچے کے ہونٹوں پر رکھ کر اس کی آواز کو دبا دیا اور دوسرے ہاتھ سے جیب سے ایک چھوٹی سی شیشی نکال کر اس کا ڈھکن کھولا اور بچے کی ناک کے قریب لگا دیا۔ اگلے ہی لمحے بچے کی آواز بند ہو گئی۔ بچے کی طرف سے بے فکر ہوتے ہی وہ گڑگڑا کر بول اٹھا کہ پلیز اسے کہیں چھپا دو کیونکہ وہ اس کا تعاقب کر رہے ہیں اور وہ مدھو کو ایک ہزار پونڈ دے گا۔
مدھو نے رکھائی سے جواب دیا کہ وہ کسی غیر قانونی کام میں ملوث نہیں ہونا چاہتی۔ اجنبی نے فوراً کہا کہ اس کا پیچھا کرنے والے مجرم ہیں اور وہ سب کچھ تفصیل سے بتا دے گا مگر اب وقت نہیں ہے کیونکہ وہ کسی بھی لمحے یہاں پہنچ سکتے ہیں۔
اسی وقت ساتھ والے فلیٹ کی بیل زور زور سے بجنے لگی۔ اجنبی گھبرا کر بولا کہ وہ پہنچ گئے ہیں اور مدھو سے پلیز جلدی کچھ کرنے کی درخواست کی۔
ایک لمحہ سوچنے کے بعد مدھو نے بھاگ کر اپنے فلیٹ کی کنڈی کھول دی۔ اجنبی نے خوف زدہ لہجے میں پوچھا کہ وہ کیا کر رہی ہے۔ مگر مدھو نے اس کی بات ان سنی کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے بچہ لے لیا اور بیڈ کے نیچے لٹاتے ہوئے کہا کہ جلدی قمیض اتار کر چارپائی پر لیٹ جائے۔
ایک لمحے کو وہ حیران ہوا مگر پھر قمیض اتار کر چارپائی پر لیٹ گیا۔ ساتھ والے فلیٹ کا مکین احتجاجی لہجے میں آنے والوں سے کچھ پوچھ رہا تھا۔ پھر زور کی کھٹاک کے ساتھ دروازہ بند ہوا۔
اس دوران مدھو نے پھرتی سے اپنے بالائی کپڑے اتار کر نیچے پھینکے اور اجنبی سے لپٹتے ہوئے نچلے دھڑ پر چادر ڈھک لی۔
دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔ مدھو پیچھے مڑتے ہوئے غرائی کہ کون حرامی ہے۔ دروازے پر کھڑے تین مردوں نے دلچسپی سے اس کی طرف دیکھا۔ ایک نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہمارا نمبر کب آئے گا جان من۔ مدھو نے بے باکی سے جواب دیا کہ ایک کتے سے تو نبٹ لوں۔ ایک نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ دروازہ تو بند رکھا کرو ورنہ نیچے سے نکل بھاگے گا۔ باقی دونوں نے بھی اس کا ساتھ دیا۔ پھر کچھ پوچھے بغیر وہ ساتھ والے فلیٹ کی طرف بڑھ گئے۔
مدھو فوراً اٹھی اور دروازے کی طرف جاتے ہوئے چلائی کہ دروازہ تمھاری بہن نے بند کرنا تھا کمینو۔ اس بار کوئی جواب نہ آیا۔
دروازہ قفل کر کے وہ جلدی سے کپڑے پہننے لگی۔ وہ ایک جوان اور خوبصورت لڑکی تھی جس کی کشش شبے سے بالاتر تھی۔ اگر اجنبی کی جان پر نہ بنی ہوتی تو وہ ان چند لمحوں کو حیات کا سب سے قیمتی لمحہ سمجھتا مگر اس وقت اس کا ذہن اپنے بچاؤ کی تدابیر سوچنے میں مصروف تھا۔
مدھو نے اس سے کہا کہ اب شرافت سے بیٹھ جائے اور کسی ایسے ویسے خیال کو ذہن میں لائے بغیر اپنی کہانی سنانا شروع کر دے تاکہ وہ اپنے فیصلے پر مطمئن رہ سکے۔ دوسری صورت میں اسے ان حضرات کو زحمت دینا پڑے گی۔
اس نے کہا کہ پوچھو۔ پھر قمیض پہن کر بیڈ کے نیچے سے بچہ اٹھا لیا۔ مدھو نے پوچھا کہ وہ ایشیائی لگتے ہیں کیا ہندی بول سکتے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ اردو اس کی مادری زبان ہے۔ مدھو نے پوچھا کہ کیا وہ پاکستانی ہے۔ اس نے ہاں میں جواب دیا۔ مدھو نے پوچھا کہ اس کا پیچھا کیوں کر رہے تھے۔ اس نے بتایا کہ وہ پیشہ ور قاتل ہیں اور اس کے قتل کی سپاری انہیں اس کی بیوی نے دی ہے۔ مدھو نے حیرت سے کہا کہ بیوی اور قتل، کچھ سمجھی نہیں۔ اس نے کہا کہ اس نے اپنے بیٹے کو اغوا کر لیا ہے۔ مدھو نے کہا کہ عجیب کہانی سنا رہے ہو۔ بیوی تمہیں قتل کرانا چاہتی ہے، تم نے اس کا بچہ اغوا کر لیا ہے جو تمہارا بھی بیٹا ہے اور غالباً یہی وہ بچہ ہے۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ مدھو نے منہ بناتے ہوئے کہا کہ اب ساری کہانی کسی ایسے انداز میں سنائے کہ اسے سمجھ آ جائے۔
اس نے بتایا کہ وہ اس کے بچے کو عیسائی بنانا چاہتی ہے اور وہ ایسا نہیں ہونے دے گا۔ مدھو نے تلخی بھرے لہجے میں کہا کہ یہ ایک عیسائی عورت سے شادی کرتے وقت سوچنا چاہیے تھا۔ تب شباب کے مزے لوٹنے کی پڑی تھی، ایک گوری کو آغوش میں لینے کا شوق تھا اور جب جی بھر گیا تو دین دھرم یاد آ گیا۔
اس نے بتایا کہ پانچ سال پہلے ان کی شادی ہوئی تھی۔ تب اس کی عمر اکتالیس سال تھی اور وہ گزشتہ ہفتے اٹھائیس سال کا ہوا ہے۔ مدھو نے پوچھا کہ شادی کرنے کی وجہ کیا تھی۔ اس نے کہا کہ غربت، بیمار ماں، بوڑھے والد اور تین بہنوں کی ذمہ داری۔ انسان کو غلط کاموں پر بھی مجبور کر سکتی ہے۔ اس نے تو صرف بوڑھی عورت سے شادی کی ہے۔ ذمہ داریوں سے نبٹنا اور پونڈ کمانا اتنا آسان نہ تھا۔ پھر وہ تعلیمی ویزے پر یہاں آیا تھا۔ یونیورسٹی کی فیسیں، سر چھپانے کو چھت اور پیٹ بھی ساتھ لگا ہوا تھا۔ ایسی صورت میں اور کوئی چارہ نہ تھا۔ وہ دولت مند ہے، اسے جوان ساتھی چاہیے تھا اور اسے دولت۔ گناہ میں ملوث ہونے کی بجائے اسے جائز طریقہ بہتر لگا۔
مدھو نے پوچھا کہ تو اب نفرت کیسی۔ اس نے کہا کہ اسے نہیں، اسے ہو گئی ہے۔ وہ اپنے بچے کو عیسائی دیکھنا چاہتی ہے اور وہ مسلمان ہے۔ مدھو نے کہا کہ بچے کے بڑا ہونے کا انتظار کر لیتے۔ اس نے کہا کہ ٹھیک کہہ رہی ہو مگر وہ اسے قتل کرانے پر تل گئی تھی۔ مدھو نے پوچھا کہ ایسی بھی کیا دشمنی۔ اس نے بتایا کہ اسے پتا ہے کہ ایک مسلمان اپنے بچے کو عیسائی نہیں ہونے دے گا۔ مدھو نے پوچھا کہ یقین کی وجہ کیا ہے۔
وہ بچے کو چومتے ہوئے بولا کہ اس نے اس کا نام وکٹر رکھا ہے اور وہ اسے عمر کہتا ہے۔ مدھو نے پوچھا کہ پھر بھی اتنی سی بات پر قتل۔ اس نے کہا کہ یہ اتنی سی بات نہیں ہے۔ وہ حکمران قوم کی فرد ہے اور وہ غلام قوم کا باشندہ ہے۔ پھر اس سے برابری کی سطح پر برتاؤ کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ کب برداشت کر سکتی ہے کہ وہ بیٹے کا دعویدار بنے۔ وہ تو صرف کرائے کا سانڈ تھا جس سے تخم ریزی کا کام لیا گیا اور بس۔
مدھو نے حیرت سے کہا کہ وہ اس کا شوہر ہے اور اس کا خیال ہے کہ اس نے شوہر کے طور پر اس کا انتخاب خود کیا ہے۔ اس نے کہا کہ صرف اس کی جوانی اور شکل و صورت دیکھ کر۔ ورنہ اس پر تھوکنا بھی گوارا نہ کرتی۔ مدھو نے کہا کہ کیا کہہ رہے ہو۔ اس نے جواب دیا کہ صحیح کہہ رہا ہے، اتنا اندازہ تو مدھو کو بھی ہونا چاہیے۔
مدھو چونک گئی جب اس نے اسے اس کا نام لے کر پکارا۔ اس نے حیرت سے پوچھا کہ تم اس کا نام کیسے جانتے ہو۔ اجنبی نے بتایا کہ وہ سال بھر سے بلیو مون ریسٹورینٹ میں ویٹرس کا کام کر رہی ہے جس کی مالکہ مارتھا ہے۔ پچھلے چند ماہ سے اس کی ڈیوٹی کچن میں لگا دی گئی تھی کیونکہ وہ حاملہ تھی۔ اور اب ڈیلیوری کے بعد ڈیڑھ ماہ سے چھٹی پر ہے۔ مدھو گھبرا کر کھڑی ہو گئی اور پوچھا کہ وہ کون ہے اور یہ سب اسے کیسے پتا۔ اس نے بتایا کہ مارتھا اس کی بیوی ہے۔ مدھو ششدر رہ گئی اور بولی کہ وہ بوڑھی خرانٹ۔ اس نے کہا کہ بالکل۔ مدھو نے کہا کہ اس نے اسے کبھی وہاں نہیں دیکھا۔ اس نے جواب دیا کہ کیونکہ وہ ریسٹورنٹ کبھی کبھار ہی جایا کرتا تھا۔
مدھو نے کہا کہ تو یہاں وہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت آیا ہے۔ اس نے کہا کہ بے شک۔ عمر مدھو کے بیٹے سے دو ماہ پہلے پیدا ہوا ہے اور اس نے مارتھا کا حمل ٹھہرنے کے ساتھ ہی ایسی عورت کی تلاش شروع کر دی تھی جو اس کے بیٹے کو سنبھال سکے اور جس کی مدد سے بچے کو یہاں سے نکال کر لے جا سکے۔ جب مدھو ویٹرس تھی تب اس نے اسے دیکھا تھا، بعد میں معلومات حاصل کیں اور آج اس کے سامنے ہے۔ مدھو نے حیرانی ظاہر کی کہ اسے یقین تھا کہ مدھو مدد کرے گی۔ اس نے کہا کہ وہ جانتا ہے کہ مدھو کو پیسوں کی ضرورت ہے اور اس کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ وہ اس کی ضرورت پوری کر سکے۔
مدھو نے پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے۔ اس نے بتایا کہ فیصل۔ مدھو نے کہا کہ اگر وہ معذرت کرنا چاہے۔ فیصل نے کہا کہ کوئی بات نہیں، اللہ کوئی اور وسیلہ پیدا فرمادے گا۔ مدھو نے یاد دلایا کہ اس نے ہزار پونڈ دینے کا وعدہ کیا تھا اور مدھو نے اسے قاتلوں سے بچا چکا ہے۔ فیصل نے کہا کہ اسے یاد ہے اور اگر مدھو عمر کو انڈیا پہنچا دے تو دس ہزار پونڈ مزید بھی دے سکتا ہے۔ مدھو نے بے یقینی سے پوچھا کہ دس ہزار یعنی ہزار کے علاوہ۔ فیصل نے کہا کہ بالکل، تمام رقم پیشگی دے گا اور انڈیا جانے کا خرچ بھی اس کے ذمہ۔ مدھو نے فوراً فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ منظور ہے۔
فیصل نے کہا کہ تو سب سے پہلے اسے پکڑو۔ پھر بتایا کہ مدھو کو ایک کام اور کرنا پڑے گا جس کا معاوضہ الگ سے ملے گا۔ مدھو نے الجھن آمیز لہجے میں پوچھا کہ کیا۔ فیصل نے کہا کہ اسے ہسپتال سے جڑواں بچوں کا برتھ سرٹیفیکیٹ لینا ہو گا تاکہ انڈیا جاتے ہوئے کوئی مسئلہ نہ بنے۔ مدھو نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں۔ فیصل مصر ہوا کہ ضرورت ہے تو کہہ رہا ہے۔ مدھو نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ اس کا کرشنا نہیں رہا۔ وہ عمر کے منہ سے کپڑا ہٹا کر دیکھنے لگی۔ فیصل نے حیرت سے کہا کہ کرشنا تمہارا بیٹا۔ مدھو نے کہا کہ ہاں مر گیا ہے۔ فیصل نے کہا کہ اسے افسوس ہے۔ مدھو نے تلخی سے کہا کہ اس کے افسوس کی کوئی ضرورت نہیں، اسے مرد ذات سے نفرت ہے۔ فیصل نے منہ بناتے ہوئے کہا کہ افسوس کیا ہے، اس نے پروپوز نہیں کیا۔ مدھو نے کہا کہ مطلب کی بات کرو۔
آخر کار طے ہو گیا کہ مدھو دس ہزار پونڈ لے کر عمر کو انڈیا لے جائے گی۔ مدھو نے گیارہ ہزار پونڈ پیشگی کا مطالبہ کیا۔ فیصل نے انکار نہیں کیا۔ مدھو نے کہا کہ رقم نکالو، چیک وغیرہ نہیں چلے گا۔ فیصل نے کہا کہ اتنی رقم جیب میں لیے گھومنے سے رہا، تھوڑا صبر کر لو، کل تک لے آئے گا۔ مدھو نے کہا کہ کل کا مطلب کل ہی ہونا چاہیے۔ بات اگلے کل تک گئی تو معاہدہ ختم۔ فیصل نے کہا کہ کل تک تو چپ رہو۔
مدھو نے بدمزگی سے پوچھا کہ کیا وہ یہیں رہے گا۔ فیصل نے کہا کہ اور کہاں جا سکتا ہے، وہ شکاری کتوں کی طرح اس کی بو سونگھتے پھر رہے ہیں۔ مدھو نے کہا کہ جب تک رہے گا رہائش اور کھانے پینے کا معاوضہ الگ سے دینا ہو گا۔ فیصل چڑ کر بولا کہ دے دوں گا، مر کیوں رہی ہو۔ مدھو نے واضح کیا کہ یہاں ایک ہی بیڈ ہے اس پر وہ خود سوئے گی۔ اس کی بلا سے، وہ فرش پر سوئے یا کوئی بیڈ خرید کر لائے۔ اور کوئی غلط حرکت برداشت نہیں کرے گی۔ اسے انگریزی تہذیب سے بھی اتنی ہی نفرت ہے جتنی مرد ذات سے۔ فیصل نے کہا کہ یقیناً وہ فالتو مکالمہ بازی کر رہی ہے۔ معاوضہ اس نے ادا کرنا ہے، وہ مزدور ہے اور مزدور مالک کو ہدایات نہیں دے سکتا۔ مدھو نے کہا کہ وہ شرائط بتا رہی ہے اور مالک مکان وہ ہے، وہ نہیں۔ فیصل زچ ہو کر چلایا کہ ٹھیک ہے میری ماں۔ اب کچھ کھانے کا بندوبست کرو، بچہ بھی کافی دیر سے بھوکا ہے اسے دودھ پلانا ہے۔ مدھو عمر کو اٹھائے باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی۔
فلیٹ دو کمروں، باورچی خانے اور غسل خانے پر مشتمل تھا۔ ایک کمرہ خواب گاہ کے طور پر استعمال ہوتا جبکہ دوسرے کمرے میں فالتو کاٹھ کھبار بھرا تھا۔ مدھو نے وہی کمرہ فیصل کے حوالے کر دیا۔ فیصل گھنٹے بھر سے اپنے لیٹنے کی جگہ بنانے میں مصروف تھا۔ آخر تنگ آ کر وہ چلا اٹھا کہ اے سنتی ہو مدھو ملہوترا صاحب، اگر فدوی آپ کے شبستان میں شب باشی پر مصر ہو تو کیا آپ فدوی کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر فیصلے پر نظر ثانی کی زحمت گوارا کر لیں گی۔
مدھو دروازے پر نمودار ہوئی اور کہا کہ اسے اس کی بات کی سمجھ نہیں آئی۔ فیصل نے عرض کی کہ اگر اس کوڑا کرکٹ کے مقام میں سونے کی بجائے وہ مدھو کے ساتھ سو جائے یعنی اس کی خواب گاہ میں سو جائے تو کیا اسے اعتراض ہو گا۔ مدھو نے کہا کہ غسل خانہ، باورچی خانہ، سٹور اور باہر گیلری میں سے کسی بھی جگہ وہ لیٹ سکتا ہے۔ البتہ اس کی خواب گاہ میں گدھوں، کتوں اور مردوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ فیصل نے کہا کہ اس صورت میں صرف کھانے کا معاوضہ ہی ادا کرے گا۔ مدھو نے بے پروائی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا کہ راستہ کھلا ہے، تشریف لے جا سکتے ہو۔ کھانے کے وقت آ جانا۔ اور دیر ہو جانے پر کھانا خود ہی گرم کرنا پڑے گا۔ اب دفع ہو جاؤ۔ فیصل نے سٹور کے دروازے کو ٹھوکر مار کر بند کیا اور دوبارہ جگہ بنانے میں جُت گیا۔
سارا سامان ترتیب سے رکھنے پر ایک کونے میں اتنی جگہ بچ گئی تھی کہ وہ لیٹ سکے۔ خوش قسمتی سے ایک پرانا گدا مل گیا تھا۔ وہ اسی پر لمبا پڑ گیا۔ بہ مشکل لیٹا تھا کہ مدھو کی آواز آئی کہ مسٹر فیصل، کھانے کا سامان لینے جا رہی ہوں اور میرے پاس صرف پانچ پونڈ ہیں۔ فیصل نے کہا کہ ڈیڑھ دو سال میں اتنی بھی واقفیت نہیں ہوئی کہ کوئی ادھار ہی دے سکے۔ مدھو دروازے پر نمودار ہوئی اور کہا کہ واقفیت پیدا کرنے کا مطلب کسی کو اپنے گھر کی راہ دکھانا ہے اور وہ اکیلا رہنا پسند کرتی ہے۔ باقی وہ اس سے بھیک نہیں مانگ رہی۔ باپ بیٹے نے پیٹ بھر لیا ہے تو معاوضہ ادا کرنا پڑے گا۔ ورنہ شام کو خیالی پلاؤ ہی پر گزارا کرنا ہو گا۔
فیصل نے جیب سے پرس نکالا اور کہا کہ اس کے پاس فی الحال دو سو پونڈ ہیں، انھی سے گزارا چلا لو۔ پیسے لے کر مدھو نے پوچھا کہ دروازہ قفل کر جائے یا کھلا رہے۔ فیصل نے کہا کہ قفل کرنا بہتر رہے گا کیونکہ کوئی آ گیا تو مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔ مدھو نے ٹھیک ہے کہتے ہوئے واپس مڑ گئی۔
چند منٹ بعد اچانک ہی فیصل کو خیال آیا کہ وہ مدھو کو ساری صورت حال سے آگاہ کر چکا ہے۔ اگر وہ مارتھا کو فون کر دیتی تو اس کا پکڑا جانا یقینی تھا۔ اس نے خود کو تسلی دی کہ گیارہ ہزار برطانوی پونڈ ٹھکرانا آسان کام نہ ہوگا۔ مگر پریشان کن سوچ نے اسے گھبرا دیا کہ مارتھا اس سے زیادہ رقم ادا کر سکتی ہے۔ وہ پریشان ہو کر سٹور سے نکل آیا۔ داخلی دروازہ مدھو قفل کر گئی تھی۔ اپنی بے وقوفی پر اسے پشیمانی ہوئی۔ تبھی اس کی نظر کھڑکی پر پڑی۔ نیچے جھانکنے پر وہ کانپ گیا کہ اس بلندی سے وہ پیراشوٹ کے ذریعے ہی اترنے کا سوچ سکتا تھا۔ وہ چوہے دان میں پھنس گیا تھا۔ اسے رہ رہ کر خود پر غصہ آ رہا تھا کہ ایک غیر عورت پر اتنا اعتبار کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں تھا۔
دروازہ بند ہونے کے بعد فیصل نے ایک مرتبہ پھر کھڑکی کھول کر باہر جھانکا اور کسی مناسب اقدام کا سوچنے لگا۔ ہر کھڑکی پر دو فٹ چوڑا چھجا بنا ہوا تھا۔ وہ اس پر چلتے ہوئے ساتھ والے فلیٹ کی کھڑکی تک پہنچ سکتا تھا مگر اتنی اونچائی سے گرنے پر اس کی ہڈیوں کا سرمہ بن جاتا۔ بچے کو سنبھالنا الگ سردرد تھا۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اس نے فلیٹ کی تلاشی لی۔ چھپنے کے لیے سب سے بہتر اسے کپڑوں کی الماری لگی۔ اس نے کھڑکی کے پٹ کھول دیے۔ عمر گہری نیند میں تھا۔ دوا سنگھا کر اس کی نیند کو بے ہوشی میں بدل دیا اور الماری میں گھس گیا۔ اسے امید تھی کہ دشمن نے کھڑکی کھلی دیکھ کر اسے وہاں ڈھونڈنے کی بجائے باہر تلاش کرنے میں دلچسپی لے گا۔ اس کے برعکس بھی ہو سکتا تھا مگر اس کا امکان ایک فیصد سے بھی کم تھا۔
اسے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا۔ دروازہ کھلا اور زنانہ سینڈل کی ٹک ٹک سنائی دی۔ دروازہ بند ہوا اور پھر مدھو کی آواز گونجی، ”مسٹر فیصل…“
وہ خاموش ہی رہا۔
مدھو نے طنزیہ انداز میں خود کلامی کی کہ یہ کمینہ بھی دھوکے باز ہی نکلا۔ ہونہہ! دس ہزار پونڈ دوں گا۔ پھر اس نے کھڑکی کے پٹ دھماکے سے بند کیے اور باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی۔
مزید انتظار فضول تھا۔ وہ اکیلی واپس آئی تھی، یقیناً فیصل کا گمان غلط تھا۔ وہ الماری سے باہر نکلا۔ عمر کو بیبی کاٹ پر لٹا کر وہ خود بیڈ پر لیٹ گیا اور چلا اٹھا، ”اجی مدھو ملہوترا صاحب! کافی مل سکتی ہے۔“
مدھو متوحش ہو کر باہر نکلی اور حیران ہو کر بولی، ”تت… تم…“
فیصل نے بے پروائی سے کہا کہ ہاں مجھے ہی کافی چاہیے، عمر تو دودھ پر گزارا کرتا ہے۔
مدھو نے حیرانی سے چاروں جانب نظریں گھماتے ہوئے پوچھا کہ وہ کہاں چھپا تھا۔
فیصل نے ڈھٹائی سے جھوٹ بولا کہ چھپنا کیسا، کاٹھ کباڑ کو گلے لگا کر سویا تھا۔
مدھو نے خود کلامی کی کہ جھوٹ مت بولو، تم کھڑکی کے راستے بھاگے تھے اور شاید سیدھے راستے سے لوٹے ہو مگر دروازے کی تو اندر سے کنڈی لگی ہے۔ تم کھڑکی ہی سے واپس آئے ہو۔
فیصل نے بے پروائی ظاہر کی کہ تو۔
مدھو برہم ہو گئی اور پوچھا کہ اتنی بے اعتباری کس لیے۔
فیصل نے جواب دیا کہ غیر عورت پر کیسے اعتبار کر سکتا ہے۔
مدھو پھٹ پڑی کہ اگر اعتبار نہیں تو معاہدہ کیوں کیا۔
فیصل نے کہا کہ مجبوری ہے۔
مدھو بگڑ گئی اور بولی کہ وعدے کے مطابق ایک ہزار برطانوی پونڈ ادا کرو اور اپنی راہ لو۔
فیصل نے اطمینان سے کہا کہ میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے اور تم نے کل تک کی مہلت بھی دی ہوئی ہے۔ مدھو لمحہ بھر اسے غصے سے گھورتی رہی اور پھر مڑنے لگی تھی کہ اچانک خیال آیا۔
اس نے کہا کہ میں نے کہا تھا خواب گاہ میں تمہارا داخلہ ممنوع ہے اور تم میرے بیڈ پر لیٹے ہو۔
فیصل گھبرا کر معذرت کرتے ہوئے سٹور روم کی طرف بڑھ گیا جبکہ مدھو کا رخ کچن کی طرف ہو گیا۔
شام کا کھانا دونوں نے اکٹھے بیٹھ کر کھایا۔ فیصل نے خاموشی کی دیوار گرانے کی کوشش کی اور کہا کہ ایک بات پوچھ سکتا ہوں مس مدھو۔
مدھو نے روکھے پن سے جواب دیا کہ میری ذات کے متعلق نہیں۔
فیصل نے کہا کہ ہم نے چند دن اکٹھا رہنا ہے اور جیسے تم میرے بارے میں سب کچھ جانتی ہو، یونہی مجھے بھی تمہارا دکھڑا معلوم ہو جائے تو شاید وقت زیادہ بہتر گزر سکے۔
مدھو نے جواب گول کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ اور سالن لیں گے۔
فیصل نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ تم نے جواب نہیں دیا۔
مدھو نے برتن سمیٹتے ہوئے کہا کہ جواب دینے کی پابند نہیں ہوں۔
فیصل نے کہا کہ چائے مل جائے گی۔
مدھو نے کہا کہ ہاں اور اگر ڈرنک کرتے ہو تو اس کا بھی بندوبست کر سکتی ہوں۔
فیصل نے اس مرتبہ چوٹ کرنے میں کامیاب رہتے ہوئے کہا کہ شکریہ، یہ غلاظت تمہیں ہی مبارک ہو۔
مدھو نے سپاٹ لہجے میں کہا کہ میں نے بھی کبھی نہیں پی اور کچن کی طرف بڑھ گئی۔
فیصل سٹور روم میں آ گیا۔ وہ مدھو کے بارے میں صرف اتنا جانتا تھا کہ اس کا تعلق انڈیا سے ہے، وہ وطن واپس جانا چاہتی ہے اور اس سے پہلے اتنی رقم اکٹھا کر لینا چاہتی ہے جس کے بل پر انڈیا میں باعزت کام شروع کر سکے۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اسے کوئی انگریز دھوکے سے انڈیا سے یہاں لایا تھا اور پھر ایک بچے کا تحفہ دے کر کہیں غائب ہو گیا۔ کردار کے لحاظ سے وہ بالکل مشرقی لڑکی تھی، ورنہ شکل و صورت سے اس قابل تھی کہ غلط دھندے میں پڑ کر اچھی خاصی کمائی کر لیتی۔
فیصل پچھلے چند سال سے وہاں موجود تھا۔ اس کی خوش قسمتی تھی کہ شادی کے پہلے چار سال مارتھا نے بچے کی پیدائش میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔ پھر شاید ڈھلتی عمر نے اسے مجبور کیا اور آخر وہی بچہ میاں بیوی میں وجہ نزاع بن گیا۔ اس عرصے میں فیصل اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہو گیا تھا۔ تینوں بہنوں کی شادیاں اچھے خاندانوں میں ہو گئی تھیں اور اس نے اتنا پس انداز کر لیا تھا کہ پاکستان جا کر باعزت کاروبار شروع کر سکتا تھا۔ لیکن اب بیوی سے چپلقش عروج پر تھی۔ وہ بیٹے سے دست بردار نہیں ہو سکتی تھی اور فیصل بھی اپنے بچے کو غیر مسلم نہیں دیکھ سکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جیسے ہی مارتھا کو حمل ٹھہرا، اس نے بچے کے مستقبل کا سوچنا شروع کر دیا تھا۔ اس کا ارادہ مارتھا کی لاعلمی میں بچے کو کسی مشرقی ملک بھیجنے کا تھا جہاں سے وہ باآسانی پاکستان لے جا سکتا۔ کافی تلاش کے بعد اس کی نظر مدھو پر پڑی اور وہ اس کام کے لیے ہر طرح سے موزوں دکھائی دی۔ مگر بدقسمتی یہ ہوئی کہ جب تک وہ اپنے منصوبے پر عمل کرتا، مارتھا کا جی بھر چکا تھا اور وہ اس سے جان چھڑانے کے منصوبے بنانے لگی۔
فیصل پر پہلا حملہ تب ہوا جب اس کی کار سے ایک بڑا ٹریلر ٹکرایا۔ ٹریلر نے اچانک اپنی لین چھوڑ کر اس کی کار کو ٹکر ماری تھی۔ اس کی حاضر دماغی اسے بچا گئی اور کار تباہ ہونے کے باوجود وہ بچ گیا تھا۔ یہ حادثہ حیران کن ضرورتھا مگر اس نے اسے ایک حادثے کے طور پر ہی لیا تھا۔ اس کا ماتھا تب ٹھنکا جب اگلے دن موٹر سائیکل سوار نے اسے پسٹل سے نشانہ بنانا چاہا اور یہ صاف کسی دشمن کی کارروائی تھی۔ اس کے ذہن میں فوراً مارتھا کا نام آیا کیونکہ اس کا رویہ اس کی چغلی کھا رہا تھا۔ اس کی تصدیق تب ہوئی جب مارتھا کی لیڈی سیکرٹری مارگریٹ نے اسے کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچنے کی تلقین کی۔ گو اس نے مارتھا کا نام نہیں لیا تھا مگر یہ ضرور کہا تھا کہ کوئی اپنا اس کی جان کا دشمن بن گیا ہے۔ اور وہاں پر مارتھا کے علاوہ کوئی اس کا اپنا نہیں تھا۔ مارگریٹ نئی نئی ہی مارتھا کی سیکرٹری بنی تھی اور فیصل کے لیے دل میں نرم جذبات رکھتی تھی۔
فیصل نے اسی دن اپنے اکاؤنٹ سے ساری رقم نکال کر ایک محفوظ جگہ پر چھپا دی۔ ویسے بھی زیادہ تر رقم تو اس نے پاکستانی اکاؤنٹ میں منتقل کی ہوئی تھی۔ اگلے مرحلے میں وہ بچے کو گھر سے نکال لایا۔ لیکن مارتھا کو بروقت پتہ چل گیا اور اس کے محافظ فیصل کے تعاقب میں دوڑ پڑے۔ مارتھا کے محافظوں کو تو اس نے کامیابی سے چکما دے دیا اور دن بھر خفیہ ٹھکانے پر چھپا رہا مگر چار پانچ ماہ کے بچے کو سنبھالنا بہت مشکل تھا۔ بچے کو کوئی عورت ہی سنبھال سکتی تھی اور اس کی نظر میں مدھو سے بہتر کوئی عورت نہیں تھی۔ یوں بھی بچہ اس کی واضح شناخت تھا۔ وہ جتنا بھی چھپنے کی کوشش کرتا، حلیہ تبدیل کرتا، بچے کی بدولت پہچان لیا جاتا۔ مدھو کے فلیٹ کا پتہ اسے معلوم تھا۔ وہاں جاتے ہوئے وہ راستے میں ہی پہچان لیا گیا اور مارتھا کے ہائر کیے ہوئے قاتل پیچھے پڑ گئے۔ لیکن وہ کسی نہ کسی طرح بچ کر مدھو کے پاس پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اور مدھو نے اسے بچانے کو جس جرأت اور بے باکی کا مظاہرہ کیا وہ اس کے لیے شدید حیرانی کا باعث بنا تھا۔ شاید یورپ کی آب و ہوا اس تبدیلی کا باعث بنی تھی۔ لیکن اس کا بعد کا رویہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ اپنی مشرقیت کو خیر باد نہیں کہہ سکی تھی۔ اپنی خواب گاہ سے فیصل کو بے دخل کرنا بھی اس کے بے داغ کردار کا مظہر تھا۔
لیکن فیصل کو نہ تو اس کے کردار سے کوئی غرض تھی اور نہ شکل و صورت سے کوئی مطلب۔ اسے تو کسی طرح عمر کو پاکستان پہنچانا تھا اور اس مقصد کو مدھو بہت کام آ سکتی تھی۔ گو اس نے ہامی بھر لی تھی مگر فیصل اس پر مکمل بھروسا نہیں کر سکتا تھا۔ اگر وہ معاوضے پر فیصل کا کام کر سکتی تھی تو فیصل سے کئی گنا زیادہ معاوضہ اسے مارتھا دے سکتی تھی۔ صرف اس صورت میں فیصل اسے مارتھا کے پاس جانے سے روک سکتا تھا کہ اس کے دل میں اپنے لیے محبت یا ہمدردی کے جذبات پیدا کر دیتا اور یہی دو صورتیں ہیں جن کی وجہ سے کسی بھی عورت سے کام لیا جا سکتا ہے۔ فیصل کی سوچوں کا سلسلہ اسی سمت رواں ہو گیا۔ مدھو کے دل میں جگہ بنانا بہت ضروری ہو گیا تھا جبکہ وہ نادانستگی میں اس پر بے اعتباری ظاہر کر چکا تھا۔
اگلے دن صبح فیصل نے مدھو کے پاؤں کے انگوٹھے کو ہلا کر بیدار کیا اور کہا، ”مادام آپ بیڈ ٹی لیں گی یا تازہ دم ہو کر ناشتا کرنا پسند فرمائیں گی؟“
مدھو محجوب ہوئی اور بولی کہ آپ نے کیوں تکلیف کی، میں بنا لیتی، ابھی تو… اس نے گھڑی کی طرف نظر دوڑائی مگر وقت دیکھتے ہی خاموش ہو گئی۔
فیصل نے لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ جی جی، ابھی تو دوپہر ہونے میں گھنٹہ بھر رہتا ہے اور خفت سے ہنس دیا۔
مدھو نے کہا کہ کہنا تو نہیں چاہیے مگر ہنستے ہوئے اچھی لگتی ہو۔ ہنسی ایک دم غائب ہوئی اور وہ بے تاثر چہرہ لیے غسل خانے کی طرف بڑھ گئی۔ اس کی واپسی تک فیصل ناشتا لگا چکا تھا۔
مدھو نے کہا کہ آپ کو مجھے جگانا چاہیے تھا، یہ عورتوں کا کام ہے اور عورتوں ہی کے لیے رہنے دیں، پلیز آئندہ ایسا نہ کیجیے گا۔
فیصل نے کہا کہ یہ یورپ ہے مادام، یہاں یہ کام مرد کرتے ہیں یا ملازم اور میں اپنی بیوی کو ملازموں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا۔ مدھو نے اسے تیز نظروں سے گھورا۔ وہ جلدی سے وضاحت کرنے لگا کہ بیوی سے مراد مارتھا تھی۔
مدھو نے منہ بنایا اور کہا کہ یہ یورپ سہی مگر میں یورپین نہیں ہوں۔
فیصل نے کہا کہ کہتے ہیں کہ روم میں وہی کرو جو رومی کرتے ہیں۔
مدھو نے طنزیہ لہجے میں بولی کہ کہنے کی حد تک آسان ہے، ورنہ آپ خود بھی اس مقولے پر عمل پیرا نہیں ہیں۔
فیصل نے پوچھا کہ کیسے۔
مدھو نے کہا کہ آپ شراب نہیں پیتے، اپنے بیٹے کو عیسائی نہیں بنانا چاہتے، اس کا اقرار آپ کر چکے ہیں، اس کے علاوہ بھی کئی ایسے کام ہوں گے جو مجھے معلوم نہیں مگر آپ کے یہاں کے لوگوں کے برعکس کرتے ہوں گے۔
فیصل نے بات سنبھالتے ہوئے کہا کہ میرا مطلب مذہب سے ہٹ کر تھا۔
مدھو نے کہا کہ ہمارے مذہب اور تہذیب میں تو یہی ہے کہ گھر کا کام کاج عورتیں کریں گی۔ اور جہاں تک میری معلومات ہے تو مسلمانوں میں بھی گھریلو کام عورت کے ذمہ ہوتے ہیں۔
فیصل کھسیاتے ہوئے بولا کہ آپ نے تو بات ہی پکڑ لی ہے۔
مدھو نے کہا کہ میں مردوں کی نفسیات جانتی ہوں۔ مطلبی، مکار، دھوکے باز اور چاپلوس ہوتے ہیں۔ جس سے کام ہو اس کے لیے شکر کی طرح میٹھے، ورنہ بچھو کی طرح ڈنک مارنے سے باز نہیں آتے۔
فیصل نے کہا کہ ایک مرد کا عمل پوری جنس کی نمائندگی نہیں کرتا۔
مدھو نے جواب دیا کہ دیگ کا ذائقہ چکھنے کو ایک چاول کافی ہوتا ہے۔
فیصل نے کہا کہ تب جب چاول ایک ہی دیگ میں پکے ہوں۔
مدھو اکتا گئی اور پوچھا کہ کیا یہ موضوع تبدیل ہو سکتا ہے۔
فیصل نے کہا کہ ایک مشورہ دوں۔ مدھو سوالیہ نظروں سے اسے گھورنے لگی۔
فیصل نے کہا کہ غم بانٹا نہیں جا سکتا مگر کسی خیرخواہ کو سنانے سے اس کی شدت میں کمی ضرور ہوتی ہے۔
مدھو نے اطمینان سے بولی کہ جب کوئی خیرخواہ ملے گا تو ضرور سناؤں گی۔
فیصل نے لہجے کی نرمی سے حوصلہ پا کر کہا کہ یقیناً میں توقعات سے بڑھ کر خیرخواہ ثابت ہوں گا۔ اور اپنے مقصد میں کامیاب رہا۔
مدھو چند لمحے سوچ میں کھوئے رہنے کے بعد بولی کہ ماں باپ میرے بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے۔ میں چچا کے گھر پلی بڑھی۔ چچا سفید پوش تھا مگر انہوں نے مجھے اور اپنی دونوں بچیوں کو اچھی تعلیم دلائی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد میں نے کئی جگہ نوکری کی درخواستیں دیں، انٹرویو دیے اور کسی بھی جگہ سے سننے کو نہ ملی۔ البتہ وہاں جو پہلا مطالبہ کیا جاتا اسے پورا کرنا میرے بس سے باہر تھا۔ ہر باس کی خواہش ہوتی کہ میں اس کی سیکرٹری یا ورکر کے علاوہ بھی کچھ بنوں جو میرے لیے ناممکن تھا۔ نتیجہ مجھے نوکری کو خیر باد کہنا پڑتا۔ اسی اثناء میں ایک ایسے کام کی آفر ہوئی جس کا معاوضہ پانچ لاکھ روپے مل رہا تھا اور میری عصمت بھی محفوظ تھی۔ اس کا نام الیگزنڈر تھا۔ اس سے ملاقات ایک پارک میں ہوئی جہاں میں روزانہ سہ پہر کو جاتی تھی۔ تب اس نے حلیہ تبدیل کیا ہوا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ بھارت سرکار کو مطلوب ہے، ملک سے باہر جانا چاہتا ہے اور اسے ایسی لڑکی کی مدد درکار ہے جو اس کی نقلی بیوی کا کردار ادا کر سکے۔ اس مقصد کو اس نے مجھے پیشکش کی کہ اگر میں انگلینڈ تک اس کی نقلی بیوی بن کر جاؤں تو وہ مجھے پانچ لاکھ ہندوستانی روپے دے گا۔ انگلینڈ پہنچتے ہی میرا کام ختم ہو جانا تھا۔ تب میرے ذہن میں کئی سوال اٹھے کہ صرف میں ہی کیوں، اس آسان کام کو تو کوئی بھی لڑکی تیار ہو سکتی تھی، وہ مجھے یہ پیشکش کیوں کر رہا تھا وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس چرب زبان کے پاس ہر سوال کا شافی جواب موجود تھا۔ میں انکار نہ کر سکی اور ایک دو دن سوچنے کے بعد راضی ہو گئی۔
لیکن وہ ایک دھوکے باز شخص تھا جس طرح کہ تمام مردوں کی عادت ہوتی ہے۔ جہاز میں اس کی اور میری سیٹیں علیحدہ علیحدہ تھیں۔ مجھے حیرانی ہوئی کہ میں اس کی بیوی کا کردار کیسے ادا کر رہی ہوں جو اس سے علیحدہ سیٹ پر بیٹھی ہوں۔ مجھے اس نے یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ اس کی حتی الوسع کوشش یہی ہے کہ میری جیسی سادہ لوح کو ہدف نہ بننا پڑے البتہ اس سے پوچھ گچھ ہوئی تو تب وہ میرا سہارا لینے پر مجبور ہو جائے گا۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ میرے ذریعے اس نے قیمتی ہیرے سمگل کیے تھے۔ وہ جرم کی دنیا کا جانا پہچانا نام تھا۔ پولیس اور زیر زمین لوگ اس کا سامان کھنگالتے رہے اور ہیرے میرے پاس بغیر کسی نقصان اور خطرے کے محفوظ رہے۔ میں جرم کی الف بے سے ناواقف تھی اور پولیس و ایجنسیوں کی فہرست میں دور دور تک میرا نام و نشان نہیں تھا۔ اس نے میرے لیے ایک ہوٹل میں کمرہ بک کرایا ہوا تھا اور اس بارے مجھے انڈیا ہی سے سمجھا دیا تھا۔ میں مع اپنے سامان کے وہاں پہنچ گئی۔ وہ مجھے اگلے دن ملا۔ ہم نے اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا۔ دوران ڈنر اس نے مجھے ہیروں کی حقیقت بھی بتلا دی تھی۔ اس کے بعد وعدے کے مطابق اس نے بقیہ اڑھائی لاکھ دینے تھے مگر کھانے کے بعد ہم نے جو کافی پی اس میں خبیث نے نشہ آور دوا ملائی ہوئی تھی۔ مجھے کچھ ہوش نہ رہا۔ آنکھ کھلنے پر پتہ چلا کہ اس نے میری قیمتی متاع لوٹ کر مجھے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔ یہ ایسا حادثہ تھا جس کے بارے کسی کو اطلاع دینا خود کو تماشا بنانے کے مترادف تھا۔ اور پھر اس ملک میں تو یہ چھوٹی سی بات سمجھی جاتی ہے۔ یوں بھی میرے پاس اس کا پتہ موجود نہیں تھا۔ اتنی مہربانی اس نے کر دی تھی کہ ہوٹل کا بل چکانے کے علاوہ میرے خرچے کو چند سو برطانوی پونڈز کی بھیک بھی چھوڑ گیا تھا۔ لیکن اس رقم پر میں انڈیا واپس نہیں جا سکتی تھی۔ اس خبیث سے پیشگی لیے ہوئے اڑھائی لاکھ میں چچا کے حوالے کر آئی تھی۔ اور اس سے میں نے یہی بہانہ کیا تھا کہ ایک معاہدے پر انگلینڈ جا رہی ہوں۔ اب اس سے رقم واپس مانگنے کا مطلب تھا مجھے ساری کہانی سنانا پڑتی۔ ایک صورت یہ تھی کہ میں جوانی کیش کراتی جو مجھے کسی صورت گوارا نہیں تھا۔ عورت کے اس روپ سے مجھے از حد نفرت ہے۔ لے دے کے ایک ہی راستہ بچتا تھا کہ نوکری کروں۔ صورت حال کا جائزہ لے کر میں نے ریسٹورنٹ میں بطور ویٹریس کام شروع کر دیا۔ گو یہ گھٹیا اور نچلے درجے کا کام تھا مگر اس کے علاوہ چارہ کار بھی تو نہیں تھا۔ اس دوران اس کمینے کی گھٹیا حرکت رنگ لائی۔ یہ خبر میرے لیے روح فرسا تھی کہ میں ماں بننے والی ہوں۔ لیکن الیگزنڈر سے حد درجہ نفرت کے باوجود میں اسقاط حمل کی جرأت نہ کر سکی۔ اب میری خوش قسمتی سمجھو یا بدقسمتی کہ میرا بیٹا پیدائش کے ڈیڑھ ماہ بعد ہی چل بسا۔ بس یہ میری کہانی ہے اور اسی وجہ سے میں نے آپ سے بھی پیشگی رقم کا مطالبہ کیا ہے۔
فیصل نے رسم نبھاتے ہوئے کہا کہ گویا اپنا معاہدہ اب تک قائم ہے۔
مدھو نے کہا کہ مجبوری ہے کیونکہ مجھے رقم کی اشد ضرورت ہے۔
فیصل نے کہا کہ آپ کی کہانی سن کر افسوس ہوا۔
مدھو نے خلاف توقع طعنہ زن نہ ہو کر کہا کہ آپ کا افسوس میرے کس کام کا۔
فیصل نے کہا کہ میں چلتا ہوں تاکہ آپ کا مطالبہ پورا کر سکوں، لیکن اس سے پہلے آپ کو چھوٹی سی زحمت کرنا پڑے گی۔
مدھو نے سوالیہ نظروں سے اسے گھورا۔
فیصل نے کہا کہ مجھے حلیہ بدلنے کو تھوڑا سامان چاہیے ہو گا۔
مدھو نے صاف گوئی سے بولی کہ میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ کچھ خرید کر لا سکوں۔
فیصل نے کہا کہ ریزر مل جائے گا۔
مدھو کے ہونٹوں پر دل آئیز مسکراہٹ نمودار ہوئی اور بولی کہ میں شیو نہیں کرتی۔
فیصل نے کہا کہ قینچی۔
مدھو نے اثبات میں سر ہلایا کہ مل جائے گی۔
فیصل نے کہا کہ لے آؤ، بلکہ اپنا میک اپ بکس ہی لے آؤ۔
مدھو مطلوبہ سامان لے آئی۔ فیصل نے مونچھوں کو بالکل ختم کر کے لمبے بالوں کو تراشنا شروع کر دیا مگر اپنے بال کاٹنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ اسے دشواری میں پا کر مدھو نے پیشکش کی کہ شاید میں آپ کی کوئی مدد کر سکوں۔
فیصل نے کہا کہ ضرور اور قینچی اس کی جانب بڑھا دی۔ مدھو مہارت سے بال تراشنے لگی۔
فیصل نے کہا کہ میرا خیال ہے آپ پہلی دفعہ یہ کام نہیں کر رہیں۔
مدھو مسکرائی اور بولی کہ آپ کا خیال بالکل صحیح ہے۔ دونوں چچازاد کئی دفعہ تختہ مشق بن چکی ہیں۔ انہیں نت نئے فیشن کا شوق تھا۔ غربت کی وجہ سے بیوٹی پارلر جا نہیں سکتی تھیں۔ لے دے کے میں رہ جاتی جو ان کے شوق میں معاون ثابت ہوتی اور اسی طرح میرے ہاتھ میں صفائی آ گئی۔
فیصل نے کہا کہ تم یہاں پر بھی بیوٹی پارلر جوائن کر سکتی تھیں۔
مدھو نے کہا کہ خیر اتنی بھی ماہر نہیں ہوں۔
فیصل نے کہا کہ کسر نفسی ہے مادام۔
مدھو نے کہا کہ مسکہ لگانا چھوڑیں اور یہ بتائیں کتنے چھوٹے کر دوں۔ فیصل نے اس کے لہجے میں خوش آئند تبدیلی محسوس کی۔
فیصل نے کہا کہ سولجر کٹ مناسب رہے گا۔
بال تراش کر مدھو مستفسر ہوئی کہ ایک بات پوچھوں۔
فیصل نے کہا کہ منع کس نے کیا ہے۔
مدھو جھجکتے ہوئے بولی کہ اگر میں عمر کو دودھ پلا دیا کروں۔
فیصل کے لہجے میں حیرانی تھی کہ آپ ہی کی ذمہ داری ہے۔
مدھو نے جھجکتے ہوئے وضاحت کی کہ مم… میرا مطلب ہے اپنا دودھ پلا دیا کروں۔ اور فیصل کو سوچ میں گم دیکھ کر بولی کہ کرشنا کے پتا سے حد درجہ نفرت کے باوجود وہ میرا بچہ تھا۔ میں شاید صحیح طریقے سے اس کی دیکھ بھال نہ کر سکی تبھی بھگوان نے واپس لے لیا اور اب میں اس پاپ کا پرایشچت کرنا چاہتی ہوں۔ چند دن جو عمر میرے پاس ہے، اگر آپ کی اجازت ہو تو…
فیصل نے ایک گہرا سانس لیا کہ بچہ فیڈر کا عادی ہے، میرا خیال ہے کہ…
مدھو نے قطع کلامی کی کہ فطرت سے انکار ممکن نہیں مسٹر فیصل۔ اگر اسے ماں کا دودھ نہیں ملا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ پینا نہیں چاہتا۔
فیصل نے کہا کہ آپ شاید خفا ہوں مگر میں مسلمان ہوں اور…
مدھو نے پھر قطع کلامی کی کہ شاید چند دن میں بچے کی مسلمانی پر کوئی اثر نہ پڑے۔
فیصل نے خلاف توقع راضی ہو کر کہا کہ ٹھیک ہے۔ اگر نہ پینا چاہے تو زبردستی نہ کرنا۔
مدھو متبسم ہوئی اور بولی کہ کل سے میرا ہی دودھ پی رہا ہے۔
فیصل اپنا چہرہ بدلنے کی طرف متوجہ ہو گیا۔ مدھو کی یہ حرکت بھی اس کی مشرقیت کی عکاس تھی ورنہ اس عمر کی لڑکیوں کو تو اپنے فگرز کی پڑی رہتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے پر راضی نہیں ہوتیں کجا پرائے بچے کو۔ تھوڑی دیر بعد وہ حلیہ تبدیل کر کے باہر جانے کو تیار ہو گیا تھا۔
مدھو نے کہا کہ اگر زیادہ خطرہ محسوس کر رہے ہو تو دو تین دن بعد چلے جانا۔
فیصل نے اسے شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ نہیں میرا جانا ضروری ہے ورنہ آپ کے دل میں کھدبد رہے گی۔ یوں بھی آپ تمام مردوں کو الیگزنڈر سمجھتی ہیں۔
مدھو نے تردید نہیں کی اور بولی کہ بے شک۔ گویا مردوں کے متعلق اس کے خیالات میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔
فلیٹ سے نکل کر اس نے دائیں بائیں جائزہ لیا مگر گیلری خالی پڑی تھی۔محتاط انداز میں وہ باہر آگیا۔عمارت کے سامنے ہی خالی ٹیکسی مل گئی تھی۔ڈرائیور کو اپنے خفیہ ٹھکانے کے قریب ایک مشہور ہوٹل کا پتا بتا کر وہ دائیں بائیں کا جائزہ لینے لگا۔جلد ہی مطلوبہ مقام تک پہنچ گیا۔ڈرائیور کو رخصت کر کے آہستہ روی سے چل پڑا چند گلیاں مڑنے کے بعد ہی وہ مطلوبہ مکان کے سامنے پہنچ گیا تھا۔ گھر ایک بوڑھی عورت کا تھا جہاں پچھلے چند ماہ سے وہ پے انگ گیسٹ کی حیثیت سے رہ رہا تھا۔ گو وہاں کبھی کبھار ہی آتا تھا مگر کرایہ باقاعدگی سے ادا کرتا تھا۔بیرونی دروازے کی ڈپلی کیٹ چابی اس کے پاس موجود رہتی تھی کہ وقت بے وقت آمد سے مالک مکان کو زحمت نہ ہو۔مالک مکان اسے ڈرائنگ روم میں ملی۔
اس نے مسکرا کر کہا۔”صبح بخیر نوجوان لڑکی۔“
”یہ صبح ہے۔“وہ خوش دلی سے مسکرائی۔”اورتم نے حلیہ کیسا بنایا ہوا ہے ،پہچان ہی نہیں ہو رہی۔“
”نیا فیشن ….لڑکی ….نیا فیشن۔“وہ اس کے سر پر چپت مارتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
” آج کل کے لڑکے بھی ناں ….“افسوس بھرے انداز میں سر ہلاتے ہوئے وہ دوبارہ فیشن میگزین میںکھو گئی۔
فیصل نے ضروری سامان ایک بیگ میں ڈالا،خفیہ مقام پر چھپائی رقم اپنی جیبوں میں منتقل کی اور باہر نکل آیا۔
”تو مادام ڈولی !….آپ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی ہیں یا میری نظر کا فتور ہے۔“
”تم شرارتوں سے باز نہیں آﺅ گے۔ “وہ رسالہ بند کر کے اس کی طرف متوجہ ہوگئی۔
”خدا قسم ….سچ کہہ رہا ہوں۔“
”کہیں جانے کا ارادہ ہے؟“بیگ دیکھ کراس نے اندازہ لگایا۔
”ہے ایک آپ کی طرح خوب صورت لڑکی ،بڑی مشکل سے پھنسائی ہے۔ چند دن اس کے فلیٹ میں بسر گزارنے ہیں۔ ہو سکتا ہے چند دن مستقل تعلق میں تبدیل ہوجائیں۔“فیصل نے اس کے جانب کمرے کی چابی بڑھائی۔”اگر بات نہ بنی تو واپس آکر لے لوں گا ورنہ اس ماہ کے واجبات میں ادا کر چکا ہوں۔یکم کے بعد آپ بے شک کمرہ کسی اور کے حوالے کر سکتی ہیں۔“
مادام ڈولی نے سر ہلاتے ہوئے چابی لے لی۔
فیصل باہر نکل آیا۔مکان کے سامنے ہی اسے ایک خالی ٹیکسی مل گئی تھی۔
”سیدھے چلتے رہو جہاں اترنا ہوگا بتا دوں گا۔“ڈرائیورنے سر ہلا کر ٹیکسی آگے بڑھا دی ، وہ پیچھے مڑ کر دیکھنے لگااور یہ دیکھنا بروقت کام آگیا۔ ایک سیاہ ویگن جو ڈولی کے ساتھ والے مکان کے سامنے کھڑی تھی اور اس کا رخ مخالف جانب تھا ، ٹیکسی کے تعاقب میں چل پڑی۔فیصل کا ماتھا ٹھنکا ،وہ نظروں میں آگیا تھا جانے وہ کب سے اس کے پیچھے لگے تھے۔حلیہ بدل کر بھی وہ چھپ نہیں سکا تھا۔شاید مارتھا نے بہت سارے لوگوں کو اس کی کھوج میں لگایا ہوا تھااورلازماََ وہ تب ہاتھ ڈالتے جب بچہ اس کے پاس ہوتا۔
ٹیکسی ڈرائیور نارمل رفتار سے چل رہا تھا اس نے تعاقب کرنے والی ویگن کا جائزہ لیا وہ بھی مناسب فاصلہ رکھ کرآ رہے تھے۔ گویا وہ فیصل کے ٹھکانے ہی پراسے گھیرنا چاہتے تھے۔ایک ترکیب سوچ کر وہ ٹیکسی ڈرائیور سے مخاطب ہوا۔
” دوست !…. بات سنو۔“
”بولیں ۔“ عقبی شیشے میں اس کے چہرے پر نظرڈال کر وہ سامنے متوجہ ہوگیا۔
”پیچھے آنے والی کالی ویگن نظر آرہی ہے۔“
”جی ….“بیک مرر پر سرسری نظر دوڑا کر وہ مختصراََ بولا۔
” ہمارے تعاقب میں ہیں۔ تیسری گلی میں ٹیکسی موڑ تے ہی ایک لمحے کو بریک لگانا ،میں نیچے اتر جاو ¿ں گا اور آپ آگے بڑھ جانا۔لیکن ٹیکسی اس مہارت سے روکنا کہ انہیں معلوم نہ ہومیں اتر گیا ہوں۔“ اس نے سو پونڈکا نوٹ اس کی گود میں پھینک دیا۔
نوٹ جیب میں منتقل کرتے ہوئے وہ اطمینان سے بولا۔”آپ جتنا جلدی اتریں گے،میں اتنا تیزی سے آگے بڑھ سکوں گا۔“
”یہ مجھ پرچھوڑ دو۔“فیصل کے لہجے میں اعتماد تھا۔ علاقہ فیصل کا دیکھا بھالا تھا۔تیسری گلی کے شروع میں کوڑا کرکٹ کا ایک بڑا سا ڈرم رکھا تھا جس کے پیچھے وہ آسانی سے چھپ سکتا تھا ۔
مذکورہ گلی میں مڑتے ہی ٹیکسی ڈرائیور نے ایک لمحے کو بریک لگائی ، فیصل پہلے سے دروازہ کھول چکا تھا۔سرعت سے نیچے اتر گیا ۔ڈرائیور نے تیزی سے ٹیکسی آگے بڑھا دی۔ وہ بھاگ کر کچراڈرم کے پیچھے بیٹھ گیا۔وہ بمشکل ہی بیٹھ پایا تھا کہ کالی ویگن گلی میں داخل ہوئی اور تیزی سے آگے بڑھ گئی۔دونوں گاڑیوں کے اوجھل ہوتے ہی وہ کپڑے جھاڑتے ہوئے ڈرم کے پیچھے سے نکل آیا۔ایک دو راہگیروں نے یہ نظارا دیکھا تھامگرا نھوں نے نظر انداز کر دیا تھا۔فیصل گلی سے نکل کر روڈ پر آیا اور خالی ٹیکسی کو ہاتھ دے کربیٹھ گیا۔مدھو کے فلیٹ سے ایک سٹاپ پہلے ٹیکسی رکوا کر وہ نیچے اتر ااوروہاں سے پیدل ہی فلیٹ کی طرف چل پڑا۔وہ شدت سے اس کی منتظر تھی۔
”اتنی دیر لگا دی۔“دروازہ کھولتے ہی اس نے بے تابی سے پوچھا۔
”زندگی کا سفر ہی ایسا ہے کہ مطلوبہ شخص تک پہنچتے ہوئے دیر ہوجاتی ہے۔“
”جواب، سوال سے مطابقت نہیں رکھتا ۔“اس نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔
”شاید ایسا نہیں ہے، البتہ آپ سمجھنا ہی نہ چاہتی ہوں تو علیحدہ بات ہے۔“
”مسٹر فیصل !میں اچھی طرح سمجھتی ہوں،آپ نہیں سمجھ رہے اور چاہتے ہیں میں معاہدہ توڑ دوں۔“
فیصل نے پینترا بدلا۔”معذرت میں مذاق کر رہا تھا۔“
”ایسا بھونڈا مذاق مجھے بالکل پسند نہیں۔“بیزار لہجہ اس کی اندرونی حالت کا پتا دے رہا تھا۔
” اپنی رقم سنبھالو….ہر وقت مرچیں چبائے رکھتی ہو۔“فیصل نے گن کر گیارہ ہزار پونڈ اس کی طرف بڑھادےئے۔
رقم لے کر اس نے بے پروائی سے تکیے کے نیچے رکھ دی۔”آپ چائے لیں گے ۔“
”کافی زیادہ بہتر رہے گی۔“
”بیٹھیں میں لاتی ہوں۔“وہ کچن کی طرف بڑھ گئی۔ فیصل سٹور روم کی طرف بڑھ گیا کہ اس کا وہاں بیٹھنا مدھو کو پسند نہیں تھا۔
کافی اس نے بھی فیصل کے ساتھ سٹور روم میں بیٹھ کر پی تھی اور ایک مرتبہ پھر دیر سے آنے کی وجہ دریافت کی ۔ فیصل کو ساری تفصیل دہرانا پڑی۔
”گویا آپ کے لےے باہر کافی خطرہ ہے۔“
”بہت زیادہ،لیکن اب کوئی خوف نہیں۔ میرا باہر کاکام ختم ہو گیا ہے۔“
٭……..٭
وہ رات کے کھانے پربیٹھے تھے ،فیصل نے پوچھا ”نوکری کے متعلق کیا سوچا ہے ۔“
”شاید اس کی ضروت نہیں رہی۔“
” وہاں موجودہونے پر آپ ہر قسم کے شک سے محفوظ رہیں گی۔“
اس نے حیرانی ظاہر کی۔”مجھ پر کیسے شک کیا جا سکتا ہے ۔“
”میںہر امکان کوختم کرنا چاہتا ہوں۔“
”جب ایسا امکان ہی نہیں ہے۔“
”میں جو کہہ رہا ہوں۔“فیصل جھلا گیا۔
”جو معاہدہ ہوا اس کے علاوہ ایک بات بھی نہیں مانوں گی۔کل کو آپ کوئی اور مطالبہ رکھ دیں اور پھر کہیں میں جو کہہ رہا ہوں۔گیارہ ہزار پونڈ میں، آپ کی داسی نہیں بن گئی کہ حکم جمانے لگو۔“
فیصل نے اسے شاکی نظروں سے گھورا اور کھانا ادھورا چھوڑکر اٹھ گیا۔سٹور روم میں جا کر گدے پر لیٹتے ہوئے وہ خود کو ملامت کرنے لگا ۔ اسے حکمت سے مدھو کو راضی کرنا چاہےے تھا ۔وہ اس کی بیوی یا زرخرید نہیں تھی کہ حکم دے سکتا۔
مدھو کا ریسٹورنٹ میں جانا ازحد ضروری تھا۔ سب ملازم اس کی مجبوریوں اور مزاج سے واقف تھے۔ وہ منیجر سے بھی کچھ رقم پیشگی لے کر آئی تھی۔ پھر قاتلوں سے بھی فیصل اسی عمارت میں ہی غائب ہوا تھا۔ اور سب سے بڑھ کر وہ دونوں مشرقی تھے۔کسی کوہلکا سا گمان بھی ہو جاتا تو فیصل کا سارا منصوبہ دھرا کا دھرا رہ سکتا تھا۔
انہی خیالوں میں گم تھا کہ مدھو ٹرے میں کافی کے برتن لےے اندر داخل ہوئی ….
”کسی کی تنہائی میں مخل ہونے سے پہلے اجازت مانگ لینا چاہےے ۔“وہ تلخ ہوا۔
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔ ” اپنا گھر ہے، میں جہاں چاہوں جا سکتی ہوں۔“
”یہ حصہ تم کرائے پر دے چکی ہو۔“فیصل نے آنکھیں نکالیں۔
”میں کافی دینے آئی تھی۔“فیصل کا غصہ دیکھ کر وہ نرم پڑ گئی تھی۔
”نہیں پینااور اب آپ جائیں۔“
” اگر میں ریسٹورینٹ میں چلی گئی تو عمر کو کون سنبھالے گا۔“ٹرے نیچے رکھ کر وہ بیٹھ گئی تھی۔
اسے نر م پا کر فیصل نے بھی ہتھیار ڈال دیے تھے۔
”میں ۔اور آپ بھی دوتین گھنٹوں سے زیادہ کام نہ کرنا۔ بچے کا بہانہ کرکے واپس آجانا۔بس اتنا ہو کہ آپ کے غائب ہونے کو کوئی مجھ سے منسوب نہ کر سکے۔“
وہ معترض ہوئی۔”آپ کے غائب ہونے کو مجھ سے کیسے منسوب کیا جا سکتا ہے۔“
”تم بھی میری طرح مشرقی ہو مارتھاکے آدمیوں سے میں اسی بلڈنگ میں گم ہوا۔ تم اس کے ریسٹورینٹ میں بہ طور ملازم کام کرتی رہی ہو ،شاید وہ اٹکل پچو سے تیرا میرا تعلق پیدا کر لے اس کے علاوہ بھی کئی امکان ہو سکتے ہیں ۔“
گو فیصل کے دلائل میں کوئی خاص وزن نہیں تھا، مگر وہ راضی ہو گئی تھی۔”اچھا ٹھیک ہے،اب برگر کھاو ¿ ،کافی پیواور غصہ تھوک دو۔“اس نے برگر اس کی سمت بڑھایا۔
”برگر کس خوشی میں۔“
”جانتی ہوں آپ پیٹ بھرنے سے پہلے اٹھ آئے ہیں۔“
فیصل شاکی ہوا۔”تو آپ کو کیا تکلیف ۔“
”آپ میرے مہمان ہیں۔“
”اچھا مہمان ہوں،کوڑا کرکٹ میں پھینکا ہوا ہے ۔“
”اتنا چوڑا ہونے کی بھی ضرورت نہیں،یہاں نہیں رہنا تو کہیں بھی جا سکتے ہو۔میری خواب گاہ میں تو پتا ہوگا کس کس کا داخلہ ممنوع ہے۔“اس کے ہونٹوں پر دلآویز مسکراہٹ نمودار ہوئی اور فیصل دیکھتا رہ گیا۔فیصل کی نظروں کی تپش نے اس کے چہرے پر حیا آلود سرخی بکھیردی تھی ۔جو فیصل کو اور زیادہ بے خود کر گئی تھی۔مرد کے جذبات کا اندازہ کرنا عورت کی فطرت میں ودیعت کر دیا گیا ہے۔وہ شرما کر اٹھ گئی۔
”آپ کافی پی لیں میں برتن بعد میںلے جاتی ہوں۔“وہ باہر نکل گئی اور فیصل مسکراتے ہوئے برگر کھانے لگا۔کافی پی کر اس نے برتن اٹھائے اور کچن کی طرف بڑھ گیا۔وہ عمر کے ساتھ اٹھکیلیاں کر رہی تھی۔فیصل کو برتن لے جاتے دیکھ کر بولی۔
”فیصل صاحب ….آپ زحمت نہ کیجئے گا ،میں دھو دیتی ہوں۔“وہ مسٹر فیصل سے فیصل صاحب کے درجے پر ترقی پا گیا تھا۔برتن کچن میں چھوڑ کر وہ واپس مڑ گیا کہ اسے ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اس نے تنبیہہ کی۔”اور ہاںصبح کچن میں گھسے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔“
”وہ آپ پہلے سے ہیں۔“ فیصل منہ بناتے ہوئے سٹور روم میں گھس گیا۔
٭……..٭
اگلے چند دن خیریت سے گزرے فیصل نے اس دوران کہیں جانے کی کوشش نہیں کی تھی نہ اسے ضرورت محسوس ہوئی۔البتہ کبھی کبھارتنہائی میں اس کا جی کرتا کہ وہ مارتھا کا کام تمام کر دے مگر پھر قتل کی قباحت ،پکڑے جانے کا خوف اسے اس خیال سے باز رکھتا۔یوں بھی بچے پر قبضہ کر کے اس نے بدلہ لے لیا تھا۔
مدھو باقاعدگی سے ریسٹورینٹ جانے لگی تھی۔عمر اس سے بہت مانوس ہو گیا تھا۔اس کی غیر موجودی میںفیصل کو اس کا سنبھالنا بڑا کٹھن ہوتا۔البتہ ایسی ضرورت بہت کم پڑتی کیونکہ مدھو جاتے وقت اسے فیڈ کرا کے جاتی اور عموماََ اس کے جاگنے سے پہلے واپس آجاتی۔ ریسٹورینٹ میں وہ دو تین گھنٹوں سے زیادہ نہ گزارتی۔اس نے بچے کی مجبوری کا بہانہ کیا ہوا تھا ،جو حقیقت بھی تھی۔ایک دن بد قسمتی سے عمر جاگ گیا۔ فیصل نے بہت کوشش کی کہ اسے فیڈر سے دودھ پلا دے مگر کامیاب نہ ہو سکا۔عمر نے فیڈر قبول کرنے سے بالکل انکار کر دیا تھا۔جب فیصل کو محسوس ہوا کہ اس کے رونے کی آواز بلند ہونے لگی ہے تو اسے بے ہوشی کی دوا سنگھا دی ،ایسا وہ ایک مرتبہ پہلے بھی کر چکا تھا جس کا مدھو نے بہت برا مانا تھا۔تھوڑی دیر بعد ہی مدھو پہنچ گئی تھی۔
”بے بی جاگا تو نہیں تھا۔“اس نے اندر آتے ہی پوچھا۔
”شورمچا رہا تھا بے شرم،مجبوراََبے ہوش کرنا پڑا۔“
”حیا تو نہیں آ ئی ہو گی۔“وہ سچ مچ تپ گئی تھی۔”کتنی بار بتایا ہے یہ بچے کے لےے مضر ہے۔“
وہ برہم ہوا۔”تو کیا کرتا؟“
”دودھ گرم کر کے رکھ تو گئی تھی فیڈر دے دیتے ۔“
” اسے ماں کا دودھ مل گیا ہے مس مدھو ملہوترا صاحب !اب یہ فیڈر کو منہ نہیں لگاتا۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بچے پر جھک گئی۔فیصل دوبارہ بولا۔
”جب تم چلی جاو ¿ گی تو یہ کس کا دودھ پیئے گا؟“
”اگر پردیس میں اسے ماں مل گئی ہے تو پاکستان تو تمہارا اپنا وطن ہے ڈھونڈ لینا وہاں بھی کوئی کرائے کی ماں۔“
” اب تم واپسی کی تیاری کرو پرسوں کی سیٹ بہتر رہے گی، میں چند دن بعد آو ¿ں گا کیوں کہ میں یہاں سے فرانس جاو ¿ں گا اور وہاں سے انڈیا جاسکوں گا۔“
مدھو نے پوچھا۔”کتنے دن لگیں گے ۔“
” ان شاءاللہ ہفتے سے زیادہ نہیں لگے گا۔“
”ٹھیک ہے میں کل سیٹ کرا لوں گی۔“
”جانے سے پہلے ایک لوشن تمھیں دوں گا ۔وہ عمر کے پورے جسم پر مل دینا ،جس سے اس کا رنگ تبدیل ہو جائے گی۔اس کے سر کے بال بھی ریزر سے مونڈ دیں گے تاکہ اس کی پہچان نہ ہو سکے۔“
مدھو معترض ہوئی۔” اسے کس نے پہچاننا ہے ۔“
”میں کسی امکان کو نظر انداز نہیں کر سکتا،اتنے دن ہو گئے ہیں مارتھا پاگل ہوئی ہو گی ،شاید اس نے پولیس میں بھی رپورٹ درج کر ادی ہو۔“
وہ اثبات میں سر ہلا تے ہوئے بولی۔”بقیہ دن رہو گے یا کوئی اور ٹھکانہ ڈھونڈو گے۔“
”یہی جگہ مناسب رہے گی ۔“
”کھانا کھا لیا ہے ۔“
” سوچا اکھٹے کھائیں گے۔“
”اچھا میں گرم کر کے لاتی ہوں ۔بے بی تو شاید شام ہی کو جاگے گا۔“اس نے تیز نظروں سے فیصل کوگھورا۔
” آنکھیں دکھانے کی ضرورت نہیں،بے ہوش نہ کرتا تو اس نے آسمان سر پراٹھا لینا تھا ۔اور ڈربہ نما فلیٹ سے سرگوشی کی آواز بھی باہر سنائی دیتی ہے۔“
وہ جل بھن کر بولی۔”بڑے آئے کوٹھیوں کے مکین۔“
”یقین کرو اس سے تو قبر بھی بڑی ہو گی ۔“
وہ برہم ہوئی۔”قبر تمھیں مبارک ہو۔“
فیصل نے ٹھنڈا سانس بھرا۔”ہاں تمھارے نصیب میں توآگ ہے ۔اللہ تعالیٰ ڈالے نہ ڈالے تمھاری قوم کو خود ہی اپنا ٹھکانہ معلوم ہے۔“
”شاید میں تمھارے مذہب کے خلاف کبھی طعنہ زن نہیں ہوئی۔“
فیصل باز نہیں آیا تھا۔” طعنے تو نہیں دے رہا ،حقیقت بیان کر رہا ہوں۔ تمھارے پجاری کہتے ہیں کہ نرگ میں آگ ہو گی اور پھر خود ہی ہر مردے کو آگ کے حوالے کرتے ہیں۔“
”مسٹر فیصل آپ کچھ زیادہ ہی بڑھ رہے ہیں ۔“
”اچھامعذرت،ویسے آپ کھانا گرم کرنے لگی تھیں ۔“
” نوکر نہیں ہوں کسی کی،خود ہی گرم کر لو۔“وہ منہ پھلا کے بیٹھ گئی تھی۔
”میں بھی اپاہج نہیں ہوں،کر لوں گا گرم۔نکھٹو مرد عورت کی منت کرتے ہیں۔“
فیصل باورچی خانے کی طرف بڑھ گیا ۔مگر اس سے پہلے کہ اندر گھستا، وہ بھی پیچھے پہنچ گئی تھی۔
”میں گرم کرتی ہوں۔“
فیصل نے حیرانی سے اسے دیکھا۔”پہلے تو آپ کچھ اور فرما رہی تھیں۔“
”میں آپ کو جواب دہ نہیں ہوں۔“اس کی برہمی برقرار تھی ۔
وہ تپ گیاتھا۔”میں بھی اتنا بے غیرت نہیں کہ دھتکارے جانے کے بعد آپ کا گرم کیا کھانا کھاو ¿ں۔“
”آپ بغیر میری اجازت کے باورچی خانہ استعمال نہیں کر سکتے ۔“
”مفت استعمال نہیںکر رہا،معاوضاادا کروں گا۔اور یہ پہلے سے طے ہو چکا ہے۔“
”بات کھانے کی ہوئی تھی نہ کہ میراباورچی خانہ استعمال کرنے کی۔“
”مبارک ہو تمھیں اپنا بورچی خانہ میں باہر سے کھا لوں گا۔“وہ داخلی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
”اے بات سنو ۔“وہ دروازے کے قریب پہنچ گیا تھا جب وہ بھاگ کے نزدیک پہنچی۔”باہر آپ کے لےے خطرہ ہے۔“
”تو کیا ؟“فیصل نے بے نیازی ظاہر کی۔
”تو یہ کہ غصہ تھوک دیں میں کھانا گرم کر کے لا رہی ہوں۔“
وہ مصر ہوا۔”نہیں اپنے لےے میں خود ہی گرم کروں گا۔“
” آپ نے میرے مذہب کے خلاف بات کی ہے۔اور آپ جانتے ہیں ہر کسی کو اپنے مذہب سے لگاو ¿ ہوتا ہے۔اگر میں نے غصے میں کچھ کہہ دیاتو آپ کو ناراض نہیں ہونا چاہےے۔“
اس کی بات صحیح تھی فیصل خاموشی سے پیچھے مڑ آیا۔تھوڑی دیر بعد وہ اکٹھے کھانا کھا رہے تھے۔
٭……..٭
”ہائے ….یہ تو بالکل ہی بدل گیا ہے۔“عمر کا رنگ لوشن لگانے کے بعد سفید سے سانولا ہو گیا تھا۔بال مونڈنے اور آنکھوں میں مخصوص ڈراپ ڈالے کے بعد وہ پہچانا ہی نہیں جا رہا تھا۔
فیصل نے کہا۔”اب اگر کسی نے رستے میں دیکھ بھی لے تو پہچان نہیں سکے گا۔“
”دو تین دن کا کھانا فریج میں رکھ دیا ہے ،اس کے بعدخود ہی کچھ کر لینا۔“
اس نے اطمینان ظاہر کیا۔”الحمداللہ میں بہت کچھ کر سکتا ہوں۔“
”اتنا حق تو میرا بنتا ہے ناں،آخر آپ میرے مہمان ہیں۔“
”مہمان نہیں پے انگ گیسٹ کہو مس مدھو ملہوترا صاحب !“
”طنز کر رہے ہو ۔“وہ بجھ گئی تھی۔
فیصل صاف گوئی سے بولا۔”نہیں حقیقت بتلا رہا ہوں۔“
” مجبوری تھی مسٹر فیصل !میں آپ دونوں کا بوجھ نہیں اٹھاسکتی تھی۔“
”آپ تو پریشان ہو گئیں،یہ صرف مذاق تھا ورنہ آپ کا احسان میں کبھی نہیں بھلا سکتا ۔اگرآپ مارتھا سے مل جاتیں تو وہ کئی گنا زیادہ رقم ادا کر سکتی تھی۔“
”شاید،مگر میں دھوکے باز نہیں ہوں ۔یہ کام مردوں کو شوبھا دیتا ہے۔“
”اگر کسی مرد نے تمھیں دھوکا دیا ہے تو اس کا بھی یہ مطلب نہیں بنتا کہ سارے ویسے ہی ہیں۔“
”اگر نہیں بھی ہیں تو مجھے لگتے ہیں۔“
”چھوڑویار،یوں غلطی فہمیاں دل میں پالے رکھنا کہاں کی عقلمندی ہے۔“
”یار رنڈیوں کے ہوتے ہیں سمجھے،میرا نام مدھو ہے۔اگر باعزت طریقے سے نہیں پکار سکتے تو مدھو کہہ دیا کرو۔“
”آرام کرو ،صبح سویرے آپ کی پرواز بھی ہے۔“فیصل کو کچھ اور نہ سوجھ سکا۔
اور وہ سر جھٹکتے ہوئے بیڈ کی طرف بڑھ گئی عمر کو اس نے چھاتی سے لگا لیا تھا۔
٭……..٭
صبح وہ اسے الوداع کرنے کوسویرے جاگ گیا تھا ۔دونوں نے اکٹھے ناشتا کیا پھر کچھ دیر فیصل اپنے بیٹے کو پیار کرتا رہا۔اس دوران مدھو اسے عجیب نظروں سے گھورتی رہی۔فیصل کو اس کے انداز میں خفت وندامت واضح طور پر محسوس ہو رہی تھی ۔یوں جیسے کوئی گناہ کرنے جا رہی ہو۔شاید اسے ایک ماں کا بیٹا دور کرنے کا قلق تھا۔
”پاسپورٹ ویزا وغیرہ تو رکھ لیا ہے نا۔“فیصل نے خاموشی کا پردہ چاک کیا۔
”جی۔“وہ مختصراََ بولی ”پرس میں رکھ دیا ہے۔“
”دکھاؤ مجھے ….“فیصل نے پرس کی طرف ہاتھ بڑھایا جو اس نے خاموشی سے فیصل کی طرف سرکا یا اور خود عمر کی طرف متوجہ ہو گئی۔فیصل نے اسے دوسری طرف متوجہ پا کر ایک چھوٹا سا لفافہ پرس میں رکھ کر پرس اسے واپس کر دیا۔
اس نے پوچھا۔” تم ایئر پورٹ تک چلو گے۔“
” مناسب نہیں ہو گا،مارتھا کے غنڈے شکاری کتوں کی طرح میری بو سونگھتے پھر رہے ہیں۔“
وہ متفق ہوتے ہوئے بولی ”تو میں چلتی ہوں۔“
” ضرور۔“فیصل نے اثبات میں سرہلادیا۔
”فیصل صاحب !….اگر میری کسی بات سے دل دکھا ہو یا ….بہ ہرحال کچھ بھی ہو مجھے معاف کر دینا۔“وہ الفاظ کی ادائی صحیح طریقے سے نہیں کر پا رہی تھی۔
”آپ کا تعاون ہمیشہ یاد رہے گا ۔آپ بہت ہی اچھی ہیں اور ان نشاءاللہ جلد ملاقات ہوگی انڈیا میں ۔وہاں پر معافی تلافی کر لیں گے۔“
”بھگوان نے چاہا تو۔“وہ آہستہ سے بولی اور سامان کا بیگ کندھے سے لٹکا کر اس نے عمر کو چھاتی سے لگایا فیصل کو ”بھگوان آ پ کی رکھشا کرے ۔“ کہتی ہوئے باہر نکل گئی۔
٭……..٭
مدھو کے جانے کے بعد فیصل سو گیا ۔ اب اسے ہفتہ وہیں گزارنا تھا۔دوپہر کو اٹھ کر اس نے کھانا گر م کرنے کو فرج کھولا۔سالن کاڈونگہ اٹھاتے ہی اسے ایک لفافہ نظر آیا۔لفافے کے اندرخط پڑا تھاجو مدھو اس کے لےے چھوڑ گئی تھی۔وہ پڑھنے لگا….
محترم فیصل صاحب !….میں جانتی ہوں، جو کچھ کرنے جا رہی ہوں اخلاق،دھرم اور تہذیب ہر لحاظ سے بہت برا، غلط اور نازیبا ہے مگرمیں مجبور ہوں ۔مجھے گمان بھی نہیں تھا کہ عمر اتنے کم وقت میں میرے اتنے قریب آ جائے گا۔آپ تو یقین نہیں کریں گے مگر مجھے اس میں شک نہیں کہ یہ میرے کرشنا کا دوسرا جنم ہے۔آپ نے اسے اپنی ماں سے دور کر کے شاید ظلم کیا ہے اور میں اسے باپ سے دور کرکے دہرا ظلم کر رہی ہوں۔لیکن میرا یقین کرومیں اس کی سگی ماں تو نہیں مگر اسے ماں سے بڑھ کر پیار ،توجہ اور وقت دوں گی۔باقی میں بھگوان کی سوگندھ کھا کر لکھ رہی ہوں کہ میں اسے مسلمان بناو ¿ں گی ،ایک ہندو کے گھر پرورش پانے کے باوجود یہ ایک مسلمان ہو گا یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔میں نے آپ کو دھوکا دیا۔ میں شرمسار ہوں۔ معافی کی خواست گار ہوں۔میں نے آپ کو اپنا پتا صحیح نہیں بتایا تھا اس لےے مجھے تلاش کرنے میں وقت ضائع نہ کرنا۔ پاکستان جا کر شادی کر لینا آپ کا خداآپ کواور بیٹا دے دے گا۔میں نے تو ساری عمر شادی نہیں کرنی اور عمر کے سہارے ہی زندگی گزاروں گی۔پلیز مجھے معاف کر دینا ، مجھے معاف کر دینا، مجھے معاف کر دینا۔
آپ کی مجرم ،مدھو۔
فیصل نے مسکراتے ہوئے خط کو واپس لفافے میں ڈالا اورباورچی خانے کی طرف بڑھ گیا یہ خط اس نے دو دن پہلے ہی پڑھ لیا تھا۔اور صبح مدھو سے پرس لے کر وہ جواب بھی اس کے حوالے کر چکا تھا۔اس نے سراسر جوا کھیلا تھا ،اس میں حالات کے ساتھ دلی جذبات کا بھی تعلق تھا۔اس نے لکھا تھا ….
”مدھو جی ….!یہ رقعہ تب ملے گا جب آپ اپنا ہینڈ بیگ کھولیں گی۔شاید !آپ کو حیرانی ہوآپ کا خط میں پرسوں پڑھ چکا ہوں۔میں نے آپ کے سامان کی تلاشی پتا معلوم کرنے کے لےے کی تھی کیونکہ مجھے شک تھا کہ آپ مجھ سے غلط بیانی نہ کی ہو۔اور میرا شک درست نکلا آپ کا رد عمل غیر متوقع نہیں تھا ،مگر مجھے آپ پرغصہ نہیں آیا۔شاید عمر کے ساتھ آپ کی ممتا بھری محبت میری نگاہ میں تھی۔آپ کا خط پڑھنے کے بعد میں نے پچھلے دو دن سوچنے میں گزارے اور آخر اس نتیجہ پر پہنچا کہ مجھے عمر کو اس کی دوسری والدہ سے جدا نہیں کرنا چاہےے۔میں شاید مارتھا سے بھی عمر کو نہ چھینتا مگر وہ اسے عیسائی بنانے پرتلی تھی۔اگر وہ عمر کے مذہب کا فیصلہ اس کے بڑے ہونے تک موخر رکھتی تو یقینا مجھے یہ قدم نہ اٹھا نا پڑتا۔بہ ہرحال جو کچھ ہوا اس پرمٹی ڈالو ،رقعے کے ساتھ کچھ رقم بھی رکھ دی ہے جو کہ عمر کی پرورش میں کام آئے گی۔ رقم میرے پاس کافی موجود تھی مگر آپ کے سامان کی تلاشی لیتے ہوئے مجھے اس خبیث مرد کی تصویر مل گئی جس نے آپ کی زندگی برباد کی تھی اور میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ لندن چھوڑتے وقت ایک مشہور قاتل کو اس کے قتل کی سپاری دیتا آو ¿ں گا۔اس قاتل کی شہرت یہ ہے کہ وہ اپنا کام لازماََ پورا کرتا ہے۔اور میں ایسا کیوں کر رہا ہوں اس بارے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا۔بلا شبہ ہمارا ملاپ ناممکن ہے کہ درمیان میں مذہب کے علاوہ آپ کی نفرت بھی ہے جو آپ کو مرد ذات سے ہے۔میں پوری کوشش کے باوجود آپ کے دل سے اپنی جنس کا غلط تا ثر دور نہیں کر سکا ہوں۔بہرحال ایک موہوم سی امید کے سہارے کہتا چلوں کہ دو ہفتے تک اسی فلیٹ میں رک کر آپ کے فیصلے کا انتظار کروں گا۔اگر میرا ساتھ قبول ہو تو فون کر دینا میں انڈیا آجاؤ ں گا وہاں سے اکھٹے پاکستان چلے جائیں گے۔دو ہفتے تک کال نہ آنے کا مطلب ہوگا آپ کو میرا ساتھ قبول نہیں۔ اس صورت میں انڈیا نہیں آؤں گا۔عمر کا خیال رکھنا، اسے ایک اچھا مسلمان بنانا۔امید ہے آپ اپنے کہے کا پاس رکھیں گی۔خدا حافظ….فقط فیصل۔
پورا دن اور رات اس نے بستر پر گزارا .اگلی رات ٹیلی فون کی گھنٹی نے اسے متوجہ کیا .
”یس ….؟“اس نے رسیور اٹھا کر کال وصول کی۔
”مم ….میں بول رہی ہوں۔“گو وہ پہلی مرتبہ مدھو کی آواز فون پر سن رہا تھا مگر پہچاننے میں اسے کوئی دقت نہیں ہوئی تھی۔
”میں کون؟“وہ ا نجان بن گیاتھا۔
”م….مم….میں سدرہ۔“
”کک ….کون سدرہ ….آپ مدھو نہیں ہیں؟“وہ حیران رہ گیا تھا۔
” تھوڑی دیر پہلے تک تھی اب سدرہ ہوں۔“
”مم ….مگر….سدرہ ،یہ ….یہ کیا ہے ۔“وہ گڑبڑا گیا تھا۔
”پہلے میں ائر پورٹ ہی سے آپ کو فون کر رہی تھی بعد میں خیال آیا کہ پوری تیاری ساتھ بات کروں ۔اور یہ جو آپ نے کہا ہے کہ دو ہفتے بعدآئیں گے تو ،قسم سے مجھ سے مزید انتظار نہیں ہو سکتا بس آجائیں اور مم ….مجھے لے جائیں۔“
”کیا ….؟“فیصل کے لہجے میں حیرانی کے ساتھ بھرپور خوشی شامل تھی۔
”اور آپ نے کہا ہے کہ اس خبیث کوقتل کرانے کو قاتل کو ہائر کریں گے تو، خبردار اگر ایسا کیا ۔ایک دمڑی بھی کسی فضول کام پر خرچ نہ کرنا۔اس رقم پر صرف میرے عمر کا حق ہے۔“
”جیسا حکم سرکار کا۔“
”اپنا خیال رکھنا ….میں پرسوں ائرپورٹ پرانتظار کروں گی۔“
اورفیصل نے ”خدا حافظ کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔اس کا جلدی میں کیا گیا فیصلہ کامیاب ہوا تھا۔