زندگی بہت حسین تھی اور اس بے بڑھ کر میں خود گوری رنگت کیساتھ چاند سا چہرہ رکھتی تھی. میںجہاں پیدا ہوئی وہ ایک چھوٹا سا شہر تھا.، جہاں ضروریاتِ زندگی کی تمام اشیاء آسانی کیساتھ دستیاب ہوتیں تھیں۔ کسی بات کا غم نہیں تھا، ہر فکر سے آزادہ مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ غم کیا بلا ہے۔ خوبصورتی مجھے ورثے میں ملی، قدرت نے مجھے بہت حسین بنایا تھا اور گھر والوں نے بھی بے حد پیار دیا، کیونکہ میں گھر میں سب سے بڑی تھی۔ میرے دو بھائی اور دو بہنیں تھیں اور چاروں مجھ سے چھوٹے تھے۔
پڑھنے کا شوق تھا اس لیے میں شروع سے ہی بہت لائق اور انٹیلی جنٹ تھی۔ میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کیا اور میڈیکل کالج میں آسانی کیساتھ داخلہ مل گیا ۔ ان دنوں کالج جانے کے لیے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن آگے بڑھنے کی لگن تھی اس لیے میں نے حوصلہ نہ ہارا۔ شاید حوصلہ نامی صفت اللہ تعالیٰ نے میرے اندر بے پناہ رکھ دی تھی۔ کالج کا راستیہ آسان نہ تھا میں روزانہ دو گھنٹے سفر طے کر کے کالج پہنچتی تھی، کیونکہ کچھ راستہ پیدل بھی چلنا پڑتا تھا، پہلے ٹانگے پر اور پھر بس میں۔ یوں ایک لمبے سفر اور طویل مشقت کے بعد کالج پہنچتی تھی، صرف میں ہی جانتی ہوں کہ نجھے کن حالات کا سامنہ تھا. پھر بھی میں نے ہمت نہ ہاری اور جدوجہد جاری رکھی، خوب محنت کی راتیںجاگ کر کٹھن وقت میں محنت کی اور آخرکار میری ساری محنت ضائع ہو گئی۔
وہ وقت یاد کرتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں.ان دنوں میں میڈیکل کے تیسرے سال میں تھی کہ میرے ساتھ ایک ایسا حادثہ پیش آیا جس کے بارے میں دعا کرتی ہوں کہ کسی دشمن کے ساتھ بھی نہ ہو۔ ہوا کچھ ہوں کہ ہمارے خاندان میں ایک شادی کی تقریب تھی۔ سب لوگ تیاری میں مصروف تھے . سب گھر والوں نے شادی میں جانا تھا، چونکہ میرے امتحان تھے اور میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی.کیونکہ میرے امتحانات قریب ہونے کی وجہ سے میں شادی میں نہ جا رہی تھی اور گھر میں رہ کر پڑھائی کرنے کا ارادہ تھا۔ چنانچہ گھر والے مجھے چھوڑ کر صبح سویرے شادی میں روانہ ہو گئے۔ امید تھی کہ شام تک واپس آ جائیں گے۔ ہمارے ایک کزن شکیل نے کراچی سے شادی میں شرکت کے لیے آنا تھا، لیکن ٹرین لیٹ ہو گئی، جس کی وجہ سے وہ مقررہ وقت پر نہ پہنچ سکا۔ اس لیے گھر والے اس کا انتظار کیے بغیر روانہ ہو گئے اور جاتے ہوئے کہہ گئے کہ جب شکیل آئے تو اسے وہیں شادی والے گھر بھیج دینا۔
بس یہی سے میری بربادی کا آغاز ہوا. گھر والوں کے جانے کے بعد میں پڑھائی میں اس قدر مصروف ہو گئی کہ پڑھتے پڑھتےمجھےپر غنودگی طاری ہو گئی اور میں گہری نیند سو گئی۔ کچھ دیر بعد میرا کزن شکیل بھی آ گیا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، مجھے خبر نہ ہو سکی اور گہری نیند سوتی رہی۔ کافی دیر تک دروازہ نہ کھلنے پر وہ پریشان ہو گیا اور آخر کار یہ سوچ کر کہ گھر میں موجود افراد کو پریشان کیے بنا اندن داخل ہوا جائےاور دیوار پھلانگ کر اندر آ گیا۔ بد قسمتی سے ہمارے ہمسائے نے اسے دیوار پھلانگتے دیکھ لیا۔ انہیں معلوم تھا کہ شازیہ گھر میں اکیلی ہے، و ہ سمجھا کہ کوئی آوارہ لڑکا جان بوجھ کر لڑخی سے ملنے کے بہانے گھر میںداخل ہو رہا ہے چنانچہ انہوں نے محلے کے لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ باہر کیا چل رہا ہے مجھے کانوں کان خبر نہ تھہ کیونکہ میں ابھی تک سو رہی تھی۔ شکیل میرے کمرے میں داخل ہوا اور مجھے سوتا دیکھ کر اس نے آ کر مجھے جگایا۔ میں نے اسے کھانے کا پوچھااور ابو کا پیغام بھی دیا کہ سب شادی میںجا چکے ہیں آپ بھی چلے جاہیں. اس کے علاوہ دو چار باتیں اور ہوئیں۔ باہر اک مجمع اس کا منتظر تھا. میں بھی جاگ رہی تھی .جب وہ کھانا کھا کر شادی میں جانے کے لیے گھر سے نکلا تو میں اسے دروازے تک چھوڑنے آئی. باہر چار پانچ لوگ ڈنڈے ہاتھوں میں لیے کھڑے تھے۔میںگھبرا گئی کیونکہ معاملہ میری سمجھ سے باہر تھا. انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور شکیل پر حملہ کر دیا، وہ زخمی ہو گیا اور درد سے کراہنے لگا پھر اسے گھسیٹتے ہوئے تھانے لے گئے۔
میں چیختی چلاتی رہی،انہیں سمجھاتی رہی کہ ایسا کچھ نہیں ہے جیسے وہ سمجھ رہے ہیں مگر کسی نے میری ایک نہ سنی۔ ہر کوئی الزام تراشی کر رہا تھا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ لڑکی اس کے ساتھ بھاگ رہی تھی، کوئی کہہ رہا تھا کہ ہم نے چھاپہ مار کر انہیں قابلِ اعتراض حالت میں پکڑا ہے۔ غرض جتنے منہ، اتنی باتیں۔ وہ دن میری زندگی میں قیامت کی طرح گزرا۔رو رو کر میرا برا حال تھا، کبھی سوچا نہ تھا زندگی میں ایسا لمحہ بھی آسکتا تھا. آخر ہمت کر کے میں نے ابو کو فون کیا۔ وہ فوراً گھر والوں کو لے کر جلدی جلدی گھر آ گئے۔ میں نے دروازہ کھولا اور ابو کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ابو نے مجھے تسلی دی اور کہا: “بیٹا، کیا بات ہے؟ مجھے سب کچھ بتاؤ، ڈرو مت۔” وہ دروازے پر پڑے خون کے نشانات پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔ میرے منہ سے صرف اتنا نکلا کہ محلے والے شکیل کو مار دیں گے۔ ابو فوراً باہر نکلے۔ باہر لوگ جمع تھے، کوئی کچھ کہہ رہا تھا اور کوئی کچھ۔ ابو سیدھے گاڑی میں بیٹھ کر تھانے گئے اور شکیل کو چھڑوا لائے۔ وہ زخموں سے نڈھال تھا۔ جب وہ گھر آیا تو میں دیوانہ وار اس کے بھی گلے لگ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ پتہ نہیں مجھ میں اتنا حوصلہ کہاں سے آ گیا تھا۔میں خود کو قصور وار تصور کر رہی تھی کیونکہ میں گہری نیند میں نہ سوتی تو شکیل کو دیوار پھلانگنے کی نوبت ہی نہ آتی اور نہ ہی کسی کو شک ہوتا.
سب گھر والے اس صورت حال سے پریشان تھے، شکیل کی اس حال میں دیکھ کر میرے جان نکلی جا رہی تھی۔ ابو اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور مرہم پٹی کروائی۔ پھر میں نے ابو کو ساری تفصیل بتا دی۔ انہوں نے میری بات پر یقین کیا، کیونکہ وہ پڑھے لکھے اور باشعور انسان تھے۔ وہ جانتے تھے کہ میں اب سمجھدار ہوں اور ایسا نہیں کر سکتی۔ بعد میں ابو نے محلے کے سمجھدار لوگوں کو اکٹھا کر کے ساری بات تفصیل سے سمجھائی کہ شکیل سولہ سترہ سال کا لڑکا ہے، میٹرک کا طالب علم ہے اور کراچی سے آ کر ہمارے ساتھ شادی میں جانے والا تھا۔ وقتی طور پر سب مان گئے، لیکن بعد میں محلے والوں نے ہم سے میل جول کم کر دیا۔
میری ذات پر خوب کیچڑ اچھالا گیا . میری دوستوں نے بھی مجھ سے منہ موڑ لیا اورمیرے گھر آنا اور مجھ سے ملنا بند کر دیا۔میں نے اپنی بے گناہی کے بہت یقین دلایا لیکن ماتھے پر بدنامی کا داغ اتنا گہرا لگا کہ میں بالکل تنہا ہو گئی. میں نے قسمیں کھا کر انہیں یقین دلانے کی کوشش کی، مگر بے سود۔ انہوں نے مجھے گناہ گار ٹھہرا دیا۔ لوگ کتنے سنگدل اور عجیب ہوتے ہیں، صرف باتیں بنانا جانتے ہیں۔ میں نے چار ماہ بڑی بے چینی میں گزارے۔ اس کے بعد میری پڑھائی کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ میں ڈاکٹر بنتے بنتے رہ گئی اور ایک عام سی لڑکی بن کر رہ گئی۔ زندگی کبربادی کے آنگن میں جا گری ، ایسا سمجھ لیں زندگی بے معنی ہو گئی۔ کہتے ہیں جو جیسا کرتا ہے، ویسا ہی بھرتا ہے۔ مجھے نہ جانے کس جرم کی سزا ملی، لیکن ہمارے پڑوسی کو اس کے کیے کی سزا ضرور ملی۔ اسی نے سب سے پہلے شکیل کو دیوار پھلانگتے دیکھا اور شور مچایا، لوگوں کو اکٹھا کیا، ڈنڈے منگوائے اور کہا کہ دروازے پر گھات لگا کر کھڑے رہو، آخرکار وہ مردود یہیں سے نکلے گا۔ اسی پڑوسی نے بغیر سوچے سمجھے میری پاکیزگی پر الزام لگایا، مجمع اکٹھا کیا، شکیل کو تھانے لے جانے میں پیش پیش رہا اور میری زندگی برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس نے محلے والوں سے کہا کہ اگر تمہاری لڑکیاں شازیہ کے گھر گئیں یا اس سے دوستی رکھی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔۔
اس شخص کا نام رحیم بخش تھا۔شکی مزاج طبعیت کا مالک تھا. وہ نہ جانے کہاں سے آ کر ہمارے علاقے میں آباد ہوا تھا۔ اس کی بیوی نہایت بدزبان اور شاطر تھی، رحیم بخش کی اپنی گھر والی سے بالکل نہیں بنتی تھی بلکہ ان دونوں کے درمیان ہر وقت لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔ جب تک یہ شخص قصبے میں رہا، اس نے محلے والوں کو بھڑکائے رکھا، میری بربادی کا سہرا اسی کے سر جاتا ہے.وہ شیطانی خیالات کا مالک تھا، اور ہر وقت ہماری ٹوہ مہیں رہتا تھا. جس کی وجہ سے نہ میں اور نہ ہی میری بہنیں اسکول جا سکتی تھیں۔ہماری بدنامی اس قدر ہوئی کہ لوگوں سے ہم سے ملنا بھی بند کر دیا ساتھ ہی اپنے گھروں کے دروازے بھی ہم پر بند کر لیے. سب لوگ ہمیں نفرت اور حقارت سے دیکھتے تھے۔ ہمارا گھر اپنا تھا، اس لیے ہم محلہ چھوڑ کر نہیں جا سکتے تھے۔ ابا جان کو محلے والوں کے اس رویے پر بہت دکھ ہوتا تھا۔ہم سب خون کے آنسو پی کر رہ جاتے، لیکن کسی سے کوئی شکوہ تک نہ کیا.
ایک دن ہمیں یہ خبر ملی کہ رحیم بخش صاحب کا تبادلہ کسی اور علاقے میں ہو گیا ہے۔ یہ جان کرہم بہت خوش ہوئے کہ چلو اس فسادی ہمسائے سے تو جان چھوٹی۔ وہ اپنے دونوں لڑکوں کو بھی ساتھ لے گیا اور وہیں اسکول میں داخل کرا دیا۔ وہ چھٹیوں میں یا پندرہ دن بعد گھر آتا تھا۔ اس کے جانے کے بعد محلے میں کچھ سکون ہو گیا اور لوگ اس واقعے کی شدت کو بھولنے لگے۔ہماری زندگی میں بھی سکون آ گیا، لیکن یہ سب عارضی تھا.
انہی دنوں اماں جان بیمار ہو گئیں۔ نہ جانے کیسے ہماری پڑوسن، بیگم رحیم بخش ، کے دل میں انسانیت جاگی اور وہ امی کی خیریت پوچھنے آ گئیں۔ اصل میں وہ ہمارے گھر ٹوہ لینے آئی تھیں۔ خیر، امی نے انہیں اچھی طرح بٹھایا اور کوئی شکایت کیے بغیر خاطر مدارت کی۔ باتوں باتوں میں خالہ نے بتایا کہ ان کا بڑا بیٹا مراد سعودی عرب جا رہا ہے تاکہ بھائیوں کی پڑھائی کا بوجھ سنبھال سکے۔ خالہ کی ایک بیٹی ڈاکٹر بن رہی تھی اور ایک بیٹا میرپور میں پڑھ رہا تھا۔
یوں مراد کو گئے تین سال گزر گئے۔ وہ کما کر پیسے بھیجتا رہا اور گھر والوں کے حالات سدھر گئے۔ جب تین سال بعد وہ پاکستان آیا تو والدین نے اس کی شادی کا سوچا۔ خالہ اپنی بھتیجی کو بیاہ کر لانا چاہتی تھیں، لیکن رحیم بخش صاحب اپنی بیوی کے رشتہ داروں کو ہرگز بہو نہیں بنانا چاہتے تھے۔ اس بات پر بھی کافی جھگڑا رہا، مگر آخرکار جیت رحیم بخش صاحب کی ہوئی۔ انہوں نے اپنے جاننے والوں میں سے ایک لڑکی کو اپنے بیٹے کے لیےپسند کر لیا، جس کا نام رفعت تھا۔
مراد کی شادی ہو گئی. جب مراد نے اپنی بیوی رفعت کو دیکھا تو آنکھیں جھپکنا ہی بھول گیا، وہ بہت حسین تھی بالکل اس کے خوابوں کی شہزادی نکلی۔ یوں اس کی ویران زندگی میں بہار آ گئی۔ رفعت صورت کی جتنی اچھی تھی، سیرت کی بھی اتنی ہی پیاری نکلی۔ شادی پر انہوں نے ہمیں نہیں بلایا، مگر بعد میں خالہ آئیں اور امی سے کہا کہ برادری کے ڈر کی وجہ سے آپ لوگوں کو نہیں بلا سکی، اب آ کر دلہن کو دیکھ جائیے۔ میں نے اور سب گھر والوں نے منع کر دیا اور ہم دلہن کو دیکھنے نہیں گئے۔ کچھ عرصہ بعد مراد واپس سعودی عرب چلا گیا۔
قدرت کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے، شادی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا. تھوڑے ہی دنوں بعد مراد کو اپنے گھر سے ایسے خطوط ملنے لگے، جن میں لکھا ہوتا کہ تمہاری بیوی گھر کا ذرا بھی کام نہیں کرتی، ساس کا ادب نہیں کرتی، سارا وقت بن ٹھن کر رہتی ہے اور جب چاہتی ہے بغیر بتائے محلے کے گھروں میں چلی جاتی ہے۔مراد کا دل خون کے آنسو روتا. اسے اپنی بیوی بے بہت محبت تھی. ایک دفعہ تو ماں نے ایسا خط لکھا جس نے بیٹے کی دنیا ہی اندھیر کر دی۔ خالہ نے بیٹے کو لکھا کہ تمہاری بیوی ہر وقت فون پر غیر مردوں سے باتیں کرتی ہے اور ایک دفعہ تو کسی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر چلی بھی گئی تھی۔ واپسی پر جب ہم نے اس سے باز پرس کی تو وہ ناراض ہو کر میکے چلی گئی۔ اب ہم ایسی بے حیا بہو کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں، بہتر ہے کہ تم اسے طلاق بھیج دو۔
مراد کے پیروں تلے زمیں ہی نکل گئی. یہ خط ملتے ہی مراد کا سکون لٹ گیا۔ اب اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ حالات جاننے کے لیے وہ کام کاج چھوڑ کر واپس وطن آ گیا، اس کی ماں نے مراد کے کان ایسے بھرے کہ اسے اپنی محبوب بیوی سے نفرت ہونے لگی.گھر والوں اور خصوصاً ماں نے اس پر اتنا دباؤ ڈالا کہ اسے رفعت کو طلاق دینی پڑی۔ اب خالہ کی بن آئی، انہوں نے بیٹے پر زور دیا کہ وہ ان کی بھتیجی صائمہ سے شادی کر لے۔ پہلے تو وہ نہ مانا، لیکن پھر ماں کی خوشی کی خاطر ہار مان لی اور اس کی شادی ماں کی بھتیجی سے ہو گئی۔
جس وقت صائمہ کی شادی ہوئی، اس کی عمر سترہ برس تھی۔ مراد ایک ماہ رہ کر واپس سعودی عرب چلا گیا اور حسبِ معمول اپنی نئی نویلی دلہن کو والدین کے پاس چھوڑ گیا۔ پہلے پہل تو صائمہ سسرال میں ٹھیک رہی، پھر کچھ پریشان رہنے لگی۔ خالہ اسے میکے کم جانے دیتی تھیں۔ رفعت ایک صابر لڑکی تھی، لیکن ہر انسان کا اپنا اپنا مزاج ہوتا ہے، صائمہ ویسی نہ تھی۔ وہ تیز طبیعت اور جھگڑالو ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بے صبری بھی تھی۔
شوہر کے بنا صائمہ کا دل بالکل نہ لگتا تھا وہ نوجوان لڑکی اکیلی سلگتی رہتی اور اس کا شوہر پردیس میں ہوتا، وہ نئی نویلی دلہن یہ دوری برداست نہیںکر سکتی تھی.وہ بات بات پر ساس سے الجھنے لگی۔ ہر وقت کہتی تھی کہ مجھے میکے بھیجو یا پھر مراد لوٹ آئے، میں یہاں آپ لوگوں کے پاس قیدی بن کر کیوں رہوں؟ اب پھر مراد کے پاس والدہ کے خط پہنچنے لگے کہ نئی دلہن تمہارے لیے بے قرار رہتی ہے اور ہم سے بلاوجہ لڑتی جھگڑتی ہے، تم ہی کہو ہم کیا کریں؟ ایک بار پہلے بھی مراد کا گھر برباد ہو چکا تھا، اس لیے وہ اب تحمل سے کام لے رہا تھا۔ وہ ان باتوں کا جواب گول کر جاتا؛ سعودی عرب سے جلد آنا آسان نہیں ہوتا اور نہ ہی اتنی آسانی سے چھٹی ملتی ہے۔
شادی شدہ لڑکی کب تک تنہائی کا عذاب جھیل سکتی ہے.صائمہ درحقیقت جوشیلی لڑکی تھی، وہ بھرپور عمر کے دور میں تھی اور جیون ساتھی کی طویل جدائی نہیں سہہ سکتی تھی۔ وہ خود کو تنہا محسوس کرتی اور گھٹی گھٹی رہتی تھی، اسے کہیں پاس پڑوس میں بھی جانے کی اجازت نہیں تھی۔وہ خود کو قید ی محسوس کرتی. اس نے یہ عادت بنا لی تھی کہ جب تنہائی ستاتی وہ بنا کسی کو بتائے گھرکی چھت پر چلی جاتی اور منڈیر سے گلی میں جھانکتی رہتی۔ کبھی بچے کرکٹ کھیل رہے ہوتے، کبھی کوئی مداری تماشہ دکھا رہا ہوتا اور کبھی بارات جا رہی ہوتی؛ یہ سب وہ بچیوں جیسی محویت سے دیکھتی رہتی۔ جب ساس آواز لگاتیں: “صائمہ! چھت پر کیا کر رہی ہو؟ نیچے آ جاؤ،” تو وہ ساس سے الجھ پڑتی اور کہتی: “کیا میں تمہاری قید میں ہوں؟ دو منٹ کو کھلی ہوا میں سانس بھی نہیں لینے دیتی ہو، اگر دیکھ لو کہ میں کیا کر رہی ہوں۔” صائمہ کو ساس سے یہی خار تھی کہ وہ اسے جلدی میکے نہیں جانے دیتی تھی اور نہ وہاں رکنے دیتی تھی، جس کا بدلہ صائمہ ان سے لڑ جھگڑ کر نکالتی تھی۔
انہیں دنوں مراد نے اپنے والد رحیم بخش کو سعودی عرب کا ویزا بھیج دیا۔ وہ ملازمت چھوڑ کر بیٹے کے پاس چلا گیا، یوں اب گھر میں صرف عورتیں ہی باقی رہ گئی تھیں۔ سسر کے جاتے ہی صائمہ کی بے چینی ختم ہو گئی اور سارا ڈر و خوف جاتا رہا۔ اب وہ ساس کو ذرا بھی خاطر میں نہ لاتی تھی، جو رشتے میں اس کی پھوپھی لگتی تھیں۔ اگر وہ زیادہ سختی کرتیں، تو بھائی بھی آ جاتے۔ غرض، مراد کی ماں نے بھتیجی کو بہو بنا کر خود کو بری طرح پھنسا لیا تھا۔
اب صائمہ آزاد تھی اس لیے زیادہ وقت چھت پر گزارنے لگی اور ساس نے لڑائی کے خوف سے اس کا پیچھا کرنا چھوڑ دیا۔ ایک دن وہ منڈیر سے گلی میں جھانک رہی تھی کہ سامنے والے گھر کے ایک نوجوان نے لڑکی کو دیکھا تو سمجھ گیا کہ بے چاری تنہائی کا شکار ہے اس نوجوان نے اپنی چھت سے اس کی طرف پھول پھینکا۔ یہ ایک خوبصورت لڑکا تھا اور سامنے والے مکان میں بطور کرایہ دار رہائش پذیر تھا۔ صائمہ نے ایک نظر اس کی جانب دیکھا اور شرماتے ہوئے نیچے چلی گئی۔نوجوان سمجھ گیا کہ تیر نشانے پرلگا ہے.ان دنوں صائمہ ایک بچی کی ماں بھی بن چکی تھی۔ بچی کی پرورش کا زیادہ تر ذمہ صائمہ نے اپنی ساس کو سونپ دیا تھا۔وہ خود زندگی کو پھرپور انداز سے انجوائے کرنا چاہتی تھی اس لیے ہر فکر سے بے نیاز تھی.
دوسرے روز وہ دوبارہ چھت پر آئی، شام کا وقت تھا۔ وہ روزانہ شام کو گھنٹہ آدھ گھنٹہ چھت پر ٹھہر کر گلی کا منظر ضرور دیکھتی تھی۔ آج بھی سامنے والا نوجوان، عامر، اس کی راہ تک رہا تھا۔ اس نے پھولوں کا گجرا پوری قوت سے اس کی جانب پھینکا، جو صائمہ کے سامنے منڈیر پر آ گرا۔ گجرا سفید کلیوں کا تھا، جس میں جگہ جگہ گلاب کی پتیاں پروئی ہوئی تھیں۔ وہ گجرا موتیے کے عطر میں بسا ہوا اور اتنا معطر تھا کہ اس کی خوشبو نے صائمہ کے حواس گم کر دیے۔
صائمہ نے گجرا اٹھایا، اسے سونگھا اور شرماتے ہوئے نیچے چلی گئی۔ اس کے بعد یہ ایک معمول بن گیا۔ جب بھی وہ اوپر جاتی، عامر کی نگاہیں اور پھولوں کے گجرے اس کا انتظار کر رہے ہوتے۔ پہلے تو اس نے اس نئے تعلق کو قبول نہ کیا کیونکہ وہ شادی شدہ تھی، لیکن پھر اس کا دل بھی عامر کی طرف مائل ہو گیا۔ پہلے وہ شوہر کی جدائی سے پریشان رہتی تھی، لیکن اس نئے مشغلے کے بعد وہ مراد کو بالکل بھول گئی۔
گلی میں ایک چار دیواری تھی جو صائمہ کے کچن کی دیوار کے ساتھ ملتی تھی۔ یہ دونوں اس چار دیواری کی آڑ کا فائدہ اٹھا کر روشندان کے گول سوراخ سے باتیں کرنے لگے۔ دوپہر کو جب ساس سو جاتیں اور بچی بھی سو رہی ہوتی، تو صائمہ باورچی خانے میں کرسی پر چڑھ کر عامر سے باتیں کرتی۔ ایک دن گلی میں بچوں نے انہیں باتیں کرتے دیکھ لیا، لیکن عامر نے بچوں کو ٹافیاں دے کر خاموش کروا دیا۔
اب صائمہ کا دھیان بالکل شوہر سے ہٹ گیا۔ اسے مراد کو گئے ہوئے تین سال ہو چکے تھے، جو صرف ایک ماہ کی دلہن کو چھوڑ کر گیا تھا۔ اب بھی مراد کے خط آتے رہتے تھے۔ شروع میں صائمہ مراد کے لیے بہت تڑپتی تھی اور اس کے بغیر اس کا دل نہیں لگتا تھا، لیکن رفتہ رفتہ وہ مایوس ہو گئی۔ نہ کہیں آنا جانا ہوتا تھا اور نہ ہی سیر و تفریح؛ میکے والے بھی مہینہ دو مہینہ بعد آتے اور ساس ہر تین ماہ بعد صرف ایک دن کے لیے اسے میکے لے کر جاتیں اور شام کو ساتھ ہی واپس لے آتیں۔ ان حالات نے اسے چڑچڑا اور باغی بنا دیا تھا۔ پھر جب بچی پیدا ہوئی، تو اس نے اس میں دل لگانے کی کوشش کی، مگر بچے کی پرورش اور دیکھ بھال ایک مشکل کام تھا۔ تاہم خالہ کو اپنی پوتی بہت پیاری تھی، اس لیے انہوں نے بہو سے صلح کی پالیسی اختیار کر لی۔ صائمہ نے بچی کو ساس کی گود میں دے دیا اور خود ذمہ داریوں سے آزاد ہو گئی۔
ایسی آزادی کسی کے ساتھ کی متقاضی ہو جاتی ہے اور کسی پیار کرنے والے کی چاہ بڑھ جاتی ہے۔ اس نے بھی اپنی تنہائی کا حل نکال لیا اور اپنے نئے پڑوسی سے دل لگا بیٹھی۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ جب اس کا خاوند پردیس سے آئے گا تو وہ اسے کیا جواب دے گی۔ یوں وہ بے وفائی کے راستے پر گامزن ہو گئی۔
ایک دن جب اس کی ساس گھر میں نہیں تھیں اور نند بھی کالج گئی ہوئی تھی، اس نے ہمت کر کے عامر کو گھر بلا لیا۔وقت بدل گیا تقدیر اپنا انتقام لینے کے لیے تیار تھی. مگر میرے والد نے اسے گھر میں داخل ہوتے دیکھ لیا۔ حیرت اور غصے کے عالم میں انہوں نے سامنے والے محلے دار سے کہا: “کرائے دار عامر، رحیم بخش صاحب کے گھر گیا ہے۔” جیسے ہی یہ خبر محلے میں پہنچی، سب پڑوسی اپنی اپنی رائے بنانے لگے۔ کچھ کہنے لگے کہ یہ معمولی بات نہیں، دیکھنا پڑے گا۔ کچھ لوگ صدمے میں تھے اور کچھ نے افواہوں کا سلسلہ شروع کر دیا کہ سنا ہے اس گھرانے میں پہلے ہی کچھ مسئلے چل رہے تھے۔
چند دن بعد رشید صاحب اور مراد واپس آ گئے۔ محلے میں ہر طرف سرگوشیاں چل رہی تھیں، لیکن اصل حقیقت ابھی تک کسی کو معلوم نہ تھی۔ میرے والد نے فیصلہ کیا کہ سب کچھ صاف صاف بیان کر دیں۔ ایک شام سب پڑوسی جمع ہوئے تو میرے والد نے حقیقت بتائی: “جو ہوا وہ معمولی نہیں۔ رشید صاحب نے (پہلے) ایک معصوم لڑکی کی پاکیزگی پر تہمت لگا کر اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تھی۔” رشید صاحب کی حالت دکھی تھی اور ان کے دل میں پچھتاوے کی لہر دوڑ گئی۔ انہیں احساس ہوا کہ ان کی ایک غلط فہمی اور حرکت نے ایک معصوم لڑکی (رفعت) کی زندگی برباد کر دی تھی۔
رشید صاحب نے لرزتی آواز میں کہا: “میں نے اپنی حرکتوں سے ایک معصوم کا اعتماد توڑا، اس کے جذبات سے کھیلا اور اپنے گھر کے وقار کو داغدار کیا۔ میں اپنی غلطیوں کا ذمہ دار ہوں اور دل سے معافی مانگتا ہوں۔” دوسری طرف صائمہ پہلی بار مراد کے سامنے کھڑی تھی۔ دل کی دھڑکن تیز تھی اور آنکھوں میں شرمندگی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اب چھپنے کا کوئی راستہ نہیں۔ مراد کی نگاہوں میں دکھ اور مایوسی تھی۔ صائمہ نے روتے ہوئے کہا: “مراد! میں نے اپنی تنہائی اور کمزوری کے باعث غلط راستہ اختیار کیا۔ میں نے تمہارے اعتماد اور رشتے کی حرمت کو توڑا، میں دل کی گہرائی سے معافی مانگتی ہوں۔”
اس نے آنسو پونچھتے ہوئے مزید کہا: “میں نے نہ صرف اپنی بیٹی بلکہ تمہارے خاندان کا وقار بھی خاک میں ملا دیا۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ اب کبھی دھوکہ نہیں دوں گی اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ایمانداری کے راستے پر چلوں گی۔” بے شک سچائی اور پچھتاوے کی طاقت سب سے بڑی ہوتی ہے۔ یہ لمحہ صرف شرمندگی کا نہیں بلکہ ایک نئے آغاز کا تھا۔ سچ، خلوص اور حقیقی توبہ کا آغاز۔