بائیک نے دو منٹ کے دوران تیسرا جھٹکا لیا تھا، شاید ریزرو پر جا رہی تھی، میں نے ایک ہاتھ سے بمشکل ہینڈل سنبھالا، کیونکہ ریگستان میں بائیک چلانا یوں بھی آسان کام نہیں تھا، اور دوسرے سے پیٹرول والی چوک اوپر کرنے کی کوشش کی تو اگلا جھٹکا مجھے لگا،
چوک تو پہلے سے ہی اوپر تھی، مطلب پیٹرول بالکل ختم ہو چکا تھا، یار یہ کیا مذاق ہے، اسی وقت بائیک آخری جھٹکا کھا کر رک چکی تھی، وسیم اور ناصر بھی میرے ساتھ ہی نیچے اتر چکے تھے، میں نے ٹینک کھول کر دیکھا تو خالی ٹینک میرا منہ چڑا رہا تھا، یار تم تو کہہ رہے تھے کہ پیٹرول کافی ہے ہم آرام سے منزل تک پہنچ جائیں گے؟ میں نے طنزیہ اور قدرے غصیلی نظروں سے ناصر کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ سر کجھا کر بولا کہ شاید چوک خراب ہو گئی ہے، اس نے پیٹرول کم ہونے کا سگنل ہی نہیں دیا، وسیم بھی منہ بنا کر کھڑا تھا، اب کیا کرنا ہے ؟ وسیم نے پوچھا, تو میں نے کہا کہ اب باری باری بائیک کو دھکا لگاؤ اور کسی بھی طرح قریبی آبادی تک جانے کی کوشش کرتے ہیں،
اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا، مسئلہ تو یہ تھا کہ قریبی آبادی کتنی دور تھی یہ بھی معلوم نہیں تھا، ہم تینوں دوستوں نے مفت میں یہ ” انوکھا ایڈونچر ” شروع تو کر دیا تھا، اب منہ پھلا کر ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے، ریگستان میں بائیک کو گھسیٹنا آسان نہیں تھا، اوپر سے گرمی بھی بڑھتی جا رہی تھی، گو کہ صبح کے گیارہ بجے کا وقت تھا، لیکن ریگستان کا یہ حصہ ابھی سے گرم ہو چکا تھا، ہم صادق آباد کے صحرائی حصے میں کسی جگہ پر تھے، یہاں سے جنوب کی جانب جائیں تو انڈیا کی ریاست راجستھان بمشکل تیس چالیس کلومیٹر دور تھی، اور آگے کی جانب سندھ کا تھرپارکر کا حصہ اور پیچھے بہاولپور کا چولستان تھا، صحرا کا یہ خطہ بہت بڑا ہے جو سندھ میں حیدر آباد سے لے کر پنجاب میں بہاولپور تک اور صادق آباد سے جنوب میں انڈیا تک پھیلا ہوا ہے، یہاں سے واپس گھر کی طرف جانا ممکن نہیں تھا کیونکہ ہم تقریباً پندرہ کلومیٹر کا فاصلہ بائیک پر کر کے یہاں تک پہنچے تھے،
اب واپس جانے کا مطلب یہ تھا کہ بائیک کو گھسیٹتے ہوئے پندرہ کلومیٹر ریت میں چلا جاتا، اور یہ ممکن نہیں تھا، آج صبح کی بات تھی جب ہم تینوں دوستوں، میں یعنی شکیل، ناصر اور وسیم نے ساتھ مل کر وسیم کے چچا زاد سے ملنے دوسرے گاؤں جانے کا پروگرام بنایا تھا، لیکن ہم نے سیدھا راستہ چھوڑ کر شارٹ کٹ اپنایا تھا جو اسی ریگستان سے ہو کر گزرتا تھا، صحیح سے راستہ کسی کو بھی معلوم نہیں تھا،۔ بس اندازہ تھا کہ یہاں سے ہم کم وقت میں منزل پر پہنچ جائیں گے، لیکن بائیک نے عین اس وقت دھوکہ دیا جب ہم ریگستان کے بیچوں بیچ پتلی سی پگڈنڈی پر کافی آگے نکل آئے تھے، خیر اب جو بھی تھا آگے بڑھتے رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھے، دس منٹ پیدل چلنے سے ہی پسینہ پھوٹ پڑا تھا،
اور پھر آگے جا کر یہ کچی پگڈنڈی تین سمتوں میں مڑ گئی، یہاں پر رک کر ہم ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے، ہاں جی اب کس طرف کو جانا ہے ؟ میں نے بائیک کو سٹینڈ پر لگایا اور ناصر کی جانب رخ موڑ کر پوچھا تو وہ کہنے لگا میرا خیال ہے ہمیں بالکل سیدھے چلنا چاہیے، یہاں پر تھوڑا سا آگے ہمیں آبادی مل جائے گی، اس نے اندازے کی بنا پر کہا تھا لیکن وسیم اس بات پر راضی نہیں تھا، اس کا کہنا تھا کہ ہمیں الٹے ہاتھ والے راستے پر مڑنا ہے، یہی راستہ ہمیں منزل تک لے جائے گا، وہ دونوں آپس میں بحث کر رہے تھے مجھے تو بالکل بھی آئیڈیا نہیں تھا، گرمی اور تھکاوٹ نے دماغ خراب کر دیا تھا، خیر ناصر کی بتائی سمت میں جانے کا فیصلہ ہو چکا تھا اور پھر ہم ادھر کو چل پڑے، ریت کا سمندر چاروں طرف پھیلا ہوا تھا جو سورج کی تیز شعاؤں سے چمک کر تانبے کی مانند دکھائی دے رہا تھا، کچھ دیر پہلے فراٹے بھرتی بائیک پر یہ منظر خاصا حسین لگ رہا تھا لیکن پندرہ منٹ پیدل چلنے سے راستے کی ساری خوبصورتی کہیں پیچھے ہی رہ گئی تھی، اب صرف تھکاوٹ اور بے چینی بچی تھی، جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی تھی، آگے جا کر یہ پگڈنڈی مزید دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی، یہاں پر دوبارہ کچھ دیر کی گرما گرم بحث کے بعد ایک راستے پر اتفاق ہوا اور اب ہم اسی پر چلتے جا رہے تھے، لیکن اب قدم مزید سست ہو چکے تھے،
یار تم لوگ ساتھ پانی نہیں لائے؟ وسیم نے ہانپتے ہوئے پوچھا تو میں نے ناصر کی جانب دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ بے وقوف پیٹرول نہیں بھروا کر آیا، پانی کہاں سے لائے گا، سچی بات تو یہ تھی کہ اس وقت پیاس سے حلق میں کانٹے پڑ رہے تھے، اور چکر سے آ رہے تھے، میں نے آس پاس نگاہ دوڑائی تو کوئی سایہ دار درخت نظر نہیں آیا، چھوٹی چھوٹی صحرائی جھاڑیاں اس قابل نہیں تھیں کہ ہم کو سایہ فراہم کر سکتیں، اچانک وسیم کی چیخ نے ہماری توجہ اس کی جانب کھینچ لی
ایک تو پیاس بہت لگ رہی تھی اوپر سے کوئی سایہ دار درخت بھی نہیں تھا جہاں چند گھڑیاں آرام سے گزار لیتے، چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں اس قابل نہیں تھیں کہ ہم کو سایہ فراہم کر سکتیں، اسی دوران وسیم کی چیخ سن کر ہم اچھل پڑے، سنہرے رنگ کا ایک چھوٹا سا صحرائی سانپ اس کی شلوار سے چمٹا ہوا تھا، وسیم نے جلدی سے شلوار کو جھاڑ کر سانپ کو نیچے گرایا تو ہم نے سکون کا سانس لیا، سانپ نے اپنا سارا غصہ اور زہر شلوار میں اتار دیا تھا، شکر تھا کہ وسیم اس کے ڈسنے سے بچ گیا تھا، میں نے سنا تھا کہ صحرائی سانپ بہت زہریلے ہوتے ہیں، اب ہم کچھ ڈر سے گئے تھے اور ہمارے قدموں میں تیزی آ گئی تھی، سب سے بڑا مسئلہ بائیک کو گھسیٹنے کا تھا، ریت میں اس کے ٹائر دھنس جاتے تھے پھر بھی ہم تینوں باری باری اس کو کسی نا کسی طرح ساتھ لے کر جا رہے تھے، مزید کافی دیر چلنے کے بعد بھی کسی طرف انسانی آبادی کا نشان نہیں آیا تھا،
جس جگہ جا کر رکتے تو چاروں طرف گول گول ریتلے ٹیلے ہی نظر آتے تھے، اس کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا، جتنا بھی آگے جاتے، یوں لگتا کہ اسی جگہ پر موجود ہیں جہاں پر بائیک کا پیٹرول ختم ہوا تھا، اب تو پریشانی کافی بڑھ گئی تھی دل میں عجیب عجیب سے وسوسے آ رہے تھے، کہ اگر کوئی مدد نا ملی تو کیا کریں گے، پھر ہم نے ایک جگہ پر بائیک کھڑی کر دی، اب مزید پیدل چلنا ممکن نہیں رہا تھا، سورج اب اوپر آ گیا تھا اور اس کی تپش ہر چیز کو جھلسا رہی تھی، پھر ہم زمین پر ہی بیٹھ گئے تھے، مقصد یہ تھا کہ کچھ دیر آرام کر لیں اور پھر آگے کا پلان کریں، اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ موبائل فون تو ہم تینوں کے پاس ہیں، کیوں نا کسی کو فون کر کے اپنی صورت حال بتا کر اس سے مدد طلب کریں، یہ خیال خاصا حوصلہ دینے والا تھا، میں نے دونوں ساتھیوں کو بتایا تو وہ کہنے لگے کہ یار چھوڑو، خوامخواہ گھر والوں کو بتا کر پریشان نا کرو، ہم جلد ہی کسی ٹھکانے پر پہنچ جائیں گے، لیکن میں نے ان سے کہا کہ ایسا کرنا ضروری ہو گیا ہے، پھر میں نے جیب سے موبائل فون نکالا اور لاک کھول کر دیکھا تو میرا منہ لٹک گیا، دونوں سم کے سگنل غائب تھے، ناصر اور وسیم نے بھی اپنے موبائل نکال کر دیکھے تو وہاں بھی صورت حال یہی تھی، یہ ایک نئی پریشانی تھی جس کے بارے میں ہم نے سوچا بھی نہیں تھا، میں نے موبائل ہاتھ میں پکڑا اور سگنل کی تلاش میں ایک اونچے ٹیلے کی جانب چل پڑا،
مجھے امید تھی کہ تھوڑی اونچائی پر ایک آدھ سگنل مل جائے گا، لیکن میری یہ کوشش بھی بیکار گئی، الٹا تھکاوٹ ہی ملی تھی، اب تو یوں لگ رہا تھا کہ قدموں میں جان ہی نہیں ہے، صحرا میں جب انسان بھٹک جاتا ہے تو اس کا دماغ تیزی سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، ہر جانب ایک ہی طرح کے گول گول سے گھومتے ہوئے ٹیلے دماغ کو چکرا کر رکھ دیتے ہیں، کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ آپ کافی لمبا چکر کاٹ کر پھر اسی جگہ پر پہنچ جاتے ہیں جہاں سے چلے تھے، ایک بار پھر ہم نے ہمت کی اور سفر شروع کر دیا، ناصر کہنے لگا کہ ریگستان میں یہ پتلی پگڈنڈیاں انسانوں کی بنائی ہوتی ہیں، ہمارے علاوہ بھی کوئی نا کوئی یہاں سے گزرتا ہو گا، ہو سکتا ہے آج بھی ہم کو کوئی مسافر مل جائے، اور ہمیں منزل تک رہنمائی کر دے، صحرائی لوگوں کی یاداشت بہت تیز ہوتی ہے اور وہ راستہ نہیں بھولتے، بچپن سے ہی وہ ایسی جگہوں پر رہنے کے عادی ہوتے ہیں، اب ہمیں ایک امید یہ تھی کہ کوئی صحرائی یا مسافر ہمیں مل جائے اور ہمیں کچھ مدد حاصل ہو جائے،
لیکن جب چلتے چلتے مزید ایک گھنٹہ گزر گیا تو وہ امید بھی دم توڑتی نظر آئی، اب سورج پوری طرح سر پر آ گیا تھا موبائل سے وقت دیکھ کر پتا چلا کہ دوپہر کے دو بج چکے ہیں اور ہمیں پیدل چلتے تقریباً چار گھنٹے ہو چکے تھے، کئی بار ایسا ہوتا کہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا جاتا تھا، اور ہر چیز گھومتی ہوئی محسوس ہوتی، ہم اتنے موڑ مڑ چکے تھے کہ اب اگر واپس جانے کی کوشش کرتے تو یقیناً واپس بھی نا جا پاتے، اور پھر اچانک کچھ فاصلے پر ایک صحرائی درخت نظر آ گیا، یہ بہت زیادہ پھیلا ہوا تو نہیں تھا، لیکن اتنا بڑا ضرور تھا کہ ہم دوپہر کے دو تین گھنٹے اس کے نیچے آرام کر سکتے تھے، اس وقت تک ہماری حالت ایسی ہو چکی تھی، تھی کہ درخت کا سایہ بھی غنیمت لگا اور ہم اپنے قدموں کو گھسیٹتے ہوتے درخت کے نیچے پہنچ گئے، بائیک کو سٹینڈ پر کھڑا کرنے کی ہمت نہیں تھی، اسے زمین پر پھینک کر ہم تینوں بھی گر سے گئے، چھاؤں نے کافی زیادہ سکون دیا تھا، لیکن پیاس کا علاج پانی کے سوا کون کرے؟ وہ یہاں پر میسر نہیں تھا، پیاس جب زیادہ لگتی ہے تو انسان کا جسم سست پڑ جاتا ہے، اور اس پر تھکاوٹ اور نیند کا غلبہ طاری ہونے لگتا ہے،
رمضان المبارک میں اس کا تجربہ اکثر لوگوں کو ہوتا ہو گا کہ جب روزے کی وجہ سے پیاس لگتی ہے تو نیند بھی بہت آتی ہے، ہمارے ساتھ بھی اس وقت یہی صورت حال تھی، ہمارا روزہ تو نہیں تھا نا ہی رمضان کا مہینہ تھا لیکن حالت روزے دار سے بھی زیادہ خراب تھی اور سب سے بڑھ کر پانی ملنے کی کوئی امید بھی نہیں تھی، کوئی معجزہ ہی ہمیں بچا سکتا ہے، اور وہ ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا، پیاس اور تھکاوٹ نے ہم پر نیند طاری کر دی تھی اور ہم تینوں بے سدھ ہو کر سو گئے، جس وقت میری آنکھ کھلی،
سورج مغرب کی جانب ڈھل رہا تھا، ناصر اور وسیم دونوں ابھی تک سوئے ہوئے تھے، میں ان کے پیاس سے سفید ہوتے ہونٹ دیکھ سکتا تھا میری بھی یہی حالت تھی سچ تو یہ تھا کہ کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ کس طرف جانا ہے اور مدد کہاں سے حاصل ہو گی، جس سفر کو ہم نے ایڈونچر کے لیے شروع کیا تھا وہ ہمارے گلے پڑ چکا تھا، اٹھو یار، اب کیا کرنا ہے؟ میں نے ناصر کو ہلاتے ہوئے پکارا، لیکن اس نے کوئی حرکت نا کی، پھر میں نے وسیم کو پکارا، لیکن اس کی طرف سے بھی کوئی جواب نا آیا، میرا دل دہل کر رہ گیا۔۔۔۔ ان دونوں پر ایک طرح کی غشی طاری تھی، میں نے ان کی نبض دیکھی تو وہ سست رفتار سے چل رہی تھی، پھر میں نے کوشش کر کے دونوں کو جگایا تو وہ آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ بیٹھے، اور مجھے ایسے دیکھنے لگے جیسے میں کوئی بھوت ہوں، ہاں اب بتاؤ کیا کرنا ہے؟ میں نے تم دونوں کو شروع میں مشورہ دیا تھا کہ واپس جانے کی کوشش کرتے ہیں، بھلے سفر لمبا تھا لیکن ہم کسی نا کسی طرح پہنچ ہی جاتے، لیکن اب نا آگے کا پتا نا پیچھے کا، بولتے بولتے میرا لہجہ خاصا سخت ہو گیا تھا،
ان دونوں نے کہا کہ اب تو واپس جانا بیکار ہے، ہم راستے میں ہی پیاس اور تھکاوٹ سے مر کھپ جائیں گے، آگے چلتے رہنے سے یہ امید تو ہو گی کہ کوئی آبادی مل ہی جائے گی، کیونکہ پیچھے تو ہم دیکھ آئے ہیں، وہاں کچھ بھی نہیں ہے، ان کی بات سن کر مجھے شدید غصہ آ گیا اور میں نے کہا کہ پہلے بھی تم دونوں کی بات مان کر ہم مصیبت میں پھنسے ہیں، اب آگے بھی تم دونوں اپنی مرضی کر رہے ہو، میں مزید آگے نہیں جاؤں گا، تم دونوں نے جانا ہے تو جاؤ، مجھے مرنے کا کوئی شوق نہیں ہے، میں یہاں سے واپس جانا چاہتا ہوں، ابھی سورج غروب ہونے میں تین گھنٹے باقی ہیں، اللہ نے چاہا تو میں واپس گھر پہنچ ہی جاؤں گا، بھلے واپسی کا راستہ لمبا ہے، لیکن یہ تو امید ہے نا کہ میں گھر پہنچ جاؤں گا، آگے جانے کی کیا گارنٹی ہے کہ ہم اپنی منزل پر یا کسی انسانی آبادی میں پہنچ جائیں گے؟ یہ ریگستان بہت خطرناک ہے، ہماری ہڈیاں بھی کسی کو نہیں ملیں گی، اگر واپس جاتے ہوئے اپنے گاؤں کے قریب پہنچ کر میں مر بھی گیا تو کم سے کم کسی کو میری لاش تو مل ہی جائے گی، کم سے کم صحرائی لومڑیوں اور کوؤں کی خوراک تو نہیں بنوں گا،
میں نے اس جگہ سے واپس مڑنے کا اٹل فیصلہ کر لیا تھا، وسیم اور ناصر نے میری بات ماننے سے صاف انکار کر دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ جسم میں اب اتنی طاقت بچی ہے کہ پیچھے ہم پہنچ نہیں سکتے، آگے جانے میں کسی معجزے کی امید تو ہے نا۔۔ بات بہت آگے بڑھ چکی تھی، ہم تینوں باقاعدہ لڑنے اور مرنے مارنے پر اتر آئے تھے، میں نے ناصر سے کہا کہ یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے اگر تم وہاں سے روانہ ہونے سے پہلے بائیک میں پیٹرول چیک کر لیتے تو کم سے کم ہمارے ساتھ یہ سب تو نا ہوتا، ناصر کا کہنا تھا کہ وسیم کے کہنے پر ہم نے ریگستان والا شارٹ کٹ اختیار کیا تھا، اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے، جب تکرار حد سے بڑھ گئی تو میں نے دونوں سے کہا کہ بس فیصلہ ہو چکا ہے تم دونوں اپنی بائیک اٹھاؤ اور آگے نکل جاؤ، میں تو اب واپسی کی کوشش کروں گا، اگر قسمت میں ہوا تو پھر ملیں گے، ورنہ ہم سے کوئی بھی زندہ بچ گیا تو اس کی ذمہ داری ہو گی کہ گاؤں کے لوگوں کو ساتھ لے کر دوسرے ساتھی کی لاش تلاش کر کے اسے عزت سے دفن کر دیا جائے،
ان دونوں نے بھی میری اس بات سے اتفاق کر لیا تھا، لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ زندہ کون بچے گا اور کون اس خونی صحرا کا شکار بن جائے گا، ان دونوں نے اٹھ کر مجھ سے ہاتھ ملایا اور بولے کہ ہم آگے کی جانب نکل رہے ہیں، اگر ہم کو کوئی مدد مل گئی تو فوراً تمہاری خبر لینے کے لیے واپس آئیں گے، اور اگر تم کو کوئی مدد ملی تو ہمارے پیچھے آنا، شاید کہیں سے ہمارا کوئی نشان مل جائے، لیکن بائیک ہم ساتھ لے کر نہیں جائیں گے، اگر ہم نے زندہ رہنا ہے تو پھر بائیک سے چھٹکارا پانا ضروری ہے، کسی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ اسے مزید گھسیٹ سکے، پھر ہم تینوں نے اسی درخت کے نیچے گڑھا کھودنا شروع کر دیا، ریت کی وجہ سے زمین بالکل نرم تھی، جلد ہی پہلی قبر تیار ہو گئی ، یہ قبر ہماری موٹر سائیکل کی تھی.
ہم نے بائیک کو یہ سوچ کر زمین میں دفن کر دیا تھا کہ ہم میں سے کوئی بھی زندہ سلامت گھر چلا گیا تو وہ واپس یہاں پر آ کر اسے لے جائے گا، ہنڈا کمپنی کی 125 cc بائیک کافی اچھی حالت میں تھی، بیس منٹ بعد ہم بائیک کو زمین کے حوالے کر کے فارغ ہو چکے تھے، وسیم اور ناصر نے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا کہ ضد چھوڑ دو، ہماری بات مانو، آؤ اکھٹے چلتے ہیں، کوئی نا کوئی مدد مل جائے گی، لیکن میں واپس جانا چاہتا تھا، مجھے آگے موت نظر آ رہی تھی، اور پھر وہ دونوں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے وہاں سے نکل گئے، میری آنکھوں میں پہلی بار آنسو آئے تھے، میں بھیگی آنکھوں سے دیر تک ان دونوں کو دیکھتا رہا، اور پھر وہ دونوں اونچے نیچے ٹیلوں میں گم ہو گئے،
میں کچھ دیر وہیں کھڑا صورت حال کا جائزہ لیتا رہا کہ اس حالت میں آٹھ دس گھنٹے کا سفر کر پاؤں گا یا راستے میں ہی ہمت ہار جاؤں گا؟ جو بھی تھا یہاں پر بیٹھ کر موت کا انتظار کرنے سے بہتر تھا کہ قدموں کو گھسیٹتے ہوئے واپسی کے لیے نکل جاؤں، اور پھر میں بھی چل پڑا، جدھر سے ہم آئے تھے، اس طرح چل پڑا، مغرب کی جانب سورج تھوڑا سا مزید جھک چکا تھا لیکن ابھی تک گرم لو کے تھپیڑے چہرے کو جھلسا رہے تھے، مجھے امید تھی کہ اگر میں صحیح سمت میں چلتا رہا تو مکمل اندھیرا ہونے تک اپنے گاؤں کے کافی قریب پہنچ جاؤں گا، اور پھر کسی اونچی ٹیکری یا درخت پر چڑھ کر روشنیاں تلاش کرنے کی کوشش کروں گا، رات کے اندھیرے میں جس طرف سے روشنی آئے گی وہاں پر یقیناً آبادی ہو گی اور مجھے مدد مل جائے گا،
یہ سوچ کر میرے اندر ایک نیا حوصلہ پیدا ہوا اور میرے بے جان قدموں میں تیزی آ گئی، گرم ہوا کئی بار بگولوں کی شکل اختیار کر کے چھوٹے سی اندھی کی شکل اختیار کر لیتی تھی اور گرم ریت کے ذرے چہرے سے ٹکراتے تو یوں لگتا کہ چھوٹی چھوٹی کنکریاں لگ رہی ہوں، تھوڑا آگے جا کر مجھ پر انکشاف ہوا کہ جس راستے سے ہم آئے تھے وہاں پر ہمارے قدموں اور بائیک کے ٹائر کے نشانات سرے سے ہی مٹ گئے تھے، یہ تشویشناک صورت حال تھی، میں ان نشانات کو دیکھ کر آسانی سے واپس جا سکتا تھا، لیکن اب صورت حال بدل چکی تھی اس دن مجھے اندازہ ہوا کہ ریگستان میں ریت ہر وقت ایک جگہ سے دوسری جگہ اڑتی ہے، نئے نشان بناتی ہے اور پرانے نشانات مٹا دیتی ہے، اور یہ عمل مسلسل چلتا رہتا ہے، پھر بھی میں نے ہمت نہیں ہاری اور اندازے سے واپس چلتا رہا، میری نظریں تیزی سے آس پاس گھومتی رہتی تھیں، میں نہیں چاہتا تھا کہ کسی زہریلے سانپ یا بچھو کا نشانہ بنو، اگر ایسا ہو گیا تو پھر میری موت یقینی تھی،
جسم سے قوت برداشت تو پہلے ہی ختم ہو چکی تھی، اس لیے زہر کا اثر سیدھا دل پر ہو سکتا تھا اور پھر چند قدم بھی چلنا محال ہو جاتا، اور اسی جگہ گر کر موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا پڑتا، ریگستان کے اس حصے میں ابھی تک مجھے کوئی درندہ یا بڑا جانور نظر نہیں آیا تھا، بس کبھی کبھار کوئی جنگلی بلی یا نیولا ایک جھاڑی سے دوسری میں جاتا دکھائی دے دیتا تھا، ہو سکتا ہے رات ہونے پر بڑے جانور بھی نکل آتے، کیونکہ میں نے سنا تھا کہ گیدڑ، صحرائی لومڑیاں اور جنگلی سو٘ر اس حصے میں بکثرت پائے جاتے ہیں، اب مجھے چلتے ہوئے ڈیڑھ گھنٹہ ہو چکا تھا اس دوران میں نے کئی بار موبائل فون نکال کر دیکھا کہ شاید کوئی سگنل مل جائے لیکن ہر بار ناکامی ہی مقدر ٹھہری تھی، اب سورج غروب ہونے میں ایک ڈیڑھ گھنٹہ باقی تھی، گرمی کی شدت تھوڑی سی کم پڑ گئی تھی، لیکن دوسری جانب میری حالت ایسی ہو گئی تھی کہ آنکھوں کے آگے بار بار اندھیرا سا چھانے لگتا تھا، دو تین مرتبہ تو میں گرتے گرتے بھی بچا تھا، مجھے صرف چند گھونٹ پانی کی ضرورت تھی اگر وہ کہیں سے مل جاتے تو میں دس گھنٹے بھی مزید پیدل چل سکتا تھا، بلکہ جان بچانے کے لیے دوڑ سکتا تھا لیکن پانی کہاں سے آتا ؟
میں نے اوپر آسمان کی جانب دیکھا کہ شاید بارش کا کوئی امکان ہو، لیکن اوپر سوائے اللہ کی ذات کے اور کچھ نہیں تھا، پھر میری نظر بہت اونچائی سے گزرتے ہوائی جہاز پر پڑی، میرے دل میں خیال آیا کہ اس جہاز میں بہت سارا ٹھنڈا پانی ہو گا، طرح طرح کے مشروبات ہوں گے، کتنے خوش قسمت ہوں گے وہ مسافر جو جہاز میں سفر کر رہے ہوں گے، غرض یہ کہ مجھے بس پانی کی ضرورت تھی اور پانی کے علاوہ کوئی اور چیز میرے ذہن میں آتی ہی نہیں تھی، میں یہ سوچتے ہوئے چلتا جا رہا تھا کہ ایک بار گھر پہنچ جاؤں، تو اتنا زیادہ پانی پیوں گا کہ پھر کئی دن مجھے پیاس نا لگے، اچانک میرا پاؤں ایک چھوٹی سی جھاڑی سے ٹکرایا، اور میں منہ کے بل زمین پر آن گرا، اور اگلے کئی منٹ اسی طرح پڑا رہا، اٹھنے کی ہمت ہی نہیں تھی اگر نیچے نرم ریت نا ہوتی تو شاید مجھے اچھی خاصی چوٹ لگ جاتی، پھر میں نے ہمت جمع کی اور اٹھ کھڑا ہوا، یہاں لیٹ کر موت کا انتظار کرنے سے بہتر تھا کہ مزید کوشش کر لوں، تھوڑا آگے جا کر وہی پریشانی آ گئی، جو جاتے وقت سامنے آئی تھی، لیکن ایک پگڈنڈی تین یا چار سمتوں میں مڑ جاتی تھی اور وہاں پر کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اب کہاں جانا ہے،
اب تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ کوئی معجزہ ہی مجھے ان بھول بھلیوں سے نکال سکتا ہے ورنہ کل شام کا ڈھلتا ہوا سورج مشکل سے ہی دیکھ پاؤں گا، پھر میرے دل میں خیال آیا کہ کاش ناصر اور وسیم کی بات مان لیتا، تو شاید اچھا ہوتا، تینوں مل کر کوئی نا کوئی حل نکال ہی لیتے، یہ بھی ممکن تھا کہ وہ دونوں کسی منزل پر پہنچ چکے ہوں اور میں ابھی تک موت کی وادی میں گھوم رہا ہوں، یہ خیال آتے ہی میرا دل مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب گیا، کبھی کبھی دل کرتا کہ کلمہ پڑھ کر اسی جگہ لیٹ جاؤں اور پھر خود کو موت کے حوالے کر دوں، لیکن موت کو سامنے دیکھ کر زندگی کی خواہش اتنی زیادہ بڑھ چکی تھی کہ میں چاروں میں سے ایک پگڈنڈی پر چل پڑا، مجھے زندگی بچانے کے لیے چلتے جانا تھا کم سے کم جب تک میں چل سکتا تھا، راستے میں کئی بار میرے سامنے مختلف پگڈنڈیاں آئیں اور میں کسی ایک پر چل پڑتا تھا، اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ میں اپنے گھر کی جانب نہیں جا رہا، جی ہاں۔۔ اپنے گھر کی طرف جانے والا راستہ تو معلوم نہیں میں کہاں پہ چھوڑ آیا تھا، اور اب تک چار یا پانچ بار تو غلط موڑ مڑ چکا تھا، اگر واقعی میں نے ایسا کیا تھا تو پھر اب میں کہاں جا رہا تھا؟ میں نے ایک ایسی جگہ پر رک کر خود سے سوال کیا جہاں پر راستہ مزید تین سمتوں کو نکل رہا تھا،
میرے اندر سے آواز اٹھی کہ تم اپنے گھر نہیں جا رہے بلکہ اپنی زندگی بچانے کے لیے موت کی اس وادی سے کہیں دور نکلنا چاہتے ہو بس، جہاں پر پانی کے چند گھونٹ مل جائیں، مجھے اسی جگہ پر پہنچنا تھا، فقط حلق تھوڑا سا تر ہو جائے تو پھر گھر واپس جانے والا راستہ بھی ڈھونڈ لوں گا، اپنے اندر کی یہ آواز سن کر میرے دل سے ایک بوجھ سا اتر گیا، اب مجھے گھر واپس نہیں جانا تھا، نا ہی میں اپنے گھر پہنچ سکتا تھا، مجھے اس جگہ جانا تھا جہاں پر پانی مل جائے، یہ بات واضح ہوتے ہی میں ایک پگڈنڈی پر چل پڑا، اب اندھیرا مکمل طور پر اتر چکا تھا، جو لمحہ بہ لمحہ گہرا ہوتا جا رہا تھا میرے قدم ایک ایک من وزنی ہو چکے تھے جن کو اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھنا میرے لیے مشکل ہو چکا تھا، اپنے دونوں ساتھیوں کو رخصت کرنے کے بعد مجھے وہاں سے چلتے لگ بھگ چار گھنٹے ہو چکے تھے اور اب میں کسی بھی وقت گرنے والا تھا، پیاس کی شدت سے آنکھیں اندر کو دھنس گئی تھیں اور مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میں انسان نہیں ہوں فقط ہڈیوں کا ڈھانچا ہوں جو کسی ان دیکھی طاقت کے زیر اثر خود بہ خود چلتا جا رہا ہوں، اور پھر مزید کچھ دیر چلنے کے بعد میں ہمت ہار گیا، ہاں اب مجھے مر ہی جانا چاہیے، اس حالت سے، موت کی آغوش میں سو جانا زیادہ بہتر اور آرام دہ ہو گا، میں نے دل میں سوچا اور پھر نیچے گرنے ہی والا تھا کچھ دور مجھے درخت کا ہیولا سا نظر آیا، میں نے ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنی پلکوں کو اوپر اٹھایا اور غور سے دیکھا تو میرا شک صحیح نکلا،
وہ درخت ہی تھا، میرے دل میں ایک مرتبہ پھر امید جاگی کہ ہو سکتا ہے یہ درخت کسی آبادی کے قریب ہو اور اگر میں کسی طرح درخت پر چڑھ گیا تو پھر یقیناً مجھے کسی قریبی آبادی کی روشنیاں نظر آ ہی جائیں گی، یہ خیال خاصا خوش کن تھا اور پھر میں آہستہ آہستہ اس درخت کی جانب بڑھنے لگا، اسی وقت مجھے گیدڑوں کے غرانے اور صحرائی لومڑی کے بین کرنے کی آوازیں سنائی دیں، میرا اندازہ درست نکلا تھا، یہاں پر ایسے درندہ نما جانور وافر تھے جو رات ہوتے ہی جھاڑیوں اور بلوں سے باہر نکل آئے تھے، اور پانچ منٹ کا فاصلہ پندرہ منٹ میں طے کر کے میں درخت کے نیچے پہنچ گیا، امید کی کرن دوبارہ سے پھوٹ پڑی تھی، میں اتنا بے بس اور لاچار تھا کہ درخت کے اوپر چڑھنے کی ہمت نہیں تھی اس کے لیے مجھے کچھ دیر زمین پر لیٹ کر ہمت جمع کرنی تھی اور پھر میں درخت کے نیچے ریت پر لیٹ گیا، اب زمین بھی قدرے ٹھنڈی تھی اس لیے لیٹنے سے سکون سا محسوس ہو رہا تھا، میرا ایک ہاتھ بلاوجہ ہی ریت کو کھوجنے میں مصروف تھا، جیسے جیسے میں ریت کو ہاتھ سے ہٹاتا، نیچے سے ریت مزید ٹھنڈی نکل آتی اور اسے چھو کر مجھے راحت کا احساس ہوتا تھا، پھر اچانک میرے ہاتھ میں ایک سخت سی چیز آ گئی، جیسے لوہے کا پائپ ہو، میں نے اسے پکڑ کر باہر نکالنے کی کوشش کی تو میں ناکام رہا، یہ کیا چیز ہو سکتی ہے؟
میں تجسس کے ہاتھوں مجبور ہر کر اٹھ بیٹھا، جیب سے موبائل نکال کر اس کی ٹارچ روشن کی اور اس جگہ سے زمین کھودنے لگا، ایک منٹ سے بھی کم وقت لگا اور وہ چیز میرے سامنے آ گئی، وہ بائیک تھی جسے چار پانچ گھنٹے پہلے ہم تینوں نے زمین کے نیچے دفن کیا تھا، میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا، میں نے اوپر درخت کی جانب غور سے دیکھا تو مجھے ہر چیز گھومتی ہوئی محسوس ہوئی، یوں لگا جیسے آسمان میرے اوپر گر رہا ہو، میں پانچ گھنٹے مسلسل چلنے کے بعد پھر اسی جگہ آ گیا تھا جہاں سے چلا تھا، میرا دل کیا کہ دھاڑیں مار مار کر روؤں، میں نے کوشش بھی کی، لیکن کامیاب نہ ہو سکا، کیونکہ حلق پھاڑ کر رونے کے لیے بھی طاقت چاہیے تھی جو میرے اندر نہیں تھی، میری موت اسی طرح لکھی تھی تو مجھے اس کو قبول کر لینا چاہیے تھا، میں نے موبائل فون کی ٹارچ بند کی اور اسے اپنے قریب یہ سوچ کر رکھ دیا کہ اگر کسی مسافر کو میری لاش یہاں پڑی نظر آئی تو وہ موبائل سے میرے گھر والوں کا نمبر لے کر ان سے رابطہ تو کر لے گا نا، پھر میں نے بمشکل سے کلمہ پڑھا اور خود کو موت کے حوالے کر دیا، مجھے جو آخری چیز یاد تھا وہ گیدڑوں کی وحشت ناک آوازیں تھیں، آج رات ان کو گوشت ملنے والا تھا، تازہ انسانی گوشت ۔۔
میرا ذہن تاریکیوں میں ڈوب چکا تھا، لیکن گیدڑوں کی آوازیں ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہی تھیں پھر ان آوازوں میں صحرائی لومڑیوں کی دردناک آوازیں بھی شامل ہو گئیں، یہ آوازیں لمحہ بہ لمحہ قریب آتی جا رہی تھیں، پھر مجھے محسوس ہوا کہ وہ دونوں آوازیں آپس میں گڈمڈ ہو گئی ہیں، یا شاید وہ آپس میں لڑ رہے تھے ظاہری بات ہے ہر کوئی چاہتا ہو گا کہ تازہ گوشت پہلے اسے ملے، میں اس اذیت کو برداشت نہیں کر سکتا تھا اس لیے میں خود کو نوچے جانے سے پہلے ہی مر جانا چاہتا تھا اور پھر میں شاید مر گیا۔۔۔۔
دوبارہ جس وقت میری آنکھ کھلی دن کا اجالا چاروں طرف پھیلا ہوا تھا، میں خالی دماغ سے آنکھیں کھول کر اوپر دیکھنے لگا، درخت کی ہری بھری شاخیں میرے سامنے تھیں میرے ذہن میں پہلا سوال یہ آیا کہ شاید میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوا ہوں، پھر میں نے اپنا جسم اچھی طرح ہلا کر دیکھا، ہاتھ پیر اور ہر چیز سلامت تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ گیدڑ اور صحرائی لومڑیوں نے مجھے نہیں کھایا تھا، لیکن کیوں؟ شاید وہ مجھے زندہ دیکھ کر واپس مڑ گئے تھے، ان کو مردار کھانا زیادہ پسند ہو گا۔۔۔ اس کا مطلب ہے میں ابھی تک زندہ ہوں؟ یہ سوچ کر میرا دل خوشی سے بھر گیا، ساری رات میں بے ہوشی کی کیفیت میں رہا تھا اور صبح مجھے ہوش آ گئی تھی میرے زندہ بچنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ابھی تک مجھے پانی نا ملے صرف چوبیس گھنٹے ہی گزرے تھے اور میں نے سنا تھا کہ انسان پانی کے بغیر تین دن تک زندہ رہ لیتا ہے،
پھر میری حالت اتنی جلدی کیوں خراب ہو گئی تھی؟ ہاں۔۔۔ یقیناً میں صحرا میں پیدل چلنے کی وجہ سے پانی کی کمی کا شکار ہو گیا تھا اور اب جسم کا کافی زیادہ ریسٹ ملا تو طبیعت تھوڑی سی بہتر ہو گئی تھی، پھر میں اٹھ بیٹھا، دیکھا تو موبائل بھی پاس ہی پڑا ہوا تھا، لوگ کہتے ہیں موبائل فون کے بہت سے فائدے ہیں لیکن میرے تو کسی بھی کام نہیں آیا تھا پھر میں لڑکھڑاتے قدموں سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا ایک بار آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھایا اور پھر میں سنبھل گیا، میں زندہ تو بچ گیا تھا لیکن کب تک؟؟ پانی بہت ضروری تھا، میری حالت پیدل چلنے کے قابل بھی نہیں تھی
تو کیا مجھے اسی جگہ بیٹھ کر مدد کا انتظار کرنا چاہیے، ہو سکتا ہے ناصر اور وسیم گھر پہنچ گئے ہوں اور مجھے تلاش کرنے وہ لازمی اسی جگہ پر واپس آئیں گے، یہ واحد امید تھی جو اب میرے دل میں بچی تھی میرا حلق سوکھ کر کانٹا ہو رہا تھا، میرے دل میں خیال آیا کہ درخت کے کچھ پتے چبا کر ان کے رس سے اپنا حلق تر کر لوں، یہ ٹاہلی کا درخت تھا جس کے پتے میٹھے نہیں تو کڑوے بھی نہیں ہوتے، اگر میں زیادہ پتے چباتا تو تھوڑا سا رس مل سکتا تھا، لیکن اس کے لیے تھوڑا سا اوپر چڑھنا ضروری تھی زمین پر کھڑے ہو کر یہ کام ممکن نہیں تھا،
اوپر چڑھنے کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ میں آس پاس کے علاقے کا جائزہ لے سکتا تھا شاید کہیں پر کوئی انسانی آبادی یا پانی کا وسائل دکھائی دے جائے، یہ سوچ کر میں نے اپنے اندر ہمت جمع کی اور درخت پر چڑھنا شروع کر دیا، عام حالات میں ایسے درخت پر چڑھنا میرے لیے بائیں ہاتھ کا کام تھا لیکن اس وقت اتنی کمزوری ہو رہی تھی کہ میرے ہاتھ اور پاؤں کانپ رہے تھے کئی بار نیچے گرتے گرتے بچا، اور بالآخر اوپر چڑھنے میں کامیاب ہو گیا، ایک جگہ پر سر سبز پتوں کو گچھا کو ہاتھ ڈالا تو میری آنکھیں چمک اٹھیں، زندگی کی ایک امید میرے سامنے تھی، شہد کا ایک چھتا میرے ہاتھ سے فقط دو فٹ کی دوری پر موجود تھا، جیسے ہی میں نے پتے توڑنے کے لیے شاخ پر ہاتھ ڈالا تو کچھ مکھیوں نے اڑنا اور میرے ارد گرد منڈلانا شروع کر دیا تھا، شاید ان کو توقع نہیں تھی کہ اس ویران جگہ پر کوئی ان کو ستانے کے لیے آ جائے گا، میں نے موقع کو غنیمت جانا، اور خالی ہاتھ اور بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے چھتے سے شہد حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا، اس میں مجھے مکھیوں کے کاٹنے کا خدشہ تھا لیکن یہ غیبی مدد میں کسی طور پر گنوانا نہیں چاہتا تھا،
شہد کے چند گھونٹ مجھے نئی زندگی دے سکتے تھے، اور پھر میں نے اس شاخ کو پکڑ کر زور سے ہلایا اور کھینچ کر توڑ لیا، مکھیوں کی بھنبھناہٹ نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا کچھ تو مجھ پر حملہ آور بھی ہوئیں لیکن میں اپنے مشن میں کامیاب ہو گیا تھا، چھتہ ہاتھ میں پکڑ کر میں نے اپنی جگہ بدل لی اب میں مکھیوں کے زہریلے ڈنک سے محفوظ تھا، چھتے میں اچھا خاصا شہد تھا، میں ندیدوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑا، اور چند منٹوں میں ہی سارا چٹ کر لیا، گو کہ شدید پیاس میں شہد اس کا متبادل نہیں تھا لیکن مجھے یوں لگا کہ میرے جسم میں نئی طاقت آ گئی ہو، پیاس میں بھی تھوڑی سی کمی آ چکی تھی، میں کچھ دیر وہیں پر بیٹھا رہا اور پھر مزید اوپر چڑھنا شروع کر دیا، اب میرے ہاتھوں میں قوت اور پیروں میں پھرتی تھی یہ شہد کا کمال تھا، اس سے بھوک بھی کافی حد تک مٹ گئی تھی جب میں درخت کے کافی اوپر چڑھ گیا تو پھر چاروں جانب نگاہ دوڑائی، میری نظریں گھوم کر واپس آ گئیں لیکن کہیں پر بھی کوئی انسانی آبادی یا اس کے آثار نظر نہیں آئے، ہر جانب ریت کے اونچے نیچے ٹیلے حد نگاہ پھیلے ہوئے تھے، میرا دل ایک بار پھر مایوسی میں ڈوب گیا، میں واپس زمین پر جانے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ بہت دور ایک سیاہ دھبے نے میری توجہ اپنی جانب کھینچ لی، شروع میں وہ مجھے چھوٹا سا سیاہ رنگ کا دھبہ ہی لگ رہا تھا لیکن جیسے جیسے میں غور کرتا گیا، منظر واضح ہونے لگا، وہ کافی بڑا درختوں کا ایک جھنڈ تھا،
اس کے آس پاس ہریالی بھی نظر آ رہی تھی، لیکن یہ سب ایک دھندلا سا خاکہ تھا جو بہت غور سے دیکھنے پر واضح ہوتا تھا، مجھے لگا کہ ضرور اس جگہ پر زندگی کے آثار ہوں گے، اگر سبزہ تھا تو پانی بھی ہو گا، مجھے ہر صورت وہاں تک پہنچنا ہو گا، پھر آگے میری قسمت۔۔ میں نے وہیں پر بیٹھ کر اس جگہ کا نقشہ اور راستہ ذہن میں محفوظ کرنا شروع کر دیا، میں اس بار کوئی غلطی نہیں کرنا چاہتا تھا، شاید یہ میرے پاس آخری موقع تھا، میں کل والا قصہ دہرانا نہیں چاہتا تھا جب پانچ گھنٹے پیدل چلنے کے بعد واپس اسی جگہ پہنچ گیا تھا نا ہی میں بھٹک کر درد ناک موت مرنے کا خواہش مند تھا، مجھے اچھی طرح سبق حاصل ہو چکا تھا کہ ریگستان ہوتا ہے بھول بھلیوں کا نام ہے، اس میں ہر چیز سراسر دھوکا ہوتا ہے، انسان کا دماغ منٹوں میں ہی گھوم جاتا ہے اور پھر وہ جتنا بھی چلتا جائے، منزل تک مشکل ہی پہنچتا تھا بلکہ مزید گم ہوتا جاتا ہے، یہ میرے پاس آخری موقع تھا لیکن سفر کتنا تھا؟ شاید پانچ کلومیٹر یا دس ؟؟ اتنی دور سے اندازہ نہیں ہو رہا تھا، پھر بھی مجھے یقین تھا کہ اگر وہ جگہ آنکھ سے نظر آ رہی تھی تو دس کلومیڑ سے زیادہ دور نہیں تھی، میں نے وہیں سے سورج کی سمت کا تعین بھی کر لیا، جس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ میں نے سورج سے کس سمت میں سفر کرنا ہے، صحرا میں سفر کرنے والوں کے لیے سورج ایک طرح کا مددگار بھی ہوتا ہے،
اور پھر میں درخت سے نیچے اتر آیا، اس بار میرے قدموں میں لڑکھڑاہٹ نہیں تھی، اب میں نے اس جانب سفر شروع کر دیا تھا جس طرف مجھے پانی ملنے کی امید تھی، مسئلہ صرف ایک تھا کہ اس جانب کوئی بھی راستہ یا پگڈنڈی نہیں جاتی تھی، صرف چھوٹے بڑے ٹیلوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ تھا جو ایک کے بعد دوسرا شروع ہو جاتا تھا، میرا رخ اب دونوں راستوں سے ہٹ کر انڈیا کی جانب جانے والے راستے پر تھا، لیکن انڈیا کا بارڈر تو خاصا دور تھا، میں سست قدموں سے چلتا جا رہا تھا یہاں تک کہ دوپہر سر پر آ گئی ، سورج ایک مرتبہ پھر آگ برسا رہا تھا، اور پیاس کی شدت دوبارہ سے بھڑک اٹھی تھی، شہد کھانے سے جو وقتی توانائی ملی تھی وہ تقریباً ختم ہو چکی تھی، اگر صحرا کی بجائے یہ عام راستہ ہوتا تو مجھے چلنے میں اتنی دشواری نا ہوتی، لیکن یہاں پر تو بار بار اوپر نیچے چڑھنے سے ٹانگیں بے جان ہو گئی تھیں، اور پھر اچانک سے میری نظروں کے سامنے ہرنوں کا ایک جوڑا آ گیا،
معلوم نہیں کہاں سے چرتے ہوئے آ نکلے تھے، میں نے سنا تھا کہ اس علاقے میں لوگ ہرنوں کا شکار کرتے ہیں لیکن آج پہلی بار اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا تھا کہ واقعی یہاں پر ہرن ہوتے ہیں، وہ دونوں بھی رک کر حیرت سے مجھے دیکھ رہے تھے، شاید ان کو بھی امید نہیں تھی کہ یہاں پر بھی کوئی انسان آ سکتا ہے، پھر وہ چوکڑیاں بھرتے ہوئے ایک جانب بھاگ گئے، میں کچھ دیر وہیں کھڑا ان کے بارے میں سوچتا رہا، ایک بار دل میں خیال آیا کہ ان کے پیچھے جاؤں، یہ بھی تو کہیں سے پانی پیتے ہوں گے، لیکن دماغ نے سمجھایا کہ اپنے راستے سے ہٹنے کی غلطی نا کروں تو بہتر ہے، دوسری جانب چلنا بھی دشوار ہو گیا تھا، اب میں تھوڑی دیر رک کر لیٹ جاتا اور پھر چل پڑتا تھا، کئی بار میں گھٹنوں کے بل بھی رینگا تھا، زندگی بچانے کے لیے میں ہر لمحہ موت کے قریب ہوتا جا رہا تھا، اور پھر شام ڈھلنے گئی، سورج کافی نیچے چلا گیا اور ساتھ ہی مجھے چکر سے آنے لگے، اب بس ہو گئی تھی مزید آگے جانا ممکن نہیں تھا، سامنے والا ٹیلہ بہت اونچا تھا، وہاں پر عام انسان سے چڑھنا بھی مشکل ہو جاتا، میرے جسم میں تو جان بھی نہیں تھی، پیاس کی شدت سے میرا منہ کھلا ہوا تھا اور یوں لگ رہا تھا کہ سست پڑتی دھڑکن کسی بھی پل رک جائے گی، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ کئی بار رک کر دوبارہ چلی تھی، معلوم نہیں وہ نخلستان نما درختوں کا جھنڈ مزید کتنا آگے تھا، لیکن میں نے ہمت ہار دی تھی، پھر میرے اندر سے آواز گونجی کے صرف ایک بار اپنی زندگی بچانے کی کوشش کر لو، صرف ایک بار اس اونچے ٹیلے پر چڑھ کر دیکھ لو، شاید کوئی معجزہ ہو جائے، معجزے بھی تو انسانوں کے ساتھ ہی ہوتے ہیں