urdu short stories

اندھے کی گواہی

صبح ہوتے ہی محلے میں ہلچل مچ گئی۔ صائمہ کی لاش کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پولیس نے گھر کو گھیر لیا۔ انسپکٹر کامران، ایک سخت گیر اور تجربہ کار افسر، اس کیس کی تفتیش کے لیے آیا تھا۔ صائمہ کی لاش صحن میں پڑی تھی۔ کوئی کچھ نہ بتا سکا۔ آخر ایک نابینا کی انوکھی گواہی سے قاتل پکڑا گیا۔
شہر کا وہ پرانا محلہ، جہاں گلیاں اتنی تنگ تھیں کہ سانس لینے کی جگہ بھی مشکل سے ملتی، رات کے گہرے سناٹے میں ڈوبا ہوا تھا۔ دیواریں، جو برسوں کی گرد، دھوئیں اور بارشوں سے سیاہ پڑ چکی تھیں، جیسے خاموشی سے محلے کے راز اپنے سینے میں چھپائے کھڑی تھیں۔ گلیوں میں کتوں کے بھونکنے کی آواز کے سوا کوئی جنبش نہ تھی، اور چاند کی ہلکی سی روشنی زمین پر پڑ کر عجیب سے سائے بناتی تھی۔ اچانک اس خاموشی کو ایک ایسی چیخ نے چیر دیا کہ محلے کے کتے بدحواس ہو کر بھونکنے لگے، کھڑکیوں کے شیشوں میں لرزش دوڑ گئی، اور وہ چند لوگ جو ابھی جاگ رہے تھے، خوف سے سہم گئے۔ یہ چیخ تھی صائمہ کی، ایک ایسی عورت کی جس کی زندگی رازوں کے سائے میں گزرتی تھی۔
صبح کی پہلی کرن پھوٹنے سے پہلے ہی محلے والوں نے ایک دل دہلا دینے والا منظر دیکھا۔ صائمہ کی لاش اس کے گھر کے صحن میں پڑی تھی، خون سے لت پت۔ اس کے سینے میں ایک چھری گہرائی تک دھنسی ہوئی تھی، اور اس کے ہاتھ اب بھی اس چھری کے دستے کو تھامے ہوئے تھے، جیسے وہ اپنی آخری سانس تک کسی نامعلوم دشمن سے لڑتی رہی ہو۔ اس کے چہرے پر خوف اور حیرت کا ایک عجیب سا ملغوبہ جم گیا تھا، جیسے اس نے مرنے سے پہلے کوئی ایسی چیز دیکھ لی ہو جو اس کی سمجھ سے باہر تھی۔
اس قتل کی سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ اس کا واحد گواہ ایک اندھا آدمی تھا۔ رحیم، جو محلے کے کونے پر ایک چھوٹی سی چائے کی دکان چلاتا تھا۔ رحیم نے پولیس کو بتایا کہ اس نے قاتل کی “صورت” محسوس کی ہے۔ پولیس کے کان کھڑے ہوئے۔ ایک اندھا آدمی قاتل کی صورت کیسے دیکھ سکتا ہے؟ کیا وہ جھوٹ بول رہا تھا؟ یا پھر اس کے پیچھے کوئی ایسی حقیقت تھی جو عام انسان کی سمجھ سے بالاتر تھی؟
رات کے بارہ بجے، جب شہر نیند کے آغوش میں تھا، رحیم اپنی دکان کے باہر لکڑی کے تختے پر بیٹھا تھا۔ اس کی دکان، جو دراصل ایک چھوٹا سا ڈھابہ تھا، رات گئے تک کھلی رہتی تھی۔ محلے کے چند رات کے راہی وہاں چائے پینے رکتے، کچھ سگریٹ کے کش لگاتے، اور کچھ رحیم کی باتوں سے وقت گزارتے۔ رحیم کی آنکھیں روشنی سے محروم تھیں، لیکن اس کے کان ہر آہٹ کو پکڑ لیتے تھے، اس کی ناک ہر خوشبو اور بدبو کو سونگھ لیتی تھی، اور اس کی انگلیاں ہوا کے ہر جھونکے کو چھو لیتی تھیں۔ محلے والے کہتے تھے کہ رحیم کی باقی حواس اس کی نابینائی کا بدلہ دس گنا بڑھ کر دیتی ہیں۔
اس رات، ہوا میں ایک عجیب سی ٹھنڈک تھی، جیسے کوئی طوفان آنے والا ہو۔ رحیم اپنی چھڑی کو زمین پر ہلکے ہلکے ٹک ٹک کرتے ہوئے بیٹھا تھا۔ اس نے اپنے پرانے ٹرانزسٹر پر ریڈیو چلا رکھا تھا، جہاں کوئی پرانا گانا بج رہا تھا۔ شاید نور جہاں کی آواز میں ایک غمگین نغمہ۔ اچانک اس نے ایک آہٹ سنی۔ یہ کوئی معمولی آہٹ نہ تھی۔ یہ جوتوں کی کھڑکھڑاہٹ تھی، جو تیزی سے اس کی دکان کی طرف آرہی تھی۔ جوتوں کی آواز میں ایک عجیب سی دھات کی ٹک ٹک بھی شامل تھی، جیسے تلووں میں لوہے کی کیلیں لگی ہوں۔ رحیم نے سر اٹھایا، حالانکہ اس کی آنکھیں کچھ نہ دیکھ سکیں۔
“کون ہے؟” رحیم نے آواز لگائی، اس کا لہجہ پرسکون لیکن چوکنا تھا۔
کوئی جواب نہ آیا۔ قدموں کی آواز تیز ہوتی گئی اور پھر اچانک رک گئی، جیسے کوئی اس کی دکان کے سامنے والی گلی کے موڑ پر کھڑا ہو گیا ہو۔ رحیم نے اپنی چھڑی مضبوطی سے پکڑ لی۔ اسے لگا کہ کوئی اسے گھور رہا ہے۔ اس نے گہری سانس لی، اور ہوا میں ایک تیز، مردانہ عطر کی خوشبو اس کی ناک سے ٹکرائی۔ یہ کوئی سستی خوشبو نہ تھی۔ یہ مہنگی تھی، ایسی جو شہر کے امیروں کے ڈرائنگ رومز میں پھیلتی ہے۔ رحیم کے کانوں نے ایک اور آواز پکڑی۔ کپڑوں کی سرسراہٹ، جیسے کوئی موٹے کپڑے کا کوٹ پہنے تیزی سے حرکت کر رہا ہو۔
پھر اچانک وہ چیخ گونجی۔ یہ چیخ صائمہ کے گھر کی طرف سے آئی تھی، جو رحیم کی دکان سے صرف دو گلیاں دور تھا۔ چیخ ایسی تھی کہ رحیم کا دل دھک سے رہ گیا۔ یہ کوئی عام چیخ نہ تھی—یہ درد، خوف اور مایوسی کا ملغوبہ تھا۔ رحیم اپنی جگہ سے اٹھا، چھڑی زمین پر مارتا ہوا اس طرف بڑھا جہاں سے چیخ آئی تھی۔ اس کے قدم تیز تھے، لیکن ایک اندھے آدمی کی رفتار کتنی ہو سکتی ہے؟ وہ ابھی گلی کے موڑ تک پہنچا ہی تھا کہ اس نے دوبارہ وہی عطر کی خوشبو محسوس کی۔ اس بار یہ خوشبو اس کے بالکل قریب سے گزری، جیسے کوئی اس کے پاس سے بھاگ رہا ہو۔ رحیم نے اپنی چھڑی آگے بڑھائی، اور اس کی چھڑی کسی چیز سے ٹکرائی—شاید کسی کے جسم سے۔
“روکو! کون ہے؟” رحیم نے چیخا، لیکن کوئی نہ رکا۔ صرف ہوا میں ایک عجیب سی بدبو رہ گئی تھی—خون کی بدبو، تازہ اور گاڑھی۔ رحیم کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اسے احساس ہوا کہ جو کچھ ہوا، وہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ وہ واپس اپنی دکان کی طرف لوٹا، لیکن اس کا دل ابھی تک دھک دھک کر رہا تھا۔
صبح ہوتے ہی محلے میں ہلچل مچ گئی۔ صائمہ کی لاش کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پولیس نے گھر کو گھیر لیا۔ انسپکٹر کامران، ایک سخت گیر اور تجربہ کار افسر، اس کیس کی تفتیش کے لیے آیا تھا۔ کامران کی عمر پچاس کے قریب تھی، لیکن اس کے چہرے کی جھریاں اور آنکھوں کی گہرائی بتاتی تھی کہ اس نے زندگی میں بہت کچھ دیکھا ہے۔ اس کے بال سر سے غائب ہو چکے تھے، اور اس کا موٹے فریم کا چشمہ اسے ایک پروفیسر جیسا لک دیتا تھا۔ لیکن اس کی آواز میں ایک ایسی دھمک تھی کہ مجرم اس کے سامنے کانپ اٹھتے تھے۔
کامران نے جائے وقوعہ کا جائزہ لیا۔ صائمہ کی لاش صحن میں پڑی تھی، اس کے کپڑے خون سے تر تھے۔ چھری، جو اس کے سینے میں دھنسی تھی، ایک عام باورچی خانے کی چھری تھی، لیکن اس کے دستے پر کوئی فنگر پرنٹس نہیں تھے۔ صحن میں خون کے دھبوں کے علاوہ کچھ عجیب سے نشانات تھے۔ جیسے کوئی بھاری چیز گھسیٹ کر لے جائی گئی ہو۔ کامران نے نوٹ کیا کہ گھر کے دروازے پر کوئی زبردستی داخل ہونے کے نشانات نہیں تھے، یعنی قاتل کو یا تو صائمہ نے خود اندر آنے دیا تھا، یا وہ پہلے سے گھر میں موجود تھا۔
کامران نے محلے والوں سے پوچھ گچھ شروع کی۔ کوئی کچھ نہ بتا سکا۔ سب کہتے تھے کہ انہوں نے رات کو چیخ سنی، لیکن کوئی باہر نہ نکلا۔ محلے کے لوگ خوفزدہ تھے؛ صائمہ کی موت نے سب کے دلوں میں ایک عجیب سا خوف بٹھا دیا تھا۔ پھر ایک عورت، جس کا نام گل نرگس تھا، نے کامران سے کہا، “رحیم کو پوچھو، انسپکٹر صاحب۔ وہ نابینا ہے، لیکن اس کے کان سب کچھ سنتے ہیں۔ وہ رات کو دکان پر تھا۔”
کامران رحیم کی دکان پر پہنچا۔ دکان دراصل ایک چھوٹا سا لکڑی کا ڈھانچہ تھا، جس کے سامنے ایک تخت پڑا تھا۔ رحیم اس وقت چائے کی کیتلی چولہے پر چڑھا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے، لیکن اس کا چہرہ پرسکون تھا، جیسے وہ رات کے واقعے سے بالکل بے خبر ہو۔ رحیم کی عمر چالیس کے قریب تھی، لیکن اس کے چہرے پر وقت کی سختی صاف دکھائی دیتی تھی۔ اس کی آنکھیں سفید دھندلی تھیں، اور اس کے بال بے ترتیب سے جھڑ رہے تھے۔
“رحیم، تم نے رات کو کیا سنا؟” کامران نے پوچھا، اپنی آواز کو نرم رکھتے ہوئے۔
رحیم نے کیتلی سے نظر ہٹائے بغیر کہا، “میں نے سب کچھ سنا، انسپکٹر صاحب۔ اور نہ صرف سنا، بلکہ میں نے قاتل کی صورت بھی محسوس کی۔”
کامران کے منہ سے ایک ہلکی سی ہنسی نکل گئی۔ “کیا مطلب؟ تم اندھے ہو، رحیم۔ تم کیسے کسی کی صورت دیکھ سکتے ہو؟”
رحیم نے مسکراتے ہوئے کہا، “آنکھیں ہی سب کچھ نہیں دیکھتیں، انسپکٹر صاحب۔ میرے کان، میری ناک، میری جلد یہ سب میری آنکھیں ہیں۔ میں نے اس آدمی کے جوتوں کی آواز سنی۔ لوہے کی کیلیں لگے جوتے، جو زمین پر ٹک ٹک کرتے ہیں۔ وہ لمبا ہے، شاید چھ فٹ سے زیادہ۔ اس کا وزن زیادہ نہیں، لیکن وہ طاقتور ہے، کیونکہ اس کے قدموں میں ایک عجیب سی دھمک تھی۔ اس نے کوئی موٹا کوٹ پہنا تھا، کیونکہ میں نے کپڑوں کی سرسراہٹ سنی۔ اور اس کا عطر… وہ عطر کوئی سستا نہیں تھا۔ اس کے ہاتھوں سے خون کی بدبو آ رہی تھی، اور جب وہ میرے قریب سے گزرا، تو میں نے اس کے سانسوں کی آواز سنی۔ تیز اور گھبرائی ہوئی۔”
کامران نے رحیم کی باتوں کو غور سے سنا۔ اسے لگا کہ رحیم یا تو بہت ذہین ہے، یا پھر وہ جھوٹ کا جال بُن رہا ہے۔ “تم کہہ رہے ہو کہ تم نے قاتل کو ‘دیکھا’، لیکن تم اس کا نام نہیں جانتے؟”
رحیم نے سر ہلایا۔ “نہیں، لیکن اگر وہ دوبارہ میرے قریب سے گزرے گا، میں اسے پہچان لوں گا۔ اس کی خوشبو، اس کی آواز، اس کے قدم۔ یہ سب میرے دماغ میں نقش ہو چکے ہیں۔”
کامران کو رحیم کی باتوں پر یقین نہ آیا۔ اس نے سوچا کہ شاید رحیم پاگل ہے، یا پھر وہ کوئی راز چھپا رہا ہے۔ لیکن چونکہ اس کے پاس کوئی اور گواہ نہ تھا، اس نے رحیم کو تھانے لے جانے کا فیصلہ کیا۔ تھانے میں، جب رحیم سے پوچھ گچھ ہو رہی تھی، کامران نے رحیم کے ماضی کے بارے میں جاننا چاہا۔ رحیم نے بتایا کہ وہ بچپن سے نابینا ہے۔ اس کے والدین غریب تھے، اور وہ ایک ٹریفک حادثے میں مر گئے جب رحیم صرف دس سال کا تھا۔ اس کے بعد، رحیم نے برسوں تک سڑکوں پر بھیک مانگی، لیکن ایک دن ایک بزرگ دکاندار نے اسے اپنی دکان پر کام کرنے کے لیے رکھ لیا۔ اسی دکان کو رحیم اب چلاتا تھا۔
“لیکن تم اتنی تفصیل سے چیزیں کیسے بتا سکتے ہو؟” کامران نے پوچھا، اس کی آواز میں شک کی لکیر واضح تھی۔
رحیم نے جواب دیا، “جب آپ کی آنکھیں کام نہ کریں، تو آپ کی باقی حواس آپ کو سکھاتی ہیں۔ میں نے برسوں سے آوازوں، خوشبوؤں اور لمس سے دنیا کو سمجھا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ کون سا پرندہ صبح گاتا ہے، کون سی گاڑی کس گلی سے گزرتی ہے، اور کون سا آدمی جھوٹ بولتا ہے۔ جب کوئی جھوٹ بولتا ہے، تو اس کے سانس تیز ہو جاتے ہیں، اس کی آواز میں ایک ہلکی سی لرزش آ جاتی ہے۔”
کامران کو رحیم کی باتوں میں کچھ سچائی نظر آئی، لیکن وہ پھر بھی شک میں تھا۔ اس نے رحیم کو عارضی طور پر حراست میں رکھنے کا فیصلہ کیا، یہ سوچ کر کہ شاید وہ خود قاتل ہو یا اسے کوئی راز چھپا رہا ہو۔ رحیم نے کوئی مزاحمت نہ کی۔ وہ خاموشی سے تھانے کی ایک چھوٹی سی کوٹھری میں چلا گیا، اپنی چھڑی کو ہاتھ میں تھامے، جیسے وہ اسی سے اپنی طاقت کھینچ رہا ہو۔
دوسری طرف، کامران نے صائمہ کے بارے میں تفتیش شروع کی۔ صائمہ ایک تنہا عورت تھی، جو محلے میں چار سال پہلے آئی تھی۔ وہ ایک چھوٹا سا گھر کرائے پر لیتی تھی اور کہتی تھی کہ وہ سلائی کا کام کرتی ہے۔ لیکن محلے والوں کو شک تھا کہ وہ کچھ اور بھی کرتی تھی۔ کچھ عورتوں نے چپکے سے بتایا کہ رات کو صائمہ کے گھر عجیب لوگ آتے تھے۔ لمبے قد کے مرد، جو مہنگی گاڑیوں میں آتے، چند گھنٹے رکتے، اور پھر چپکے سے نکل جاتے۔ کوئی اس کے بارے میں کھل کر بات نہ کرتا، کیونکہ صائمہ کے بارے میں بات کرنا محلے میں ایک طرح سے ممنوع تھا۔
کامران نے صائمہ کے گھر کی تلاشی لی۔ گھر سادہ تھا، لیکن اس کی دیواروں پر کچھ عجیب سے نشانات تھے۔ الماری میں کچھ کپڑے، کچھ سستے زیورات، اور ایک چھوٹی سی لکڑی کی ڈبیا تھی۔ ڈبیا کھولنے پر کامران کو کچھ خطوط ملے، جو بظاہر کسی عاشق کے لکھے ہوئے تھے۔ خطوط کی تحریر خوبصورت تھی، لیکن اس میں ایک عجیب سی شدت تھی۔ ایک خط میں لکھا تھا: “تم میری ہو، صائمہ۔ اگر تم نے مجھ سے منہ موڑا، تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔” دوسرے خط میں لکھا تھا: “تمہارا یہ نیا دوست، وہ تمہیں تباہ کر دے گا۔ میرے پاس واپس آؤ، ورنہ…” خطوط پر کوئی نام نہ تھا، لیکن ان سے وہی عطر کی خوشبو آ رہی تھی جو رحیم نے بیان کی تھی۔ کامران نے خطوط کو پلاسٹک کے تھیلے میں بند کیا اور لیبارٹری بھیج دیا۔
تلاشی کے دوران، کامران کو صائمہ کی الماری کے پیچھے ایک پرانی ڈائری ملی۔ ڈائری کے صفحات زرد پڑ چکے تھے، اور اس کی تحریر دھندلی ہو رہی تھی۔ ڈائری میں صائمہ نے اپنی زندگی کے کچھ راز لکھے تھے۔ اس نے لکھا تھا کہ وہ ایک چھوٹے سے گاؤں سے شہر آئی تھی، جہاں اس کے والدین اسے ایک بوڑھے آدمی سے بیاہنا چاہتے تھے۔ وہ بھاگ کر شہر آئی، لیکن یہاں اسے زندگی نے اور سخت امتحان دیے۔ ڈائری کے آخری صفحے پر لکھا تھا: “وہ واپس آ گیا ہے۔ وہ مجھے نہیں چھوڑے گا۔ لیکن اس بار میں ہار نہیں مانوں گی۔ میں نے اس کا راز جان لیا ہے۔ اگر مجھے کچھ ہوا، تو سب کو پتا چل جائے گا۔”
کامران کے ذہن میں سوالات کے طوفان اٹھنے لگے۔ یہ “وہ” کون تھا؟ اور صائمہ نے کون سا راز جان لیا تھا؟ کیا یہ راز اس کی موت کی وجہ بنا؟ کامران نے ڈائری کو اپنے بیگ میں رکھا اور تھانے واپس چلا گیا۔
تفتیش کے دوران، کامران کو ایک اور گواہ ملا۔ حاجی بشیر، ایک بوڑھا آدمی جو محلے کی مسجد کا خیال رکھتا تھا۔ حاجی بشیر نے بتایا کہ اس نے رات کو صائمہ کے گھر کے قریب ایک لمبی سی سیاہ گاڑی دیکھی تھی، جو تیزی سے گلی سے نکل گئی۔ گاڑی کا نمبر اسے یاد نہ تھا، لیکن اس نے بتایا کہ گاڑی سے ایک عجیب سی خوشبو آ رہی تھی—بالکل وہی عطر جو رحیم نے بیان کیا تھا۔ حاجی بشیر نے یہ بھی بتایا کہ گاڑی کے ڈرائیور نے ایک لمبا کوٹ پہنا تھا، اور اس کے جوتوں سے ٹک ٹک کی آواز آ رہی تھی۔
کامران نے گاڑی کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنی شروع کیں۔ اسے پتا چلا کہ شہر کے ایک امیر تاجر، عمران خان، کے پاس ایسی ہی ایک گاڑی ہے۔ عمران ایک مشہور کاروباری آدمی تھا، لیکن اس کے بارے میں افواہیں تھیں کہ وہ غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہے۔ شاید منشیات یا ہتھیاروں کی سمگلنگ۔ کامران نے عمران سے ملنے کا فیصلہ کیا۔
عمران کا دفتر شہر کے پوش ایریا میں ایک بلند و بالا عمارت کے سب سے اوپر والے فلور پر تھا۔ دفتر کی دیواریں شیشے کی تھیں، اور اندر مہنگے فرنیچر اور آرٹ کے نمونے سجے تھے۔ عمران خود ایک لمبا، دبلا پتلا آدمی تھا، جس کی عمر پینتالیس کے قریب تھی۔ اس کے بال چاندی کی طرح چمکتے تھے، اور اس کی مسکراہٹ ایسی تھی جیسے وہ ہر بات کو مذاق سمجھتا ہو۔ جب کامران اس سے ملا، تو اس نے دیکھا کہ عمران کے دفتر میں وہی عطر کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی جو رحیم نے بیان کی تھی۔
“انسپکٹر، آپ یہاں؟” عمران نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “کیا میں نے کوئی ٹریفک سگنل توڑ دیا؟”
کامران نے سیدھا سوال کیا۔ “صائمہ نامی عورت کو جانتے ہیں؟”
عمران کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے گھبراہٹ دکھائی دی، لیکن اس نے فوراً خود کو سنبھال لیا۔ “صائمہ؟ نہیں، یہ نام پہلی بار سن رہا ہوں۔ کون ہے یہ؟”
کامران نے عمران کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہ جانتا تھا کہ عمران جھوٹ بول رہا ہے۔ اس نے عمران کی گاڑی کی جانچ کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتا، اسے تھانے سے فون آیا۔ رحیم نے کہا کہ اسے کچھ اور یاد آیا ہے۔
کامران تھانے واپس پہنچا۔ رحیم نے اسے بتایا کہ جب قاتل اس کے قریب سے گزرا تھا، تو اس نے ایک عجیب سی آواز سنی تھی۔ جیسے کوئی دھاتی چیز زمین پر گر گئی ہو۔ رحیم نے کہا کہ یہ آواز شاید کسی چابی یا سکے کی ہو سکتی ہے۔ کامران نے فوراً صائمہ کے گھر واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں، صحن میں، اسے واقعی ایک چھوٹی سی دھاتی چیز ملی—ایک پرانا لاکٹ، جس پر ایک عجیب سا نشان بنا ہوا تھا۔ لاکٹ پر ایک عقاب کی تصویر تھی، اور اس کے نیچے کچھ حروف کندہ تھے جو دھندلے پڑ چکے تھے۔ کامران نے لاکٹ کو غور سے دیکھا۔ یہ کوئی سادہ لاکٹ نہیں تھا؛ اس پر جو علامت تھی، وہ شہر کے ایک پرانے خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اور وہ خاندان تھا عمران خان کا۔
کامران اب پوری طرح یقین کر چکا تھا کہ عمران اس قتل میں ملوث ہے۔ لیکن اس کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہ تھا۔ اس نے رحیم کو دوبارہ بلایا اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ عمران کو پہچان سکتا ہے۔ رحیم نے کہا کہ اگر عمران اس کے قریب سے گزرے، تو وہ اسے اس کے عطر، اس کی آواز، اور اس کے چلنے کے انداز سے پہچان لے گا۔
کامران نے عمران کو تھانے بلایا۔ جب عمران تھانے کے کمرے میں داخل ہوا، رحیم اپنی جگہ پر بیٹھا تھا، اپنی چھڑی کو ہاتھ میں تھامے۔ عمران کے قریب سے گزرتے ہی رحیم نے سر اٹھایا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی، جیسے وہ کوئی راز جان گیا ہو۔
“یہی ہے،” رحیم نے کہا، اس کی آواز میں ایک عجیب سی یقینیت تھی۔ “یہی وہ آدمی ہے۔”
عمران نے غصے سے چیخا، “یہ پاگل ہے! میں اسے نہیں جانتا، اور نہ ہی میں نے کوئی قتل کیا! یہ سب جھوٹ ہے!”
کامران نے عمران کو حراست میں لے لیا، لیکن اسے لگ رہا تھا کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ رحیم کی باتوں میں کچھ ایسی بات تھی جو اسے پریشان کر رہی تھی۔ رحیم اتنا پراعتماد کیوں تھا؟ اور وہ لاکٹ—کیا واقعی یہ عمران کا تھا، یا کوئی اور اسے وہاں چھوڑ گیا تھا؟ کامران کے ذہن میں سوالات کے بادل چھا گئے۔
رات کو، جب کامران تھانے سے گھر جا رہا تھا، اسے ایک گمنام فون آیا۔ فون پر ایک دھیمی، دھکتی ہوئی آواز تھی: “انسپکٹر، تم غلط آدمی کے پیچھے پڑے ہو۔ رحیم وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔ اس کا ماضی تم نہیں جانتے۔”
کامران نے فوراً پوچھا، “تم کون ہو؟ اور رحیم کے بارے میں کیا جانتے ہو؟”
لیکن فون بند ہو گیا۔ کامران کے دل میں ایک عجیب سا خوف جاگ اٹھا۔ کیا رحیم واقعی ایک معصوم گواہ تھا؟ یا پھر وہ خود اس کھیل کا ایک حصہ تھا؟ اور سب سے بڑا سوال۔ اگر عمران قاتل نہیں تھا، تو پھر وہ لاکٹ اس کے خاندان کا کیوں تھا؟ کیا رحیم کوئی راز چھپا رہا تھا؟ یا پھر کوئی اور اس کھیل کا اصل کھلاڑی تھا؟
انسپکٹر کامران کی گاڑی رات کے سناٹے میں شہر کی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی، لیکن اس کا دماغ اس گمنام فون کال کی آواز سے آزاد نہ ہو پا رہا تھا۔ “رحیم وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔ اس کا ماضی تم نہیں جانتے۔” یہ الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے، جیسے کوئی اسے چیلنج کر رہا ہو کہ وہ حقیقت تک پہنچے۔ کامران نے گاڑی کی کھڑکی کھولی، رات کی ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرائی، لیکن اس کے ذہن کا طوفان تھمنے کا نام نہ لے رہا تھا۔ کیا رحیم واقعی ایک معصوم گواہ تھا؟ یا وہ اس قتل کے کھیل کا کوئی چالاک کھلاڑی تھا؟ اور عمران خان کا وہ لاکٹ—کیا وہ واقعی اس قتل کی کنجی تھا، یا کوئی اور اسے گمراہ کر رہا تھا؟
کامران نے گاڑی تھانے کی طرف موڑ دی۔ اسے عمران سے دوبارہ پوچھ گچھ کرنی تھی، لیکن اس سے بھی زیادہ، وہ رحیم کے ماضی کی تہہ تک پہنچنا چاہتا تھا۔ تھانے پہنچتے ہی اس نے اپنے ماتحت سب انسپکٹر فاروق کو بلایا۔ فاروق ایک جوان، چاق و چوبند افسر تھا، جس کی آنکھوں میں ہر کیس کو حل کرنے کا جنون ہوتا تھا۔ “فاروق، رحیم کا ماضی کھودو۔ اس کے بچپن سے لے کر آج تک، ہر چیز۔ اس کے والدین کے حادثے، اس کی بھیک مانگنے کی زندگی، وہ دکاندار جس نے اسے پناہ دی—سب کچھ۔ اور ہاں، اس کی دکان کے آس پاس کے لوگوں سے بھی پوچھو کہ وہ رات کو کس کس سے ملتا تھا۔”
فاروق نے سر ہلایا اور فوراً کام پر لگ گیا۔ کامران خود عمران کے سیل کی طرف بڑھا۔ عمران اپنی حراست کی کوٹھری میں بیٹھا تھا، اس کا چہرہ غصے اور بے چینی سے سرخ ہو رہا تھا۔ اس کے چاندی جیسے بال اب بے ترتیب تھے، اور اس کی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی۔ کامران نے اسے لاکٹ دکھایا، جو پلاسٹک کے تھیلے میں بند تھا۔ “یہ تمہارا ہے، عمران؟” کامران کی آواز میں ایک ایسی گہرائی تھی کہ عمران کے چہرے پر پسینے کی بوندیں چمکنے لگیں۔
“میں نے پہلے بھی کہا، انسپکٹر۔ میں اس عورت کو نہیں جانتا، اور یہ لاکٹ میرا نہیں ہے!” عمران نے غصے سے کہا، لیکن اس کی آواز میں ایک ہلکی سی لرزش تھی۔ کامران نے غور کیا کہ عمران کی آنکھیں لاکٹ کو دیکھ کر سہم گئی تھیں، جیسے اسے کوئی پرانا راز یاد آ گیا ہو۔
“یہ لاکٹ تمہارے خاندان کی علامت ہے، عمران۔ عقاب کا نشان، یہ حروف۔ یہ سب تمہارے خاندان سے جڑتے ہیں۔ اور وہ عطر، جو صائمہ کے خطوط سے، رحیم کے بیان سے، اور تمہارے دفتر سے ایک ہی ہے۔ اب بتاؤ، سچ کیا ہے؟” کامران نے اپنی آواز کو اور سخت کر دیا۔
عمران نے ایک لمحے کے لیے خاموشی اختیار کی، پھر سر جھکاتے ہوئے کہا، “ٹھیک ہے، انسپکٹر۔ میں صائمہ کو جانتا تھا۔ لیکن میں نے اسے نہیں مارا۔ وہ… وہ میری زندگی کا ایک حصہ تھی، ایک وقت پر۔ لیکن ہمارا رشتہ ختم ہو گیا تھا۔ وہ خطوط، وہ میری طرف سے نہیں تھے۔ کوئی اور تھا جو اسے دھمکیاں دے رہا تھا۔”
کامران نے عمران کی باتوں کو غور سے سنا۔ اسے لگا کہ عمران سچ بول رہا ہے، لیکن وہ کچھ چھپا بھی رہا تھا۔ “تو وہ کون تھا؟ اور یہ لاکٹ وہاں کیسے پہنچا؟” کامران نے پوچھا۔
عمران نے ایک گہری سانس لی۔ “یہ لاکٹ میرا نہیں، لیکن یہ میرے بھائی کا ہو سکتا ہے۔ میرا بھائی، شاہد… وہ کئی سال پہلے غائب ہو گیا تھا۔ ہمارے خاندان میں جھگڑے تھے، کاروبار کے، وراثت کے۔ وہ ایک خطرناک آدمی تھا، انسپکٹر۔ اگر وہ واپس آیا ہے، تو…” عمران کی آواز لرزنے لگی۔
کامران کے ذہن میں ایک نئی راہ کھلی۔ شاہد خان؟ کیا وہ اس قتل کے پیچھے تھا؟ لیکن رحیم نے جو بیان دیا تھا۔ وہ عطر، وہ جوتوں کی آواز، وہ کوٹ۔ کیا یہ سب شاہد سے ملتا تھا؟ کامران نے عمران کو واپس سیل میں چھوڑا اور فاروق سے رابطہ کیا۔ “فاروق، عمران کے بھائی، شاہد خان، کے بارے میں معلوم کرو۔ وہ کون تھا، کہاں گیا، اور کیا وہ شہر میں واپس آیا ہے؟”
دوسری طرف، رحیم تھانے کی ایک چھوٹی سی کوٹھری میں بیٹھا تھا۔ اس کی چھڑی اس کے ہاتھوں میں تھی، اور وہ ہلکے ہلکے زمین پر ٹک ٹک کر رہا تھا۔ اس کا چہرہ پرسکون تھا، لیکن اس کی سفید دھندلی آنکھوں میں ایک عجیب سی گہرائی تھی، جیسے وہ کوئی ایسی چیز دیکھ رہا ہو جو دوسروں کے لیے ناممکن تھی۔ رحیم کے دماغ میں رات کے واقعات بار بار گھوم رہے تھے۔ وہ عطر، وہ جوتوں کی آواز، وہ خون کی بدبو۔ سب کچھ اس کے حواس میں قید تھا۔ لیکن ایک چیز اسے پریشان کر رہی تھی۔ وہ دھاتی چیز کی آواز، جو اس نے سنی تھی جب قاتل اس کے قریب سے گزرا تھا۔ یہ کوئی معمولی چیز نہیں تھی۔ رحیم نے اپنی چھڑی کو اور مضبوطی سے پکڑ لیا، جیسے وہ اس سے کوئی راز کھولنا چاہتا ہو۔
فاروق کی تفتیش نے جلد ہی نتائج دینا شروع کر دیے۔ اسے پتا چلا کہ رحیم کا بچپن واقعی مشکل تھا، لیکن اس کے ماضی میں کچھ ایسی باتیں تھیں جو رحیم نے چھپائی تھیں۔ رحیم کے والدین کے حادثے کے بعد، اسے ایک یتیم خانے میں رکھا گیا تھا، جہاں سے وہ بار بار بھاگ جاتا تھا۔ ایک بار، اسے ایک چوری کے الزام میں پکڑا گیا تھا، لیکن چونکہ وہ نابینا تھا، اسے رہا کر دیا گیا۔ رحیم کی زندگی میں ایک عجیب موڑ اس وقت آیا جب وہ اس بزرگ دکاندار، حاجی یونس، کے پاس آیا۔ حاجی یونس کوئی معمولی دکاندار نہیں تھا۔ وہ محلے کے ایک بااثر آدمی تھے، جن کے بارے میں افواہیں تھیں کہ وہ غیر قانونی کاروبار سے جڑے تھے۔
فاروق نے حاجی یونس کے بیٹے، ناصر، سے بات کی، جو اب اپنے والد کی جگہ محلے کے کاروبار سنبھالتا تھا۔ ناصر نے بتایا کہ رحیم حاجی یونس کا پسندیدہ تھا۔ “میرے والد کہتے تھے کہ رحیم کی نابینائی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ وہ ہر چیز سنتا تھا، ہر چیز سونگھتا تھا۔ وہ ہمارے لیے ایک طرح سے جاسوس تھا۔ لیکن پھر کچھ ہوا، اور رحیم نے ہم سے دوری بنا لی۔”
“کیا ہوا؟” فاروق نے پوچھا۔
ناصر نے ایک گہری سانس لی۔ “یہ بات کئی سال پرانی ہے۔ ایک رات، ہمارے ایک کاروباری ساتھی کی لاش ملی، بالکل اسی طرح جیسے صائمہ کی۔ سینے میں چھری، خون سے لت پت۔ رحیم اس رات وہاں تھا، لیکن اس نے کہا کہ اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ میرے والد کو اس پر شک ہوا، لیکن رحیم نے قسم کھائی کہ وہ بے گناہ ہے۔ پھر وہ ہم سے الگ ہو گیا۔”
فاروق نے یہ معلومات کامران کو دیں۔ کامران کے ذہن میں ایک نیا شک جاگا۔ کیا رحیم کا اس قتل سے کوئی پرانا تعلق تھا؟ کیا وہ واقعی ایک جاسوس تھا، یا اس سے بھی بڑھ کر کچھ؟ کامران نے رحیم کو دوبارہ پوچھ گچھ کے لیے بلایا۔
“رحیم، تم نے حاجی یونس کے لیے کیا کام کیا؟” کامران نے سیدھا سوال کیا۔
رحیم کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ “انسپکٹر صاحب، میں ایک غریب، نابینا آدمی ہوں۔ میں نے بس ان کی دکان پر چائے بنائی، لوگوں سے باتیں کی۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں۔”
کامران نے اپنی آواز کو اور سخت کیا۔ “جھوٹ مت بولو، رحیم۔ تم حاجی یونس کے لیے جاسوسی کرتے تھے۔ اور اس رات، جب ان کے کاروباری ساتھی کا قتل ہوا، تم وہاں تھے۔ بتاؤ، سچ کیا ہے؟”
رحیم نے ایک لمحے کے لیے خاموشی اختیار کی، پھر کہا، “ٹھیک ہے، انسپکٹر صاحب۔ میں سچ بتاتا ہوں۔ ہاں، میں حاجی یونس کے لیے کام کرتا تھا۔ میں ان کے دشمنوں کی باتیں سنتا تھا، ان کی حرکات پر نظر رکھتا تھا۔ لیکن اس قتل سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اور صائمہ کے قتل سے بھی نہیں۔ میں نے جو کچھ دیکھا یا سنا، وہ سب آپ کو بتا دیا۔”
کامران کو رحیم کی باتوں پر یقین نہ آیا۔ اس نے رحیم کو واپس سیل میں بھیج دیا اور شاہد خان کی تفتیش پر توجہ دی۔ فاروق نے پتا لگایا کہ شاہد خان، عمران کا بڑا بھائی، ایک دہائی پہلے شہر سے غائب ہو گیا تھا۔ اس کے بارے میں افواہیں تھیں کہ وہ غیر قانونی کاروبار میں گہرائی تک دھنس گیا تھا اور ایک بڑے گینگ کے ساتھ جھگڑے کے بعد روپوش ہو گیا۔ لیکن حال ہی میں، شہر کے کچھ جرائم پیشہ حلقوں میں یہ بات پھیل رہی تھی کہ شاہد واپس آیا ہے، اور وہ اپنے پرانے دشمنوں سے بدلہ لینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
کامران نے شاہد کے ممکنہ ٹھکانوں کی تلاش شروع کی۔ اسے ایک پرانا گودام ملا، جو شہر کے مضافات میں تھا۔ گودام کے باہر ایک سیاہ گاڑی کھڑی تھی، بالکل وہی جو حاجی بشیر نے صائمہ کے گھر کے قریب دیکھی تھی۔ کامران نے اپنی ٹیم کے ساتھ گودام پر چھاپہ مارا۔ اندر، انہیں کچھ مسلح آدمی ملے، لیکن شاہد وہاں نہیں تھا۔ گودام میں کچھ دستاویزات ملیں، جن سے پتا چلا کہ شاہد صائمہ کے ساتھ رابطے میں تھا۔ ایک خط میں لکھا تھا: “صائمہ، تم نے جو راز چھپایا ہے، وہ میری تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر تم نے منہ کھولا، تو تمہاری موت یقینی ہے۔”
کامران کے ذہن میں سب کچھ واضح ہونے لگا۔ صائمہ نے شاہد کا کوئی راز جان لیا تھا، اور اسی راز کی وجہ سے اسے مارا گیا۔ لیکن رحیم کا کردار کیا تھا؟ کیا وہ واقعی صرف ایک گواہ تھا، یا اس سے بڑھ کر کچھ؟ کامران نے گودام سے ایک اور چیز اٹھائی۔ ایک پرانا کوٹ، جو موٹے کپڑے کا بنا تھا، اور اس سے وہی عطر کی خوشبو آ رہی تھی جو رحیم نے بیان کی تھی۔
کامران واپس تھانے آیا اور رحیم کو ایک آخری بار پوچھ گچھ کے لیے بلایا۔ اس نے کوٹ رحیم کے سامنے رکھا۔ “رحیم، اس کوٹ کو سونگھو۔ یہ وہی ہے، نا؟”
رحیم نے کوٹ کو ہاتھ لگایا، اسے اپنی ناک کے قریب لے گیا، اور ایک گہری سانس لی۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ “ہاں، انسپکٹر صاحب۔ یہ وہی ہے۔”
کامران نے پوچھا، “تو کیا یہ شاہد خان تھا؟”
رحیم نے سر ہلایا۔ “میں نام نہیں جانتا، لیکن یہ وہی آدمی ہے جو اس رات میرے قریب سے گزرا تھا۔”
کامران نے عمران کو دوبارہ بلایا اور اسے کوٹ دکھایا۔ عمران نے کوٹ کو دیکھتے ہی کہا، “یہ شاہد کا ہے۔ وہ ہمیشہ اس قسم کے کوٹ پہنتا تھا۔”
کامران اب یقین کر چکا تھا کہ شاہد ہی قاتل تھا۔ لیکن اسے ابھی تک ایک ٹھوس ثبوت کی ضرورت تھی۔ اس نے گودام سے ملنے والی دستاویزات کا جائزہ لیا۔ ان میں ایک پرانا نقشہ تھا، جو شہر کے ایک ویران علاقے کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ کامران نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس علاقے کا رخ کیا۔ وہاں، ایک پرانے گھر میں، انہیں شاہد ملا۔ وہ اکیلا تھا، لیکن اس کے ہاتھ میں ایک پستول تھی۔
“ہتھیار پھینکو، شاہد!” کامران نے چیخا۔
شاہد نے ایک شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “تم دیر کر چکے ہو، انسپکٹر۔ صائمہ نے میرا راز جان لیا تھا۔ وہ میرے کاروبار کو بے نقاب کرنا چاہتی تھی۔ میں نے اسے ختم کر دیا، اور اب تمہاری باری ہے۔”
اس سے پہلے کہ شاہد گولی چلا پاتا، فاروق نے اس پر جھپٹا مارا اور اسے زمین پر گرا دیا۔ شاہد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے جوتوں پر لوہے کی کیلیں لگی تھیں، بالکل وہی جو رحیم نے بیان کی تھیں۔ کامران نے شاہد کے جیب سے ایک اور لاکٹ نکالا، جو بالکل وہی تھا جو صائمہ کے گھر ملا تھا۔
تھانے واپس آ کر، کامران نے رحیم سے آخری بار بات کی۔ “رحیم، تم نے سچ بتایا۔ لیکن تمہارا ماضی… تم حاجی یونس کے لیے جاسوسی کرتے تھے۔ کیا تم اس قتل میں ملوث تھے؟”
رحیم نے ایک گہری سانس لی۔ “انسپکٹر صاحب، میں نے اپنی زندگی میں بہت غلطیاں کیں۔ لیکن اس قتل سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں بس ایک گواہ ہوں۔ میرے حواس نے مجھے وہ سب کچھ بتایا جو میں نے آپ کو بتایا۔”
کامران نے رحیم کو رہا کر دیا۔ اسے یقین تھا کہ رحیم سچ بول رہا ہے۔ شاہد نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ اس نے بتایا کہ صائمہ اس کے غیر قانونی کاروبار کے بارے میں جان گئی تھی، اور وہ اسے بلیک میل کر رہی تھی۔ اسی وجہ سے اس نے اسے مار دیا۔
کیس بند ہو گیا، لیکن کامران کے دل میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ رحیم کی کہانی نے اسے یہ سکھایا کہ کبھی کبھی، جو چیزیں نظر نہیں آتیں، وہی سب سے زیادہ سچ ہوتی ہیں۔ رحیم اپنی دکان پر واپس چلا گیا، اپنی چھڑی زمین پر ٹک ٹک کرتا ہوا، جیسے وہ اب بھی دنیا کو اپنے حواس سے دیکھ رہا ہو۔