urdu stories

بد کردار شوہر – بیوی کی موجودگی میں غیر عورت کیساتھ

علیزہ کی زندگی کی کہانی کچھ یوں شروع ہوئی کہ اس کا بچپن اپنے کزن ارسلان کے ساتھ گزرا۔ ارسلان اس کی خالہ کا بیٹا تھا۔ بچپن میں وہ نہایت سمجھدار، نرم مزاج اور مہذب لڑکا تھا، مگر وقت کے ساتھ نہ جانے اس کی طبیعت کو کیا ہوا کہ اس کے رویے میں عجیب سی سختی اور لاپرواہی آ گئی۔ آہستہ آہستہ وہ ضدی اور غیر ذمہ دار بنتا چلا گیا۔ ان کے گھر ایک دوسرے کے بالکل قریب تھے، اسی لیے آنا جانا بھی لگا رہتا تھا۔ بدقسمتی سے خالہ نے علیزہ کا رشتہ بہت چھوٹی عمر میں ہی ارسلان کے ساتھ طے کر دیا تھا، اس وقت وہ دوسری جماعت میں پڑھتی تھی۔ جیسے جیسے اسے سمجھ آنے لگی، وہ یہی سنتی آئی کہ ارسلان اس کا منگیتر ہے۔
نو عمری کی معصومیت میں یہ خیال اسے اچھا لگنے لگا۔ ارسلان کا انداز بھی ایسا تھا کہ وہ اس کے قریب محسوس ہوتا۔ کبھی ہنسی مذاق کرتا، کبھی شرارتیں کرتا، کبھی اسے چھیڑتا، مگر علیزہ کو اس کی ہر بات اچھی لگتی تھی۔ اس کی شرارتیں بھی اسے پیاری محسوس ہوتیں۔ ارسلان شکل و صورت میں بھی خوبصورت تھا، اور بظاہر وہ علیزہ پر خاص توجہ دیتا تھا، جس سے اسے یہی محسوس ہوتا کہ وہ بھی اس سے محبت کرتا ہے۔
ایک بار کا ذکر ہے کہ علیزہ خالہ کے گھر گئی ہوئی تھی۔ اچانک اس کے ہاتھ سے شیشے کا گلاس گر کر ٹوٹ گیا اور ایک تیز کرچ اس کے ہاتھ میں چبھ گئی۔ اس کے ہاتھ سے خون نکلنے لگا۔ ارسلان یہ منظر دیکھ کر گھبرا گیا، فوراً دوڑ کر دوا اور پٹی لے آیا۔ جب اس نے احتیاط سے اس کے زخم پر دوا لگائی تو درد کی شدت سے علیزہ کا چہرہ بگڑ گیا، مگر ارسلان ایسے تڑپ اٹھا جیسے چوٹ اسے لگی ہو۔ اس لمحے نے علیزہ کے دل میں یہ یقین مزید پختہ کر دیا کہ ارسلان بھی اس سے اتنی ہی محبت کرتا ہے جتنی وہ اس سے کرتی ہے۔ اسی یقین کے ساتھ اس نے مستقبل کے خواب دیکھنے شروع کر دیے۔
وقت گزرتا گیا، مگر ارسلان کا رویہ بدلتا چلا گیا۔ وہ اکثر بغیر بتائے گھر سے نکل جاتا اور دیر رات واپس آتا۔ خالہ اس کے انتظار میں پریشان رہتیں۔ محلے کے کچھ لوگوں نے بھی خالہ کو خبردار کیا کہ ارسلان کی صحبت ٹھیک نہیں رہی، اسے جلد شادی کے بندھن میں باندھ دینا چاہیے۔ جب خالہ نے اس سے شادی کی بات کی تو اس نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ کسی اور لڑکی سے محبت کرتا ہے، لیکن وہ اس کی قسمت میں نہیں، اس لیے وہ شادی نہیں کرنا چاہتا۔
یہ سن کر علیزہ کے دل پر جیسے بجلی گر گئی۔ وہ حیران رہ گئی کہ کیا واقعی ارسلان کسی اور سے محبت کرتا ہے؟ پھر اس کا اپنے ساتھ برتاؤ، اس کی توجہ، اس کا خیال رکھنا کیا یہ سب صرف ایک دکھاوا تھا؟ اس کے دل میں کئی سوال جنم لینے لگے، مگر کوئی جواب نہ ملا۔
علیزہ کی والدہ نے اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور یہی سمجھا کہ ارسلان صرف شادی سے بچنے کے لیے بہانے بنا رہا ہے۔ خالہ نے بھی ہار نہ مانی اور اس پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ یا تو وہ اس لڑکی کا نام بتائے یا پھر اپنی بچپن کی منگیتر سے شادی کرے۔ آخرکار روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آ کر ارسلان نے ہتھیار ڈال دیے اور یوں علیزہ اس کی دلہن بن کر اس کے گھر آ گئی۔
شروع میں خالہ نے علیزہ کو بہت محبت دی، مگر ارسلان کا رویہ جلد ہی بدل گیا۔ اس کی بے رخی اور سرد مہری صاف محسوس ہونے لگی۔ خالہ اسے تسلی دیتیں کہ وہ مایوس نہ ہو، ارسلان کا مزاج ایسا ہی ہےکبھی بہت محبت کرنے لگتا ہے اور کبھی بالکل اجنبی ہو جاتا ہے۔
علیزہ اپنے شوہر کے بدلتے رویوں کو سمجھنے کی کوشش کرتی رہتی۔ کبھی خود کو قصوروار ٹھہراتی، کبھی آئینے میں خود کو دیکھتی کہ کہیں اس میں کوئی کمی تو نہیں۔ وہ خوبصورت تھی، اس بات کا اسے یقین تھا، مگر اس کے باوجود ارسلان کا دل اس کے لیے نرم نہ ہوا۔ وہ اکثر سوچتی کہ آخر وہ کون سی لڑکی ہے جس نے اس کے شوہر کے دل پر قبضہ جما رکھا ہے۔
شادی کے فوراً بعد ہی ارسلان نے اسے صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ اس نے یہ شادی صرف اپنی ماں کی خاطر کی ہے، وہ اس سے محبت نہیں کرتا اور نہ کبھی کرے گا۔ اس کی زندگی میں کوئی اور ہے، اور یہی حقیقت ہے۔
یہ سن کر علیزہ کی دنیا جیسے بکھر گئی۔ وہ ہر رات آنسوؤں کے ساتھ سوتی اور ہر صبح ایک نئی امید کے ساتھ اٹھتی کہ شاید آج کچھ بدل جائے۔ مگر دن، مہینے اور سال یونہی گزرتے گئے۔ آخرکار اس نے اپنی قسمت کو قبول کر لیا، کیونکہ اس کے پاس کوئی اور راستہ بھی نہ تھا۔
وقت کے ساتھ وہ تین بچوں کی ماں بن گئی۔ بچوں کی پرورش میں وہ خود کو بھولتی چلی گئی۔ جب تک خالہ زندہ تھیں، وہ اس کا سہارا بنی رہیں، مگر ان کے انتقال کے بعد ساری ذمہ داریاں علیزہ پر آ گئیں اور وہ اپنی ذات سے مزید دور ہو گئی۔
اس دوران ارسلان کا رویہ مزید سخت ہو گیا۔ وہ اسے نظر انداز کرتا، اس کی بیماری کی بھی پرواہ نہ کرتا۔ کبھی کبھی تو وہ شدید بخار میں بھی اس سے کام کرواتا۔ وہ مہمان لے آتا اور اس سے کھانا تیار کرواتا، اور جب وہ قریب آتا تو اس کے منہ سے شراب کی بو آتی، جس سے علیزہ کو شدید کوفت ہوتی۔
اب ارسلان نے کھلے عام شراب نوشی شروع کر دی تھی۔ باپ کی چھوڑی ہوئی دولت اور جائیداد کی آمدنی نے اسے مزید بے فکر بنا دیا تھا۔ وہ راتوں کو گھر سے غائب رہتا اور علیزہ اس کے انتظار میں جاگتی رہتی۔
رفتہ رفتہ اس کی محفلیں بھی بدل گئیں۔ اس کے دوست اور ان کی محفلیں ایسے رنگ اختیار کرنے لگیں جو کسی بھی عزت دار گھر کی عورت کے لیے ناقابل برداشت تھے۔ گھر کے قریب بنے ایک کمرے میں مشکوک عورتوں کا آنا جانا شروع ہو گیا۔ علیزہ یہ سب دیکھ کر اندر ہی اندر ٹوٹتی رہی، مگر بچوں کی خاطر خاموش رہی۔
ایک دن بات حد سے بڑھ گئی۔ بچوں نے آ کر بتایا کہ ان کے والد کی بیٹھک میں کوئی عورت آئی ہوئی ہے۔ تین دن تک ارسلان نے گھر میں قدم نہیں رکھا اور صرف نوکروں کے ذریعے کھانا منگواتا رہا۔ گھر کا ماحول بوجھل ہو گیا، مگر کوئی بھی ملازم ہمت نہ کرتا کہ اس بارے میں کچھ کہہ سکے۔
تین دن گزر چکے تھے۔ علیزہ کا چھوٹا بیٹا شدید بیمار تھا اور وہ بے حد پریشانی میں مبتلا تھی۔ ماں کا دل تڑپ رہا تھا، مگر مجبوری ایسی کہ وہ کچھ کر بھی نہ سکتی تھی۔ آخرکار ہمت کر کے وہ خود اس کمرے کی طرف چلی گئی جہاں ارسلان اکثر وقت گزارتا تھا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا اور کوئی ملازم بھی موجود نہ تھا۔ جب وہ اندر داخل ہوئی تو اس کی نظر سامنے کے منظر پر جم گئی.ایک جوان عورت چارپائی پر بیٹھی تھی اور اس کے ساتھ ارسلان بیٹھا ہوا تھا۔
علیزہ کو دیکھتے ہی ارسلان غصے سے بھڑک اٹھا۔ فوراً اس کا بازو پکڑا، اسے گھسیٹ کر باہر لے آیا اور زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر دے مارا۔ غصے سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ وہ چیخ کر بولا:
“تم یہاں کیوں آئی ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اس جگہ آنے کا انجام کیا ہوتا ہے؟”
وہ اس قدر غصے میں تھا کہ اسے کچھ ہوش نہ رہا۔ علیزہ کے لیے یہ منظر ناقابلِ برداشت تھا۔ کون سی عورت یہ برداشت کر سکتی ہے کہ اس کا شوہر کسی اور عورت کے ساتھ ہو؟ وہ چیخ اٹھی، مگر ارسلان نے فوراً اس کا منہ دبا دیا اور اسے گھسیٹتے ہوئے گھر لے آیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے اسے بے دردی سے مارنا شروع کر دیا۔
وہ مسلسل چیختا رہا: “تم نے یہ گھٹیا حرکت کیوں کی؟ تمہیں وہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ جگہ میری اپنی ہے، اگر وہاں کوئی دوست ہوتا تو میری عزت خاک میں مل جاتی!” یہ اس شخص کی سوچ تھی جس کی بیوی برسوں سے اس کے ساتھ رہ رہی تھی، اس کے ہر ظلم کو برداشت کر رہی تھی۔ اس لمحے ارسلان کا غصہ اس کی انسانیت پر حاوی ہو چکا تھا۔ اسے اپنے بیمار بچے کا بھی خیال نہ رہا۔ وہ علیزہ پر ایسے ٹوٹ پڑا جیسے وہ کوئی دشمن ہو۔ علیزہ کے دل میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا.آخر اس کا قصور کیا تھا؟ کیا صرف عورت ہونا ہی اس کی غلطی تھی؟
اس دن ارسلان نے اسے اتنا مارا کہ وہ نیم بے ہوش ہو گئی۔ اس نے اس کے منہ پر کپڑا باندھ دیا تاکہ اس کی آواز باہر نہ جا سکے اور اس کی جھوٹی عزت پر کوئی حرف نہ آئے۔ جب وہ تھک گیا تو اسے کمرے میں بند کر دیا۔ اسے اس بات کی بھی پرواہ نہ تھی کہ بچے یہ سب کچھ دیکھ کر کس اذیت سے گزر رہے ہوں گے۔
علیزہ زمین پر بیٹھی سسکتی رہی۔ اس کا دل چاہتا تھا کہ سب کچھ ختم ہو جائے—یہ گھر، یہ دیواریں، یہ اذیتیں۔ وہ دل ہی دل میں ٹوٹ چکی تھی۔ اس کی محبت کا انجام اسے صرف درد اور ذلت کی صورت میں ملا تھا۔ ایک عورت کے لیے اس سے بڑا دکھ کیا ہو سکتا ہے کہ اس کا شوہر اس کی موجودگی میں کسی اور کے ساتھ تعلق رکھے؟ ایسی اذیت عورت کو اندر سے ختم کر دیتی ہے۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد اس نے ہمت کر کے بچوں کو آواز دی:
“سامی بیٹا، دروازہ کھولو… مجھے گھٹن ہو رہی ہے۔”
بیٹے نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا اور وہ باہر آئی۔ اس کے بعد ارسلان نے اس ‘جرأت’ کی سزا یہ دی کہ وہ پورے چھ ماہ گھر واپس نہ آیا۔ ضروری سامان وہ نوکروں یا بچوں کے ذریعے بھجوا دیتا، مگر یہ پیغام ضرور دیتا کہ وہ اپنی بیوی کا چہرہ دیکھنا بھی نہیں چاہتا۔
اس نے اپنے لیے الگ رہائش کا انتظام کر لیا، حتیٰ کہ کھانے کا بندوبست بھی وہیں کر لیا۔ ان چھ مہینوں میں علیزہ اس گھر میں قید ہو کر رہ گئی اور مسلسل ذہنی اور جسمانی دباؤ کی وجہ سے بیمار ہو گئی۔
انہی دنوں ارسلان کے ایک دوست کامران اور اس کی بیوی نادیہ بیرونِ ملک سے آئے۔ وہ ایک ہفتہ ان کے گھر میں مقیم رہے۔ انہوں نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ علیزہ اور ارسلان کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ نادیہ نے علیزہ سے نرمی سے بات کی تو اسے ایک ہمدرد مل گئی۔ علیزہ نے اپنے دل کا کچھ بوجھ اس کے سامنے ہلکا کیا اور اس سے وعدہ لیا کہ وہ یہ بات ارسلان تک نہیں پہنچائے گی۔
نادیہ نے اسے یہی سمجھایا کہ بچوں کی خاطر عورت کو بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ ٹوٹ جائے تو بچوں کا مستقبل بھی بکھر جاتا ہے۔ انہی کی کوششوں سے ارسلان واپس آنے پر راضی ہوا، مگر اس نے ایک سخت شرط رکھی کہ علیزہ کبھی اس کے ذاتی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ علیزہ نے مجبوری میں یہ شرط مان لی۔اس دن کے بعد علیزہ نے خود کو جیسے زندہ لاش بنا لیا۔ وہ بس ایک مشین کی طرح زندگی گزارنے لگی۔ وقت گزرتا گیا، بچے بڑے ہو گئے، اور زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہی۔
پھر ایک دن وہ وقت آیا جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا—ارسلان بیمار پڑ گیا۔ پہلے اسے شوگر ہوئی، پھر فالج نے اسے بستر تک محدود کر دیا۔ بچے اس کی خدمت تو کرتے، مگر دل سے نہیں۔ علیزہ ہی تھی جو انہیں سمجھاتی کہ باپ کی عزت کرنا ضروری ہے۔
وہ اکثر بچوں سے کہتی: “تمہارے والد کا تم پر حق ہے۔ اگر انہوں نے میرے ساتھ غلط کیا بھی، تب بھی وہ تمہارے باپ ہیں۔ انسانیت یہی ہے کہ ہم کمزور کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔ دل میں نفرت نہ رکھو، یہ انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔”
وقت نے ارسلان کو وہ سبق سکھا دیا تھا جو کوئی اور نہ سکھا سکا۔ وہ بستر پر لیٹا اکثر خاموشی سے چھت کو دیکھتا رہتا، جیسے اپنے ماضی کے بوجھ تلے دبا ہو۔ کبھی اس کی آنکھوں میں نمی آ جاتی، مگر وہ کچھ کہہ نہ پاتا۔ علیزہ خاموشی سے اس کی خدمت کرتی، بغیر کسی شکایت کے۔
ایک رات اس نے کمزور آواز میں علیزہ کو پکارا۔ اس کی آنکھوں میں خوف صاف نظر آ رہا تھا۔ اس نے آہستہ سے کہا:
“میں نے تمہیں بہت تکلیف دی ہے… ہے نا؟”
علیزہ نے کوئی جواب نہ دیا، بس نرمی سے کہا:
“آپ آرام کریں، دوا کا وقت ہو گیا ہے۔”
وہ ساری رات بے چین رہا۔ اگلی صبح جب اس کی حالت بگڑنے لگی تو بچوں کو بلایا گیا۔ اس نے مشکل سے اتنا کہا:
“میں اچھا شوہر نہیں تھا… مگر اس نے کبھی بدلہ نہیں لیا…”
یہ اس کا اعتراف تھا، شاید اس کی زندگی کا سب سے سچا لمحہ۔ چند دن بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
گھر میں خاموشی چھا گئی، مگر علیزہ کے دل میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ اس نے اپنے دل میں نفرت کو جگہ نہیں دی تھی۔ اس نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا۔وقت کے ساتھ اس کے بچے سنبھل گئے اور پہلی بار اس نے اپنی زندگی کو اپنے انداز سے جینا شروع کیا۔ اس نے اپنے بچوں کو یہی سکھایا کہ اصل طاقت صبر، برداشت اور انصاف میں ہے۔ عورت کمزور نہیں ہوتی، وہ بس خاموش رہتی ہے۔ اور جب اس کی خاموشی بولتی ہے تو پوری دنیا سننے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
علیزہ نے دوبارہ محبت تلاش نہیں کی، مگر اسے عزت اور سکون ضرور مل گیا—اور یہی اس کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔