جیسے ہی نادیہ نے کچن کی دہلیز پر قدم رکھا، وہ اچانک ٹھٹھک کر رک گئی۔ سامنے چولہے کے پاس کوئی عجیب سی چیز پڑی ہوئی تھی۔ وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی آگے بڑھی تو بے اختیار خوف کی ایک لہر اس کی رگوں میں سرایت کر گئی۔ چولہے کے پاس ایک بڑے سائز کی چمگادڑ بے حس و حرکت پڑی تھی۔ وہ الٹے قدموں واپس کچن کی دہلیز پر آ گئی اور ایک ہاتھ سینے پر رکھے اسے دیکھنے لگی۔ وہ کالی سیاہ، بدصورت چمگادڑ کہاں سے آ گئی تھی؟ کچن کے روشن دان میں جالی لگی ہوئی تھی۔ باہر نکل کر اس نے ہر طرف کا جائزہ لیا۔ تمام کھڑکیاں اور روشن دان جالیوں سے محفوظ تھے، پھر یہ چمگادڑ کہاں سے داخل ہوئی؟
“نسرین خالہ؟ خالہ؟” وہ چلائی۔ اس کے چہرے پر خوف اور حیرت کے تاثرات تھے۔ خالہ نسرین ہاتھ میں جھاڑو پکڑے بھاگی بھاگی آئی۔ “وہ وہاں… دیکھیے!” نادیہ نے اشارہ کیا۔ خالہ کچن کی طرف بڑھی اور قریب جا کر غور سے دیکھنے لگی۔ “خالہ قریب نہ جائیں، کہیں وہ آپ کو نقصان نہ پہنچا دے۔” نادیہ کچن کی دہلیز پر کھڑی ہدایات دے رہی تھی۔ “ارے کچھ نہیں ہوتا بی بی جی۔” یہ کہہ کر خالہ آگے بڑھی اور ہاتھ بڑھا کر انگلی سے جیسے ہی اس چمگادڑ کو چھوا، اگلے ہی لمحے وہ حرکت میں آ گئی اور تیزی سے پھڑ پھڑاتی ہوئی نادیہ کے کندھے کو چھوتی ہوئی کچن سے باہر نکل گئی۔
نادیہ کا دل تو اچھل کر حلق میں آ گیا۔ کندھے کو چھوتے ہی جیسے اس کی جان ہی نکل گئی۔ چمگادڑ کچن سے نکل کر کہاں غائب ہوئی، اس کی بات فکر اس وقت کسی کو نہ تھی۔ ایک زوردار چیخ نادیہ کے حلق سے برآمد ہوئی تھی اور وہ کچن میں اپنی جگہ پر کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ اس نے فوراً احمر کو فون کیا، مگر وہ اپنے باس کے ساتھ کسی میٹنگ میں تھا، اس لیے فوراً نہ آ سکا۔ حواس کچھ بحال ہونے پر اس نے خالہ کے ساتھ مل کر گھر کا کونا کونا چھان مارا، مگر وہ چمگادڑ تو یوں غائب ہوئی تھی جیسے وہاں آئی ہی نہ ہو۔ آخر چمگادڑ گئی تو گئی کہاں؟
تھک ہار کر وہ صوفے پر بیٹھ گئی۔ خالہ پاس ہی نیچے کارپٹ پر بیٹھ گئی۔ “میں نے تو اسے کچن سے نکلتے ہی دیکھا تھا، اس کے بعد کا پتہ نہیں۔ بی بی جی، آپ لوگوں کے آنے سے پہلے یہ گھر کچھ عرصہ بند رہا تھا اور بند گھروں میں ایسی ویسی چیزیں نکل ہی آتی ہیں۔ آپ پریشان نہ ہوں۔” خالہ کی اس دلیل پر نادیہ نے گھور کر اسے دیکھا، کیونکہ پچھلے تین دن سے وہ خالہ کے ساتھ مل کر گھر کو صاف کر کے ہلکان ہو چکی تھی اور اب گھر شیشے کی طرح چمک رہا تھا۔ پھر بھی چمگادڑ کسی سوالیہ نشان کی طرح باقی رہی۔ وہ کہاں سے آئی، کہاں گئی، یہ معاملہ حل نہ ہو سکا۔
انہیں اس مکان میں شفٹ ہوئے صرف تین دن ہوئے تھے۔ لاہور کے اندرون شہر کے ایک محلے میں یہ مکان انہیں کافی سستے داموں ملا تھا۔ ابھی ایک دن ہی ہوا تھا کہ اگلے دن صبح صبح بیرونی دروازے کی گھنٹی بجی اور پھر دروازہ زور زور سے بجایا جانے لگا۔ ان کے اس گھر میں شفٹ ہونے کے بعد یہ پہلی اجنبی دستک تھی۔ نادیہ نے دروازہ کھولنے سے پہلے پوچھنا ضروری سمجھا، کیونکہ احمر اس وقت ناشتہ لینے باہر گیا ہوا تھا اور نادیہ گھر میں اکیلی تھی۔
“دروازہ کھولیں بی بی جی، میں ہوں نسرین۔” ایک شفیق زنانہ آواز آئی۔ نادیہ نے پرسکون انداز میں بند دروازے کو دیکھا۔ فلوقت اس کے ذہن میں ایسی کوئی نسرین نامی خاتون نہ آسکی جسے وہ جانتی ہو۔ دروازہ ایک بار پھر بجایا گیا۔ اس نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر باہر جھانکا تو درمیانی عمر کی ایک عورت نے نرم مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی اور ساتھ ہی سلام کیا۔ “سلام بی بی جی، میرا نام نسرین ہے۔ ویسے مجھے سب خالہ خالہ ہی کہتے ہیں۔ آپ لوگ یہاں شاید نئے شفٹ ہوئے ہیں۔ آپ سے پہلے جو باجی یہاں رہتی تھی وہ تو مجھے اچھی طرح جانتی تھی۔ میں اس گھر میں صفائی کرتی تھی، بلکہ کپڑے برتن سب کچھ! محلے داروں سے مجھے پتا لگا یہ گھر پھر سے آباد ہو گیا ہے اور سوچا کہ پوچھ لوں۔ آپ کو گھر کے کام کاج کے لیے کسی عورت کی ضرورت ہے؟ بیوہ عورت ہوں میں اور یہی کام کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہوں۔”
پہلے تو نادیہ چپ چاپ سنتی رہی، پھر بولی، “خالہ، یہاں محلے میں آپ کس گھر میں کام کرتی ہیں؟” “یہ جو گلی کے کونے پر سبز گیٹ والا گھر ہے نا، وہ باجی فرحد کا ہے اور میں وہیں کام کرتی ہوں۔ آپ بیشک اپنی تسلی کروا لیں۔ میں جانتی ہوں آجکل حالات خراب ہیں اور انجان بندے پر اعتبار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن میں کوئی ایسی ویسی عورت نہیں ہوں بی بی جی۔” “ارے ارے نہیں، ایسی کوئی بات نہیں خالہ۔” نادیہ شرمندہ سی ہو گئی۔ “ٹھیک ہے خالہ، آپ آج دوپہر سے ہی کام پر آ جائیے۔” یہ کہہ کر وہ دروازہ بند کیے اندر آ گئی۔ وہ عورت اسے شریف اور ضرورت مند لگی تھی، مگر دل ہی دل میں اس نے سوچ رکھا تھا کہ وہ فرحد باجی کی طرف جا کر تصدیق ضرور کرے گی، کیونکہ آجکل کے دور میں کسی انجان پر اعتماد کرنا واقعی بہت مشکل تھا۔
دوپہر کو خالہ آ گئی اور بڑی دل جمی سے نادیہ کے ساتھ سارا کام کروایا۔ شام کو وہ اتنا تھک چکی تھی کہ نسرین خالہ کے بارے میں پوچھنے فرحد باجی کے پاس نہ جا سکی۔ سو اس نے یہ کام اگلے دن پر چھوڑ دیا۔
اگلے دن احمر کے آفس جانے کے چند گھنٹوں بعد ہی چمگادڑ والا واقعہ ہو گیا جسے لے کر نادیہ خاصی پریشان تھی۔ “ویسے خالہ، ایک بات بتائیں۔ یہ گھر کب سے بند ہے؟” “بی بی جی، کافی عرصے سے بند پڑا تھا۔ کوئی گاہک ہی نہیں لگتا تھا اس کا۔ محلے والے تو سب جانتے ہی تھے کیونکہ…” خالہ بولتے بولتے اچانک خاموش ہو گئیں۔ “کیا مطلب؟ کیا جانتے تھے محلے والے؟ اور آپ اچانک بتاتے بتاتے رک کیوں گئیں خالہ؟” “پتا نہیں بی بی، آپ ایسی باتوں پر یقین کرتی ہیں یا نہیں، مگر حقیقت تو یہی ہے کہ یہاں کئی لوگ آئے اور کئی لوگ گئے۔ آپ سے پہلے جو رابعہ باجی یہاں رہتی تھیں نا، ان کے ساتھ بھی بہت برا ہوا۔ خدا جھوٹ نہ بولائے، کئی عجیب و غریب واقعات تو میری آنکھوں کے سامنے رونما ہوئے تھے۔”
نادیہ تو دہل کے رہ گئی۔ “کیا خالہ؟” “لوگ کہتے ہیں یہ گھر آسیب زدہ ہے۔ یہاں کوئی زیادہ دن نہیں ٹکتا۔ بڑے بڑے نقصان اٹھائے ہیں لوگوں نے جو یہاں رہ کر گئے ہیں۔ میں نے تو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ رابعہ باجی نے اپنے تینوں بچے گو دیے۔ ہائے بیچارے رابعہ، مجھے تو بڑا ترس آتا تھا ان کی حالت پر۔ نیم پاگل سی ہو گئی تھیں رابعہ باجی۔” “یقیناً یہ گھر آپ کو بڑے سستے داموں ملا ہوگا؟” “ہاں۔” نادیہ نے گھبرائی ہوئی آواز میں اتنا ہی کہا تھا کہ خالہ دوبارہ بول پڑیں۔ “بی بی جی، پہلے تو گھر کی دیواروں پر خون کے چھینٹے گرتے رہے۔ بڑے بڑے عامل حضرات کو لایا گیا مگر قسمت میں جو لکھا ہو وہ تو ہو کر ہی رہتا ہے۔ پھر ایک رات اچانک رابعہ باجی کے تینوں بچے غائب ہو گئے۔ بڑا بیٹا دس سال کا تھا، بیٹی آٹھ سال کی اور سب سے چھوٹا بیٹا پانچ سال کا تھا۔ ہائے معصوم بچے۔ آج بھی سوچتی ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔”
“کیا مطلب؟ کیا رات و رات تینوں بچے گھر سے غائب ہو گئے؟” نادیہ نے تو اپنے سینے پر ہاتھ رکھ لیا اور خوف سے ڈر گئی۔ “بی بی جی، صبح اٹھ کر دونوں میاں بیوی نے انہیں پاگلوں کی طرح ڈھونڈا۔ پورا گھر چھان مارا، مگر بچے تو کہیں نہ ملے۔ لیکن گھر کے پچھلے صحن کا نقشہ ہی کچھ اور تھا۔ صحن میں ایک ساتھ قطار میں تین قبریں بنی ہوئی تھیں۔” “ہائے نہیں؟” نادیہ کے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی۔ “بی بی جی آگے تو سنیں۔ رابعہ باجی تو خوف سے وہیں بے ہوش ہو گئیں۔ ان کے شوہر نے پاگلوں کی طرح آگے بڑھ کر قبریں کھود ڈالیں۔ ان کے تینوں بچے قبروں میں مردہ حالت میں پڑے تھے۔ اف، کیا قیامت تھی جو ان دونوں پر ٹوٹی۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ خدا ایسا کسی دشمن کے ساتھ بھی نہ کرے۔” خالہ نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا اور نادیہ کی تو خوف سے بری حالت تھی۔
نادیہ نے زندگی میں پہلی بار بے اولاد ہونے پر شکر ادا کیا۔ “بس بی بی جی، سنا ہے کہ کوئی ایسا زبردست آسیب ہے کہ کوئی یہاں کسی کو بسنے بھی نہیں دیتا۔ اس گھر میں جو بھی رہا، برباد ہوا۔ خدا آپ لوگوں کی حفاظت کرے۔” سکڑی سمٹی بیٹھی نادیہ سانس روکے آنکھیں پھاڑے غور سے خالہ کی بات سن رہی تھی۔ “بی بی جی، جب بچوں کا پوسٹ مارٹم کرویا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ بچوں کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔” “او میرے خدایا! تو کیا بچوں کو زندہ قبر میں گاڑ دیا گیا؟” “ہاں جی، سب یہی خیال کرتے ہیں۔ اور بچوں کی علمناک موت سے ایک دن پہلے میں نے رابعہ باجی کے کمرے میں جو منظر دیکھا، میری تو جان نکل گئی۔” “خالہ ک… کیا دیکھا آپ نے؟” “ایک صبح میں صفائی کرنے بیڈ روم میں گئی۔ کیا دیکھتی ہوں کہ عین بستر کے درمیان ایک کالا سر کٹا کتا پڑا تھا اور پورے بیڈ پر کالا خون پھیلا ہوا تھا۔ میں الٹے قدموں واپس بھاگی۔ رابعہ باجی اس وقت کچن میں تھیں۔”
خالہ ابھی بات کر ہی رہی تھی کہ بیرونی دروازے کی گھنٹی بجی۔ گھنٹی بجانے کا وہ مخصوص سا سٹائل احمر کا تھا۔ “احمر آ گئے۔” نادیہ کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ “میں کھولتی ہوں دروازہ!” “نہیں خالہ، میں خود کھولتی ہوں۔ بلکہ ہم دونوں اکٹھے چلتے ہیں۔” مارے خوف کے نادیہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی، کیونکہ اب دو منٹ بھی اکیلے رہنا اس کے لیے مشکل تھا۔
احمر کے آنے پر نادیہ نے خالہ کو چھٹی دے دی۔ اور خود احمر کو لیے کمرے میں آ گئی۔ “احمر، ہم سے تو بڑی غلطی ہو گئی جو یہ گھر ہم نے خرید لیا۔” “ارے یار نادیہ، کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ ایک چمگادڑ کو لے کر تم اتنا سیریس ہو رہی ہو! میں بھی بھاگم بھاگ آیا آفس سے کہ پتا نہیں محترمہ صاحبہ کو کیا ہو گیا ہے۔ کیا زندگی میں کبھی چمگادڑ نہیں دیکھی تم نے؟” “احمر، یہ بات نہیں ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ چمگادڑ آئی کہاں سے۔” “ارے چمگادڑ ہی تو تھی، کوئی ہاتھی تو نہیں تھا جو کچن میں داخل نہ ہوتا۔ تم پڑھی لکھی عورت ہو، دل میں ایسے وہم کیوں پال رہی ہو خاہ مخواہ۔” احمر نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو نادیہ نے خالہ کی ساری بات احمر کو بتا دی۔ “ارے یہ پاگل خالہ تمہیں حوصلہ دینے کی بجائے ڈراتی رہی ہے کیا؟ عجیب جاہل عورت ہے!” وہ غصے سے بولا۔ “مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ تم نے اس ان پڑھ جاہل عورت کی بات پر یقین کیسے کر لیا۔” “احمر، میں مانتی ہوں کہ وہ ان پڑھ عورت ہے، لیکن اس نے مجھے بڑا حوصلہ دیا ہے۔ اگر وہ نہ ہوتی تو شاید میں بے ہوش پڑی ہوئی ہوتی۔ خالہ کی موجودگی سے مجھے بڑا سکون ملا اور میرا دل کہتا ہے کہ خالہ باتیں جھوٹی نہیں ہیں۔ بھلا وہ کوئی میری دشمن ہے جو مجھے جان بوجھ کر ڈرائے گی؟ احمر، میری بات کو سمجھو۔” “یار نادیہ، تمہارے منہ سے ایسی باتیں سوٹ نہیں کرتیں۔ تم تو بہت ذہین عورت ہو۔ اگر کوئی ان پڑھ عورت ایسی باتیں کرتی تو مجھے ذرا حیرت نہ ہوتی، مگر افسوس ہے تم پر!”
اس کائنات میں جنات کے وجود سے انکار تو نہیں ہے نا آپ کو؟ اور ایک بات مجھے بتائیں کہ یہ گھر ہمیں اتنا سستا کیوں ملا؟ کیا آپ نہیں جانتے اس علاقے میں زمین کا کیا ریٹ ہے؟ اور اس حساب سے تو یہ مکان ہمیں آدھی قیمت سے بھی کم پیسوں میں ملا ہے۔” “نادیہ، تم کیوں اتنا سوچ رہی ہو؟ تمہیں یاد ہوگا ڈیلر نے ہمیں بتایا بھی تھا کہ مالک مکان جلد از جلد بیرون ملک شفٹ ہونا چاہتے ہیں اور اس کے پاس بہت کم وقت تھا۔ وہ جلدی ہی اپنی جائیداد فروخت کرنا چاہتا تھا۔ اور پلیز اب یہ سوال مت اٹھانا کہ وہ اتنی جلدی بیرون ملک نہیں جانا چاہتا تھا۔” احمر کی باتوں پر نادیہ نے مزید بحث کا ارادہ ترک کر دیا، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ احمر اپنی ضد کا پکا ہے۔ وہ کبھی بھی سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں کرے گا۔ مگر وہ رات تو نادیہ پر خاصی بھاری گزری۔ ساری رات وہ سو نہ سکی۔ کبھی اس کی آنکھوں کے سامنے سر کٹا کالا کتا آ جاتا تو کبھی بچوں کی قبریں۔
اگلے دن احمر کے دفتر جانے کے بعد وہ خالہ کا انتظار کرنے لگی۔ آج خالہ معمول سے کچھ لیٹ ہو گئی۔ آدھا گھنٹہ مزید انتظار کرنے کے بعد بھی جب وہ نہ آئی تو اس نے دھوپ لگوانے کے لیے بستر اٹھائے اور چھت پر جانے کے لیے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ چھت کا دروازہ کھول کر جیسے ہی اس نے چھت پر پہلا قدم رکھا، خوف اور دہشت سے بے اختیار اس کی چیخ نکل گئی۔ ایک لمحے کے لیے تو وہ پتھرا کے رہ گئی۔ پوری چھت اس وقت چھوٹے بڑے چمگادڑوں سے بھری پڑی تھی۔ بدصورت، خوفناک بہت سارے چمگادڑ چھت پر اڑتے گرتے بڑا ہی ہیبت ناک منظر پیش کر رہے تھے۔ دن کے اس پہر میں بھی اسے لگا کہ یہ رات کے کسی پہر کا ڈراؤنا خواب ہے۔ ایک جھٹکے سے وہ الٹے قدموں واپس بھاگ آئی۔ بستر تو سارے سیڑھیوں پر گر گئے تھے۔
کچھ دیر بعد خالہ آ گئی اور نادیہ نے ڈرتے ہوئے دروازہ کھولا۔ “شکر ہے خدایا، خالہ آپ آ گئیں!” “ارے کیا ہوا بی بی، خیریت تو ہے؟” “خالہ، خیریت ہی تو نہیں ہے۔” نادیہ نے سارا ماجرا بتا دیا۔ “بی بی، میری بات مانو تو یہاں سے چلی جاؤ۔ اس سے پہلے کہ تمہیں اور تمہارے شوہر کو نقصان پہنچے۔” نادیہ پہلے ہی خوفزدہ تھی، خالہ کی بات سن کر اور دہل گئی۔
شام کو احمر آفس سے آیا تو نادیہ آج کا واقعہ سنانے کے لیے بے چین تھی۔ احمر نے خاموشی سے سارا واقعہ سنا۔ دل ہی دل میں احمر سوچ رہا تھا کہ نادیہ کو وہم ہونے لگا ہے اور اس کے وہم کا علاج تسلی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس لیے اس نے بات بدلنا ہی مناسب سمجھا۔ “تم فکر نہ کرو نادیہ، اللہ خیر کرے گا۔ مجھے بھوک لگی ہے، جلدی سے میرے لیے کھانا لے آؤ۔” یہ کہہ کر وہ نہانے چلا گیا۔ نادیہ مرے مرے قدموں سے کمرے سے باہر نکل گئی۔
پندرہ منٹ بعد وہ نہا کر باہر نکلا تو حیران رہ گیا۔ بستر کی چادر جو پندرہ منٹ پہلے صاف تھی، اب اس پر جگہ جگہ خون کے چھینٹے پڑے ہوئے تھے۔ ٹھہرے ٹھہرے قدموں سے آگے بڑھا۔ خون کے تازہ قطروں کو غور سے دیکھا۔ یکا یک اسے احساس ہوا کہ خون اس کے انگوٹھے سے بہہ رہا ہے، بالکل اسی جگہ سے جہاں سے اس نے بستر پر لگے خون کو چھوا تھا۔ اس نے تولیے سے خون صاف کیا مگر خون دوبارہ بہنا شروع ہو گیا۔ کبھی وہ حیرت سے اپنے انگوٹھے سے بہتے خون کو دیکھتا تو کبھی بستر پر پڑے خون کے چھینٹوں کو۔ یہ وہم ہرگز نہ تھا۔ اگر یہی بات اسے نادیہ بتاتی تو وہ ہرگز یقین نہ کرتا اور وہم قرار دے دیتا۔ مگر اس غیر معمولی نوعیت کے واقع نے اس کے ہوش و حواس کھو دیے۔
“احمر، کھانا تیار ہے، آ جائیں۔ میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔” نادیہ یہ بولتے ہوئے جب کمرے میں داخل ہوئی تو اندر کا منظر دیکھ کر اس کی زبان تالو سے چپک گئی۔ وہ رات دونوں نے جاگتے ہی گزاری۔
اگلے دن نادیہ نے احمر سے کہا کہ جب تک خالہ نہ آ جائے آپ کام پر مت جائیے گا۔ “فکر نہ کرو، میں تب ہی جاؤں گا جب خالہ آ جائے گی۔” “احمر، آپ جلد از جلد کوئی گھر دیکھیں۔ پہلے بھی آپ میری بات پر یقین نہیں کرتے تھے مگر اب تو آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔” “تم فکر نہ کرو نادیہ، میں کچھ کرتا ہوں۔”
اسی وقت بیرونی دروازے پر گھنٹی بجی۔ “لگتا ہے خالہ آ گئی۔” نادیہ یہ کہتے ہوئے دروازہ کھولنے چلی گئی۔ شہروز احمر کا اچھا دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا کولیگ بھی تھا۔ آفس کا کام نمٹانے کے بعد وہ دونوں کیبن میں بیٹھے اور احمر نے سارا واقعہ بیان کر دیا۔ وہ خاموشی سے سب سنتا رہا، پھر بولا، “بات تو خاصی تشویشناک ہے۔ میں ایک پیر کو جانتا ہوں۔ بابا جی کے نام سے مشہور ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ تمہاری پریشانی حل کر دیں گے۔” “تو پھر کب چلیں ان کے پاس؟” “جب تم کہو!” “ٹھیک ہے، آج ہی چلتے ہیں۔” احمر نے اپنے انگوٹھے کی طرف دیکھا۔ زخم تو بھر چکا تھا، لیکن زخم کا نشان کافی بڑا داغ نما ظاہر ہو رہا تھا۔
نادیہ نے احمر کے گھر آنے تک ہی خالہ کو گھر روک کے رکھا تھا، کیونکہ اکیلے رہنا اب اس کے لیے بہت مشکل ہو گیا تھا۔ احمر آفس سے واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک بابا جی، جو کہ لمبی سفید داڑھی کے ساتھ داخل ہوئے۔ احمر نے نادیہ کو ایک طرف لے جا کر بابا جی کے بارے میں بتایا تو نادیہ نے سکون کا سانس لیا اور اسے امید کی ایک کرن نظر آئی۔
بابا جی نے سارے گھر کا جائزہ لیا۔ بابا جی گھر کے تمام افراد—نادیہ، احمر اور حتیٰ کہ خالہ کو بھی—گھور گھور کر عجیب نظروں سے دیکھنے لگے۔ “گھر میں کتنے افراد رہائش پذیر ہیں؟” اس دوران وہ ہاتھ میں تسبیح لیے مسلسل کچھ پڑھتے چلے جا رہے تھے۔ “خالہ نسرین کے منہ سے بے اختیار نکلا، “120۔ اس گھر میں 120 افراد ہیں۔” نادیہ اور احمر نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے خالہ کو دیکھا۔ احمر کو خالہ کی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔ نادیہ کو خالہ سے اس بیوقوفی کی توقع نہیں تھی۔ بابا جی بھی خالہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔
خالہ بڑبڑا کر بولی، “معاف کیجیے گا، میں مکان نمبر بتا بیٹھی۔” بابا جی گھر کے در و دیوار کو دیکھتے ہوئے بولے، “پورا کنبہ رہتا ہے یہاں۔ اچھی خاصی تعداد ہے۔” “کیا مطلب ہے بابا جی؟ میں سمجھا نہیں؟” وہ بابا جی کو لیے ڈرائنگ روم میں آ گیا تھا اور نادیہ خالہ نسرین کو لیے کمرے میں چلی گئی۔ “بیٹا، سمجھا دوں اتنی جلدی کس بات کی ہے۔ لیکن فلحال میں اتنا ہی کہوں گا کہ اس گھر میں جنات کا بسیرا ہے اور تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ میاں تمہارا کام تھوڑا مشکل ہے، مگر ہو جائے گا۔ ذرا دیر لگے گی۔ مگر تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا۔ تم کل آنا میرے پاس، میں تمہیں تعویذات وغیرہ دوں گا اور تفصیلات بھی بتا دوں گا۔ اور جتنا زیادہ ہو سکے گھر میں قرآن پاک کی تلاوت کیا کرو۔ باوضو رہا کرو۔ انشاءاللہ مصیبتوں سے بچے رہو گے۔ اچھا اب میں چلتا ہوں اور ہاں میاں ایک بات اور… گھر کے تمام افراد پر کڑی نظر رکھنا۔”
یہ آخری بات احمر کی سمجھ میں نہیں آئی۔ ان کی اس بات کا آخر کیا مطلب تھا؟ اور گھر میں تو افراد ہی تین تھے۔ یہ باتیں احمر کی سمجھ سے بالا تر تھیں۔
اگلے دن بڑا ہی عجیب تھا۔ وہ آفس کے بعد بابا جی کی طرف گیا مگر وہاں پہنچ کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اسے پتا چلا کہ بابا جی وفات پا چکے ہیں۔ اس نے اسی وقت شہروز کو بتایا۔ شہروز بھی بہت حیران ہوا۔ اس بات نے احمر کو تو ہلا کے رکھ دیا۔ اچھے بھلے بابا جی جنہیں کل رات وہ اپنے گھر لے کر گیا تھا، آج اس دنیا میں ہی نہیں رہے۔ بہت سے راز وہ اپنے سینے میں لیے اس دنیا سے چلے گئے۔ انہوں نے آج تعویذ دینے کے ساتھ ساتھ بہت سی باتیں بھی بتانی تھیں، مگر قدرت کو تو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اور ان کی “گھر کے افراد پر نظر رکھنے” والی بات نے بھی احمر کو بے چین کر رکھا تھا۔ وہ بہت رنجیدہ سا گھر واپس آ گیا۔
“کیا بات ہے؟ آج خالہ جلدی چلی گئی ہیں کیا؟” “ہاں، ان کو کوئی ضروری کام تھا۔ میں نے بہت روکا مگر وہ چلی گئیں۔” “اچھا، گھر میں سب خیریت ہے؟” “ہاں، ابھی تک تو خیر ہے۔” “نادیہ، ایک بری خبر ہے۔” “کیا بری خبر ہے؟” “وہ بابا جی کا انتقال ہو گیا ہے۔” “کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟” نادیہ تو ایک بار پھر گھبرا گئی۔ “احمر، اب کیا کیا ہوگا؟” “تم فکر نہ کرو، اللہ خیر کرے گا۔”
اگلے دو دن تک خالہ نسرین نہ آئی۔ وہ دونوں حیران تھے۔ آخر خالہ بغیر اطلاع کے گئی تو گئی کہاں؟ احمر نادیہ کو تسلی دیتے ہوئے آفس جاتا اور چھٹی ہوتے ہی بھاگم بھاگ واپس آ جاتا۔ دن کا وہ حصہ نادیہ بڑی ہی اذیت سے گزارتی۔ خوف کے سائے منڈلاتے رہتے۔ اوپر سے روز کوئی نہ کوئی غیر معمولی واقعہ ہونا بھی لازمی جیسے لازمی ہوتا تھا۔ کبھی چھت سے کسی کے بھاگنے کی آواز آتی تو کبھی پچھلے صحن سے عورتوں کے ہنسنے کی آواز آتی۔ نادیہ بہت خوف کے ساتھ دن گزارتی اور ہر رات ان کے بیڈ پر خون کے چھینٹے پڑنا تو معمول کی بات ہو گئی تھی۔ دونوں کی زندگی کافی مشکل ہو گئی تھی۔
تیسرے ہی دن اس کے اعصاب جواب دے گئے۔ برداشت کی ہمت ختم ہو گئی۔ نادیہ کو یاد آیا کہ خالہ گلی کے کونے پر رہنے والی فرحد باجی کے گھر بھی کام کرتی ہیں۔ گھر میں ہونے والے پراسرار واقعات میں پھنس کر دماغ ایسا معطل ہوا تھا کہ وہ اب تک فرحد باجی کے گھر بھی نہ جا سکی تھی۔ احمر کے آفس جاتے ہی وہ فرحد باجی کے گھر گئی۔ فرحد باجی کو اپنا تعارف کروانے کے بعد نادیہ نے خالہ نسرین کے بارے میں پوچھا تو وہ حیرت سے بولی، “میں تو شروع سے ہی اپنے گھر کے کام خود ہی کرتی ہوں۔ میں نے تو آج تک کوئی بھی کام والی نہیں لگوائی۔” “کیا؟ آپ کسی کام والی خالہ کو نہیں جانتیں؟” “نہیں، میں بالکل نہیں جانتی۔ اس محلے میں جو عورتیں گھروں میں کام کرتی ہیں انہیں میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ نسرین نام کی تو کوئی خالہ نہیں ہے۔ اور مجھے اس محلے میں رہتے ہوئے پندرہ سال ہو چکے ہیں۔”
فرحد باجی کی باتیں سن کر نادیہ کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ خالہ نسرین کون تھی؟ کہاں سے آئی اور کہاں گئی؟ نادیہ حیرت اور خوف میں ڈوبی گھر واپس آئی۔ اس وقت اس کی حالت ایسی تھی کہ نادیہ بیرونی دروازہ ہی بند کرنا بھول گئی۔ اندر داخل ہوتے ہی اس کے قدم جیسے زمین نے جکڑ لیے۔ اسے یوں لگا کہ وہ پتھر ہو گئی ہو۔ لاؤنج پر صوفے پر خالہ نسرین بیٹھی تھی۔ نادیہ حیران تھی کہ اول تو کبھی خالہ نے اتنی جرات نہ کی کہ کبھی صوفے پر بیٹھے، دوسرا سوال یہ اٹھتا تھا کہ خالہ اندر کیسے آئی۔
“خالہ، آپ اندر کب آئیں؟” خالہ نے ایک عجیب سے انداز میں قہقہہ لگایا۔ یہ ایک غیر انسانی قہقہہ تھا۔ نادیہ کا دل تو بند ہونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے خالہ کی شکل تبدیل ہونے لگی۔ اس کی آنکھیں پھیل کر آنکھوں تک چلی گئیں اور نچلا جبڑا کھل کر یوں لٹک گیا جیسے فالج زدہ ہو۔ نادیہ خوف کے مارے بے ہوش ہونے کو تھی۔ “یہ گھر ہمارا ہے۔ ہم نے تمہیں بہت دفعہ پیار سے سمجھانے کی کوشش بھی کی کہ چلی جاؤ یہاں سے، اپنے شوہر کو لے کر چھوڑ دو یہ مکان۔ مگر تم لوگ تو نہیں سمجھے۔ اور تم چلے تھے ہمیں یہاں سے نکلوانے… ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔ کہاں گیا وہ تمہارا بابا؟ اس کو بھی ہم نے ہی موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ جو بھی ہمارے راستے میں آتا ہے، زندہ نہیں بچتا۔”
شکل کے ساتھ ساتھ تو خالہ کی آواز بھی بدل گئی۔ نادیہ آنکھیں پھاڑے خوف میں مبتلا خالہ کو دیکھ رہی تھی۔ اسے یہ سب کسی ڈراؤنے خواب کی طرح لگ رہا تھا۔ اچانک گھر کے پچھلے صحن سے شور کی آواز سنائی دی اور پھر یکا یک بہت سی خوفناک شکلوں والی عورتیں اور عجیب و غریب ہیبت ناک بچے دھڑا دھڑ لاؤنج میں داخل ہونے لگے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا لاؤنج اس غیر انسانی مخلوق سے بھر گیا۔ پچھلے صحن سے مسلسل عجیب و غریب آوازیں آ رہی تھیں، جیسے وہاں ابھی بھی بہت سے لوگ موجود ہوں۔ وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی مگر ٹانگوں میں جیسے جان ہی نہ رہی ہو۔ زرد چہرہ لیے وہ بمشکل دیوار کا سہارا لے کر خود کو گرنے سے بچا پائی تھی۔
وہ عورت جس نے خالہ نسرین کے نام سے انسانی روپ دھار رکھا تھا، اچانک نادیہ کے بے حد قریب آ گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ نادیہ کو چھوتی، وہ چکرا کر گری اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی۔
دوسری طرف احمر کو ایک عجیب سی بے چینی ہو رہی تھی جسے وہ کوئی نام نہیں دے پا رہا تھا۔ بار بار کام سے توجہ بھٹک جاتی۔ شہروز نے اس کی بڑھتی ہوئی بے چینی نوٹ کی تو وہ بول اٹھا، “خیریت تو ہے یار؟” “یار، نادیہ اکیلے گھر میں پتا نہیں کس حال میں ہو گی۔ خالہ بھی نہیں آ رہی۔” “یار، تمہارا ذہن تو گھر میں ہی اٹکا رہتا ہے۔ یار گھر فون کر لو۔” شہروز کے کہنے پر احمر نے گھر کال کی تو نادیہ فون ہی نہیں اٹھا رہی تھی۔ اس نے بار بار کال کی مگر کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ اب تو اس کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ احمر اٹھا اور کام شہروز کے حوالے کیا اور گھر آ گیا۔
گھر کے دروازے پر پہنچ کر وہ بڑا حیران ہوا۔ بیرونی دروازہ پہلے سے ہی کھلا ہوا تھا۔ نادیہ اتنی لاپرواہ تو نہیں ہے کہ دروازہ کھلا چھوڑے۔ اسے انہونی کا احساس ہوا تو وہ کھلا گیٹ پار کر کے اندر داخل ہوا۔ اندر سے آنے والی عجیب و غریب آوازوں نے اسے تیز تیز چلنے پر مجبور کر دیا۔ دروازہ کھول کر وہ لاؤنج میں داخل ہوا تو اندر کا منظر دیکھ کر اس کی تو سانس ہی اٹک گئی۔ مگر نادیہ کو اس غیر انسانی مخلوق کے ہاتھوں میں دیکھتے ہی اس نے ہوش کے ناخن لیے۔ اس نے اپنے ہوش پر قابو پانے کی کوشش کی تو اسے بابا جی کی بات یاد آئی۔ احمر نے آنکھیں بند کر کے اونچی آواز سے قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دی۔
کافی دیر بعد جب اسے کمرے میں خاموشی کا احساس ہوا تو اس نے جھٹ سے آنکھیں کھول لیں۔ نادیہ ایک کونے میں بے ہوش پڑی تھی۔ وہ جلدی سے نادیہ کی طرف لپکا اور اسے اٹھا کر باہر گاڑی تک لایا۔ گاڑی میں ڈال کر اس نے گاڑی تیز رفتاری سے ہسپتال کی طرف روانہ کر دی۔ ڈاکٹروں کی کوششوں کے بعد نادیہ کو بچا لیا گیا۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ نادیہ کو گلہ دبا کر مارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر اسے ہسپتال لانے میں ذرا بھی دیر ہوتی تو اسے بچانا ناممکن تھا۔
یہ بات بھی سامنے آ چکی تھی کہ بابا جی نے گھر کے افراد پر نظر رکھنے کو کیوں کہا تھا۔ اس واقعے کو احمر نے میڈیا سے کیسے چھپایا یہ ایک الگ کہانی ہے۔ آج اس واقعے کو کافی سال بیت چکے ہیں۔ نادیہ کے صحت یاب ہونے کے بعد غلطی سے بھی کبھی انہوں نے اس مکان میں قدم نہیں رکھا اور دوسرا مکان کرائے پر لے کر رہنے لگے۔ مگر اتنے سال گزر جانے کے بعد آج بھی وہ مکان اندرون لاہور گیٹ لاہور کے ایک محلے میں وہ پراسرار مکان بڑی ہی ہیبت سے ویران اور خالی کھڑا ہے۔ شام کے بعد لوگ اس مکان کے آگے سے گزرنے سے بھی خوف کھاتے ہیں۔