short stories in urdu

ان کہی محبت – جذبات کو قید کر لینے والے مرد کی کہانی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب صائمہ اپنے گھر کے کمرے میں بیٹھی تھی۔ اس کے دونوں ہاتھ سر پر تھے اور چہرہ بے یقینی اور صدمے سے سفید پڑا ہوا تھا۔ وہ بار بار وہی الفاظ دہرا رہی تھی جو اس نے ابھی سنے تھے۔ “نہیں، میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ نہیں ہو سکتا۔” اس کے کانوں میں اب بھی وہ آواز گونج رہی تھی۔ وہ یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ شخص اس کے ساتھ دھوکہ نہیں کر سکتا، مگر دل کی گہرائیوں سے ایک آواز مسلسل کہہ رہی تھی کہ وہی ایک ہے جو اس کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے۔
چند لمحوں تک وہ ساکت بیٹھی رہی، پھر اچانک تڑپ کر اٹھی۔ خود کو یقین دلانے کے لیے بے ساختہ بولی، “وہ میرے ساتھ دھوکہ کر ہی نہیں سکتا۔” مگر الفاظ ادھورے رہ گئے۔ وہ بے دم سی واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔ دل کو خوش فہمی سے نکالنے میں صرف چند پل لگے۔ کتنی آسانی سے وہ بے وقوف بن گئی تھی۔ اس کی اصلیت جاننے کے باوجود بھی اس کی باتوں میں آ گئی۔ “مائی گاڈ، میں اتنی احمق، اتنی کم عقل کیسے ہو سکتی ہوں؟” اس نے اپنے بال نوچنے کو چاہا۔ واقعی اس نے سب کچھ اپنی رضامندی سے کیا تھا۔ کوئی دباؤ نہیں تھا۔ وہ بہت آرام سے وہ سب کچھ کرتی چلی گئی جو وہ کہتا رہا۔ اس کی ہر بات پر آنکھیں بند کر کے یقین کرتی رہی۔ اب کس لیے اپنے کیے پر پچھتاوا کر رہی تھی؟ تو پھر آج کے بعد زندگی میں پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں تھا۔
اسی وقت کمرے میں الارم کی بلند آواز گونج اٹھی۔ آواز اتنی تیز تھی کہ کان پڑی آواز کا سننا بھی مشکل تھا۔ مگر ارسلان اتنی گہری نیند سو رہا تھا کہ الارم کی آواز اس پر کوئی اثر نہیں کر رہی تھی۔ ورنہ اس کمرے میں بچتے الارم کی آواز سے پڑوسی تک جاگ جاتے۔ وہ جتنی گہری نیند سوتا تھا، جاگنے کے بعد اتنی ہی چستی اور بشاشت دکھاتا تھا جسے دیکھ کر سب حیران رہ جاتے۔ سامنے رکھے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے اس نے بے اختیار انگلیوں سے اپنے بال سنوارے اور سٹڈی ٹیبل کی طرف بڑھا۔ کل رات دیر تک کام کرنے کی وجہ سے میز پر بہت سے کاغذ اور کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔ انہی کاغذات کے درمیان ایک سفید کاغذوں کا دستہ الگ رکھا تھا جو دوسرے کاغذات کے مقابلے میں ترتیب سے تھا۔
ارسلان نے ہاتھ بڑھا کر ان کاغذات کو اٹھایا اور ایک ایک ورق پلٹنے لگا۔ بے اختیار اس کے لبوں پر ایک اطمینان بھری مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ اس میں اس کی پچھلے ایک ہفتے کی محنت تھی۔ ہلکی سی سیٹی بجاتے ہوئے اس نے کاغذات اپنی فائل میں احتیاط سے رکھ دیے اور خود باتھ روم میں چلا گیا۔
دوسری طرف، جیسے ہی ارسلان باتھ روم میں گھسا، صائمہ نے فوراً میز پر رکھا کاغذ اٹھایا اور اس کی فائل کھول کر اس کے رکھے ہوئے کاغذوں کا دستہ نکال لیا۔ جس پر جلی حروف سے اس کا نام لکھا تھا۔ نہایت احتیاط سے الگ کر کے ٹائٹل کور کو اپنے ساتھ لائے کاغذوں کے دستے پر لگا کر انہیں اسٹیبل کر کے اس کی فائل میں بالکل اسی طرح واپس رکھ دیا جیسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔
اس کارروائی کے بعد صائمہ نے فائل میں رکھے اس کے پرنٹ شدہ کاغذات اٹھائے اور خاموشی سے باہر نکل گئی۔ دروازہ بند کرتے ہوئے اس نے ایک بار پھر تسلی کی کہ کسی نے بھی اسے دیکھا نہیں ہے۔
لاؤنج میں لگی گھڑیال نے ساڑھے سات بجائے۔ ارسلان اپنے گیلے بالوں کو سنوارتا ہوا فائل اور گاڑی کی چابی تھامے داخل ہوا۔ مسکرا کر سلام کرتے ہوئے اس نے ناشتے کے لیے آواز لگائی۔ ڈرائنگ ٹیبل پر پہلے ہی عامر اور شاہان بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔ عطیہ بیگم بیٹے اور بھانجی کو ناشتہ دے کر اب اس کی منتظر تھی۔ صبح کے ناشتے کی ذمہ داری ان کی تھی جبکہ دوپہر کا انتظام صفیہ بیگم کے ذمے تھا۔ البتہ رات میں دونوں لڑکیاں بھی مدد کرتی تھیں۔
“ژالہ ابھی تک نہیں آئی۔ ہر روز اس کی وجہ سے دیر ہوتی ہے۔ ابھی ناشتے میں دس منٹ لگائے گی۔ جاؤ اسے بلا کر لاؤ، پھر ہمیں نکلنا ہے۔” ارسلان نے بڑبڑاتے ہوئے کہا اور صبح کے اخبار پر نظر ڈالتے ہوئے بہن کو اسے بلانے کا حکم دیا۔ وہ اٹھنے کی بجائے سر جھکائے ناشتہ کرتی رہی۔
“ژالہ تو آج اپنی دوست کے ساتھ چلی گئی یونیورسٹی۔ کہہ رہی تھی جلدی پہنچنا ہے، اسے اسائنمنٹ جمع کروا نا ہے۔” عطیہ بیگم نے اس کی پلیٹ اور چائے کا مگ میز پر رکھتے ہوئے بتایا۔
ارسلان نے حیرت سے اپنی کلائی پر گھڑی دیکھی اور کہا، “چلو تم لوگ گاڑی میں بیٹھو، میں بس آ رہا ہوں۔” اس نے ناشتے کی پلیٹ پرے کی اور اپنی فائل اٹھا کر ان دونوں کے پیچھے چل دیا۔ اس کی بھوک ایک دم غائب ہو گئی تھی۔
یعقوب علی خان صاحب نے دونوں بیٹوں کی تربیت اس نہج پر کی تھی کہ دونوں کے درمیان محبت اور خلوص شامل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ برسوں سے نہ صرف کاروبار مشترکہ تھا بلکہ گھر میں بھی دونوں خاندان نہایت اتفاق سے رہتے تھے۔ ایک دوسرے پر انحصار کرتے اور ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے۔ گھر میں قائم امن اور سکون کی فضا پوری خاندان میں مثال دی جاتی تھی۔ البتہ ارسلان اور ژالہ اس پیمانے پر پورے نہ اترتے۔ دونوں شروع سے ایک ہی سکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ دونوں میں کبھی نہیں بنی تھی۔ ارسلان کی تعریف سن سن کر ژالہ کو ارسلان سے خواہ مخواہ کی چڑ ہو گئی تھی جو بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گئی کہ گھر میں سب لوگ ان دونوں کی روز روز کی نوک جھونک سے اتنا عادی ہو چکے تھے کہ اب کوئی سرے سے پرواہ ہی نہیں کرتا تھا۔ بلکہ جس دن ان میں جنگ و جدل نہ ہو، سب کو پریشانی لاحق ہو جاتی۔ ان سب باتوں کے باوجود عبدالرحمن اور عبدالرحیم کے خاندان کے درمیان سے سوئی گزارنا بھی ناممکن تھا۔
یونیورسٹی پہنچ کر ژالہ نے سب سے پہلے وہ کام کیا جس کے لیے وہ آج اتنی صبح سویرے یونیورسٹی آئی تھی، یعنی اسائنمنٹ جمع کروا نا۔ ارسلان کی اسائنمنٹ فائل پر اپنے نام کا لیبل لگا کر اس نے صبح آتے ہی پروفیسر کو دے دی تھی اور ان سے اپنی ذمہ داری اور قابلیت پر ڈھیروں داد بھی وصول کر چکی تھی۔
“اب تک تو اسے پتہ چل چکا ہوگا نا؟” سیما نے سوال کیا۔
“پتہ چل جاتا تو اس کی کال آ جاتی۔ ابھی تک رابطہ نہ کرنے کا مطلب ہے کہ اس نے فائل چیک نہیں کی۔” وہ ارسلان سے بخوبی واقف تھی۔ اسے معلوم تھا کہ ارسلان کبھی اپنے لکھے کو دوبارہ چیک نہیں کرتا، کیونکہ وہ اسے کامل بنانے میں اتنی تحقیق کرتا کہ تکمیل کے بعد کسی غلطی کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
“ویسے تم نے بیچارے کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔” ماہ نور کو بہرحال اس کی حرکت اچھی نہیں لگی۔ وہ اس کا بھی ہم جماعت تھا اور اکثر پڑھائی کے سلسلے میں اس کی مدد کرتا رہتا تھا۔ ژالہ کی دوست ہونے کے باوجود ماہ نور کی ہمدردیاں ارسلان کے ساتھ تھیں۔
“بدلہ ہے میرا، میری ڈیئر۔ اس نے جو میرے ساتھ کیا، میں نے وہ اس کے ساتھ کر دیا۔ اس کی وجہ سے میرا اتنا ٹائم ضائع ہوا۔” اپنی مسکراہٹ سمیٹتے ہوئے ژالہ نے جواب دیا۔
“ژالہ، تمہارے پاس کافی وقت تھا اسائنمنٹ مکمل کرنے کے لیے۔ تم چاہتی تو تسلی سے اپنا کام مکمل کر سکتی۔” پچھلے ہفتے وہ یونیورسٹی اپنی بیماری کی وجہ سے نہیں آ سکی تھی اور اسی دوران پروفیسر نے ان کے فائنل اسائنمنٹ جمع کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ ارسلان نے اسے موضوع ہی غلط بتایا تھا اور ژالہ اسی موضوع پر گھر بیٹھی کام کرتی رہی۔ وہ تو صرف دو دن پہلے یونیورسٹی آنے کے بعد اسے حقیقت کا علم ہوا۔
ارسلان بخوبی جانتا تھا کہ ژالہ گاہے بگاہے اس کے کمرے کی تلاشی لیتی ہے۔ اس لیے وہ چیزیں جنہیں ژالہ سے چھپانا مقصود ہوتا، انہیں ہمیشہ تالے میں رکھتا۔ جیسے اس کی ڈائری جس سے وہ باقاعدگی سے لکھنے کا عادی تھا۔ لیکن ارسلان کی احتیاط کے سبب آج تک وہ اس کے ہاتھ نہ لگ سکی۔
ارسلان کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس کے ساتھ یہ ہونے والا ہے۔ اس لیے جب پروفیسر نے اسے کلاس سے پہلے آفس میں آنے کو کہا تو وہ احساس تفاخر سے ان کے پاس پہنچا۔ وہ ان کا لائق طالب علم تھا۔ اسے یقین تھا کہ انٹرنشپ وغیرہ میں مدد کے لیے یا پھر کسی اہم مشورے کے لیے دفتر میں بلایا ہوگا۔ لیکن وہاں پہنچتے ہی جو بم اس کے سر پر پھٹا، اس کی گونج اتنی تباہ کن تھی کہ وہ سن بیٹھا کا بیٹھا رہ گیا۔
مارک شیٹس پر اپنے نام کے ساتھ بڑا سا زیرو دیکھ کر اس کا دل دہل گیا۔
“تم میرے انتہائی لائق سٹوڈنٹ ہو، محنتی ہو۔ تمہارا رزلٹ میں نے کلاس میں اناؤنس نہیں کیا۔ لیکن سیریسلی تم نے مجھے بہت مایوس کیا ہے۔”
“سر، میں قسم کھا کر کہتا ہوں میں نے اسائنمنٹ کاپی نہیں کیا۔” بہرحال وہ سچا تھا اس لیے دو ٹوک اس الزام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
“اب کیا کہو گے کہ تم نے اسائنمنٹ کاپی نہیں کی؟”
“لیکن سر، یہ میری فائل نہیں ہے۔ اس بات کی تو میں پہلی لائن سے ہی تصدیق کر سکتا ہوں۔”
انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اسے جانے کو کہا۔ “تم اب جا سکتے ہو اور آئندہ ایسی حرکت مت کرنا۔ یہ لاسٹ سیمسٹر ہے اور تمہارے لیے بہت اہم۔ کوشش کرو کہ سنجیدگی برقرار رکھو، ورنہ تمہیں نقصان ہوگا۔”
“جی سر۔” وہ اچانک دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے رک گیا۔ “سر، کیا ژالہ کا اسائنمنٹ دیکھ سکتا ہوں؟”
“اگر ژالہ اس کی اجازت دے تو۔” وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ دونوں کزن ہیں۔ اس کے باوجود کسی اور کی اسائنمنٹ کی فائل دکھانا انہیں درست نہیں لگا۔ اس لیے صاف منع کر دیا۔
“سر، اس کے کتنے مارکس ہیں؟”
“19۔” جواب فوراً آیا۔
ارسلان کے پاس اب شک کی کوئی گنجائش نہیں تھی کہ یہ جو سب کچھ ہوا ہے، اس کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ ژالہ ہے۔
مٹر پلاؤ کے مٹر چھیلتی صفیہ بیگم اپنی دیورانی عطیہ بیگم کے سامنے بیٹی کی لاابالی طبیعت سے پریشان تھی۔ اسی وقت صفیہ بیگم کے بڑے بھائی کا امریکہ سے فون آ گیا جو اپنے بچوں کی نااہلی کا رونا رو رہے تھے۔ آخر کمال کو ایک ترکیب سوجھی کہ کیوں نہ اپنی بہن کے آگے رشتہ ڈال دیا جائے۔ ژالہ کے لیے انہوں نے اپنے بیٹے شمیم کا رشتہ دیا جبکہ اپنی چھوٹی بیٹی ممتاز کے لیے بھانجے ارسلان کو داماد بنانے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔
“اندھا کیا چاہے، دونوں آنکھیں۔” صفیہ اور عطیہ کو کمال کی باتیں بہت اچھی لگیں اور انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ یہ بات ہم اپنے مردوں کے سامنے رکھیں گے۔ کوئی بھی اس بات کے لیے انکار نہ تھا۔ سب ہی کو یہ رشتے بہت معقول لگے اور ادھر کمال نے پاکستان آنے کی تیاری پکڑ لی۔
گھر میں اچانک خوشی اور ہنگامہ سر اٹھانے لگا۔ ارسلان کے کمرے میں ژالہ دوڑتی چلی آئی کہ شمیم بھلا کیسے کسی مرد کا نام ہو سکتا ہے۔ ارسلان تو خود اپنا سر گھٹنوں میں دیے پریشان بیٹھا تھا کیونکہ کل سے اسے ماں نے شیروانی سلوانے کا حکم دے دیا تھا۔ ژالہ نے اسے مشورہ دیا کہ کیا مسئلہ ہے، تم ریڈی میڈ خرید لو۔ اس کا دل چاہا کہ اپنا سر پھاڑ لے۔ کس طرح اسے میری کسی دل کی بات کا کوئی اثر ہی نہیں۔ اسی لیے اسے کہنے لگا کہ تم فوراً یہاں سے چلی جاؤ۔
ادھر ارسلان نے شمیم کو فون کیا اور کہا کہ یار یہ شادیاں نہیں ہو سکتیں۔ شمیم نے مشکوک نگاہوں سے اپنے سمارٹ فون کو دیکھا۔ “تم اچھی طرح جانتے ہو تو پھر میرے ساتھ یہ ظلم مت کرو۔ میں یہ شادی ہرگز نہیں کر سکتا۔ میرے سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیت بالکل سلب ہو چکی ہے۔” شمیم اسے سوچتے ہوئے ایک ترکیب بتانے لگا۔ ارسلان کو لگا یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ژالہ کو منانے کے سوا کوئی اور دوسرا راستہ بھی نہ تھا۔
ارسلان کی بات سن کر وہ سیخ پا ہو گئی۔ “تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟” لیکن اگر تمہیں شمیم سے جان چھڑانی ہے تو پھر تو تمہیں یہ کرنا پڑے گا۔ ارسلان نے اسے یہ نہیں بتایا کہ شمیم بھی اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا کیونکہ یہ مشورہ بھی اسے شمیم نے نہیں دیا تھا۔ لیکن اب ماہ نور کا کیا ہوگا؟ ژالہ کو تشویش ہوئی لیکن وہ صبر و برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے غصے پر قابو پاتا رہا۔ “اس کی تم فکر نہ کرو۔ ضروری یہ ہے کہ ہم گھر میں سب کو بتائیں کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے شدید محبت کرتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں۔ تب ہی ہم اس مصیبت سے بچ سکتے ہیں۔”
حسب عادت ژالہ چپ نہ رہ سکی اور بولی، “محبت اور تم سے؟ مجھے تو سوچ کر وحشت ہو رہی ہے۔” لیکن اس کے سوا اور کوئی آپشن نہیں۔ گھر میں جس نے سنا وہ یہ سن کر حیران رہ گیا کہ ہر وقت کی گولا بارود کرنے والی فوجیں آج ایک دوسرے سے شادی کرنے کے لیے کیسے تیار ہیں۔ جس پر عطیہ اور صفیہ بیگم کو تو دل سے اطمینان ہو گیا کہ دونوں بچے گھر پر ہی رہیں گے۔
گھر میں نکاح کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ ژالہ کی مرضی نہ ہونے کے باوجود تائی جی کی خواہش پر اسے سرخ رنگ کا غرارہ پہننا پڑا۔ ارسلان کو مدد کے لیے پکارتی رہی لیکن وہ کسی پروجیکٹ کا بہانہ بنائے منظر سے بالکل غائب ہو گیا۔ مجبوراً اسے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ لیکن جب نکاح کے وقت دوستوں کے ہمراہ بڑے ٹھاٹ سے ڈیزائنر شیروانی پہنے ارسلان ہوٹل پہنچا تو دل اس کی جان لینے کو چاہا کیونکہ اس کے انداز سے ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ یہ ڈرامہ ہے اور یہ مجبوری کا نکاح ہے۔ دل چاہا سب کے سامنے پول کھول دے لیکن نہ تو موقع تھا اور نہ ہی دستور۔ بلکہ صبر کے گھونٹ پینے کے علاوہ وہ کچھ نہ کر سکی اور آنسو بہاتے اس نے نکاح نامے پر دستخط کر دیے۔
نکاح کے بعد وہ ابھی برائیڈل روم میں ہی بیٹھی تھی کہ ارسلان کی بہن دوڑتی ہوئی آئی اور ایک بم پھوڑ دیا۔ “ارسلان بھائی اور ان کے دوست رخصتی کی بات کر رہے ہیں۔” وہ ایک دم سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور اسے یقین ہوا کہ اس کے ساتھ کوئی بہت بڑی سازش ہو گئی ہے جس کی اسے خبر نہیں۔ بس اب وہ اپنے گھر نہیں بلکہ ہمارے پورشن میں آئیں گی۔ آخر یہ سب کیا ہے؟ اس کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ ارسلان کیسے کر سکتا ہے؟
گھر میں کسی کے پاس اس کا احتجاج سننے کے لیے وقت نہ تھا۔ اسے خوبصورتی سے سجی سٹیج پر بٹھا دیا گیا۔ ارسلان اس کے ساتھ بیٹھا نہایت خوش اور مطمئن دکھائی دے رہا تھا جبکہ وہ بے بسی کی تصویر بنی تھی۔
واپسی پر اسے جب ارسلان کے کمرے میں پہنچایا گیا تو خوبصورت پھولوں سے پورا کمرہ سجا ہوا تھا جسے دیکھ کر وہ سمجھ گئی کہ یہ سب کچھ پہلے سے ارسلان کے پلان میں شامل تھا۔ جیسے ہی ارسلان کمرے میں داخل ہوا اس نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ “تم نے میرے ساتھ یہ سب کیوں کیا؟ پہلے نکاح اور اچانک رخصتی۔ تم نے کہا تھا کہ تم نکاح ختم کر دو گے۔” اس نے اپنی تشویش کو سوالات کی صورت میں ڈال دیا جس پر وہ پیار سے کہنے لگا کہ جھوٹ بولا تھا لیکن مجھے پتہ تھا کہ تم میری بات کا یقین نہیں کرو گی۔
“جھوٹ؟ کیا مطلب ارسلان؟ یہ سب تم نے مجھ سے اسائنمنٹ کا بدلہ لیا ہے؟” جس پر وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ یار اسائنمنٹ کی بات درمیان میں کہاں سے آ گئی۔ لیکن ژالہ کو یقین نہ آ رہا تھا کہ اس بدترین انتقام کو لینے کے پیچھے اس نے اس کی زندگی کا تماشہ بنا دیا اور اس کے اعتبار کا خون کیا۔ “میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔”
ارسلان نے جواب دیا کہ تم ایک انتہائی احمق اور جذباتی لڑکی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی سوچ سمجھ کر بات کیا کرو۔ لیکن ژالہ کہاں اس کی باتوں میں آنے والی تھی۔ بولی کہ تم کسی دھوکے میں مت رہنا۔ میں اتنی آسانی سے خاموش نہیں ہوں گی۔ تم مجھے گھر میں قید کر کے خود ماہ نور کے ساتھ عشق لڑاؤ گے۔ میں ابھی گھر والوں کو جا کر تمہاری حقیقت بتا دوں گی۔
ارسلان نے اسے کھینچ کر واپس بٹھایا کہ تم ایسا نہیں کر سکتی۔ تمہارے اور میرے درمیان ماہ نور کہاں سے گھوم کر آ جاتی ہے۔ تم ماہ نور سے محبت کرتے ہو اور وہ محبت نامے جو تم چھپا کر ڈائری میں لکھا کرتے تھے وہ مسلسل اب رو رہی تھی۔ “میں نے یہ تم سے کہا تھا ژالہ۔ میں نے آج تک ماہ نور یا کسی بھی لڑکی سے محبت کی حامی نہیں بھری۔”
ارسلان مجبور ہو کر اسے وہ ڈائری دکھانے کے لیے اٹھا جس میں اس نے آج تک اپنی محبت کو قید رکھا تھا اور واحد اس بات کا گواہ شمیم تھا۔ وہ آج تک یہ نہ سمجھ سکی تھی کہ شمیم اس رشتے پر اتنا خوش کیوں ہے۔ لیکن اسے یہ یقین نہ آیا کہ وہ نام کسی اور کا نہیں، ڈائری میں اس کا درج تھا۔ وہ کہنے لگی کہ آج تک تم نے مجھ سے یہ بات چھپائی۔ مجھے ہمیشہ تنگ کیا کرتے تھے۔ جس پر ارسلان نے جواب دیا کہ میں اس وقت تمہیں معصومیت اور محبت سے دیکھا کرتا تھا۔ جب تم میری باتوں پر چڑتی تھی اور بھاگ بھاگ کر میری شکایتیں تایا ابا کے پاس جا کر لگاتی تھیں۔ اور مجھے تمہاری معصومیت پر پیار آتا تھا۔ وہ شرارتی نظروں سے ژالہ کو دیکھنے لگا۔
“او میرے اللہ، کیا ہو جاتا اگر تم یہ سب سیدھے راستے سے کر لیتے۔ اگر غصے اور فرسٹریشن میں آ کر میں کچھ الٹا سیدھا کر لیتی۔” محبت اور دل کا حال اس لیے نہیں بتایا کہ تم پتہ نہیں یقین کرتی یا نہیں اور ڈرامہ رچانے سے پہلے میں بڑے ابا کو سب کچھ بتا چکا تھا اور ان سے کچھ بھی چھپا نہیں۔
انکشاف پر انکشاف ہو رہے تھے یعنی اس نکاح اور رخصتی والے کھیل میں بڑے ابا تمہارے ساتھ شامل ہیں۔
“جی ہاں۔” ارسلان نے سر ہلا کر جواب دیا۔
“قسم سے دل تو کر رہا ہے کہ تمہارا سر پھاڑ ڈالوں۔” لیکن ارسلان نے ہاتھ بڑھا کر الارم کلاک ژالہ سے لے لیا اور خوبصورت سی انگوٹھی اپنی جیب سے نکال کر اس کی انگوٹھی پر رکھی۔ “سچ تو یہ ہے ژالہ کہ محبت نہیں، بندے کو عشق ہے تم سے۔ اور اس عشق نے مجنوں فرہاد سب کو ہی پیچھے چھوڑ ڈالا ہے۔ اب چاہے سر پھوٹے یا ماتھا، ہم نے تو ہاں کر دی ہے۔” اس نے شرارت سے ژالہ کی طرف دیکھا۔
کمرے میں پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو ارسلان کی محبت کے رنگ حاوی ہو رہے تھے۔ ژالہ مسکراتے ہوئے شرما کر سر جھکا لیا۔