stories in urdu

عورت کا کرب – پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر اک سمجھوتا

غریب کی بھوک اسے ہر وہ کام کراتی ہے جو بد ترین گناہ سے بھی بد تر ہوتا ہے. پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر مجھے بھی اک سمجھوتاکرنا پڑا کیونکہ میرے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا. میں عائشہ ہوں، اور میری پیدائش سابق مشرقی پاکستان کے شہر ڈھاکہ میں ہوئی۔ مگر میری زندگی کا آغاز کسی خوشی یا سکون کے لمحے سے نہیں، بلکہ ایک ایسی محرومی سے ہوا جس کا سایہ آج تک میرے ساتھ ہے۔ میں نے جب اس دنیا میں آنکھ کھولی تو قسمت نے میرے لیے بسترِ راحت نہیں بلکہ دکھوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ لکھ رکھا تھا۔ گھر میں مفلسی نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا. میری پیدائش کے صرف ایک دن بعد ہی میری والدہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ میں وہ بدنصیب بچی تھی جسے اپنی ماں کی گود کا لمس بھی نصیب نہ ہو سکا۔ میری پیدائش آپریشن کے ذریعے ہوئی تھی، اور اسی دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں نے میری ماں کی جان لے لی۔

میرے والد، سلیم احمد، اس اچانک صدمے سے ٹوٹ کر رہ گئے تھے۔ وہ اکیلے میرے جیسے نوزائیدہ بچے کی پرورش کرنے کے قابل نہ تھے، اس لیے انہوں نے مجھے اپنے ایک قریبی جاننے والے نصیر صاحب کے سپرد کر دیا۔ نصیر صاحب اور ان کی اہلیہ شکیلہ بیگم بے اولاد تھے اور اولاد کے لیے برسوں سے ترس رہے تھے۔ میری صورت میں جیسے اللہ نے ان کی دعاؤں کو قبول کر لیا۔ انہوں نے مجھے اپنی بیٹی بنا کر بے حد محبت اور لاڈ پیار سے پالا۔ کچھ عرصے کے لیے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میری زندگی نے ایک نرم اور خوشگوار موڑ لے لیا ہو۔

لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ یہ خوشیوں کے دن زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے۔ اچانک نصیر صاحب کے حالات بگڑنے لگے۔ کاروبار میں نقصان ہوا اور گھر کی مالی حالت دن بدن خراب ہونے لگی۔ غربت کا سایہ آہستہ آہستہ ہمارے گھر پر چھا گیا۔

انہی دنوں مشرقی پاکستان کے حالات بھی کشیدہ ہونے لگے، جو بعد میں 1971 کی جنگ کی صورت اختیار کر گئے۔ شہر میں بدامنی، خوف اور انتشار بڑھتا گیا۔ نصیر صاحب کی فیکٹری، جو ان کی روزی کا واحد ذریعہ تھی، ایک دن شدت پسندوں کے حملے میں جلا دی گئی۔ وہ بمشکل اپنی جان بچا سکے۔ اس ہنگامہ خیز صورتحال میں وہ صرف مجھے اور چند ضروری کپڑوں کے ساتھ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے اور مغربی پاکستان آ گئے۔

نئے شہر میں ان کے پاس نہ کوئی گھر تھا، نہ کوئی سہارا، نہ کوئی کاروبار۔ وہ در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، رشتہ داروں کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے، یہاں تک کہ ایک عزیز نے ترس کھا کر انہیں اپنے پاس ایک معمولی ملازمت دے دی۔ وہی نصیر صاحب، جو کبھی ایک کامیاب کاروباری شخص تھے، اب ایک چھوٹے ملازم کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔

یوں دو وقت کی روٹی کا بندوبست تو ہو گیا، مگر میری زندگی سے بچپن کی خوشیاں چھن گئیں۔ میں نے بہت جلد سمجھ لیا تھا کہ میرے حصے میں کھیل کود نہیں، بلکہ ذمہ داریاں آئی ہیں۔ جب میرے ہم عمر بچے گڑیوں سے کھیلتے تھے، تب میں اپنے ننھے ہاتھوں سے جھاڑو لگاتی اور برتن مانجھتی تھی۔ میری گود لینے والی ماں شکیلہ بیگم بھی غربت اور حالات کے دباؤ کو برداشت نہ کر سکیں اور بیمار رہنے لگیں۔

میں محض سات برس کی عمر میں گھر کے تمام کام سنبھالنے لگی۔ آہستہ آہستہ میں نے کھانا پکانا، کپڑے دھونا اور گھر کے دیگر تمام امور سیکھ لیے۔ بچپن کی معصوم خواہشیں میرے دل میں ہی دم توڑتی رہیں، اور میں وقت سے پہلے بڑی ہو گئی۔

نصیر صاحب نے اپنی حیثیت کے مطابق شکیلہ بیگم کا علاج کروانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر بیماری بڑھتی ہی چلی گئی۔ آخرکار ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیں جگر کا کینسر ہے۔ یہ خبر سن کر جیسے ہمارے گھر پر ایک اور قیامت ٹوٹ پڑی۔ کچھ ہی عرصے بعد یہ موذی مرض انہیں ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا کر گیا۔یوں عائشہ ایک بار پھر ماں کی محبت سے محروم ہو گئی.پہلے قدرت نے اسے ماں کی گود سے محروم کیا تھا، اور اب حالات نے اس کی پرورش کرنے والی ماں کو بھی اس سے چھین لیا تھا۔ اس کے بعد زندگی اس کے لیے اور بھی کٹھن اور بے رحم ہو گئی۔

اب گھر میں صرف سلیم احمد اور میں، عائشہ، رہ گئے تھے۔ اس وقت میری عمر تیرہ برس تھی۔ والد میری حفاظت اور فکر میں گھلنے لگے، مگر جب وہ نوکری پر جاتے تو میں اکیلی رہ جاتی۔ آس پاس کا ماحول خطرناک اور غیر محفوظ تھا، کیونکہ ہم غربت کے باعث ایک ایسے محلے میں رہنے پر مجبور تھے جہاں اوباش، جواری اور نشئی افراد کا بسیرا تھا۔ سلیم احمد نے کئی بار کوشش کی کہ کسی بہتر اور محفوظ علاقے میں مکان کرائے پر لے لیں، مگر وہاں کے کرائے ان کی استطاعت سے باہر تھے۔ ان دنوں کی یاد آج بھی دل میں خارِ مغیلہ کی طرح چبھتی ہے، اور دل سے دعا نکلتی ہے کہ خدا کبھی کسی بچی کو اس کے والدین سے جدا نہ کرے۔

جب میں سولہ برس کی ہوئی تو میرے چہرے پر ابھرتے ہوئے شباب اور جوانی کے آثار دیکھ کر والد کے ماتھے پر فکر کی گہری جھریاں بیٹھ گئی تھیں۔ محلے کے لفنگے جانتے تھے کہ والد کام پر جاتے ہیں اور میں گھر میں تنہا رہ جاتی ہوں۔ وہ اکثر ہمارے گھر کے باہر تاک میں بیٹھ کر میری طرف نظر رکھتے اور آوازیں کستے۔ میں خوفزدہ ہو کر صحن سے کمرے میں جا کر کنڈی لگا لیتی تاکہ وہ دیوار پھلانگ کر اندر نہ آئیں۔

جب سلیم احمد گھر آتے اور میں انہیں یہ سب بتاتی، تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے۔ گھر میں باقاعدہ باورچی خانہ نہ تھا؛ کمرے کی دیوار کے ساتھ مٹی کا چولہا بنا ہوا تھا اور میں صحن میں لکڑیاں جلا کر کھانا پکاتی تھی۔ والد پوچھتے، “آج کھانا کیوں نہیں بنایا؟” تو میں بتاتی کہ محلے کے لڑکوں کے ڈر سے صحن میں نہیں بیٹھ سکی۔ وہ کڑھ کر کہتے، “بیٹی تو رحمت ہوتی ہے، میں اس رحمت کی حفاظت کیسے کروں؟”

وہ دن رات میرے ہاتھ پیلے ہونے اور میری حفاظت کی فکر میں رہتے۔ بدقسمتی سے انہی دنوں ان کی نوکری بھی ختم ہو گئی اور ہم فاقوں کے قریب پہنچ گئے۔ اوپر سے مالکِ مکان کرایہ کے لیے تنگ کرنا شروع کر دیا۔ والد نے کئی بار اپنے اصل تعلقات اور ڈھاکہ میں موجود رشتہ داروں سے مدد مانگی، مگر سب کوششیں بے نتیجہ رہیں۔

ایک روز جب مالکِ مکان نے سامان باہر پھینکنے کی دھمکی دی تو والد رو پڑے۔ اس کی بے بسی دیکھ کر مالک نے کچھ رحم کھا کر کہا، “آخر کب تک مہلت دوں؟ تین ماہ گزر چکے ہیں۔” والد نے جواب دیا، “جب تک نوکری نہیں ملتی، میں اپنی بچی کی حفاظت کے لیے کچھ بھی کر جاؤں گا۔ اگر اس کا گھر بسا دوں تو میں کسی دکان کے تھڑے یا فٹ پاتھ پر بھی سو جاؤں گا۔ کئی رشتے آئے، مگر غربت کی وجہ سے کوئی رضامند نہ ہوا۔” مالک نے دلاسہ دیتے ہوئے اپنے رشتہ دار رفیع سے بات کی۔ رفیع نے کہا کہ وہ اپنے سالے کے لیے رشتہ کروا سکتا ہے، مگر شرط یہ رکھی کہ لڑکی کچھ دن ہمارے گھر آ کر رہے اور ہماری بیوی کی خدمت کرے۔ رفیع نے کہا کہ اگر یہ سب ہوا تو شاید اس کی بیوی رشتہ پر راضی ہو جائے۔

والد، سلیم احمد، نے مالکِ مکان پر مکمل بھروسہ کر لیا اور مجھے رفیع صاحب کے گھر بھیج دیا۔ خود وہ مکان خالی کر کے مسجد کے ایک چھوٹے حجرے میں ٹھہر گئے اور وہاں کی صفائی کی ذمہ داری سنبھال لی۔ اس طرح انہیں روزانہ کھانے اور رہائش کی سہولت تو مل گئی اور وہ ہر روز مجھے ملنے آتے تاکہ میری خیریت معلوم کر سکیں۔ یہ سب دیکھ کر مجھے دل کی تھوڑی سی بے چینی بھی کم ہوئی، کیونکہ والد کی موجودگی کی یاد میرے دل کو سکون دیتی تھی، اگرچہ وہ دور رہتے تھے۔

میں رفیع صاحب کے گھر خوش تھی۔ ان کی بیوی زبیدہ ایک نیک دل اور مہربان خاتون تھیں۔ وہ مجھ سے پیار سے پیش آتیں، اور میں نے بھی سلیقے اور لگن کے ساتھ ان کا گھر سنبھالنا شروع کر دیا۔ کھانا پکانے سے لے کر صفائی، سب کام میں میری مہارت بڑھتی گئی۔ خاله زبیدہ میرے نیک رویے اور خدمت گزار طبیعت سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آخرکار انہوں نے اپنے بھائی کنعان کو میری شادی کے لیے راضی کر لیا۔

کنعان میٹرک پاس تھا اور جوتوں کا اچھا کاروبار کرتا تھا۔ وہ مجھ سے سات برس بڑا تھا، مگر خوش شکل، مہذب اور باوقار انسان تھا۔ جب پہلی بار میں نے اسے دیکھا، تو مجھے اس کی شخصیت اور سنجیدگی بہت پسند آئی۔ اس کی پر اعتماد مسکراہٹ اور نرم گفتار نے میرا دل جیت لیا۔ یوں میری شادی کی تاریخ طے پا گئی اور ایک نیا باب زندگی کے دروازے پر کھل گیا۔

اسی دوران والد سلیم احمد بیمار ہو گئے؛ انہیں گردوں میں پتھری کی تکلیف تھی۔ رفیع صاحب نے فراخ دلی دکھائی اور والد کے تمام علاج اور آپریشن کے اخراجات خود برداشت کیے۔ والد صحت یاب ہو گئے اور میری شادی کنعان سے ہو گئی۔ غربت اور افلاس کے طویل اور کٹھن سفر کے بعد میں ایک خوشحال اور مہذب گھرانے میں آ گئی تھی۔ بہتر لباس، معیاری خوراک، اور زندگی کی آسائشوں نے میرا رنگ روپ نکھار دیا، اور کنعان ہر روز میرے حسن اور خدمت گزاری پر قربان ہونے لگا۔

میں خدمت گزار، صابر اور قناعت پسند تھی۔ بچپن کی محرومیوں نے مجھے صبر اور خود اعتمادی سکھائی تھی۔ میری حیا، نرمی، اور گھر سنبھالنے کا سلیقہ پہلے ہی دن سے کنعان کے دل میں گھر کر گیا تھا۔ وہ اکثر میری محنت کی تعریف کرتا اور چھوٹے چھوٹے طریقوں سے محبت کا اظہار کرتا۔

رفیع صاحب کو سب لوگ احترام سے حاجی صاحب کہتے تھے۔ ان کی بیوی، جنہیں میں خالہ کہتی تھی، میرے اخلاق اور ذمہ داری کی معترف تھیں۔ وہ اکثر کہتیں، “شائستہ جیسی بہو چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔” کنعان، حاجی صاحب کے کاروباری شریک، میرے لیے گھر پر ایک استادہ کا انتظام بھی کروا چکے تھے، جس کی بدولت میں نے دو سال کے اندر لکھنا اور پڑھنا سیکھ لیا۔ میری زندگی میں علم کی شمع جل گئی اور خود اعتمادی نے مجھے مزید مضبوط بنایا۔

اب میں شوق اور جوش کے ساتھ کتابیں پڑھتی، اور ہر نئی کتاب کے ساتھ میری شخصیت میں نکھار اور وقار پیدا ہوتا گیا۔ میری یہ محنت اور علم کا شوق کنعان کی نظر میں مجھے مزید قابلِ قدر بناتا، اور میں ان کی آنکھوں کا تارا اور گھر کی فضا میں خوشی کی وجہ بن گئی۔ میری موجودگی سے نہ صرف گھر میں سکون پیدا ہوتا بلکہ میری نند کے دل کو بھی تسکین ملتی۔ بچپن کی محرومیوں اور دکھوں کے بعد اب میں خوشیوں کے جھولے میں جھول رہی تھی، اور ہر لمحہ میرے لیے قیمتی تھا۔

والد صاحب اب جسمانی طور پر کمزور ہو چکے تھے۔ کنعان بار بار چاہتے کہ وہ ہمارے گھر میں قیام کریں، مگر والد صاحب نے اپنی مرضی کے خلاف داماد کے گھر رہنے سے انکار کیا۔ ایک دن سردیوں کی شدت میں والد کو نمونیہ لاحق ہوا اور چند دن بعد وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات نے میرے دل میں ایک خلا پیدا کر دیا۔ وہ ہمیشہ میرے لیے ایسے تھے جیسے اپنی بیٹی، کبھی بھی یہ فرق محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں ان کی سگی بیٹی نہیں ہوں۔ یہ لمحے مجھے دکھ اور تنہائی کے ساحلوں پر چھوڑ گئے۔

میں اور کنعان اب ایک مثالی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ میرے جینے کا سہارا، میرا حوصلہ اور میری حفاظت تھے۔ لیکن تقدیر نے ایک اور تلخ وار کیا۔ ایک دن کنعان لاہور سے مال بک کروا کر واپس آ رہے تھے کہ ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ میری دنیا، جو میں نے اپنے شوہر کے ساتھ بسائی تھی، یکدم اجڑ گئی۔ میری نند اپنے اکلوتے بھائی کے غم میں نڈھال ہو گئیں۔ عدت کے بعد، خالہ زبیدہ نے مجھے اپنے گھر لے لیا۔ سات برس تک میں ایک مردہ روح کی طرح ان کے گھر میں رہتی رہی، مگر کنعان کا غم کبھی دل سے نہ گیا۔

پھر تقدیر نے ایک اور زخم دیا۔ ایک روز خالہ زبیدہ باغ میں کام کر رہی تھیں کہ سانپ نے کاٹ لیا اور وہ حاجی صاحب کے گھر پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گئیں۔ خالہ کی وفات کے بعد میں بالکل تنہا اور بے بس ہو گئی۔ اب حاجی صاحب سوا میری کوئی محتاج نہیں تھا، اور میں دو وقت کی روٹی کے لیے ان کی محتاج ہو گئی۔ گھر کی دیواریں، جو کبھی محبت اور تحفظ کا احساس دلاتی تھیں، اب تنہائی اور غم کی گونج سے بھر گئی تھیں۔

میں انہیں والد کی طرح مانتی تھی، ان کی ہر بات پر بھروسہ کرتی اور دل میں یہ سمجھتی کہ وہ میری حفاظت اور رہنمائی کے لیے ہیں۔ لیکن ایک دن، انہوں نے اچانک اپنی اصلی نیت ظاہر کی اور مجھ سے نکاح کی خواہش ظاہر کر دی۔ میری آنکھوں میں حیرت اور دکھ کے آنسو بھر آئے، اور میں بولی: “میں آپ کو اپنا بزرگ سمجھتی ہوں، اگر میں بوجھ ہوں تو میں کہیں اور جا کر کام کر لوں گی۔” میری آواز میں خوف، ندامت اور درد سب کچھ جھلک رہا تھا۔

انہوں نے تب اپنی اصل حقیقت آشکار کی اور کہا: “تم نہیں جانتیں، میں نے تمہارے باپ سے تمہیں خرید لیا تھا۔ جب انہیں آپریشن کے لیے رقم درکار تھی، تو انہوں نے تمہیں میری تحویل میں دیا تھا۔ تب سے میں تم سے شادی کرنا چاہتا تھا، مگر زبیدہ کی وجہ سے خاموش رہا۔ اب تمہارے پاس کوئی راستہ نہیں بچا۔” یہ الفاظ میرے کانوں میں گونجتے رہے، اور دل میں ایک خوفناک دھچکا لگا۔

دو دن بعد ان پر وحشت سوار ہوئی اور انہوں نے زبردستی کی کوشش کی۔ میں ہر طرف لاچار تھی، خدا سے مدد مانگتی رہی، مگر وہ نہیں مانے۔ میرے پاس نہ کوئی سہارا تھا، نہ کوئی محافظ۔ میں دنیا کی نظر میں اپنی عزت بچانے اور زندہ رہنے کے لیے مجبور ہو کر رفیع کے ساتھ نکاح کرنے پر مجبور ہو گئی۔

نکاح کے وقت، جب میں نے الفاظ “قبول ہے” کہے، تو میرا دل خون کے آنسو روتا رہا۔ میری روح میں ایک ایسا درد تھا جو شاید کوئی سمجھ بھی نہ پاتا۔ کاش کوئی ان عورتوں کے کرب کو سمجھ سکے، جو پیٹ کی آگ، دنیا کی مجبوریاں اور بقا کے لیے ایسے سمجھوتے کرنے پر مجبور کر دی جاتی ہیں، جہاں دل اور جان دونوں کا سودا کیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں